بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
اسلامی شریعت کا ایک نمایاں امتیاز یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی کو جامد اصولوں یا ظاہری پیمانوں کے بجائے اس کی حقیقی ضروریات، فطری تقاضوں اور معاشرتی حقائق کی روشنی میں منظم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی فقہ کے بہت سے تصورات، اگرچہ مختصر الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں، لیکن اپنے اندر نہایت گہری حکمت، وسعت اور معاشرتی بصیرت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے بعض تصورات عوامی سطح پر محدود مفاہیم کے ساتھ سمجھے جانے لگے، جس کے نتیجے میں ان کی اصل روح اور مقصد پس منظر میں چلے گئے۔
فقر، استحقاقِ صدقہ، مؤونة السنة، عرف اور کفاءت جیسے فقہی عناوین بھی انہی موضوعات میں شامل ہیں جنہیں اکثر محض ظاہری علامات، خاندانی نسبتوں، پیشہ ورانہ شناختوں یا مروجہ سماجی تصورات کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے، جبکہ فقہِ جعفریہ ان تمام مسائل کو انسان کی موجودہ مالی استطاعت، عرفی حالات، دینی و اخلاقی شخصیت، معاشرتی ذمہ داریوں اور عملی زندگی کے تقاضوں کے تناظر میں دیکھتی ہے۔ یہی جامع زاویۂ نگاہ اسلامی فقہ کو ہر دور، ہر معاشرے اور ہر طبقے کے لیے قابلِ عمل اور زندہ نظامِ ہدایت بناتا ہے۔
فقہِ جعفریہ میں فقر اور استحقاقِ صدقہ کا معیار محض اتنا نہیں کہ کسی شخص کے پاس کھانے پینے کا سامان موجود ہے یا نہیں، بلکہ اس کا تعلق ایک وسیع فقہی تصور سے ہے جسے فقہاء “مؤونة السنة” یعنی “سال بھر کے اخراجات” سے تعبیر کرتے ہیں۔ بعض اوقات اردو میں اس کے لیے “سال بھر کا اذوقہ” یا “سال بھر کا خرچ” جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن ان تعبیرات سے یہ گمان پیدا ہو سکتا ہے کہ اس سے صرف خوراک یا بنیادی ضروریات مراد ہیں، جبکہ فقہی اصطلاح میں اس کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ جامع اور وسیع ہے۔
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی زندگی کے فطری اور معاشرتی حقائق کو نظر انداز نہیں کرتا۔ انسان مختلف معاشرتی طبقات، پیشوں، ذمہ داریوں اور خاندانی حالات میں زندگی گزارتا ہے۔ ایک مزدور کی ضروریات، ایک استاد کی ضروریات، ایک ڈاکٹر کے تقاضے، ایک تاجر کی ذمہ داریاں اور ایک عالمِ دین کی علمی ضروریات یکساں نہیں ہوتیں۔ اسی طرح ایک غیر شادی شدہ فرد، ایک چھوٹے خاندان کے سربراہ اور ایک بڑے کنبے کے کفیل کے اخراجات میں بھی نمایاں فرق ہوتا ہے۔ اگر شریعت تمام افراد کے لیے ایک ہی مالی معیار مقرر کر دیتی تو نہ یہ انسانی فطرت کے مطابق ہوتا اور نہ ہی معاشرتی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ۔
اسی لیے فقہِ جعفریہ میں مؤونة السنة کا معیار عرف کو قرار دیا گیا ہے۔ عرف سے مراد وہ معاشرتی اور عقلی معیار ہے جسے عام لوگ کسی شخص کی حیثیت، پیشے، ذمہ داریوں اور ماحول کے مطابق مناسب اور معمول کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کے سال بھر کے اخراجات اس کے عرفی حالات کے مطابق متعین ہوں گے، نہ کہ کسی ایک جامد اور یکساں پیمانے کے مطابق۔
