5

*بنیادی اصول اور اس کی تطبیقات*

  • نیوز کوڈ : 3130
  • 01 July 2026 - 23:36
*بنیادی اصول اور اس کی تطبیقات*

*بنیادی اصول اور اس کی تطبیقات*

_(جب اصول باقی رہتے ہیں اور صورتیں بدلتی ہیں)_

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

انسان اکثر اصل اور صورت، مقصد اور وسیلہ، حقیقت اور ظہور، اصول اور تطبیق کے فرق کو نہیں سمجھ پاتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن خود اس انسانی الجھن کو بار بار بیان کرتا ہے، صرف فقہی یا سیاسی مسئلہ سمجھ کر نہیں بلکہ اسے انسان کے ادراکی، نفسیاتی اور وجودی مسئلے کے طور پر پیش کرتا ہے۔

قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی ایک بنیادی نفسیاتی کمزوری یہ ہے کہ وہ عموماً محسوس کو معقول پر، ظاہری کو باطنی پر، مانوس کو حق پر اور موجود صورت کو اصل حقیقت پر ترجیح دیتا ہے۔ انسان کسی حقیقت کو اکثر اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ اس کی ذہنی عادت، سماجی روایت یا مادی تصور کے مطابق نہ ہوجائے۔

اسی لیے قرآن کی تاریخِ ہدایت دراصل تاریخِ انکارِ صورت اور انکشافِ حقیقت بھی ہے۔

حضرت نوحؑ کی قوم کے سامنے مسئلہ یہ نہیں تھا کہ دلیل نہیں تھی؛ مسئلہ یہ تھا کہ ان کے لیے ناقابلِ قبول تھا کہ ایک عام انسان ہدایت کا مرکز بنے۔ قرآن نقل کرتا ہے کہ انہوں نے کہا: “ہم تمہیں اپنے جیسا بشر ہی دیکھتے ہیں۔” یہاں اعتراض حقیقت پر نہیں بلکہ حقیقت کے انسانی ظہور پر تھا۔

حضرت ہودؑ، صالحؑ اور شعیبؑ کی اقوام کے اعتراضات بھی اسی نوع کے تھے۔ سوال یہ نہیں تھا کہ توحید درست ہے یا نہیں؛ سوال یہ تھا کہ یہ دعوت ہمارے موجودہ سماجی سانچے کو کیوں بدل رہی ہے۔

حضرت موسیٰؑ کے واقعے میں یہ نفسیاتی بحران زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔

بنی اسرائیل سمندر پار کرچکے، معجزات دیکھ چکے، نجات پاچکے؛ مگر پھر بھی انہوں نے کہا: ہمارے لیے بھی ایک معبود بناؤ جیسے دوسروں کے پاس ہیں۔ یہاں قرآن بتا رہا ہے کہ انسان کبھی کبھی غیر مرئی حقیقت کے بجائے مرئی علامت سے نفسیاتی اطمینان حاصل کرنا چاہتا ہے۔

بعد میں جب حضرت موسیٰؑ چند دن کے لیے جدا ہوئے تو سامری نے بچھڑا بنایا۔ غور کیجیے، بنی اسرائیل اللہ کے منکر نہیں ہوئے تھے؛ وہ ایک محسوس شکل چاہتے تھے۔ قرآن اس رویے کو محض عقیدے کی خرابی نہیں بلکہ انسانی نفسیات کی کمزوری کے طور پر دکھاتا ہے: غیر محسوس اصول سے زیادہ محسوس علامت پر اعتماد۔

یہی مسئلہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے زمانے میں دوبارہ ظاہر ہوا۔

قرآن بار بار کہتا ہے کہ لوگ اعتراض کرتے تھے: یہ رسول کھانا کھاتا ہے، بازاروں میں چلتا ہے، اس کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں؟ یہاں بھی مسئلہ نبوت کی دلیل نہیں تھی؛ مسئلہ یہ تھا کہ انسانی ذہن کے لیے الوہی ہدایت کا انسانی قالب میں آنا مشکل تھا۔

