3

*غیر معصوم حاکم ۔ قرآن و عترت ؑ کی نظر میں*

  • نیوز کوڈ : 3133
  • 01 July 2026 - 23:39
*غیر معصوم حاکم ۔ قرآن و عترت ؑ کی نظر میں*

*غیر معصوم حاکم ۔ قرآن و عترت ؑ کی نظر میں*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

انسانی کمالات کے مختلف مدارج ہوتے ہیں اور نہج البلاغہ ہمیں یہ حقیقت سکھاتی ہے کہ اگرچہ عصمت ایک خاص مرتبہ ہے جو صرف انبیاء و ائمہ علیہم السلام کے لئے مخصوص ہے، لیکن اس کے باوجود غیر معصوم انسان بھی اپنی ریاضت، تقویٰ، اخلاص اور عملی کمالات کے ذریعے اس مقام کے قریب پہنچ سکتا ہے کہ اس کی لغزش نہ رہے، اس کے فیصلوں پر اعتماد کیا جا سکے اور اس کی اطاعت واجب ہو۔ یہ وہی نکتہ ہے جسے مولا علیؑ نے اپنے عمل اور کلمات سے واضح کیا کہ دین کا نظام چلانے کے لئے ہمیشہ معصوم براہِ راست موجود نہیں ہوتا، لیکن ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جنہیں معصوم اپنے نائب اور نمائندے کی حیثیت سے منتخب کرتا ہے۔

نہج البلاغہ کے خطبات اور خطوط میں اس تصور کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ خصوصاً مولا علیؑ نے مالک اشتر کو مصر کے لئے گورنر مقرر کرتے وقت لکھا:

وَقَدْ اَمَّرْتُ عَلَیْكُمَا وَ عَلٰی مَنْ فِیْ حَیِّزِكُمَا مَالِكَ بْنَ الْحَارِثِ الْاَشْتَرَ فَاسْمَعَا لَهٗ وَ اَطِیْعَا، وَ اجْعَلَاهُ دِرْعًا وَّ مِجَنًّا، فَاِنَّهٗ مِمَّنْ لَّا یُخَافُ وَهْنُهٗ، وَ لَا سَقْطَتُهٗ، وَ لَا بُطْؤُهٗ عَمَّا الْاِسْرَاعُ اِلَیْهِ اَحْزَمُ، وَ لَاۤ اِسْرَاعُهٗ اِلٰی مَا الْبُطْءُ عَنْهُ اَمْثَلُ.” (نہج البلاغہ، خط نمبر 53 ۔ عہدنامہ مالک اشتر)

ترجمہ: میں نے مالک اشتر کو تم پر اور تمہارے ماتحت لشکر پر امیر مقرر کیا ہے۔ لہٰذا ان کے فرمان کی پیروی کرو اور انہیں اپنے لئے زرہ اور ڈھال سمجھو۔ کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن سے کمزوری و لغزش کا، اور جہاں جلدی کرنا تقاضائے ہوشمندی ہو وہاں سستی کا، اور جہاں ڈھیل کرنا مناسب ہو وہاں جلد بازی کا اندیشہ نہیں ہے۔

یہ جملے اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ اگرچہ مالک اشتر معصوم نہ تھے لیکن امامؑ نے ان کی شخصیت کو اس سطح پر تسلیم کیا کہ ان کی اطاعت واجب قرار دی اور انہیں ایک مضبوط ڈھال سے تشبیہ دی۔ گویا غیر معصوم انسان بھی اپنے تقویٰ، حکمت اور استقامت کے ذریعے اس منزل پر پہنچ سکتا ہے کہ اس کے بارے میں کہا جا سکے کہ اس سے لغزش کا خوف نہیں، اور وہ کسی بھی فیصلہ کن لمحے میں کمزوری یا عجلت کا شکار نہیں ہوگا۔

یہی اصول دینی قیادت اور اجتماعی نظم کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب معصوم براہِ راست موجود نہ ہو تو ایسے افراد جو کمالات میں استقامت اور عمل میں اخلاص رکھتے ہیں، ان کی اطاعت درحقیقت معصوم کی اطاعت شمار ہوتی ہے۔ امامؑ کا یہ طرزِ عمل اس بات کی سند ہے کہ امت کو ایسے رہنماؤں کی تلاش کرنی چاہئے جو اپنی ذاتی خواہشات سے بلند ہوں، جن میں دینی شعور اور عملی تدبیر ہو، اور جو اپنے نفس پر قابو پا کر اجتماعی ذمہ داری کو پورے اخلاص کے ساتھ ادا کریں۔

یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ اگر غیر معصوم انسان کو تقویٰ، بصیرت اور تدبر کے ساتھ پرکھا جائے اور وہ اپنی زندگی میں عدل، شجاعت اور عقلانیت کے معیار پر پورا اترے تو وہ معصوم کا نائب قرار پا سکتا ہے۔ اس کی اطاعت محض ذاتی حیثیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس لئے ہوگی کہ وہ معصوم کی طرف سے منتخب یا معتمد نمائندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام علیؑ نے مالک اشتر کے بارے میں نہ صرف اعتماد ظاہر کیا بلکہ دوسروں کو بھی ان کی مکمل اطاعت کی تاکید فرمائی۔

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ غیر معصوم انسان اگر اپنے باطن کو سنوار لے اور اپنے عمل کو الٰہی معیار پر ڈھال لے تو وہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں امت اس کو معصوم کا نائب مان کر اس کی پیروی کرے، اور اس کی اطاعت دراصل معصوم کی اطاعت شمار ہو۔ یہ وہی اصول ہے جس پر اسلامی نظام امامت اور ولایت قائم ہے کہ قیادت صرف نسب یا مقام کی وراثت سے نہیں بلکہ عملی کمالات اور اخلاقی عظمت سے پیدا ہوتی ہے۔

ایسا شخص جو معصوم امام کے نزدیک نائب کے طور پر منتخب ہوتا ہے اور جس کی صفات کو امامؑ نے اس حد تک سراہا ہو کہ اس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ اس کی لغزش کا خوف نہیں، اس کی نفسیاتی کیفیت نہایت گہری اور استثنائی ہوتی ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ غیر معصوم میں بھی بہت سی صلاحیتیں اور کمالات فطرت کے مطابق پرورش پا سکتے ہیں اور امامؑ کی صحبت اور تعلیم سے اس کے نفس میں ایسی استقامت پیدا ہو جاتی ہے جو عام انسانوں میں کم نظر آتی ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک توازن، بصیرت اور خود آگاہی کی اتنی شدت ہوتی ہے کہ وہ جذبات کے بے قابو پن یا خواہشات کے جال میں نہیں پھنس پاتا۔

امام علیؑ نے مالک اشتر کے بارے میں فرمایا کہ “فَاِنَّهٗ مِمَّنْ لَّا یُخَافُ وَهْنُهٗ، وَ لَا سَقْطَتُهٗ، وَ لَا بُطْؤُهٗ عَمَّا الْاِسْرَاعُ اِلَیْهِ اَحْزَمُ، وَ لَاۤ اِسْرَاعُهٗ اِلٰی مَا الْبُطْءُ عَنْهُ اَمْثَلُ” یعنی وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن سے کمزوری یا لغزش کا خوف نہیں، جہاں جلدی حکمت ہے وہاں وہ سست نہیں پڑتے اور جہاں ڈھیل دینا بہتر ہے وہاں جلد بازی نہیں کرتے۔ یہ جملہ دراصل ایک مثالی نفسیاتی توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص کے نفس میں اضطراب، تضاد یا نفسیاتی کمزوری نہیں رہتی بلکہ وہ اپنے جذبات اور افکار پر ایسا کنٹرول رکھتا ہے جو عقلِ سلیم اور وحی کی رہنمائی کے مطابق ہے۔

نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایسے شخص میں “self-regulation” کی قوت انتہائی مضبوط ہوتی ہے۔ اس کا شعور صرف ذاتی مفادات تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ اپنی انا کو وسیع تر اجتماعی مقصد کے تابع کر دیتا ہے۔ یہ وہی کیفیت ہے جو عرفاء کی زبان میں “تزکیۂ نفس” اور فلسفیانہ زبان میں “اعتدالِ قویٰ” کہلاتی ہے۔ اس شخص کی فکر میں پختگی، فیصلوں میں بصیرت اور عمل میں مستقل مزاجی اس بات کی علامت ہے کہ اس نے اپنے لاشعور کو بھی ایک الہٰی نظم کے تحت ڈھال لیا ہے۔