اس میں صرف خوراک ہی شامل نہیں ہوتی بلکہ رہائش، لباس، علاج، تعلیم، آمدورفت، اہلِ خانہ کی ضروریات، پیشہ ورانہ اخراجات، گھریلو استعمال کی ضروری اشیاء اور وہ تمام جائز مصارف شامل ہوتے ہیں جن کے بغیر انسان اپنی معمول کی اور باوقار زندگی برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اگر کسی استاد کے لیے تدریسی کتابیں، کمپیوٹر، انٹرنیٹ یا دیگر علمی وسائل اس کے پیشے کا لازمی حصہ ہیں تو یہ اس کی مؤونة میں شمار ہوں گے۔ اسی طرح اگر کسی ڈاکٹر کے لیے گاڑی اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے تو عرفاً وہ بھی اس کی جائز ضرورت میں شامل ہوگی۔ اس کے برعکس محض عیش و عشرت، فضول خرچی، نمود و نمائش یا غیر ضروری آسائشیں مؤونة میں شامل نہیں کی جاتیں، کیونکہ شریعت ضرورت اور تعیش کے درمیان واضح فرق قائم کرتی ہے۔
اسی اصول کی بنا پر دو ایسے افراد جن کی ماہانہ آمدنی بظاہر یکساں ہو، فقہی اعتبار سے مختلف حکم رکھتے ہو سکتے ہیں۔ ایک شخص کی کفالت میں والدین، بیوی، کئی بچے یا بیمار افراد ہوں، جبکہ دوسرا اکیلا ہو؛ ایک شخص ایسے علاقے میں رہتا ہو جہاں اخراجات بہت زیادہ ہوں، جبکہ دوسرا کم خرچ علاقے میں رہتا ہو؛ ایک شخص کے پیشے کی ضروریات زیادہ ہوں اور دوسرے کی کم۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا اس شخص کے پاس اپنے اور اپنے زیرِ کفالت افراد کے عرفاً مناسب اور جائز ایک سال کے اخراجات پورے کرنے کے ذرائع موجود ہیں یا نہیں۔
اگر کسی شخص کی آمدنی، اس کی بچت اور اس کے قابلِ استعمال اثاثے اس کے ایک سال کے عرفی اور جائز اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں، تو وہ فقہی اصطلاح میں فقیر شمار ہو سکتا ہے، خواہ اس کے پاس ذاتی رہائش، ضروری گھریلو سامان یا روزمرہ استعمال کی بعض قیمتی اشیاء موجود ہوں۔ اس کے برعکس اگر کسی شخص کے پاس اتنے اثاثے، سرمایہ یا آمدنی کے ذرائع موجود ہوں کہ وہ اپنے سال بھر کے اخراجات بآسانی پورے کر سکتا ہو، تو صرف نقد رقم کی کمی یا کم ماہانہ تنخواہ اسے شرعاً فقیر نہیں بناتی۔
یہی وجہ ہے کہ فقہِ جعفریہ میں فقر کا مفہوم محض مطلق غربت یا بھوک و افلاس تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق انسان کی حقیقی معاشی استطاعت سے ہے۔ شریعت نہ تو انسان کو غیر ضروری تنگی میں مبتلا دیکھنا چاہتی ہے اور نہ اسے اس کی عرفی اور جائز ضروریات سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ اسی اعتدال پر مبنی اصول کے ذریعے اسلامی فقہ ہر فرد کے حالات، ذمہ داریوں اور معاشرتی مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے استحقاقِ صدقہ اور دیگر مالی احکام کا تعین کرتی ہے۔
فقہِ جعفریہ کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ کسی شخص کی سابقہ معاشی حیثیت کو نہیں بلکہ اس کی موجودہ مالی استطاعت کو معیار قرار دیتی ہے۔ اگر کوئی شخص ماضی میں صاحبِ ثروت، خوش حال یا کاروباری اعتبار سے مستحکم تھا، لیکن کاروبار میں مسلسل نقصان، ملازمت ختم ہو جانے، غیر متوقع معاشی بحران، بیماری یا دیگر ناگزیر حالات کے باعث اس کی آمدنی اور وسائل اس حد تک کم ہو جائیں کہ وہ اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے ایک سال کے عرفی اور جائز اخراجات پورے نہ کر سکے، تو وہ شرعاً فقیر شمار ہو سکتا ہے اور مستحقِ صدقہ و دیگر شرعی مالی حقوق بن سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کی سابقہ دولت، سماجی شہرت یا معاشرتی مقام اس کے استحقاق کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتے، کیونکہ اسلام انسان کے ماضی پر نہیں بلکہ اس کی موجودہ حقیقی معاشی حالت پر حکم مرتب کرتا ہے۔ اسی طرح اگر بعد میں اس کے معاشی حالات دوبارہ بہتر ہو جائیں اور وہ اپنے سال بھر کے اخراجات پورے کرنے کی استطاعت حاصل کر لے تو پھر وہ فقیر کے حکم سے خارج ہو جاتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ شریعت میں فقر ایک دائمی شناخت نہیں بلکہ ایک متغیر مالی حالت ہے، جس کا فیصلہ ہر دور میں انسان کی موجودہ استطاعت اور حقیقی ضروریات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ “سال بھر کے اخراجات” کا تصور ایک زندہ اور متحرک فقہی معیار ہے، جو ہر زمانے، ہر معاشرے اور ہر فرد کے عرفی حالات کے مطابق تطبیق پاتا ہے۔ یہی خصوصیت فقہِ جعفریہ کے اجتہادی نظام کی عملی جامعیت اور لچک کو نمایاں کرتی ہے، کیونکہ یہ جامد اعداد و شمار کے بجائے انسانی زندگی کے حقیقی معاشرتی اور معاشی حالات کو بنیاد بنا کر شرعی احکام کا نفاذ کرتی ہے۔
اسی طرح اسلامی فقہ میں نکاح کے باب میں استعمال ہونے والی اصطلاح “کفو” یا “کفاءت” ایک نہایت اہم اور حکیمانہ تصور ہے، لیکن عام معاشرے میں اس کا مفہوم اکثر محدود، سطحی یا محض خاندانی نسبت تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ کفو کو صرف سید اور غیر سید کے فرق سے تعبیر کرتے ہیں، بعض اسے صرف پیشے کی مماثلت، مثلاً ڈاکٹر کا ڈاکٹر سے یا انجینئر کا انجینئر سے نکاح، تک محدود سمجھتے ہیں، جبکہ فقہِ جعفریہ اور اسلامی معاشرتی فکر میں اس کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع، متوازن اور حقیقت پسندانہ ہے۔
لغوی اعتبار سے کفو کے معنی ہم پلہ، ہم مرتبہ، مناسب اور ایک دوسرے کے موافق ہونے کے ہیں۔ فقہی اعتبار سے اس کا مقصد یہ نہیں کہ دونوں افراد ہر اعتبار سے بالکل ایک جیسے ہوں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ دونوں کے درمیان ایسا مناسب تناسب اور ہم آہنگی موجود ہو جو ازدواجی زندگی کے استحکام، باہمی احترام اور طویل المدت سکون کا سبب بن سکے۔ اسلام نکاح کو صرف دو افراد کا تعلق نہیں سمجھتا بلکہ دو خاندانوں، دو طرزِ زندگی، دو ثقافتوں، دو نفسیاتی نظاموں اور دو معاشرتی ماحولوں کے باہمی اتصال کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسی لیے کفاءت کا تصور بھی مختلف جہات کا احاطہ کرتا ہے۔
فقہِ جعفریہ میں بنیادی اور سب سے اہم کفاءت دین اور ایمان کی ہے۔ اگر مرد اور عورت دینی اعتبار سے ایک دوسرے کے لیے مناسب ہوں، اسلامی حدود و احکام کا احترام کرتے ہوں، اخلاقی کردار کے حامل ہوں اور ایک دوسرے کے دینی ماحول میں زندگی گزار سکتے ہوں تو یہ کفاءت کی اصل بنیاد ہے۔ متعدد روایات میں بھی دینداری اور حسنِ اخلاق کو نکاح کے انتخاب میں بنیادی معیار قرار دیا گیا ہے۔ نسب، مال، پیشہ یا دیگر امور اس بنیادی معیار کے بعد آتے ہیں اور ان کی اہمیت بھی حالات اور عرف کے مطابق ہوتی ہے۔
اس کے باوجود اسلام انسانی معاشرتی حقیقتوں کو بھی نظر انداز نہیں کرتا۔ زندگی صرف عقائد پر قائم نہیں رہتی بلکہ اس میں معاشی، ثقافتی، تعلیمی، نفسیاتی اور خاندانی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے فقہاء اور ماہرینِ معاشرت اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اگرچہ شرعی صحتِ نکاح کے لیے ہر قسم کی برابری شرط نہیں، لیکن کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے مختلف شعبوں میں مناسب ہم آہنگی نہایت مفید بلکہ بعض اوقات ضروری ہوتی ہے۔
