صراط ٹائمز / کے مطابق علامہ طباطبائی تفسیر المیزان میں سورہ مبارکہ الحجرات آیت 6 کی تفسیر اس طرح بیان فرماتے ہیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ
ترجمہ:”اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے، تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں نقصان پہنچا دو، پھر تم جو کچھ کیا تھا اس پر نادم ہو جاؤ۔
تفسیر “المیزان” (علامہ طباطبائی سے): “فاسق” کی تعریف:”فاسق” سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کے احکام کو نظر انداز کرتا ہے اور جو کسی غلط عمل یا گناہ میں ملوث ہوتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ وہ کسی فاسق کی خبر پر فوراً یقین نہ کریں، کیونکہ ایسی خبر غیر مستند ہو سکتی ہے۔
تَبَيَّنُوا” کا مفہوم:لفظ “تَبَيَّنُوا” کا مطلب ہے کہ خبر کی تصدیق کی جائے۔ یہ ایک اہم اصول ہے کہ کسی بھی خبر کو تسلیم کرنے سے پہلے اس کی سچائی کو جانچنا ضروری ہے، تاکہ بے بنیاد یا جھوٹ پر مبنی اطلاع سے بچا جا سکے۔
تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ“:اس جملے کا مفہوم ہے کہ کسی بغیر تصدیق شدہ خبر پر عمل کرنے سے آپ کسی بے گناہ گروہ یا فرد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ “جہالت” کا مطلب یہاں بے خبری یا نادانی سے ہے، یعنی آپ کسی کو بغیر سوچے سمجھے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
“فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ“:اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد میں آپ کو اس پر پچھتاوا ہوگا کہ آپ نے بغیر تصدیق کے کسی کے خلاف عمل کیا یا اس کا حق تلف کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بے تردید خبریں سننا اور ان پر عمل کرنا کتنی بڑی نادانی ہو سکتی ہے۔خلاصہ تفسیر:اس آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایک بہت اہم درس دیتا ہے کہ وہ کسی فاسق کی خبر پر فوراً ایمان نہ لائیں اور اس کی تصدیق کریں۔ بغیر تصدیق کے کسی پر الزام لگانا یا کسی کو نقصان پہنچانا، بے گناہی اور نادانی میں مبتلا کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ اس آیت میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ آپس میں اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھنے کے لیے تصدیق کے عمل کو بہت ضروری سمجھا جائے تاکہ کسی کے ساتھ ظلم نہ ہو۔