معصوم امامؑ کے نائب کی حیثیت سے ایسا شخص نفسیاتی طور پر ایک “representational figure” بن جاتا ہے، یعنی اس کی شخصیت میں امامؑ کے احکام اور تعلیمات کا عکس نظر آتا ہے۔ اس کا یہ کردار صرف رسمی اطاعت پر مبنی نہیں بلکہ اس کی نفسیاتی ساخت میں ایسی ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے جو اسے عوام کی رہنمائی کے لیے ایک کامل نمونہ بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امامؑ نے ایسے شخص کی اطاعت کو اپنی اطاعت کے قریب تر قرار دیا۔

مزید یہ کہ ایسے شخص کا ذہنی افق وقتی یا محدود مسائل میں الجھنے کے بجائے دائمی اور اصولی پہلوؤں کو دیکھنے والا ہوتا ہے۔ اس کی بصیرت مستقبل کے خطرات اور مواقع کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس میں جذباتی استحکام (emotional stability) اور اخلاقی یکسوئی (moral integrity) اس حد تک راسخ ہوتی ہے کہ وہ نہ لالچ میں پھنس سکتا ہے نہ خوف میں دب سکتا ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ امامؑ کے نزدیک ایسا غیر معصوم دراصل ایک نفسیاتی اور روحانی کمال کی انتہا پر پہنچا ہوا شخص ہے، جس نے اپنی بشری کمزوریوں پر قابو پا کر اپنے نفس کو اس درجہ خالص کر لیا ہے کہ وہ معصوم کی نیابت کا اہل ٹھہرے۔ اس کا کردار یہ سبق دیتا ہے کہ اگرچہ انسان معصوم نہیں ہو سکتا لیکن تزکیہ، ریاضت، علم اور امام کی پیروی سے ایسی نفسیاتی بلندی پر پہنچ سکتا ہے جہاں لغزش کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں اور اس کی ذات دوسروں کے لیے ڈھال اور رہنمائی بن جاتی ہے۔

امام علیؑ کے اس فرمان میں مالک اشتر کے بارے میں جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں، وہ دراصل ایسے غیر معصوم رہنماؤں کی نفسیاتی اور روحانی پختگی کو ظاہر کرتے ہیں جو امام کے زیر سایہ اپنی شخصیت کو اس درجے تک سنوارتے ہیں کہ ان سے لغزش کا اندیشہ باقی نہیں رہتا۔ یہی اصول آج کے علماء پر بھی صادق آتا ہے جو ایک زنجیری سلسلے کے ساتھ ائمہ معصومینؑ کی تعلیمات اور سیرت کو استاد و شاگرد کے ربط کے ذریعے حاصل کرتے رہے ہیں۔ یہ زنجیر محض ایک رسمی یا تاریخی سلسلہ نہیں بلکہ یہ دراصل ایک روحانی و علمی تربیت کا تسلسل ہے جس میں ہر دور کے مخلص علماء نے اپنے نفس کو علم، تقویٰ اور خدمت کے ذریعے اس نہج پر ڈھالا کہ ان میں بھی وہی صفات پیدا ہوں جو امام نے مالک اشتر جیسے اصحاب میں بیان فرمائیں۔

جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی عالم کی تربیت براہِ راست اساتذہ کے ذریعے ہوئی ہو جو خود اپنے اساتذہ کے ذریعہ سیرت معصومینؑ کے پروردہ ہوں تو ہمیں یہ حقیقت سمجھ میں آتی ہے کہ وہ ایک زنجیر کی کڑی ہیں جو اصل سرچشمے یعنی معصومینؑ سے جڑی ہوئی ہے۔ اس زنجیر کا مطلب یہ ہے کہ ہر دور کے علماء نے اپنے شاگردوں تک نہ صرف علوم منتقل کیے بلکہ اپنی روحانی کیفیات، اخلاقی پاکیزگی اور استقامت بھی پہنچائی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء اپنے نفس کو اس حد تک قابو میں رکھتے ہیں کہ وہ تیزی یا سستی کے غلط موقع پر مبتلا نہیں ہوتے، وہ کمزوری یا لغزش کے خوف سے بالاتر ہو جاتے ہیں اور ان کی ذات اپنے ماننے والوں کے لئے زرہ اور ڈھال بن جاتی ہے۔

