امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
“كونوا لنا زيناً ولا تكونوا علينا شيناً، قولوا للناس حسناً، احفظوا ألسنتكم و كفّوها عن الفضول و قبيح القول.”
ہمارے لیے زینت بنو، ہمارے لیے باعثِ شرمندگی نہ بنو، لوگوں سے اچھے انداز میں بات کرو، اپنی زبانوں کی حفاظت کرو، اور انہیں فضول اور برے کلمات سے باز رکھو۔
(وسائل الشیعہ، ج 12، ص 201)
وضاحت:۔
اس حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے “صادقین” (سچوں) کے ساتھ ہونے کا ایک عملی نمونہ پیش کیا ہے۔
“كونوا لنا زيناً” – یعنی اہل بیت علیہم السلام کے پیروکار ہونے کے ناطے، ہمارے کردار اور اعمال ایسے ہونے چاہئیں کہ لوگ ہمیں دیکھ کر اہل بیت کی سچائی اور پاکیزگی کو پہچانیں۔
“ولا تكونوا علينا شيناً” – ایسا کوئی کام نہ کریں جو اہل بیت علیہم السلام کے لیے باعثِ شرمندگی ہو، یعنی جھوٹ، دھوکہ، بداخلاقی یا غیر اسلامی طرزِ زندگی سے گریز کریں۔
“قولوا للناس حسناً” – لوگوں سے نرمی اور خوش اخلاقی سے بات کرنا بھی سچوں کے ساتھ ہونے کا ایک تقاضا ہے، کیونکہ سچائی صرف الفاظ میں نہیں بلکہ کردار میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔
“احفظوا ألسنتكم” – زبان کی حفاظت ضروری ہے، کیونکہ ایک سچا انسان کبھی جھوٹ، غیبت، بدکلامی یا فضول گفتگو میں ملوث نہیں ہوتا۔
نتیجہ:۔
یہ حدیث ہمیں سچوں کے ساتھ ہونے کا ایک عملی معیار دیتی ہے، کہ اگر ہم واقعی اہل بیت علیہم السلام کے پیروکار اور صادقین کے ساتھی بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے کردار، گفتار اور اعمال میں سچائی، نرمی، اخلاق اور زبان کی حفاظت کو اپنانا ہوگا۔