یہ ہم آہنگی متعدد میدانوں میں ہو سکتی ہے۔ دینی سوچ اور مذہبی وابستگی، اخلاقی اقدار، تعلیمی پس منظر، علمی و فکری سطح، معاشرتی ماحول، خاندانی روایات، معاشی طرزِ زندگی، زندگی کے اہداف، ذمہ داریوں کے بارے میں نقطۂ نظر، نفسیاتی مزاج، گفت و شنید کا انداز، رہن سہن، ثقافتی عادات، مستقبل کے منصوبے، بچوں کی تربیت کا تصور، حتیٰ کہ وقت کی تنظیم، مالی نظم و ضبط اور سماجی تعلقات تک، یہ سب عوامل ازدواجی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ ممکن ہے دو افراد مختلف پیشوں سے تعلق رکھتے ہوں لیکن ان تمام جہات میں ان کے درمیان بہترین ہم آہنگی موجود ہو، اور ممکن ہے دونوں ایک ہی پیشے سے وابستہ ہوں لیکن مزاج، اقدار اور زندگی کے اہداف میں اس قدر اختلاف ہو کہ ازدواجی زندگی مسلسل کشیدگی کا شکار رہے۔
اسی طرح خاندانی اور معاشرتی حیثیت بھی کفاءت کے ضمن میں قابلِ توجہ ہے، لیکن اس کا مقصد کسی خاندان کو برتر یا کمتر ثابت کرنا نہیں بلکہ عملی زندگی میں پیدا ہونے والی ممکنہ مشکلات سے بچنا ہے۔ اگر دو خاندانوں کے رسم و رواج، توقعات، رہن سہن اور معاشرتی رویوں میں بہت زیادہ تفاوت ہو تو بسا اوقات یہ فرق ازدواجی زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اسلام ان حقائق کو بھی نظر انداز نہیں کرتا، لیکن انہیں دین، تقویٰ اور اخلاق سے بالاتر حیثیت بھی نہیں دیتا۔
اسلامی فقہ میں شوہر پر بیوی کی نفقہ اور کفالت کی ذمہ داری ایک مسلم شرعی حکم ہے، لیکن اس ذمہ داری کی حدود و معیار کو سمجھنے کے لیے فقہی اصطلاحات اور معاشرتی حقیقتوں دونوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ اگر اس ذمہ داری کو صرف کم از کم ضروریات تک محدود کر دیا جائے تو یہ اسلامی تعلیمات کی جامع روح کی مکمل عکاسی نہیں کرتا، اور اگر اسے لامحدود خواہشات یا غیر معمولی آسائشوں تک پھیلا دیا جائے تو یہ بھی شریعت کے اعتدال کے خلاف ہوگا۔ اسی لیے فقہِ جعفریہ میں اس باب کا بنیادی معیار بھی، دیگر بہت سے معاشرتی احکام کی طرح، عرف اور معروف کو قرار دیا گیا ہے۔
قرآن کریم نے شوہر کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی حیثیت اور وسعت کے مطابق بیوی کا نفقہ اور رہائش اس انداز سے فراہم کرے جو معاشرے میں معروف اور مناسب سمجھا جاتا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے نہ تو تمام خاندانوں کے لیے ایک ہی معیار مقرر کیا ہے اور نہ ہی اس ذمہ داری کو محض خوراک اور لباس تک محدود کیا ہے۔ بلکہ اس کا تعلق اس طرزِ زندگی سے ہے جسے عرف میں اس خاندان کے لیے مناسب سمجھا جاتا ہے اور جو شوہر کی حقیقی مالی استطاعت کے اندر ہو۔
فقہِ جعفریہ میں نفقہ سے مراد صرف روٹی، کپڑا اور مکان نہیں، بلکہ بیوی کی وہ تمام عرفی اور جائز ضروریات ہیں جن کے بغیر اس کی معمول کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ اس میں مناسب رہائش، موسم اور عرف کے مطابق لباس، خوراک، علاج، گھریلو سہولیات، اور حالات کے مطابق دیگر ضروری اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ اگر زمانے اور معاشرے کے بدلنے سے بعض چیزیں عام ضرورت کا درجہ اختیار کر لیں تو وہ بھی نفقہ کے مفہوم میں شامل ہو سکتی ہیں، کیونکہ اسلامی فقہ انسانی زندگی کو جامد نہیں بلکہ متحرک حقیقت کے طور پر دیکھتی ہے۔