مزید مثالوں کو دیکھیں تو رآن مجید اور اہل بیتؑ کی تعلیمات کا مطالعہ یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ الٰہی نظامِ ہدایت میں اگرچہ اصل اور کامل ترین قیادت انبیاء اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی ہوتی ہے، لیکن عملی طور پر مختلف زمانوں میں ایسے غیر معصوم افراد بھی خدا، رسول یا امام کی طرف سے مختلف علاقوں، لشکروں، قبائل یا ریاستی امور کے لیے مقرر کیے گئے جن کی اطاعت کو واجب قرار دیا گیا۔ یہ تقرری اس بنیاد پر نہیں تھی کہ وہ معصوم ہو چکے تھے، بلکہ اس لیے تھی کہ وہ اپنے وقت میں علم، تقویٰ، امانت، تدبر، اخلاص اور وفاداری کے اعتبار سے اس ذمہ داری کے سب سے زیادہ اہل سمجھے گئے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تصورِ حکومت میں عصمت اور نیابت دو الگ حقیقتیں ہیں۔ عصمت ایک ذاتی اور الٰہی عطیہ ہے، جبکہ نیابت ایک منصب ہے جو معصوم یا خدا کسی اہل فرد کو عطا کرتا ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کی حکومت اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اگرچہ خود حضرت یوسفؑ نبی اور معصوم تھے، لیکن انہوں نے مصر کے وسیع انتظامی ڈھانچے میں متعدد ایسے غیر معصوم اہلکاروں کو مختلف مناصب پر برقرار رکھا جو ان کی حکومت چلاتے تھے۔ ان میں سے کسی کے متعلق قرآن نے عصمت کا دعویٰ نہیں کیا، لیکن ان کی ذمہ داریاں حضرت یوسفؑ کی نگرانی اور ہدایت کے تحت انجام پاتی تھیں۔ اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ معصوم کی حکومت ہمیشہ صرف معصوم افراد کے ذریعے نہیں چلتی بلکہ صالح، امانت دار اور اہل افراد کے ذریعے چلتی ہے۔

اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا کے حکم سے حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل پر جانشین مقرر فرمایا۔ اگرچہ حضرت ہارونؑ خود بھی نبی تھے، لیکن اسی واقعے میں حضرت موسیٰؑ نے بنی اسرائیل کے درمیان مختلف ذمہ داریاں ایسے افراد کو بھی سونپیں جو معصوم نہ تھے۔ قرآن میں بار بار بنی اسرائیل کے “نقباء” اور ذمہ دار افراد کا ذکر ملتا ہے جنہیں قوم کی قیادت، نگرانی اور فیصلوں میں شریک کیا گیا۔ ان کا انتخاب ان کی دیانت اور اہلیت کی بنیاد پر تھا، نہ کہ عصمت کی بنیاد پر۔

قرآن مجید میں حضرت طالوت کا واقعہ بھی اسی حقیقت کی ایک اہم دلیل ہے۔ حضرت طالوت نہ نبی تھے اور نہ ہی قرآن نے انہیں معصوم قرار دیا، لیکن خداوند عالم نے انہیں بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کیا۔ جب بنی اسرائیل نے ان کی اہلیت پر اعتراض کیا تو خدا نے حضرت سموئیلؑ کے ذریعے فرمایا کہ اللہ نے انہیں تم پر منتخب کیا ہے اور انہیں علم اور جسمانی قوت میں وسعت عطا فرمائی ہے۔ یہاں معیار نسب، دولت یا عوامی مقبولیت نہیں بلکہ الٰہی انتخاب، علمی صلاحیت اور عملی اہلیت تھی۔ اگرچہ شیعہ عقیدے کے مطابق بعض مفسرین نے ان کے مقام کے بارے میں مختلف احتمالات بیان کیے ہیں، لیکن قرآن کا ظاہر یہی ہے کہ ان کی حکومت کا جواز براہِ راست خدا کے انتخاب سے قائم ہوا۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت میں بھی متعدد ایسی مثالیں ملتی ہیں جہاں آپؐ نے مختلف شہروں، قبائل اور لشکروں پر غیر معصوم افراد کو اپنا نمائندہ اور حاکم مقرر فرمایا۔ حضرت عتاب بن اسید کو فتح مکہ کے بعد مکہ کا گورنر بنایا گیا۔ حضرت معاذ بن جبل کو یمن بھیجا گیا تاکہ وہاں دینی اور عدالتی امور انجام دیں۔ حضرت عمرو بن حزم کو نجران کی طرف حاکم اور قاضی مقرر کیا گیا۔ حضرت زید بن حارثہ، حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت عبداللہ بن رواحہ کو غزوۂ موتہ میں بالترتیب سپہ سالار مقرر کیا گیا۔ ان میں سے کسی کو بھی معصوم قرار نہیں دیا گیا، لیکن رسول خداؐ نے ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت کے دائرے میں شمار کیا، کیونکہ وہ ذاتی حیثیت سے نہیں بلکہ رسولؐ کے نائب کی حیثیت سے عمل کر رہے تھے۔