نفسیاتی اعتبار سے اس کے پیچھے کئی عوامل ہوتے ہیں۔

پہلا عامل Cognitive Closure ہے؛ یعنی انسان غیر یقینی اور کھلے ہوئے مفاہیم سے گھبراتا ہے اور ہر چیز کی بند، جامد اور فوری تعریف چاہتا ہے۔ اس لیے وہ چاہتا ہے کہ دین ہر زمانے کی ہر چیز کی مکمل فہرست دے دے، تاکہ استنباط، اجتہاد، تعقل اور ذمہ داری کی ضرورت نہ پڑے۔

دوسرا عامل Status Quo Bias ہے؛ انسان موجود صورتوں کو فطری اور مقدس سمجھنے لگتا ہے۔ اسی لیے جب نئی تطبیق آتی ہے تو اسے اصلِ دین کے خلاف محسوس ہوتا ہے، چاہے وہ انہی اصولوں کا نیا اظہار ہو۔

تیسرا عامل Concrete Thinking Bias ہے؛ یعنی انسان مجرد اصول سے زیادہ ظاہری شکل پر اعتماد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں: اگر قرآن میں نام نہیں تو پھر کیسے؟ جبکہ وہ روزمرہ زندگی میں ہزاروں چیزیں اصولی استنباط سے قبول کرتے ہیں۔

چوتھا عامل Authority Substitution ہے؛ کبھی انسان ذریعہ کو اصل بنا لیتا ہے۔ پھر مدرسہ مقصد بن جاتا ہے، تعلیم نہیں؛ ادارہ مقصد بن جاتا ہے، عدل نہیں؛ نعرہ مقصد بن جاتا ہے، ہدایت نہیں۔ قرآن اسی لیے بار بار کہتا ہے کہ شکلوں کے پیچھے مقصد کو دیکھو۔

یہی نکتہ قرآن کی آیاتِ محکمات و متشابہات میں بھی جھلکتا ہے۔ قرآن خود کہتا ہے کہ کچھ آیات بنیادی ہیں اور کچھ ایسی ہیں جن کے فہم میں انسان کے دل کا رجحان اثر انداز ہوتا ہے۔ یعنی قرآن صرف متن نہیں دے رہا بلکہ انسان کو اس کے اپنے ذہنی تعصبات سے بھی آگاہ کر رہا ہے۔

اسی لیے قرآن کا طریقہ یہ نہیں کہ ہر سوال کا ایک جامد سانچہ دے دے؛ بلکہ وہ انسان کو تربیت دیتا ہے کہ وہ حقیقت اور صورت میں فرق کرنا سیکھے۔

اس تناظر میں قرآن کا مقصد صرف ادارے، نام، عناوین یا تاریخی شکلیں محفوظ رکھنا نہیں؛ بلکہ ہدایت، عدل، عبودیت، علم، ولایتِ حق اور انسان سازی کی روح کو محفوظ رکھنا ہے، اور پھر ہر زمانہ اس روح کے مطابق اپنی مشروع صورتیں تشکیل دیتا ہے۔

قرآن کے نزدیک اصل خطرہ نئی صورت نہیں؛ اصل خطرہ یہ ہے کہ انسان یا تو صورت کو حقیقت بنا دے، یا حقیقت کو اس قدر مجرد کردے کہ زندگی میں اس کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔

قرآن اکثر اوقات ابدی اصول (Principles) دیتا ہے، جبکہ ان اصولوں کی خارجی تطبیقات (Applications) زمانے، حالات اور انسانی تمدن کے ساتھ تبدیل ہوسکتی ہیں۔ اگر کوئی نئی اجتماعی، تمدنی یا حکومتی شکل انہی قرآنی مقاصد اور اقدار کے دائرے میں وجود میں آئے تو صرف اس بنیاد پر کہ اس کا نام یا ظاہری صورت قرآن میں مذکور نہیں، اسے رد نہیں کیا جاتا۔

