صراط ٹائمز / کے مطابق سورہ مبارکہ توبہ کی آیت 119 کی تفسیر میں علامہ طباطبائی اپنی کتاب تفسیر المیزان میں اس طرح بیان فرماتے ہیں:۔
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ”
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاو۔
اس آیت میں “صدق” (سچائی) کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کے قول، اعتقاد، ارادہ اور عمل میں سچائی اور حقیقت پسندی ہو۔ یہاں صرف سچ بولنے کی ہدایت نہیں دی گئی، بلکہ ایمان، نیت اور اعمال میں بھی صداقت کو اپنانے کی تاکید کی گئی ہے۔
علامہ طباطبائی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں “صادقین” کے ساتھ ہونے کا حکم دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مؤمنین کو سچوں کی پیروی کرنی چاہیے۔ بعض مفسرین کے نزدیک، “صادقین” وہ لوگ ہیں جو اپنے ایمان، اعمال اور نیتوں میں سچے ہیں، جیسے کہ انبیاء، ائمہ اور صالحین۔ شیعہ تفاسیر میں، خاص طور پر اہل بیت علیہم السلام کو “صادقین” قرار دیا گیا ہے، کیونکہ وہ سچائی اور راستبازی کے اعلیٰ نمونے ہیں۔
اس آیت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان کو تقویٰ اختیار کرنا چاہیے اور اپنی زندگی میں سچائی اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