امام علی علیہ السلام کی حکومت میں اس اصول کا سب سے نمایاں مظہر مالک اشتر، محمد بن ابی بکر، قثم بن عباس، عثمان بن حنیف، سہل بن حنیف، زیاد بن نضر، شریح بن ہانی، کمیل بن زیاد اور دیگر متعدد گورنروں اور سپہ سالاروں کی تقرری ہے۔ ان میں سے کسی کو بھی امامؑ نے معصوم قرار نہیں دیا، لیکن ہر ایک کو اس کی صلاحیت، تقویٰ اور وفاداری کے مطابق ذمہ داری سونپی۔ البتہ مالک اشتر کے بارے میں امامؑ کے الفاظ اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد ہیں، کیونکہ ان کے متعلق فرمایا کہ ان سے کمزوری، لغزش، بے جا سستی یا بے جا جلد بازی کا خوف نہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ بعض غیر معصوم افراد تزکیۂ نفس اور مسلسل تربیت کے ذریعے عملی اعتبار سے ایسی استقامت حاصل کر لیتے ہیں کہ امامؑ ان پر غیر معمولی اعتماد ظاہر کرتے ہیں۔

امام علیؑ نے محمد بن ابی بکر کو بھی مصر کا گورنر مقرر فرمایا۔ اگرچہ بعد میں جنگی حالات کی وجہ سے ان کی جگہ مالک اشتر کو مقرر کیا گیا، لیکن محمد بن ابی بکر کی تقرری اس حقیقت کی دلیل ہے کہ امامؑ ایسے افراد کو حکومت دیتے تھے جن میں اخلاص، ولایت سے وابستگی اور خدمت کا جذبہ نمایاں ہوتا تھا، اگرچہ وہ معصوم نہ ہوتے۔

عثمان بن حنیف کو بصرہ کا گورنر مقرر کرتے ہوئے امام علیؑ نے ان کی معمولی لغزش پر بھی سخت تنبیہ فرمائی، جیسا کہ نہج البلاغہ کے مشہور خط میں مذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر معصوم حاکم کا تقرر اس کے احتساب کو ختم نہیں کرتا بلکہ وہ مسلسل امام کی نگرانی اور اصلاح کے تابع رہتا ہے۔ یہی فرق معصوم اور نائبِ معصوم کے درمیان موجود رہتا ہے۔

امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے ادوار میں بھی مختلف علاقوں میں ایسے وکلاء، نمائندے اور مالی امور کے ذمہ دار افراد مقرر کیے جاتے رہے جو غیر معصوم تھے لیکن امامؑ کے اعتماد کے حامل تھے۔ بعد کے ائمہ علیہم السلام، خصوصاً امام محمد باقرؑ، امام جعفر صادقؑ، امام موسیٰ کاظمؑ، امام علی رضاؑ، امام محمد تقیؑ، امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ نے مختلف شہروں میں اپنے وکلاء مقرر فرمائے۔ زرارہ بن اعین، محمد بن مسلم، برید بن معاویہ، ابو بصیر، یونس بن عبدالرحمن، زکریا بن آدم، علی بن یقطین، عبدالعظیم حسنی اور عثمان بن سعید عمری جیسے اصحاب اپنے اپنے میدان میں ائمہؑ کے معتمد نمائندے تھے۔ ان میں سے کوئی معصوم نہ تھا، لیکن ائمہؑ نے لوگوں کو ان سے دین سیکھنے، ان کے ذریعے مسائل حل کرنے اور بعض معاملات میں ان پر اعتماد کرنے کی تلقین فرمائی۔

خصوصی طور پر غیبتِ صغریٰ میں امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے عثمان بن سعید عمری، محمد بن عثمان عمری، حسین بن روح نوبختی اور علی بن محمد سمری کو اپنے نوابِ خاص مقرر فرمایا۔ یہ چاروں حضرات معصوم نہ تھے، لیکن ان کی نیابت براہِ راست امام زمانہؑ کی طرف سے تھی، اسی لیے ان کے ذریعے صادر ہونے والے توقیعات کو امامؑ کا فرمان سمجھا جاتا تھا۔ یہاں بھی اطاعت ان کی ذاتی شخصیت کی نہیں بلکہ ان کے منصبِ نیابت کی تھی۔