یہ اصول صرف جدید دور تک محدود نہیں بلکہ انسانی تاریخ میں ہمیشہ جاری رہا ہے۔

جب قرآن نازل ہوا تو اس نے انسان کو ہر زمانے کے لیے مکمل فہرستِ اشیاء نہیں دی، بلکہ ایسے بنیادی اصول دیے جو مختلف ادوار میں نئی صورتیں اختیار کرسکیں۔ قرآن نے قلم کا ذکر کیا، علم کا ذکر کیا، تعلیم کا ذکر کیا، تبادلۂ فکر کا ذکر کیا، دعوت، نصیحت، تذکیر اور ابلاغ کا ذکر کیا؛ لیکن قرآن نے یہ نہیں کہا کہ مدرسہ کس طرزِ تعمیر کا ہوگا، کتاب کس کاغذ پر ہوگی، درس کس عمارت میں ہوگا، یا علم کس آلے سے منتقل ہوگا۔

رسول خدا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے دور میں تعلیم مسجد میں بھی ہوئی، گھروں میں بھی ہوئی، حلقوں میں بھی ہوئی۔ بعد کے ادوار میں دارالعلوم بنے، مدارس وجود میں آئے، کتب خانے قائم ہوئے، جامعات وجود میں آئیں، طباعت ایجاد ہوئی، پھر ریڈیو، ٹی وی، انٹرنیٹ اور مائیکروفون آئے۔ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ چونکہ قرآن میں مائیکروفون کا ذکر نہیں، اس لیے اس سے اذان یا تبلیغ بدعت ہے، تو یہ اعتراض اصول اور شکل کے فرق کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہوگا۔

یہی معاملہ اجتماعی دینی مظاہر میں بھی نظر آتا ہے۔

ابتدائی اسلامی دور میں قرآن جمع کرنے کی موجودہ شکل موجود نہیں تھی۔ قرآن مختلف صحیفوں، حافظوں اور تحریروں میں موجود تھا۔ بعد میں اسے مصحف کی صورت دی گئی۔ قرآن میں آج کے مدارس کا ذکر نہیں لیکن “تفقہ فی الدین” کا حکم موجود ہے۔ قرآن میں سالانہ علمی کانفرنسیں نہیں لیکن “تواصی بالحق” اور “تعاون علی البر” موجود ہے۔ قرآن میں اسلامی جامعات نہیں لیکن “اقرأ” موجود ہے۔

تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلمانوں نے ہمیشہ قرآنی اصولوں کو نئی تمدنی صورتوں میں ڈھالا ہے۔

خلافت کے دور میں دیوانی نظام وجود میں آیا، بیت المال کے ادارے تشکیل پائے، عدالتی ڈھانچے بنے۔ بعد میں سلطنتیں آئیں، پھر وزارتیں، جدید ریاستیں، پارلیمانی و انتظامی ادارے وجود میں آئے۔ ان میں سے اکثر اداروں کے نام اور ساخت قرآن میں لفظاً موجود نہیں تھے، لیکن ان کے جواز یا عدمِ جواز کا معیار یہ بنا کہ آیا وہ عدل، امانت، شوریٰ، حق اور اقامۂ قسط کے قرآنی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں۔

یہی اصول فقہ اور ولایت کی بحث میں بھی آتا ہے۔

رسول خدا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی ولایت صرف ایک روحانی تعلق نہیں تھی بلکہ قرآن کے مطابق دینی، اجتماعی اور سیاسی اطاعت کا مقام بھی رکھتی تھی: «النبی أولى بالمؤمنين من أنفسهم»۔ یعنی رسول مؤمنین پر ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حقِ تصرف رکھتے ہیں۔

لیکن رسول کے بعد جب غیبتِ امامؑ کے دور کی بحث آتی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاشرہ بغیر کسی دینی نظم کے کیسے چلے؟ کیا شریعت صرف فرد کی نماز اور روزے تک محدود ہوجائے؟ یا عدالت، اجتماعی نظم، حدود، قضا، دفاع، تعلیم، اقتصاد اور اجتماعی ہدایت بھی کسی نہ کسی صورت میں باقی رہیں؟

