صراط ٹائمز / کے مطابق علامہ طباطبائی اپنی کتاب تفسیر المیزان میں آیت وسیلہ کی تفسیر، کچھ اس طرح بیان فرماتے ہیں :۔
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ”(المائدة: 35)
ترجمہ:”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف (پہنچنے کا) وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
علامہ طباطبائیؒ نے تفسیر المیزان میں اس آیت کی تشریح میں وسیلہ کے مفہوم اور اس کی اقسام پر روشنی ڈالی ہے۔
۔1. وسیلہ کا مفہوم تفسیر المیزان کے مطابق، “وسیلہ” کا مطلب ہر وہ ذریعہ ہے جو انسان کو اللہ کی قربت تک پہنچائے۔ یہ وسیلہ مادی بھی ہو سکتا ہے اور روحانی بھی۔
۔2. وسیلہ کے اقسام علامہ طباطبائیؒ نے وسیلہ کی درج ذیل اقسام بیان کی ہیں۔
۔1. ایمان اور نیک اعمال:وسیلہ کا سب سے بنیادی اور مؤثر ذریعہ ایمان اور نیک اعمال ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے کہ کامیابی کا راستہ ایمان اور عملِ صالح میں ہے۔
۔2. عبادات:نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر عبادات انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہیں اور یہی وسیلہ بن سکتی ہیں۔
۔3. دعائیں اور توسل:اللہ سے دعا مانگنا، انبیاء، اولیاء، اور صالحین کے وسیلے سے دعا کرنا بھی تفسیر المیزان کے مطابق جائز ہے، کیونکہ انبیاء اور اولیاء اللہ کے مقرب بندے ہوتے ہیں۔
۔4. جہاد فی سبیل اللہ:آیت میں جہاد کا بھی ذکر ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی ایک بڑا وسیلہ ہے جو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے
۔3. وسیلہ اور شفاعت: علامہ طباطبائیؒ نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ “وسیلہ” اور “شفاعت” میں گہرا تعلق ہے۔ قرآن میں کئی مقامات پر یہ ذکر ہے کہ بعض اللہ کے برگزیدہ بندے دوسروں کے لیے شفاعت کریں گے، جو کہ وسیلہ کا ایک خاص درجہ ہے۔
نتیجہ: اس آیت کی روشنی میں، علامہ طباطبائیؒ نے واضح کیا ہے کہ اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لیے وسیلہ ضروری ہے، اور یہ وسیلہ مختلف نیک اعمال، دعا، انبیاء و اولیاء کے توسُّل، اور جہاد کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وسیلہ کا مقصد یہ ہے کہ بندہ اللہ سے قریب ہو جائے اور اس کی رحمت و برکت حاصل کرے۔