ان تمام مثالوں کا مجموعی مطالعہ ایک نہایت اہم اصول کو واضح کرتا ہے کہ اسلام میں حکومت اور قیادت کا ہر درجہ عصمت کا محتاج نہیں، لیکن ہر درجہ تقویٰ، علم، عدالت، امانت، بصیرت اور الٰہی وفاداری کا محتاج ضرور ہے۔ جب خدا کسی غیر معصوم کو منتخب کرتا ہے، یا نبی یا امام کسی شخص کو اپنی نیابت میں کسی منصب پر مقرر کرتا ہے، تو اس کی مشروعیت اس کے ذاتی کمالات اور اس تقرری دونوں سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کی اطاعت اس لیے واجب ہوتی ہے کہ وہ الٰہی نظامِ ولایت کی ایک مجاز کڑی بن جاتا ہے، نہ کہ اس لیے کہ وہ بذاتِ خود معصوم ہو گیا ہے۔

اسی بنا پر شیعہ فکر میں غیر معصوم نائب اور معصوم امام کے درمیان فرق ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ نائب ہرگز امام کے برابر نہیں ہوتا، لیکن جب تک وہ امام کے مقرر کردہ دائرے میں رہ کر امانت، عدل اور تقویٰ کے ساتھ ذمہ داری ادا کرتا ہے، اس کی اطاعت دراصل اس الٰہی نظم کی اطاعت ہوتی ہے جس کا سرچشمہ خدا، رسول اور اہل بیت علیہم السلام ہیں۔ یہی اصول اسلامی تمدن میں قیادت کے تسلسل، نظمِ اجتماعی اور دینی حکومت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

 بالائی مثالوں کو تفصیل سے دیکھنے سے پہلے ایک علمی نکتہ واضح رہنا چاہیے کہ شیعہ حدیثی مصادر میں ائمہؑ نے بہت سے افراد کو “وکیل، قاضی، عامل، نمائندہ یا نائب” مقرر کیا، لیکن ہر جگہ انہیں “حاکم” (سیاسی حکمران) کے معنی میں مقرر نہیں کیا گیا۔ البتہ ان مثالوں سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ ایک غیر معصوم منتظم کی راہنمائی میں کوئی شرعی مضاعقہ نہیں اور جہاں سیاسی قیادت کی بات ہے تو وہ بھی خصوصیت سے عیاں ہیں۔

غیبت سے پہلے کے ادوار میں ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی عملی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ اگرچہ سیاسی اقتدار ان کے ہاتھ میں نہیں تھا، لیکن انہوں نے اپنی علمی، دینی اور اجتماعی قیادت کو منظم رکھنے کے لیے مختلف شہروں میں اپنے نمائندے، وکلاء، قاضی اور مالی امور کے ذمہ دار مقرر کیے۔ یہ تمام افراد غیر معصوم تھے، لیکن ائمہؑ کی تربیت، نگرانی اور اعتماد کے سبب امت میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔ ان کی حیثیت اس بات کی زندہ دلیل ہے کہ معصوم اپنی نیابت ایسے افراد کو عطا کر سکتا ہے جو عصمت کے حامل نہ ہوں، مگر علم، تقویٰ، امانت اور وفاداری میں نمایاں ہوں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے ممتاز شاگردوں میں بعض افراد کو صرف حدیث بیان کرنے کی اجازت ہی نہیں دی بلکہ لوگوں کو ان کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت بھی فرمائی۔ زرارہ بن اعین، محمد بن مسلم، برید بن معاویہ اور ابو بصیر کے بارے میں متعدد روایات میں ائمہؑ نے فرمایا کہ یہ لوگ دین کے امین اور اہل بیتؑ کے علوم کے محافظ ہیں۔ امام صادقؑ سے منقول ہے کہ اگر یہ افراد نہ ہوتے تو اہل بیتؑ کی احادیث اور معارف ضائع ہو جاتے۔ (رجال کشی، اختیار معرفة الرجال)