یہاں بعض فقہی مکاتب نے یہ استدلال کیا کہ چونکہ ائمہؑ نے فقہاء کو قضا، افتاء، رجوع اور بعض اجتماعی امور میں مرجعیت دی ہے، اس لیے غیبت میں دینی نظم کے تحفظ کے لیے فقیہ کو ایک قسم کی نیابتی ولایت حاصل ہوسکتی ہے۔ اس تصور نے تاریخی سفر طے کیا؛ ابتدائی فقہاء کے ہاں محدود اختیارات کی صورت میں، پھر وسیع تر اجتماعی اختیارات کی بحث میں، اور بعد کے بعض نظریات میں “ولایتِ فقیہ” کے جامع تصور تک۔

یہاں جب بعض حلقے “ولایتِ فقیہ کو ولایتِ رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا تسلسل” یا “ولایتِ رسول کے دائرۂ اجتماعی اختیارات کی نیابت” کہتے ہیں تو اس سے عموماً مراد (کم از کم اس نظریے کے حامیوں کے ہاں) یہ نہیں ہوتی کہ فقیہ ذات، عصمت، نبوت یا مقامِ رسول کا شریک بن گیا؛ بلکہ ان کے مطابق بعض اجتماعی و حکومتی اختیارات بطورِ نیابت جاری رہتے ہیں تاکہ قرآنی مقاصد معطل نہ ہوں۔

اسی پر اختلاف بھی پیدا ہوتا ہے۔

کچھ اہلِ علم کہتے ہیں کہ یہ نیابت محدود اور فقہی ہے، کچھ اسے وسیع حکومتی اختیار سمجھتے ہیں، اور کچھ سرے سے اس استدلال کو قبول نہیں کرتے۔ لیکن دونوں طرف اصولی بحث عموماً اسی سوال پر کھڑی ہوتی ہے: کیا قرآن نے صرف اصول دیے ہیں جن کی نئی اجتماعی صورتیں بن سکتی ہیں، یا ہر عملی ڈھانچہ بھی منصوص ہونا ضروری ہے؟

لہٰذا جس طرح مائیکروفون قرآن میں نہ ہونے کے باوجود اذان کو باطل نہیں کرتا، مدرسہ قرآن میں نہ ہونے کے باوجود تعلیمِ دین کو غیر شرعی نہیں بناتا، اسی طرح کسی اجتماعی یا حکومتی ڈھانچے کے حق یا بطلان کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں کیا جاتا کہ اس کا نام قرآن میں موجود ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ وہ ڈھانچہ کس حد تک قرآن کے مقاصد، نصوص، حدود، عدل، توحید، اطاعتِ مشروع اور انسان سازی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

یہی اصولی فرق ہے: نصِ ثابت اور صورتِ متغیر؛ مقصدِ ابدی اور اس کی تمدنی شکل۔

: ثابت حقیقت (Essence) اور متغیر صورت (Form) کے درمیان فرق نہ کر پانا دراصل اسلامی فکر میں ایک نہایت بنیادی مسئلہ ہے۔  جب یہ فرق واضح نہ رہے تو انسان یا تو ہر نئی شکل کو دین کے مقابل کھڑا سمجھ لیتا ہے، یا ہر نئی شکل کو اصلِ دین قرار دے دیتا ہے۔ دونوں انتہائیں مسائل پیدا کرتی ہیں۔

یہ مسئلہ صرف جدید زمانے میں پیدا نہیں ہوا بلکہ اسلامی تاریخ میں مختلف شکلوں میں سامنے آیا، اور بعض اوقات رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اہل بیتؑ، امامت، خلافت، ولایت بلکہ خود قرآن کے ساتھ تعلق میں بھی اسی نوع کی الجھنیں پیدا ہوئیں۔

