3

بے باک خطابت یا ذمہ دار خطابت؟

  • نیوز کوڈ : 3124
  • 28 June 2026 - 16:55
بے باک خطابت یا ذمہ دار خطابت؟

بے باک خطابت یا ذمہ دار خطابت؟

 ✒️ڈاکٹر سید احمد رضوی

منبرِ رسولؐ امانت، علم اور تقویٰ کا مرکز ہے۔ اس پر بیٹھنے والا صرف ایک مقرر نہیں بلکہ دینِ خدا کا ترجمان، معاشرے کا معلم اور امت کا راہنما ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم اور روایاتِ معصومین علیہم السّلام نے خطباء اور مبلغین کے لیے ایسے اصول بیان کیے ہیں جو ان کی گفتگو کو حق، عدل اور اصلاح کا ذریعہ بناتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا…”

“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔”

(سورۂ حجرات، 6)

یہ آیت ہر مبلغ اور خطیب کے لیے بنیادی دستور ہے کہ غیر مصدقہ خبر کو منبر سے بیان نہ کرے۔ کسی سنی سنائی بات، سوشل میڈیا کی پوسٹ یا غیر مستند اطلاع کو حقیقت بنا کر پیش کرنا شرعاً بھی درست نہیں اور اخلاقاً بھی۔

اسی طرح قرآن فرماتا ہے:

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ”

“جس چیز کا تمہیں علم نہیں، اس کے پیچھے نہ چلو۔”

(سورۂ اسراء: 36)

اس بنا پر کسی ادارے کی رپورٹ، کسی تنظیم کے اعداد و شمار یا کسی فرد کے دعوے کو منبرِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ سے حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں، جب تک اس کی مکمل تحقیق نہ ہو۔ منبر کو کسی ادارے کی تائید یا تردید کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

اسی طرح ایسے معاملات جن کا فیصلہ عدالت، محکمۂ شرعیہ یا متعلقہ ادارے نے کرنا ہو، ان میں تحقیق کے بغیر منبر سے فیصلہ صادر کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ اسلام نے عدل اور تحقیق کو ہر مقدمے کی بنیاد قرار دیا ہے۔

قرآن کریم فحاشی کے پھیلانے سے بھی سختی سے روکتا ہے:

إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ…”

“جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہلِ ایمان میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔”

(سورۂ نور: 19)

لہٰذا وہ باتیں جن سے فحاشی کی تشہیر ہوتی ہو یا گناہوں کی تفصیلات اس انداز سے بیان ہوں کہ سننے والوں کے ذہن آلودہ ہوں، انہیں منبر سے بیان کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔

اسی طرح معاشرے کی اصلاح کے نام پر ایسی مایوس کن اور مبالغہ آمیز گفتگو بھی مناسب نہیں کہ “آج سارے نوجوان بے دین ہو گئے ہیں”، “ہر طرف زنا عام ہو گیا ہے” یا “معاشرہ مکمل تباہ ہو چکا ہے”۔ اس قسم کے عمومی اور غیر ثابت شدہ جملے نہ صرف حقیقت کے خلاف ہو سکتے ہیں بلکہ گناہ کو معمولی اور عام بنا کر لوگوں میں اس پر جرأت بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

خطباء کو اعداد و شمار بیان کرتے وقت بھی انتہائی احتیاط کرنی چاہیے۔ اگر کسی عدد یا رپورٹ کی صحت یقینی نہ ہو تو اسے منبر سے نقل نہ کریں، کیونکہ مبالغہ حقیقت کو کمزور کر دیتا ہے اور سامعین کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔

اسی طرح کسی علاقے، ادارے یا شخصیت کو غیر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر براہِ راست نشانہ بنانا اسلامی اخلاق کے منافی ہے۔ اسلام بہتان، بدگمانی اور بلا تحقیق الزام تراشی سے منع کرتا ہے۔

البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ تنقید ہر انسان کا حق ہے، لیکن اسلامی تنقید کی بنیاد انصاف، حسنِ نیت اور خیرخواہی ہوتی ہے، نہ کہ تحقیر، انتقام یا شہرت حاصل کرنا۔ امام صادق علیہ السّلام فرماتے ہیں:

أَحَبُّ إِخْوَانِي إِلَيَّ مَنْ أَهْدَى إِلَيَّ عُيُوبِي”

“میرے نزدیک سب سے محبوب بھائی وہ ہے جو مجھے میری خامیوں کا تحفہ دے۔”

یعنی اصلاح کے لیے تنقید مطلوب ہے، لیکن اس کا انداز خیر خواہانہ، منصفانہ اور باوقار ہونا چاہیے۔

آج کے دور میں منبر کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ایک غیر ذمہ دارانہ جملہ معاشرے میں انتشار پیدا کر سکتا ہے، جبکہ ایک حکیمانہ اور مدلل گفتگو نسلوں کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ لہٰذا ہر خطیب کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کو تحقیق، عدل، تقویٰ، حکمت اور اخلاص کا پابند بنائے، تاکہ منبرِ رسولؐ ہمیشہ ہدایت، وحدت اور اصلاحِ امت کا سر چشمہ بنا رہے

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3124

ٹیگز

تبصرے