بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
اسلامی فقہ کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے بہت سے احکام محض الفاظ کے ظاہری مفہوم پر قائم نہیں ہوتے بلکہ ان کی تطبیق انسان کے حالات، عرف، زمانے، معاشرتی ساخت، معاشی استطاعت اور عملی امکانات کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمِ فقہ میں صرف نصوص کا مطالعہ کافی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ ان نصوص کے موضوع، قیود، شرائط، عرفی مفاہیم اور خارجی مصادیق کو سمجھنا بھی اجتہاد کا لازمی حصہ ہے۔ اگر ان عوامل کو نظر انداز کر دیا جائے تو بعض اوقات وہ حکم، جو عدل، سہولت اور حکمت کے لیے دیا گیا تھا، خود تنگی، افراط یا غلط فہمی کا سبب بن جاتا ہے۔
اسی تناظر میں اسلامی فقہ میں “استطاعت” کا تصور غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ حج کا وجوب اس شخص پر ہے جو مستطیع ہو، لیکن استطاعت کا مطلب صرف اتنا نہیں کہ کسی کے پاس سفر کا کرایہ موجود ہو۔ فقہاء نے مالی استطاعت، جسمانی استطاعت، راستے کا محفوظ ہونا، اہل و عیال کے اخراجات کا انتظام اور واپسی کے بعد معمول کی زندگی متاثر نہ ہونے جیسے متعدد پہلوؤں کو اس میں شامل کیا ہے۔ ممکن ہے دو افراد کے پاس یکساں رقم موجود ہو، لیکن ایک مستطیع شمار ہو اور دوسرا نہ ہو، کیونکہ دونوں کے سماجی، خاندانی اور معاشی حالات مختلف ہیں۔
اسی طرح خمس میں “مؤونة السنة” کا تصور بھی اسی اصول پر قائم ہے۔ شریعت نے یہ نہیں کہا کہ ہر شخص ایک جیسی رقم اپنے لیے رکھ سکتا ہے، بلکہ ہر فرد کو اس کے عرفی اور جائز سالانہ اخراجات کی رعایت دی گئی ہے۔ ایک طالب علم، ایک تاجر، ایک صنعت کار، ایک عالمِ دین اور ایک مزدور کی مؤونة ایک جیسی نہیں ہوگی، کیونکہ ان کے معاشرتی کردار، پیشہ ورانہ ذمہ داریاں اور عرفی ضروریات مختلف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خمس کا حساب بھی ہر شخص کے حالات کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
وصیت کے باب میں بھی یہی حکمت کارفرما ہے۔ اگرچہ شرعاً انسان اپنے مال کے ایک تہائی حصے تک وصیت کر سکتا ہے، لیکن فقہاء ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وصیت کرتے وقت وارثوں کی معاشی حالت، ان کی ضروریات، خاندانی ذمہ داریوں اور ممکنہ نقصانات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ بسا اوقات ایک ہی وصیت ایک خاندان کے لیے مناسب ہوتی ہے، جبکہ دوسرے خاندان کے لیے باعثِ ضرر بن سکتی ہے۔
مہر کے بارے میں بھی یہی حقیقت پائی جاتی ہے۔ شریعت نے نہ کم سے کم مہر کی کوئی سخت لازمی حد مقرر کی اور نہ زیادہ سے زیادہ کی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ہر معاشرہ، ہر خاندان اور ہر زمانہ اپنی عرفی اور معاشی حالت کے مطابق مناسب مہر کا تعین کرے۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے معاشرے کے معیار کو اپنے اوپر لازم سمجھ لے تو وہ شریعت کے مقصد کو نہیں بلکہ صرف ظاہری شکل کو اختیار کرے گا۔
اولاد کے درمیان ہدیہ اور عطیہ میں عدل کا حکم بھی اسی نوعیت کا ہے۔ عدل کا مطلب ہمیشہ ریاضیاتی مساوات نہیں ہوتا۔ اگر ایک اولاد بیمار ہے، دوسری تعلیم حاصل کر رہی ہے، تیسری بے روزگار ہے اور چوتھی معاشی طور پر مستحکم ہے تو ہر ایک کی ضرورت مختلف ہوگی۔ فقہاء نے اس فرق کو تسلیم کیا ہے اور اس بات کی وضاحت کی ہے کہ بعض مواقع پر حقیقی عدل مساوی تقسیم کے بجائے مناسب اور متناسب تقسیم میں ہوتا ہے۔