قرآن جب رسول خدا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بارے میں گفتگو کرتا ہے تو ایک طرف انہیں بشر کہتا ہے: «قل إنما أنا بشر مثلكم» اور دوسری طرف ان کی اطاعت کو خدا کی اطاعت قرار دیتا ہے: «من يطع الرسول فقد أطاع الله»۔ یہاں اگر کوئی شخص صرف پہلی آیت پکڑ لے تو کہے گا: رسول چونکہ بشر ہیں لہٰذا ان کی اطاعت کیوں؟ اور اگر صرف دوسری پکڑ لے تو بشریت ہی مٹا دے گا۔ حالانکہ قرآن دونوں کو جمع کرتا ہے: ذات انسانی ہے، مگر منصب الٰہی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں بعض تاریخی ذہنیتیں الجھیں۔

رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے زمانے میں بھی بعض افراد کے لیے یہ قابلِ قبول نہ تھا کہ ایک انسان اجتماعی، سیاسی، قضائی، روحانی اور تشریعی مرجع بھی ہو۔ قرآن نے ان اعتراضات کو نقل کیا: “یہ کیسا رسول ہے جو بازار میں چلتا ہے؟” مسئلہ اصل میں یہ نہیں تھا کہ رسول انسان کیوں ہیں؛ مسئلہ یہ تھا کہ لوگ الٰہی اصول کے انسانی ظہور کو قبول نہیں کر پا رہے تھے۔

بعد میں یہی نوعیت امامت کی بحث میں بھی سامنے آئی۔

جب ولایتِ امیرالمؤمنین علیؑ کی بات آئی تو ایک سوال پیدا ہوا کہ اگر اللہ کی اطاعت کافی ہے تو پھر علیؑ کی ولایت کیوں؟ یہاں بھی دو مختلف زاویے سامنے آئے۔ ایک زاویہ یہ تھا کہ اگر نام قرآن میں بار بار اور ہر تفصیل کے ساتھ موجود نہیں تو پھر اس کا کوئی عملی درجہ نہیں۔ دوسرا زاویہ یہ تھا کہ قرآن بعض مقامات پر اصولی بنیاد دیتا ہے اور پھر اس اصول کی تشریح سنت اور عملی نظام سے ہوتی ہے۔

چنانچہ جو لوگ ولایت کو صرف ایک روحانی محبت سمجھتے تھے، ان کے لیے ولایتِ اجتماعی یا مرجعیتِ عملی کو قبول کرنا دشوار ہوا؛ جبکہ دوسرے مکاتب نے کہا کہ اگر رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی اطاعت اجتماعی معنی رکھتی ہے تو ان کے مقرر کردہ رہبر کی اطاعت بھی محض جذباتی تعلق نہیں ہوسکتی۔

پھر یہی سوال آگے گیارہ ائمہؑ کے بارے میں بھی پیدا ہوا۔

یہ اعتراض سامنے آیا کہ اگر ہر امام کا نام قرآن میں صراحت سے نہیں تو پھر ان کی مرجعیت کیوں؟ اس کے جواب میں مختلف مکاتب نے مختلف اصول اختیار کیے۔ بعض نے کہا قرآن ہمیشہ ہر جزئی فہرست نہیں دیتا بلکہ اصول، سنت اور تسلسل کے ذریعے نظام قائم کرتا ہے۔ بعض نے کہا کہ چونکہ نام لفظاً موجود نہیں اس لیے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی منطق اگر مکمل طور پر اختیار کی جائے تو پھر بہت سے دوسرے دینی مظاہر بھی مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔ قرآن میں رکعتوں کی تعداد، اذان کے موجودہ الفاظ کی ترتیب، فقہی ابواب کی ساخت، اصولِ فقہ کی کتابیں، ہزاروں فقہی فروعات—سب اسی نوع کے سوالات کے سامنے آجاتے ہیں۔