البتہ ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے والدین کے گھر نسبتاً خوش حال ماحول میں پلی بڑھی ہو اور شادی کے بعد اس کے شوہر کی مالی حیثیت اس معیار تک نہ پہنچتی ہو تو اس صورت میں شوہر کی شرعی ذمہ داری کیا ہوگی؟ فقہی اعتبار سے اس کا جواب یہ ہے کہ اصل معیار صرف عورت کا سابقہ طرزِ زندگی نہیں، بلکہ دو امور کا مجموعہ ہے: ایک، عورت کی عرفی حیثیت اور اس کی معمول کی جائز ضروریات؛ اور دوسرا، شوہر کی حقیقی مالی استطاعت۔ شریعت نہ تو شوہر کو اس چیز کا مکلف بناتی ہے جو اس کی قدرت سے باہر ہو، اور نہ ہی اسے اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ قدرت رکھنے کے باوجود بیوی کو اس کے عرفی اور جائز حقوق سے محروم رکھے۔
اگر شوہر مالی طور پر اس قابل ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اس کے عرفی مقام کے مطابق زندگی فراہم کرے لیکن وہ بخل، غفلت یا غیر ذمہ داری کی وجہ سے ایسا نہیں کرتا، تو وہ شرعاً اپنی ذمہ داری میں کوتاہی کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کی معاشی حالت واقعی محدود ہے اور وہ اپنی پوری کوشش کے باوجود اس معیار تک نہیں پہنچ سکتا، تو شریعت اس سے اس کی استطاعت سے بڑھ کر مطالبہ نہیں کرتی۔ قرآن کریم کا اصول یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا۔
اسی لیے نکاح کے وقت کفاءت، مالی حالات اور مستقبل کی ذمہ داریوں پر غور کرنے کی حکمت بھی واضح ہو جاتی ہے۔ اگر دونوں خاندان اور خود زوجین ایک دوسرے کے معاشی حالات سے آگاہ ہوں اور باہمی رضامندی کے ساتھ ازدواجی زندگی کا آغاز کریں تو بعد میں بہت سے اختلافات پیدا نہیں ہوتے۔ اسلام حقیقت پسندانہ نظام پیش کرتا ہے؛ وہ نہ غیر حقیقی توقعات پیدا کرتا ہے اور نہ حقیقی مشکلات کو نظر انداز کرتا ہے۔
دوسری طرف اسلام نے ازدواجی زندگی کو صرف حقوق اور مالی ذمہ داریوں کا معاہدہ بھی نہیں بنایا۔ قرآن کریم نے میاں بیوی کے تعلق کو مودّت اور رحمت پر قائم رشتہ قرار دیا ہے۔ اسی لیے ایک باایمان، صاحبِ بصیرت اور بااخلاق بیوی اگر اپنے شوہر کی حقیقی مالی مجبوری کو دیکھتے ہوئے محبت، تعاون اور صبر کا راستہ اختیار کرتی ہے تو یہ اس کے اعلیٰ اخلاق، ایثار اور ایمان کی علامت ہے، اور اس پر اسے عظیم اجر کی بشارت دی گئی ہے۔ لیکن اس کے اس حسنِ اخلاق کو شوہر کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ جس طرح شوہر پر لازم ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق بیوی کے حقوق ادا کرے، اسی طرح بیوی کا تعاون ایک اخلاقی فضیلت ہے، نہ کہ شوہر کی ذمہ داری کے ساقط ہونے کا سبب۔
اس طرح اسلامی فقہ ایک نہایت متوازن اصول پیش کرتی ہے، جس میں نہ عورت کے عرفی اور جائز حقوق کو نظر انداز کیا جاتا ہے، نہ شوہر کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف بنایا جاتا ہے، اور نہ ازدواجی زندگی کو محض قانونی حقوق و فرائض تک محدود کیا جاتا ہے۔ عدل، استطاعت، عرف، محبت، ایثار اور باہمی تعاون جب ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو ازدواجی زندگی حقیقی معنوں میں سکون، رحمت اور استحکام کا گہوارہ بن جاتی ہے، اور یہی اسلامی خاندانی نظام کا مطلوبہ نمونہ ہے۔
