39

تفسیر المیزان / (آیہ تطھیر) سورہ الاحزاب آیہ 33

  • نیوز کوڈ : 1080
  • 06 March 2025 - 6:30
تفسیر المیزان / (آیہ تطھیر) سورہ الاحزاب آیہ 33

صراط ٹائمز / علامہ طباطبائی نے اپنی کتاب تفسیر المیزان میں سورہ مبارکہ الاحزاب کی آیہ 33 جسے آیہ تطھیر بھی کہا جاتا ہے، تفسیر کچھ اس طرح ذکر کی ہے۔ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ترجمہ:۔“بے شک اللہ یہی چاہتا ہے کہ وہ تم سے ہر قسم کی آلودگی […]

صراط ٹائمز / علامہ طباطبائی نے اپنی کتاب تفسیر المیزان میں سورہ مبارکہ الاحزاب کی آیہ 33 جسے آیہ تطھیر بھی کہا جاتا ہے، تفسیر کچھ اس طرح ذکر کی ہے۔

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا

ترجمہ
“بے شک اللہ یہی چاہتا ہے کہ وہ تم سے ہر قسم کی آلودگی کو دور رکھے، اے اہلِ بیت! اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جیسے پاکیزگی کا حق ہے۔”

تفسیر المیزان میں علامہ طباطبائیؒ کی تشریح


آیہ تطہیر کا سیاق و سباق
علامہ طباطبائیؒ وضاحت کرتے ہیں کہ اس آیت کا سیاق اگرچہ ازواجِ نبی (ﷺ) کے ذکر کے ساتھ آتا ہے، لیکن آیت کا اسلوب اور ضمیر کا صیغہ (عَنكُم، يُطَهِّرَكُمْ) مذکر کے لیے ہے، جو دلالت کرتا ہے کہ یہ خطاب نبی اکرم (ﷺ) کے ان مخصوص اہلِ بیت سے ہے جو مرد اور عورت دونوں پر مشتمل ہوسکتے ہیں، نہ کہ صرف ازواجِ مطہرات سے۔

اہلِ بیت کون ہیں؟
تفسیر المیزان میں روایاتِ صحیحہ کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اہلِ بیت سے مراد نبی اکرم (ﷺ)، حضرت علی (ع)، حضرت فاطمہ (س)، حضرت حسن (ع) اور حضرت حسین (ع) ہیں۔ اس کی سب سے بڑی دلیل حدیثِ کسا ہے، جس میں رسول اللہ (ﷺ) نے انہی افراد کو چادر کے نیچے جمع کر کے فرمایا:

“اللهم هؤلاء أهل بيتي فأذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا”

یہ روایت شیعہ و سنی دونوں منابع میں تواتر سے نقل ہوئی ہے اور اس بات پر دلیل ہے کہ آیہ تطہیر میں اہلِ بیت سے مراد یہی پانچ ہستیاں ہیں، نہ کہ تمام بنی ہاشم، نبی (ﷺ) کی بیویاں یا دوسرے افراد۔

رجس” کا مفہوم:
علامہ طباطبائیؒ “رجس” کا مطلب ہر قسم کی نجاست، گناہ، شک، شرک، اور ناپاکی بیان کرتے ہیں۔ چونکہ آیت میں اللہ کی طرف سے ارادۂ تکوینی کا ذکر ہے (یعنی قطعی اور یقینی ارادہ)، اس لیے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اہلِ بیت (ع) ہر طرح کی گمراہی اور روحانی و اخلاقی آلودگی سے پاک ہیں، یعنی ان کی عصمت ثابت ہوتی ہے۔

تطهيرا” کا مفہوم
آیہ تطہیر میں دو مرتبہ طہارت کا ذکر آیا ہے، جو تاکید پر دلالت کرتا ہے کہ یہ طہارت عام نہیں بلکہ کامل اور غیر معمولی ہے، جو اہلِ بیت (ع) کو دوسرے عام افراد سے ممتاز کرتی ہے۔

نتیجہ

علامہ طباطبائیؒ کے مطابق، آیہ تطہیر اہلِ بیت (ع) کی عصمت اور ان کے خصوصی مقام کو ثابت کرتی ہے۔ یہ آیت شیعہ عقیدۂ امامت کی بھی ایک بنیادی دلیل ہے، کیونکہ معصومیت قیادت و امامت کے لیے ضروری شرط ہے، اور چونکہ اہلِ بیت (ع) کو ہر رجس سے پاک کیا گیا ہے، اس لیے وہی امت کی رہنمائی کے سب سے زیادہ اہل ہیں۔

یہ تفسیر اہلِ بیت (ع) کی عظمت کو واضح کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ اللہ کا یہ ارادہ صرف تشریعی نہیں بلکہ تکوینی ہے، یعنی اللہ نے انہیں حقیقت میں ہر رجس سے پاک رکھا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1080

ٹیگز

تبصرے