تفسیر نمونہ میں آیت اللہ مکارم شیرازی بیان کرتے ہیں کہ امام صادقؑ نے فرمایا: “جو شخص سورہ العصر کی کثرت سے تلاوت کرے، وہ قیامت کے دن خسارے میں نہ ہوگا۔”
(نور الثقلین، جلد 5، صفحہ 683)
“وَالْعَصْرِ ﴿١﴾ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ﴿٢﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ﴿٣﴾
“ترجمہ:”قسم ہے زمانے کی، بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کیے، حق کی نصیحت کی اور صبر کی تلقین کی۔
تفسیری نکات
اللہ نے زمانے کی قسم کھائی کیونکہ وقت کی قدر کرنا ایمان اور عمل کی بنیاد ہے۔چار شرائط (ایمان، عملِ صالح، حق کی دعوت، صبر) کے بغیر انسان خسارے میں ہے۔امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: “جو شخص ہر روز سورۂ العصر کی تلاوت کرے، وہ قیامت میں خسارے والوں میں نہ ہوگا۔”
