4

“خون شہید سے مزید ابھرے گی مقاومت / (مراجع عظام اور علمائے کرام کی نظر میں)

  • نیوز کوڈ : 3140
  • 04 July 2026 - 0:54
“خون شہید سے مزید ابھرے گی مقاومت / (مراجع عظام اور علمائے کرام کی نظر میں)

“خون شہید سے مزید ابھرے گی مقاومت / (مراجع عظام اور علمائے کرام کی نظر میں)

تحریر: علی اظہار

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ”

“اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے ہاں رزق پا رہے ہیں۔” (سورۃ آل عمران: ۱۶۹)

آج پوری امت مسلمہ، بلکہ ساری دنیا کے مظلوم اور حق کے متلاشی افراد، ایک ایسی عظیم شخصیت کے سوگ میں ڈوبے ہوئے ہیں جو کسی ایک سرزمین یا قوم تک محدود نہیں تھی، بلکہ پوری امت کی مشترکہ میراث اور انبیاء و اولیاء کے راستے کی وارث تھی۔ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ء کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ دہشت گردانہ حملے میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔

اس سانحے نے نہ صرف ایران بلکہ پوری عالم اسلام کو ایک انتہائی گہرے اور جانکاہ صدمے سے دوچار کیا ہے۔ اس مضمون میں ہم مراجع عظام اور علمائے کرام کی نگاہ میں اس عظیم سانحے کا جائزہ لیں گے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت: ایک عظیم المیہ

آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کا شمار ان عظیم رہنماوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی بابرکت زندگی کا ہر لمحہ اسلام، ایران کی آزادی اور اسلامی انقلاب کے بلند مقاصد کے لیے وقف کر دیا۔ وہ ایک ایسے رہبر تھے جنہوں نے اپنی دور اندیشی، ظلم کے خلاف پامردی، استقامت، علم اور حلم کی بنا پر تاریخ کے اوراق میں ایک لازوال نام چھوڑا۔

ان کی شہادت کو مراجع عظام نے ایک ایسا المیہ قرار دیا ہے جسے محدود جغرافیہ میں نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ اسے اسلامی دنیا کی معادلات اور عظیم انسانی تبدیلیوں کے تناظر میں پڑھا جانا چاہیے۔

مراجع عظام کے بیانات اور ردِ عمل

۱۔ آیت اللہ مکارم شیرازی:

مراجع تقلید میں سے ایک آیت اللہ مکارم شیرازی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ملت ایران اور عالم اسلام، انقلاب کے شہید رہنما کا انتقام لیں گے۔ انہوں نے اس جرم کے اصل ذمہ دار ظالم امریکہ اور منحوس صہیونی حکومت کو قرار دیا اور اس انتقام کو دنیا کے تمام مسلمانوں کا دینی فریضہ قرار دیا تاکہ ان جرائم پیشہ افراد کے شر کو دنیا سے ختم کیا جا سکے۔

۲۔ آیت اللہ جعفر سبحانی:

آیت اللہ جعفر سبحانی نے اپنے پیغام میں زور دے کر کہا کہ حضرت آیت اللہ خامنہ ای اس فرمان کی حقیقی مثال تھے کہ “إنما الحیاۃ عقیدۃ و جہاد” (زندگی دراصل عقیدہ اور جہاد کا نام ہے)۔ انہوں نے نوجوانی سے لے کر اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات تک، قلم، بیان اور جان و دل سے، اسلام کی تعلیمات کی تشریح اور ملک کی حکیمانہ قیادت کے لیے کوشاں رہے۔

۳۔ آیت اللہ علیرضا اعرافی (ایران کے اسلامی حوزات علمیہ کے سربراہ):

آیت اللہ اعرافی نے اپنے تاریخی پیغام میں کہا کہ شہید امام خامنہ ای ایک عالمی مفکر تھے جن کی فکر نسلی اور قومی حدود سے ماورا تھی۔ انہوں نے ایک عالمگیر گفتگو کی بنیاد رکھی جس میں مشترکہ انسانی اقدار، انسانی وقار، انصاف اور استکبار کے خلاف استقامت کو ایک جامع زبان عطا ہوئی۔ ان کا مرجعیت کا مقام بھی اسی تسلسل کا حصہ تھا: ایک ایسی مرجعیت جو فقہ کو تاریخی ذمہ داری اور امت کے مسائل سے ہم آہنگ کرتی تھی۔

۴۔ آیت اللہ موحدی کرمانی (مجلس خبرگان کے سربراہ):

آیت اللہ موحدی کرمانی نے اپنے پیغام میں زور دیا کہ آج ہم اس رہبر کے سوگ میں بیٹھے ہیں جس نے اپنے سینتیس سالہ فرائض منصبی کے دوران، اسلامی طرز حکمرانی کا ایک نیا باب رقم کیا۔

تشییع جنازہ: ایک عظیم تاریخی واقعہ

آیت اللہ خامنہ ای کی تشییع جنازہ کو ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ چھ روزہ تقریبات ۴ جولائی سے شروع ہو کر ۹ جولائی تک جاری رہیں گی، جن کا اہتمام تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں کیا جا رہا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس جنازے کو محض ایک الوداعی تقریب نہیں بلکہ ایک ایسا موقع قرار دیا ہے جس میں ایرانی عوام شہداء کے شاندار راستے اور اسلامی انقلاب کی اقدار کے ساتھ اپنی بیعت کی تجدید کریں گے۔

مراجع کی نظر میں اس سانحے کی اہمیت

مراجع عظام کے مطابق، آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت درج ذیل حوالوں سے امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم المیہ ہے:

۱۔ امت کے پدر کی شہادت: وہ قوم کے باپ، مقاومت کی اسطورہ کی روح، امت کے راہنما اور عوام کی روح تھے۔

۲۔ استکبار کے خلاف جہاد کا مرکز: انہوں نے اپنی پوری زندگی استکبار اور ظلم کے خلاف جہاد میں گزاری اور کبھی بھی عالمی استکبار کے سامنے نہیں جھکے۔

۳۔ وحدت کا مظہر: وہ ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد اور وحدت کے لیے ہمیشہ کام کیا۔

۴۔ فقہ و اجتہاد کا اعلیٰ مقام: ان کا مرجعیت کا مقام، فقہ کو تاریخی ذمہ داری اور امت کے مسائل سے ہم آہنگ کرنے کی ایک اعلیٰ مثال تھا۔

نتیجہ

آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای کی شہادت پوری امت مسلمہ کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ مراجع عظام اور علمائے کرام نے اس سانحے کو امت کے لیے ایک عظیم المیہ قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اس عظیم رہنما کا خون ضایع نہیں جائے گا ، بلکہ ان کا راستہ اور ان کے افکار آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ شہید امام خامنہ ای کو اپنی رحمت کے سایۂ عاطفت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے درجات کو بلند سے بلند تر کرے۔ ہم سب اس عظیم سانحے پر اپنے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے افکار و نظریات کو اپنانے اور ان کی راہ پر چلنے کا عہد کرتے ہیں۔

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3140

ٹیگز

تبصرے