بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور معاشرتی ہم آہنگی پر زور دیا گیا ہے۔ شیعہ اور اہل سنت کے درمیان معاشرت اور باہمی تعلقات کے حوالے سے متعدد احادیث ملتی ہیں جن میں معصومین علیہم السلام نے شیعوں کو اھلسنت کے ساتھ حسن سلوک، اتحاد، اور اخوت پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔
1. امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان:
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
“کونوا زينًا ولا تكونوا شينًا، حببونا إلى الناس ولا تبغضونا إليهم.”
وسائل الشیعہ، ج 16، ص 146
“ہمارے پیروکاروں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے لیے زینت بنیں، نہ کہ ان کے لیے رسوائی کا باعث۔ لوگوں میں ہماری محبت پیدا کرو، اور ہمیں ان کی نظروں میں برا نہ بناو۔”
اس حدیث میں امام علیہ السلام شیعوں کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ اپنے رویے سے اہل سنت سمیت دیگر مسلمانوں کے دلوں میں محبت اور احترام پیدا کریں، اور ایسا عمل نہ کریں جو دوسروں کو اہل بیت علیہم السلام سے دور کرے۔
2. امام علی علیہ السلام کا خط مالک اشتر کو:
امام علی علیہ السلام نے جب مالک اشتر کو مصر کا گورنر مقرر کیا تو انہیں ایک خط میں ہدایت کی:
“اُشْعِرْ قَلْبَكَ الرَّحْمَةَ لِلرَّعِيَّةِ، وَالْمَحَبَّةَ لَهُمْ وَاللُّطْفَ بِهِمْ، وَلاَ تَكُونَنَّ عَلَيْهِمْ سَبُعاً ضَارِياً تَغْتَنِمُ أَكْلَهُمْ، فَإِنَّهُمْ صِنْفَانِ: إِمَّا أَخٌ لَكَ فِي الدِّينِ، وَإِمَّا نَظِيرٌ لَكَ فِي الْخَلْقِ.”
نہج البلاغہ، خط 53
“اپنے دل کو رعایا کے لیے رحمت، محبت، اور شفقت سے بھرو، اور ان پر ایسا نہ بنو جیسے شکاری ان پر حملہ کرتا ہے۔ وہ لوگ یا تو تمہارے دینی بھائی ہیں یا تخلیق میں تمہارے جیسے انسان ہیں۔”
اس خط میں امام علی علیہ السلام نے مالک اشتر کو نصیحت کی کہ لوگوں کے ساتھ چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، عدل اور محبت کا برتاو کریں، اور انہیں انسانی بھائی چارے کی بنیاد پر دیکھیں۔
3. امام جعفر صادق علیہ السلام کا اہل سنت کے جنازے میں شرکت کرنا:
امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک سنی مسلمان کا جنازہ ہو رہا تھا، تو امام علیہ السلام نے نہ صرف اس جنازے میں شرکت کی، بلکہ خود بھی جنازے کو کندھا دیا اور اہل سنت کے دیگر افراد کے ساتھ مل کر دعا کی۔
“علی بن یقطین کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ اہل سنت کے جنازے میں شریک ہوئے اور فرمایا کہ جنازے میں شرکت کرنا اور دعا کرنا مسلمانوں کے درمیان اخوت اور محبت کا ذریعہ بنتا ہے۔”
وسائل الشیعہ
4. امام علی رضا علیہ السلام کا فرمان:
امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:
“مَنْ صَلَّى مَعَهُمْ فِي الصَّفِّ الأَوَّلِ، كَانَ كَمَنْ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وآله في الصفِّ الأَوَّلِ.”
وسائل الشیعہ، ج 8، ص 301
“جو شخص اہل سنت کے ساتھ صف اول میں نماز پڑھے، تو وہ ایسا ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف اول میں نماز ادا کر رہا ہو۔”
یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور اخوت کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ عبادات جیسے نماز میں شرکت کرنا، اسلامی بھائی چارے کو مضبوط کرتا ہے۔
5. امام محمد باقر علیہ السلام کا فرمان:
امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو معاشرتی اخوت اور اتحاد پر زور دیتے ہوئے فرمایا:
“صِلُوا عَشَائِرَكُمْ وَاشْهَدُوا جَنَائِزَهُمْ وَعُودُوا مَرْضَاهُمْ وَأَدُّوا حُقُوقَهُمْ فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ إِذَا وَرِعَ فِي دِينِهِ وَصَدَقَ فِي حَدِيثِهِ وَأَدَّى الأَمَانَةَ وَحَسُنَ خُلُقُهُ مَعَ النَّاسِ، قِيلَ هَذَا شِيعِيٌّ، فَيَسُرُّنِي ذَلِكَ.”
الکافی، ج 2، ص 468
“اپنے قبیلوں سے تعلقات رکھو، ان کے جنازوں میں شرکت کرو، ان کے بیماروں کی عیادت کرو، اور ان کے حقوق ادا کرو۔ کیونکہ جب آپ میں سے کوئی دینداری اختیار کرے، سچ بولے، امانت داری کرے، اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئے، تو کہا جاتا ہے کہ یہ شیعہ ہے، اور یہ بات مجھے خوش کرتی ہے۔”
اس حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام نے شیعوں کو ہدایت کی کہ وہ اہل سنت اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ مل جل کر رہیں، ان کے حقوق کا خیال رکھیں اور ان کے ساتھ نیک سلوک کریں۔
غرض معصومین علیہم السلام کی تعلیمات میں مسلمانوں کے درمیان معاشرتی اخوت، اتحاد، اور حسن سلوک کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ ان احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شیعوں کو اہل سنت اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ محبت، احترام، اور بھائی چارے کے ساتھ رہنا چاہیے۔ معصومین علیہم السلام نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ مسلمان اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں اور باہمی اتحاد کو فروغ دیں۔