یہاں ایک اور اہم مثال خود قرآن ہے۔

تاریخ میں کچھ گروہوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ اگر قرآن کامل ہے تو تفسیر کی کیا ضرورت؟ یا اگر قرآن عربی میں نازل ہوا ہے تو غیر عربی علوم، منطق، اصول، لغت، نحو، فلسفہ کیوں؟ جبکہ دوسری طرف بعض نے اتنا زور عقلی و فلسفیانہ نظام پر دیا کہ گویا قرآن ثانوی بن گیا۔

دونوں انتہاؤں میں ایک مشترک مسئلہ تھا: اصل اور واسطے کے تعلق کو نہ سمجھنا۔

قرآن خود انسان کو تدبر، تعقل، تفقہ، سوال اور استنباط کی دعوت دیتا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ قرآن کافی ہے اس لیے کسی تشریح، تعلیم، روایت یا علمی ڈھانچے کی ضرورت نہیں، تو یہ خود قرآن کے اندر موجود تدبر اور تعلیم کے اصول سے ٹکرا سکتا ہے۔ اور اگر کوئی کہے کہ بعد کے انسانی ڈھانچے اتنے قطعی ہیں کہ قرآن ثانوی ہوجائے، تو وہ بھی توازن کھو دیتا ہے۔

اسی طرح بعض اوقات ولایت کی بحث میں بھی ایسی تعبیرات سامنے آئیں جن پر اعتراض ہوا کہ آیا ایک غیر معصوم شخصیت کو ایسے الفاظ دیے جا رہے ہیں جو صرف رسول یا امام کے لیے خاص تھے؟ دوسری طرف بعض نے ہر قسم کی اجتماعی نیابت کو اس لیے رد کر دیا کہ وہ منصوص لفظی صورت میں موجود نہیں۔

اصولی سطح پر دیکھا جائے تو سوال یہ نہیں ہوتا کہ “نام بعینہٖ موجود ہے یا نہیں”، بلکہ سوال یہ بنتا ہے: کیا یہ دعویٰ اس اصلِ الٰہی کے تابع ہے یا اس کی جگہ لے رہا ہے؟

اگر کوئی چیز رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی جگہ رسول بننے لگے تو مسئلہ پیدا ہوگا؛ لیکن اگر وہ رسول کے مقصد کی خدمت کا ایک انتظامی یا تمدنی طریقہ ہو تو بحث کی نوعیت بدل جاتی ہے۔

اسی اصول کو قرآن اپنے بارے میں بھی سکھاتا ہے۔ قرآن کتاب ہے، مگر صرف صفحات نہیں؛ ہدایت ہے، مگر صرف الفاظ نہیں؛ قانون ہے، مگر صرف دفعات نہیں۔ اسی لیے قرآن ہر دور میں زندہ رہتا ہے—کیونکہ اس کے اصول ثابت رہتے ہیں اور ان کی عملی صورتیں زمانے کے ساتھ نئے قالب اختیار کرتی رہتی ہیں۔

اصل چیلنج ہمیشہ یہی رہا ہے: کیا ہم صورت کو اصل سمجھ بیٹھتے ہیں، یا اصل کو اس قدر مجرد کر دیتے ہیں کہ اس کی کوئی اجتماعی صورت باقی نہ رہے؟

یہی دراصل وہ سوال ہے جسے آپ کی پوری بحث نے جنم دیا ہے، اور قرآن کے مطالعے سے محسوس ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ کی ایک بڑی آزمائش انہی دو انتہاؤں کے درمیان چلتی رہی ہے۔

کبھی ہم صورت کو اصل سمجھ بیٹھتے ہیں، اور کبھی اصل کو اس قدر مجرد کر دیتے ہیں کہ اس کی کوئی اجتماعی صورت باقی نہیں رہتی۔

