صراط ٹائمز / سورہ المائدہ کی آیت 55 کی تفسیر علامہ طباطبائی اپنی کتاب تفسیر المیزان میں کچھ اس طرح کرتے ہیں۔
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ
(سورہ المائدہ 5:55)
ترجمہ
“بے شک تمہارا ولی (سرپرست، حاکم) صرف اللہ، اس کا رسول، اور وہ اہلِ ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔”
تفسیر المیزان – علامہ طباطبائی (رح)
علامہ طباطبائی (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں وضاحت کی ہے کہ یہاں “ولی” سے مراد سرپرست، حاکم اور صاحبِ اختیار ہے، نہ کہ محض دوست یا مددگار۔ اس آیت میں اللہ، اس کے رسول (ص)، اور ایک مخصوص گروہ کو مومنین کا ولی قرار دیا گیا ہے۔
اہلِ ولایت کون ہیں؟
“الَّذِينَ آمَنُوا” (جو ایمان لائے) کی جو صفات بیان کی گئی ہیں، وہ کسی عام گروہ پر صادق نہیں آتیں بلکہ کسی مخصوص فرد پر لاگو ہوتی ہیں۔
“وَهُمْ رَاكِعُونَ” کا مطلب ہے کہ وہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔
شیعہ و سنی تفاسیر میں حضرت علی (ع) کا ذکر
تفسیر المیزان اور دیگر تفاسیر میں بیان کیا گیا ہے کہ جب ایک فقیر نے مسجد میں سوال کیا تو حضرت علی (ع) نے حالتِ رکوع میں اپنی انگوٹھی عطا کر دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
نتیجہ
یہ آیت اسلامی قیادت اور ولایت کی وضاحت کرتی ہے کہ اللہ، اس کے رسول (ص)، اور حضرت علی (ع) کو مومنین کا ولی اور صاحبِ اختیار قرار دیا گیا ہے۔ یہ آیت امامت و ولایت کے بنیادی دلائل میں شمار ہوتی ہے۔