بیویوں کے درمیان عدل کے احکام بھی اسی اصول کی مثال ہیں۔ عدل کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز ہر لمحہ اور ہر صورت میں یکساں ہو، بلکہ اس کا تعلق ان حقوق سے ہے جنہیں عرف انصاف قرار دیتا ہے۔ اگر کسی بیوی کی بیماری، بچوں کی تعداد یا دیگر حقیقی ضروریات زیادہ ہوں تو عملی زندگی میں بعض انتظامات مختلف ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ظلم، جانبداری اور حق تلفی نہ ہو۔
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم بھی حالات کے مطابق مختلف صورتیں اختیار کرتا ہے۔ ایک بوڑھے، بیمار اور محتاج والدین کے حقوق یقیناً ایک ایسے والدین سے مختلف ہوں گے جو مالی اور جسمانی طور پر خود کفیل ہیں۔ شریعت نے حسنِ سلوک کا اصول تو یکساں رکھا، لیکن اس کے عملی تقاضوں کو حالات کے مطابق سمجھنے کی ہدایت دی۔
اسی طرح “اسراف” اور “تبذیر” کے احکام بھی مطلق اور جامد نہیں ہیں۔ جو خرچ ایک غریب شخص کے لیے اسراف شمار ہو سکتا ہے، ضروری نہیں کہ وہی خرچ ایک بڑے تاجر یا صاحبِ حیثیت شخص کے لیے بھی اسراف ہو، بشرطیکہ وہ اس کی جائز عرفی حیثیت، ذمہ داریوں اور مالی وسعت کے مطابق ہو۔ اس کے برعکس، اگر کوئی صاحبِ ثروت بھی صرف نمود و نمائش، تکبر یا فضول خرچی کے لیے مال خرچ کرے تو وہ بھی اسراف کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ لہٰذا اسراف کا معیار صرف رقم کی مقدار نہیں بلکہ اس کا مقصد، موقع، عرف اور انسان کی حیثیت بھی ہے۔
لباس کے احکام میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ فقہ میں “لباسِ شہرت” کی ممانعت کا تعلق صرف کسی خاص رنگ یا مخصوص ڈیزائن سے نہیں بلکہ اس لباس سے ہے جو کسی معاشرے میں غیر معمولی طور پر انسان کو شہرت، غرور یا غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا دے۔ ممکن ہے ایک لباس ایک علاقے میں بالکل معمول کا ہو جبکہ دوسرے علاقے میں وہی لباس لباسِ شہرت شمار ہو۔ اس لیے اس حکم کا اطلاق بھی عرف کے بغیر ممکن نہیں۔
اسی طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے احکام متعدد شرائط سے مشروط ہیں۔ صرف کسی برائی کو دیکھ لینا کافی نہیں، بلکہ اس میں علم، احتمالِ تأثیر، مفسدہ نہ ہونے، مناسب طریقۂ کار اور دیگر شرائط کو بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اگر ان شرائط کو نظر انداز کر دیا جائے تو ایک مستحب یا واجب عمل خود کسی بڑے فساد کا ذریعہ بن سکتا ہے، جبکہ شریعت کا مقصد اصلاح ہے، فساد پیدا کرنا نہیں۔
اسی حقیقت کو اسلامی حکومت اور ولایت کے باب میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ بہت سے احکام ایسے ہیں جو فرد کے لیے ایک صورت رکھتے ہیں، لیکن جب وہی مسئلہ ریاست، امت یا پوری اسلامی سوسائٹی کے تناظر میں آتا ہے تو اس کے تقاضے بدل جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی فرد کا ذاتی حق اور پوری امت کا اجتماعی مفاد ہمیشہ ایک درجے میں نہیں ہوتے۔ بعض اوقات فرد کو اپنے بعض حقوق سے دست بردار ہونا پڑتا ہے تاکہ اجتماعی مصلحت محفوظ رہ سکے، جبکہ بعض مواقع پر ریاست کو بھی عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہر دوسری مصلحت پر مقدم رکھنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہِ جعفریہ میں احکامِ فردی اور احکامِ حکومتی کے درمیان فرق کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔
معاشی زندگی میں بھی قیمتوں کا تعین، اجرت، تجارت اور منافع کے مسائل اسی اصول پر قائم ہیں۔ شریعت نے کسی چیز کی قیمت مقرر نہیں کی بلکہ اسے بازار، طلب و رسد، عرف اور باہمی رضامندی پر چھوڑا ہے، البتہ ظلم، احتکار، دھوکہ، استحصال اور اجارہ داری سے منع کیا ہے۔ ممکن ہے ایک ہی اجرت کسی چھوٹے شہر میں مناسب ہو لیکن بڑے شہر میں ظلم شمار ہو، کیونکہ دونوں علاقوں کے اخراجات، معیارِ زندگی اور معاشی حالات مختلف ہیں۔ اسی لیے فقہ میں اجرت کے بارے میں “اجرة المثل” کا تصور موجود ہے، یعنی ایسی اجرت جو اس معاشرے میں اس کام کے لیے عرفاً مناسب سمجھی جاتی ہو۔
مزدور، ملازم اور آجر کے تعلقات بھی اسی اصول کے تابع ہیں۔ شریعت صرف معاہدے کے الفاظ نہیں دیکھتی بلکہ یہ بھی دیکھتی ہے کہ آیا معاہدہ طاقت کے غیر مساوی توازن، مجبوری یا استحصال کا نتیجہ تو نہیں۔ اگرچہ دونوں فریقوں نے بظاہر رضامندی ظاہر کی ہو، لیکن اگر ایک فریق شدید مجبوری اور دوسرے کی غیر معمولی طاقت کے باعث انصاف سے محروم ہو رہا ہو تو فقہی بحث میں یہ پہلو بھی قابلِ توجہ ہوتا ہے۔
وقف کے احکام میں بھی یہی لچک پائی جاتی ہے۔ اگر کسی وقف کا اصل مقصد تعلیم، علاج، فقراء کی مدد یا دینی خدمات تھا، تو اس کی انتظامیہ کو اسی مقصد کے مطابق وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو بھی سمجھنا ہوگا۔ ممکن ہے سو سال پہلے تعلیم کی ضروریات کچھ اور ہوں اور آج کچھ اور۔ اصل مقصد برقرار رہتا ہے، لیکن اس کے مصادیق معاشرے کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح “سبیل اللہ” کا عنوان بھی ایک وسیع سماجی تصور ہے۔ فقہاء نے مختلف ادوار میں اس کے مصادیق کو زمانے کی ضرورت کے مطابق سمجھا ہے۔ کسی دور میں سرحدوں کا دفاع سب سے بڑی ضرورت ہو سکتی ہے، کسی دور میں علمی مراکز کا قیام، کسی دور میں یتیموں کی کفالت، اور کسی دور میں فکری، ثقافتی یا ابلاغی میدان میں اسلام کا دفاع۔ اصل عنوان ایک ہی رہتا ہے، لیکن اس کے عملی مصادیق سماجی حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔
قضاوت اور شہادت کے باب میں بھی معاشرتی حالات کا اثر نمایاں ہے۔ کسی مقدمے میں گواہی، قرائن، دستاویزات، عرف اور حالات کو یکجا دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ آج کے دور میں ڈیجیٹل ریکارڈ، بینکنگ دستاویزات، فرانزک شواہد اور دیگر جدید ذرائع بھی حقیقت تک پہنچنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کا مقصد صرف روایتی ذرائع کو برقرار رکھنا نہیں بلکہ انصاف کا قیام ہے۔
سیاسی میدان میں “امرِ مسلمین” اور “مصالحِ عامہ” کے اصول بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ جنگ، صلح، معاہدات، سفارتی تعلقات، ٹیکس، عوامی نظم، شہری قوانین اور ریاستی فیصلے صرف انفرادی پسند و ناپسند کی بنیاد پر نہیں کیے جاتے بلکہ پوری امت کے مفاد، خطرات، وسائل اور مستقبل کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ایسے اقدامات جو ایک فرد کے لیے ضروری نہیں ہوتے، ریاست کے لیے واجب ہو سکتے ہیں، اور بعض ایسے کام جو فرد کے لیے مباح ہوتے ہیں، اجتماعی مصلحت کی وجہ سے محدود بھی کیے جا سکتے ہیں۔