اسی تناظر میں سادات اور غیر سادات کا مسئلہ بھی سمجھنا چاہیے۔ فقہِ جعفریہ میں سید اور غیر سید کے درمیان نکاح فی نفسہٖ جائز ہے اور نکاح کی صحت اس پر موقوف نہیں۔ بعض خاندان یا معاشرے اپنی روایات یا عرف کی بنیاد پر اس مسئلے کو اہمیت دیتے ہیں، لیکن اسے ایسا شرعی اصول قرار دینا درست نہیں جس سے نکاح کی صحت یا بطلان وابستہ ہو۔ اسی طرح ڈاکٹر کا صرف ڈاکٹر سے، انجینئر کا صرف انجینئر سے، یا کسی خاص پیشے والے کا صرف اپنے ہی پیشے میں نکاح کرنا بھی کوئی شرعی تقاضا نہیں۔ اگرچہ بعض حالات میں مشترک تعلیمی یا پیشہ ورانہ پس منظر باہمی سمجھ بوجھ کو آسان بنا سکتا ہے، لیکن یہ کفاءت کا واحد یا لازمی معیار نہیں ہے۔
درحقیقت اسلامی نقطۂ نظر میں کفو کا مطلب زندگی کے مختلف شعبوں میں ایسی مناسب مطابقت اور توازن ہے جو میاں بیوی کو ایک دوسرے کا حقیقی شریکِ حیات بننے میں مدد دے۔ اس میں برابری کا مطلب یکسانیت نہیں بلکہ تکمیل ہے۔ دو افراد اپنی صلاحیتوں، تعلیم، شخصیت، معاشی حالات اور سماجی پس منظر میں مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن اگر ان کے درمیان بنیادی اقدار، دینی وابستگی، باہمی احترام، ذہنی ہم آہنگی، ذمہ داری کا احساس اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہو تو وہ اسلامی تصورِ کفاءت کے زیادہ قریب ہیں، بنسبت ان دو افراد کے جو ظاہری حیثیت یا پیشے میں تو ایک جیسے ہوں لیکن ان کی فکری، اخلاقی اور نفسیاتی دنیا ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہو۔
اس طرح کفاءت کا تصور اسلامی معاشرت میں نہ تو طبقاتی تقسیم پیدا کرنے کے لیے ہے اور نہ ہی انسانوں کو نسب، مال یا پیشے کی بنیاد پر ایک دوسرے سے برتر یا کمتر ثابت کرنے کے لیے، بلکہ اس کا اصل مقصد ایسی مضبوط اور متوازن ازدواجی بنیاد فراہم کرنا ہے جس پر محبت، رحمت، باہمی احترام، ذہنی سکون اور خاندانی استحکام پر مبنی زندگی تعمیر ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہِ جعفریہ میں کفاءت کو ایک جامع معاشرتی حکمت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس میں دین و اخلاق کو مرکزیت حاصل ہے، جبکہ دیگر تمام عوامل اسی مرکز کے گرد گردش کرتے ہوئے ازدواجی زندگی کے حسن، دوام اور کامیابی میں معاون کردار ادا کرتے ہیں۔
اسلامی فقہ، خصوصاً فقہِ جعفریہ، انسانی زندگی کو جامد اصولوں کے بجائے فطری، عقلی اور معاشرتی حقائق کی روشنی میں منظم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقر، استحقاقِ صدقہ، مؤونة السنة، عرف اور کفاءت جیسے تصورات کو محض ظاہری شکلوں، خاندانی نسبتوں یا سماجی القابات تک محدود نہیں کیا گیا، بلکہ انہیں انسان کے حقیقی حالات، ذمہ داریوں، صلاحیتوں، معاشرتی ماحول اور اخلاقی و دینی بنیادوں کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اس جامع نقطۂ نظر سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت انسانوں کو مصنوعی طبقاتی تقسیم میں نہیں بانٹتی بلکہ ہر فرد کی موجودہ حقیقت، اس کی جائز ضروریات اور عملی زندگی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عدل، توازن اور حکمت کے ساتھ احکام نافذ کرتی ہے۔ یہی ہمہ گیر اور حقیقت پسندانہ نظام فقہِ جعفریہ کی اجتہادی قوت، اس کی عصری معنویت اور انسانی معاشرے کے ہر دور اور ہر طبقے کے لیے اس کی دائمی رہنمائی کو نمایاں کرتا ہے۔