محمد بن مسلم کے بارے میں روایت ہے کہ امام باقرؑ اور امام صادقؑ نے انہیں ہزاروں احادیث تعلیم فرمائیں۔ یہاں تک کہ امامؑ لوگوں سے فرماتے تھے کہ اگر تمہیں کسی مسئلے میں میری طرف براہِ راست رسائی نہ ہو تو محمد بن مسلم سے دریافت کرو، کیونکہ وہ ہمارے علوم کے معتبر حامل ہیں۔ اس اعتماد کی بنیاد ان کی عصمت نہیں بلکہ ان کا غیر معمولی فقہی کمال، دیانت اور امانت تھی۔

اسی طرح زرارہ بن اعین کے بارے میں اگرچہ بعض روایات میں وقتی مصلحتوں کے تحت ظاہری مذمت بھی ملتی ہے، لیکن مجموعی طور پر ائمہؑ نے انہیں شیعہ فقہ کے ستونوں میں شمار کیا۔ امام صادقؑ نے فرمایا کہ زرارہ، محمد بن مسلم، برید اور ابو بصیر وہ افراد ہیں جنہوں نے دین کو زندہ رکھا اور میرے والد امام باقرؑ کے علوم کو محفوظ کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک غیر معصوم بھی ایسا علمی اور روحانی مقام حاصل کر سکتا ہے کہ امامؑ اسے اپنے علمی نظام کا بنیادی ستون قرار دیں۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے دور میں علی بن یقطین کی شخصیت نہایت منفرد نظر آتی ہے۔ وہ عباسی حکومت میں اعلیٰ وزیر تھے، لیکن امامؑ کی اجازت سے اسی منصب پر باقی رہے تاکہ مؤمنین کے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ امام کاظمؑ ان کی مسلسل رہنمائی فرماتے تھے اور متعدد مواقع پر ان کی تائید بھی فرمائی۔ اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات ایک غیر معصوم شخص، اگر امامؑ کی نگرانی اور اجازت کے تحت حکومتی منصب پر ہو، تو وہ الٰہی مقاصد کی خدمت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

امام رضاؑ نے زکریا بن آدم قمی کے متعلق فرمایا: “المأمون على الدين والدنيا”، یعنی وہ دین اور دنیا دونوں کے معاملے میں قابلِ اعتماد ہیں۔ ایک شخص نے امامؑ سے عرض کیا کہ میں ہر وقت آپ تک نہیں پہنچ سکتا، تو کس کی طرف رجوع کروں؟ امامؑ نے فرمایا کہ زکریا بن آدم کی طرف رجوع کرو، کیونکہ وہ دین و دنیا میں امین ہیں۔ (رجال کشی)

یونس بن عبدالرحمن کے بارے میں امام رضاؑ سے پوچھا گیا کہ کیا ہم دینی مسائل ان سے حاصل کریں؟ امامؑ نے فرمایا: “نعم”، یعنی ہاں۔ ایک اور روایت میں امامؑ نے انہیں اہل بیتؑ کے علوم کا امین قرار دیا۔ اس طرح یونس صرف راویِ حدیث نہیں رہے بلکہ امامؑ کے معتمد علمی نائب بن گئے۔

عبدالعظیم حسنی کی شخصیت بھی اسی سلسلے کی ایک روشن مثال ہے۔ جب انہوں نے اپنے عقائد امام علی نقی علیہ السلام کے سامنے پیش کیے تو امامؑ نے فرمایا: “أنت ولينا حقاً”، یعنی تم واقعی ہمارے سچے دوست اور ہمارے نمائندہ مکتب کے فرد ہو۔ بعد میں اہل بیتؑ کے ماننے والے ان کی طرف دینی مسائل میں رجوع کرتے رہے، اور ان کا مقام محض ایک محدث کا نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ نمائندے کا تھا۔

غیبت صغریٰ میں یہ نظام اپنے عروج پر پہنچتا ہے۔ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے عثمان بن سعید عمری کو اپنا پہلا نائب خاص مقرر فرمایا۔ اس کے بعد محمد بن عثمان، حسین بن روح نوبختی اور علی بن محمد سمری یکے بعد دیگرے نائب خاص مقرر ہوئے۔ یہ چاروں حضرات معصوم نہ تھے، لیکن ان کے ذریعے امامؑ کے توقیعات صادر ہوتے تھے، شرعی اموال وصول کیے جاتے تھے، عقائدی اور فقہی سوالات کے جوابات پہنچائے جاتے تھے اور شیعہ معاشرے کی قیادت کی جاتی تھی۔

خصوصاً عثمان بن سعید کے بارے میں امام حسن عسکری علیہ السلام کا فرمان نہایت اہم ہے۔ آپؑ نے فرمایا:

«العَمريُّ وابنُهُ ثِقَتانِ، فما أدَّيا إليكَ عنّي فعنّي يُؤدِّيانِ، وما قالا لكَ عنّي فعنّي يقولانِ، فاسمعْ لهما وأطِعْهما فإنّهما الثِّقتانِ المأمونانِ.»