اسلامی معاشرت میں پڑوسیوں کے حقوق، رشتہ داروں کے حقوق، مہمان نوازی، صلۂ رحم، انفاق اور تعاون کے احکام بھی سماجی حالات سے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر کسی معاشرے میں شدید غربت، جنگ، قحط یا قدرتی آفت آ جائے تو ان احکام کی عملی اہمیت اور ذمہ داری پہلے سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح خوش حالی اور استحکام کے زمانے میں ان کی عملی صورت مختلف ہو سکتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت انسان سے ہمیشہ اس کے ماحول اور حالات کے مطابق ذمہ داری کا مطالبہ کرتی ہے۔
تعلیم اور علم کے باب میں بھی یہی اصول ملتا ہے۔ ہر شخص پر تمام علوم کا حصول واجب نہیں، بلکہ معاشرے کی ضروریات کے مطابق مختلف علوم کی کفائی ذمہ داری تقسیم ہوتی ہے۔ اگر کسی معاشرے میں ڈاکٹر کم ہوں تو طب کی تعلیم کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، اگر دفاعی ماہرین کی کمی ہو تو دفاعی علوم کی ضرورت نمایاں ہو جاتی ہے، اور اگر دینی رہنماؤں کی قلت ہو تو دینی تعلیم ایک بڑی سماجی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اس طرح علم کا وجوب بھی سماجی ضرورت کے ساتھ مربوط ہو جاتا ہے۔
اسی طرح اسلامی فقہ میں “معروف” اور “منکر” کی عملی شناخت بھی بہت سے مواقع پر عرف اور معاشرتی شعور سے متعلق ہوتی ہے۔ شریعت نے بنیادی اصول متعین کر دیے ہیں، لیکن بہت سے سماجی معاملات میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ معاشرے میں کس چیز کو عزت، بے عزتی، تعاون، ظلم، ایذا یا حسنِ معاشرت سمجھا جاتا ہے، کیونکہ انسانی تعلقات صرف قانونی دفعات سے نہیں بلکہ سماجی ادراک سے بھی تشکیل پاتے ہیں۔
یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلامی فقہ انسان کو ایک مجرد فرد کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ اسے اس کے خاندان، معاشرے، معاشی حیثیت، عرف، زمانے، ذمہ داریوں اور حقیقی حالات کے تناظر میں سمجھتی ہے۔ اسی لیے فقہِ جعفریہ میں اجتہاد صرف نصوص کے الفاظ کا نام نہیں بلکہ ان الفاظ کے موضوعات، قیود، مقاصد اور خارجی مصادیق کی عمیق شناخت کا بھی نام ہے۔ جب یہ جامع زاویۂ نگاہ اختیار کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کا مقصد انسانوں کو مصنوعی مساوات یا طبقاتی تقسیم میں جکڑنا نہیں بلکہ ہر فرد پر اس کے حالات کے مطابق عدل، حکمت اور مصلحت پر مبنی احکام نافذ کرنا ہے۔ یہی فقہِ جعفریہ کی اجتہادی بصیرت اور اس کی دائمی زندگی کا راز ہے۔ فقہِ جعفریہ ایک جامد قانونی مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ اجتہادی نظام ہے، جو نصوص کی ابدی ہدایت کو ہر دور کے متغیر سماجی، سیاسی اور معاشی حالات پر منطبق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں عدل، عرف، مصلحت، استطاعت، ضرورت، زمان و مکان، اور انسانی حالات کی صحیح شناخت کو فقہی استنباط کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ جب ان اصولوں کو ملحوظ رکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت کا اصل مقصد صرف احکام کی ظاہری تطبیق نہیں بلکہ انسان، معاشرہ اور ریاست کے لیے ایسا متوازن نظام قائم کرنا ہے جو ہر دور میں انصاف، رحمت اور حکمت کا مظہر بن سکے۔