پہلی انتہا میں انسان دین کی روح کھو دیتا ہے مگر اس کے خول کو بچائے رکھتا ہے۔

قرآن جب بنی اسرائیل پر تنقید کرتا ہے تو صرف اس لیے نہیں کہ انہوں نے احکام توڑے؛ بلکہ کئی مقامات پر مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے احکام کی صورت محفوظ رکھی مگر مقصد گم کردیا۔ عبادت موجود تھی مگر خشوع نہیں، شریعت موجود تھی مگر عدل نہیں، کتاب موجود تھی مگر ہدایت نہیں۔ قرآن اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے کہ انہوں نے دین کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا، الفاظ کو جگہ سے بدل دیا، اور مقصد کے بجائے ظاہری عمل پر اطمینان پالیا۔

یہ نفسیات آج بھی زندہ ہے۔

انسان بعض اوقات مسجد کو بچاتا ہے مگر ذکر نہیں؛ ادارہ بچاتا ہے مگر علم نہیں؛ نظام بچاتا ہے مگر عدل نہیں؛ عنوان بچاتا ہے مگر حقیقت نہیں۔

یہاں صورت اصل بن جاتی ہے۔

پھر وقت گزرنے کے ساتھ وہ صورت اتنی مقدس ہوجاتی ہے کہ اگر مقصد کی خاطر اس کی شکل بدلنی پڑے تو انسان اسے دین پر حملہ سمجھ لیتا ہے۔

لیکن دوسری انتہا اس سے کم خطرناک نہیں۔

وہ یہ کہ انسان اصل کو اتنا مجرد، غیر مرئی اور نظریاتی بنا دے کہ اس کا کوئی عملی وجود ہی باقی نہ رہے۔

مثلاً کہا جائے کہ اسلام صرف دل کی پاکیزگی ہے؛ پھر عدالت، تعلیم، معاشرت، سیاست، قضا، اجتماع، تمدن—سب غیر ضروری ہوجائیں۔

یا کہا جائے کہ قرآن صرف ہدایت ہے؛ پھر تفسیر، تعلیم، ادارہ، اجتہاد، نظم، تمدنی تشکیل—سب ثانوی قرار پائیں۔

یا کہا جائے کہ ولایت صرف محبت ہے؛ پھر مرجعیت، رہنمائی، اجتماعی ذمہ داری، نظم—سب ختم ہوجائیں۔

یہاں اصل باقی رہتی ہے لیکن اس کا کوئی جسم نہیں رہتا۔

قرآن دونوں انتہاؤں کو رد کرتا ہے۔

قرآن نے نماز کا حکم دیا، لیکن صرف روحانیت نہیں دی؛ رکوع، سجود، جماعت، وقت—یعنی صورت بھی دی۔

قرآن نے زکوٰۃ دی، مگر صرف جذبۂ خیر نہیں چھوڑا؛ نظامِ انفاق بھی دیا۔

قرآن نے عدل کا حکم دیا، مگر صرف تصورِ عدل نہیں دیا؛ قضا، شہادت، ذمہ داری، معاشرتی اصول بھی دیے۔

قرآن نے رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا، لیکن صرف نظری وفاداری نہیں مانگی؛ عملی اتباع بھی مانگی۔

یعنی قرآن کا طریقہ یہ نہیں کہ صرف اصل دے یا صرف صورت دے؛ بلکہ اصل کو صورت دیتا ہے، اور صورت کو اصل کے تابع رکھتا ہے۔

اسی لیے شاید صحیح سوال یہ نہیں کہ:

“کیا یہ نئی صورت قرآن میں تھی؟”

بلکہ سوال یہ ہے:

کیا یہ صورت ابھی بھی اصل کی خدمت کر رہی ہے؟

اور دوسرا سوال:

کیا ہمارا اصل اب بھی اتنا زندہ ہے کہ معاشرے میں کوئی صورت پیدا کر سکے؟

اگر صورت اصل کو کھا جائے تو جمود پیدا ہوتا ہے۔

اور اگر اصل صورت پیدا نہ کرے تو تجرید پیدا ہوتی ہے۔

قرآن دونوں کے درمیان ایک زندہ راستہ بناتا ہے:

روح محفوظ رہے، مگر جسم بدل سکے؛ مقصد ثابت رہے، مگر تمدن حرکت کرتا رہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3130

ٹیگز

تبصرے