ترجمہ: “عثمان عمری اور ان کا بیٹا دونوں قابلِ اعتماد ہیں۔ جو کچھ وہ میری طرف سے تم تک پہنچائیں، وہ میری ہی طرف سے پہنچاتے ہیں، اور جو کچھ وہ میری طرف سے کہیں، وہ میری ہی بات ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو، کیونکہ یہ دونوں امین اور قابلِ اعتماد ہیں۔” (الکافی، ج1؛ کمال الدین، شیخ صدوق)

یہ روایت نہایت اہم ہے، کیونکہ یہاں امامؑ نے ایک غیر معصوم کی اطاعت کا حکم اس بنیاد پر دیا ہے کہ وہ امامؑ کا مقرر کردہ نائب ہے۔ یہ وہی اصول ہے جو نہج البلاغہ میں مالک اشتر کے متعلق دکھائی دیتا ہے، اگرچہ دونوں کی ذمہ داریوں کی نوعیت مختلف تھی۔

امام زمانہ علیہ السلام کے آخری نائب خاص علی بن محمد سمری کے ذریعے صادر ہونے والی آخری توقیع میں بھی یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ نیابت ایک منصب ہے جو امامؑ عطا کرتے ہیں، اور جب امامؑ اس منصب کو ختم کرتے ہیں تو وہ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نائب کی مشروعیت ذاتی نہیں بلکہ امامؑ کی طرف سے عطا کردہ ہوتی ہے۔

ان تمام روایات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایک نہایت اہم اصول سامنے آتا ہے۔ اہل بیت علیہم السلام نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ صرف معصوم ہی ہر عملی اور انتظامی ذمہ داری انجام دے سکتا ہے، بلکہ انہوں نے ایسے صالح، فقیہ، امین، بصیر اور تربیت یافتہ افراد تیار کیے جو ان کے علوم، اخلاق اور طرزِ فکر کے آئینہ دار تھے۔ ان افراد کی اطاعت اس لیے واجب یا لازمِ اتباع تھی کہ وہ ذاتی خواہشات کے نمائندے نہیں بلکہ معصوم کی نیابت اور اعتماد کے حامل تھے۔

یہی اصول بعد کے فقہی مباحث، خصوصاً عصرِ غیبت میں نیابتِ عامہ، مرجعیت اور ولایتِ فقیہ کے نظریات کی بنیادوں میں شمار ہوتا ہے، آج کے دور کے ایسے علماء جو حقیقی معنوں میں اس زنجیری تربیت کے وارث ہیں، انہیں دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سیرت معصومینؑ محض ماضی کی تاریخ میں محصور نہیں بلکہ مسلسل زمانے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ علماء جب درس دیتے ہیں تو اس میں نہ صرف علمی گہرائی ہوتی ہے بلکہ اخلاقی روشنی بھی شامل ہوتی ہے۔ جب وہ قیادت کرتے ہیں تو ان کا فیصلہ جلد بازی یا غفلت کا شکار نہیں ہوتا بلکہ حکمت اور بصیرت کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت لوگوں کے لیے سہارا اور اعتماد کا ذریعہ بنتی ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ خدا، انبیاء ع اور ائمہ ع کے فرمان کی روشنی میں آج کے ایسے علماء جو اس زنجیر کے ذریعے معصومینؑ کے علوم اور سیرت سے جڑے ہیں، وہ اسی تسلسل کا حصہ ہیں جو زمان و مکان کے فاصلے کے باوجود انسانوں کو امام کی طرف سے عطا کردہ علم و ہدایت تک رسائی دیتا ہے۔ یہ علماء معصومینؑ کے نائب ہیں لیکن ان کی سیرت اور تعلیمات کے امین ہیں، اور ان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کی حجت کا نور کبھی بجھتا نہیں بلکہ ہمیشہ اہلِ تقویٰ اور اہلِ علم کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3133

ٹیگز

تبصرے