صراط ٹائمز / سورۂ کوثر کی تفسیر – تفسیر المیزان
۔1. “إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ”تفسیر المیزان میں علامہ طباطبائیؒ نے “کوثر” کی تفسیر میں فرمایا کہ “کوثر” سے مراد بہت زیادہ خیر و برکت ہے، جس کا ایک حصہ حوضِ کوثر ہے جو جنت میں نبی ﷺ کو دیا جائے گا۔مزید برآں، “کوثر” کی تعبیر قرآن، نبوت اور نسلِ رسول ﷺ یعنی حضرت فاطمہ الزہراؑ کی نسل کے حوالے سے بھی کی گئی ہے۔
۔2. “فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ”علامہ طباطبائیؒ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ حکم اللہ کی عبادت اور قربانی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ نبی ﷺ اپنی عبادات اور قربانیاں صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں، نہ کہ مشرکین یا کفار کی طرح۔
۔3. “إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ””ابتر” کا مطلب ہے نسل منقطع، اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے دشمنوں کو ابتر یعنی بے نسل قرار دیا، کیونکہ وہ اپنی دشمنی میں مٹ جائیں گے اور ان کا کوئی ذکر باقی نہیں رہے گا۔دراصل، نبی ﷺ کی نسلِ فاطمہؑ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، جو اہل بیتؑ کی صورت میں امت میں زندہ رہے گی۔
خلاصہ:تفسیر المیزان کے مطابق، سورۂ کوثر نبی ﷺ کی عظمت اور اللہ کی جانب سے عطا کردہ بے شمار نعمتوں کو بیان کرتی ہے۔ اس میں اللہ کی عبادت اور اخلاص کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، اور دشمنوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ نسل کے حوالے سے بے نسل ہیں جبکہ نبی ﷺ کی نسل ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔
