صراط ٹائمز / سورۂ انفال کی آیت 28 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
“وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ”
“اور جان لو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں، اور بے شک اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔”
تفسیر المیزان میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ طباطبائی فرماتے ہیں کہ یہ آیت مسلمانوں کو متنبہ کرتی ہے کہ ان کے مال اور اولاد ان کے لیے آزمائش کا ذریعہ ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان دنیاوی تعلقات میں اس قدر مشغول نہ ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے غفلت برتے۔ مال اور اولاد کی محبت بعض اوقات انسان کو حق سے دور کر دیتی ہے، لہٰذا مؤمنین کو چاہیے کہ وہ ان تعلقات میں اعتدال برقرار رکھیں اور اللہ کے احکام کی پیروی میں کوتاہی نہ کریں۔
مزید برآں، علامہ طباطبائی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اجر عظیم ہے، جو ان لوگوں کے لیے ہے جو اس آزمائش میں ثابت قدم رہتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو پہچانتے ہیں۔ یہ آیت مؤمنین کو ترغیب دیتی ہے کہ وہ دنیاوی تعلقات میں مگن ہو کر اپنی آخرت کو نہ بھولیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی میں کوشاں رہیں۔
