6

نکاح، اولاد اور رزق کا راز

  • نیوز کوڈ : 3076
  • 10 June 2026 - 23:04
نکاح، اولاد اور رزق کا راز

نکاح، اولاد اور رزق کا راز

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

یہ سوال دراصل رزق، اولاد، توکل، اسباب، اور سنتِ الٰہیہ کے باہمی تعلق سے متعلق ہے کہ بہت سے لوگ اس مقام پر الجھن کا شکار ہوتے ہیں کہ ایک طرف اسلامی تعلیمات میں نکاح کی ترغیب دی گئی ہے اور بعض نصوص میں یہ بات بھی آتی ہے کہ اگر انسان فقیر ہو تو اللہ اسے اپنے فضل سے غنی کر دے گا، یا یہ کہ ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے؟  دوسری طرف عملی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ کثرتِ اولاد کے بعد معاشی دباؤ، ذہنی انتشار، تعلیمی کمزوری اور مسلسل معاشی جدوجہد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بظاہر یہ دو حقیقتیں ایک دوسرے سے متعارض محسوس ہوتی ہیں، لیکن گہرائی سے دیکھا جائے تو اصل مسئلہ نصوص کے فہم کا ہے، نہ کہ نصوص اور واقعہ کے درمیان تضاد کا۔

قرآن جب کہتا ہے کہ نکاح کرو، اگر تم فقیر ہو تو اللہ اپنے فضل سے تمہیں غنی کر دے گا، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ نکاح ایک جادوئی عمل ہے جس کے بعد معاشی قوانین معطل ہو جائیں گے۔ قرآن کا پورا نظامِ فکر اسباب کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ وہی قرآن جو رزق کی ضمانت دیتا ہے، وہی محنت، تجارت، تدبیر، ہجرت، جدوجہد، منصوبہ بندی اور معاشی ذمہ داری کا بھی حکم دیتا ہے۔ اس لیے غنا کا وعدہ ایک عمومی سنتِ الٰہیہ کے تحت ہے، نہ کہ ہر فرد کے لیے فوری اور غیر مشروط نقد فائدے کے طور پر۔

مثال کے طور پر ایک شخص نکاح کرتا ہے، اس کی ذمہ داری کا احساس بڑھتا ہے، وہ زیادہ محنت کرتا ہے، اس کے اندر استقامت پیدا ہوتی ہے، فضول خرچی کم ہوتی ہے، سماجی تعاون بڑھتا ہے، اور یوں اس کے رزق کے دروازے کھلتے ہیں۔ یہ سب اللہ کے فضل ہی کی صورتیں ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص نکاح کے بعد بھی معاشی منصوبہ بندی نہ کرے، تعلیم و ہنر حاصل نہ کرے، ذمہ داری نہ نبھائے، اور پھر توقع رکھے کہ صرف نکاح کی وجہ سے دولت آسمان سے نازل ہو جائے گی، تو یہ قرآن کے تصورِ توکل کے خلاف ہے۔

اسی طرح “ہر بچہ اپنا رزق لے کر آتا ہے” کا مفہوم بھی اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر نئے بچے کے ساتھ والدین کے بینک اکاؤنٹ میں خود بخود رقم جمع ہو جائے گی۔ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ کائنات کا رزق کا نظام صرف والدین کی محدود طاقت پر موقوف نہیں۔ اللہ نے اس بچے کے لیے بھی اس دنیا میں رزق کے اسباب رکھے ہیں۔ وہ بچہ بڑا ہو کر خود بھی رزق کا ذریعہ بن سکتا ہے، خاندان کے لیے برکت کا سبب بن سکتا ہے، یا اس کی موجودگی ایسے مواقع پیدا کر سکتی ہے جو پہلے موجود نہ تھے۔ لیکن اس کے باوجود اس بچے کی پرورش، تعلیم، صحت اور تربیت کے لیے والدین کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: رزق کی ضمانت اور آسودگی کی ضمانت ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ قرآن رزق کی ضمانت دیتا ہے، عیش و آرام کی نہیں۔ ممکن ہے ایک خاندان میں دس بچے ہوں اور سب زندہ رہیں، بنیادی خوراک پائیں، اور اپنا رزق حاصل کریں، لیکن اس کے باوجود پورا خاندان معاشی تنگی میں زندگی گزار رہا ہو۔ اس صورت میں رزق کی سنت تو پوری ہو رہی ہے، لیکن خوشحالی کی سنتیں شاید پوری نہیں ہو رہیں۔ خوشحالی کے لیے علم، نظم، عدل، محنت، مہارت، منصوبہ بندی اور اجتماعی ترقی کی دوسری سنن بھی ضروری ہیں۔

تاریخی طور پر بھی دیکھا جائے تو قدیم زرعی معاشروں میں زیادہ اولاد معاشی بوجھ کے بجائے معاشی قوت سمجھی جاتی تھی، کیونکہ بچے کھیتوں، تجارت اور خاندانی کاموں میں شریک ہو جاتے تھے۔ جدید شہری معاشروں میں صورت حال مختلف ہے۔ آج ایک بچے کی تعلیم، صحت اور تربیت پر بہت زیادہ وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ اس لیے محض قدیم معاشرتی تجربے کو جدید حالات پر منطبق کرنا ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔ اسلام نے اولاد کی ترغیب ضرور دی ہے، لیکن اس کے ساتھ اولاد کے حقوق، تربیت، عدل اور کفالت کی ذمہ داری بھی عائد کی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص اتنی اولاد پیدا کر لے کہ وہ ان کی تعلیم، تربیت، اخلاقی نشوونما اور بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکے، اور ساری زندگی صرف معاشی بقا کی جنگ میں الجھا رہے، تو مسئلہ اولاد کے رزق کے وعدے میں نہیں بلکہ دیگر سننِ الٰہیہ کو نظر انداز کرنے میں ہے۔ قرآن کا پورا نظام ایک متوازن نظام ہے۔ وہ کثرتِ اولاد کے ساتھ ذمہ داری، رزق کے ساتھ محنت، توکل کے ساتھ تدبیر، اور ایمان کے ساتھ عمل کو جوڑتا ہے۔

درحقیقت اسلام کا مطلوب انسان وہ نہیں جو صرف خاندان میں کھو جائے اور علم، دعوت، اصلاح، عبادت، فکر اور امت کی ذمہ داریوں کو بھول جائے۔ نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت میں ہمیں توازن نظر آتا ہے۔ آپؐ نے نکاح بھی کیا، اولاد بھی ہوئی، معاشرتی ذمہ داریاں بھی نبھائیں، لیکن پوری زندگی کا مرکز صرف معاشی دوڑ نہیں بنی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا مقصد نہ رہبانیت ہے اور نہ صرف خاندانی زندگی میں گم ہو جانا، بلکہ ایک متوازن زندگی ہے جس میں خاندان بھی ہو، علم بھی ہو، عبادت بھی ہو، اور اجتماعی ذمہ داری بھی۔

لہٰذا “ہر بچہ اپنا رزق لے کر آتا ہے” اور “اللہ فقیر کو غنی کر دیتا ہے” کو اگر قرآن کی دوسری سننِ معاشرتی کے ساتھ ملا کر سمجھا جائے تو مفہوم یہ بنتا ہے کہ رزق کا آخری مالک اللہ ہے، اولاد رزق میں رکاوٹ نہیں، لیکن خوشحالی، وسعت اور متوازن زندگی کے لیے علم، حکمت، منصوبہ بندی، محنت، عدل، ذمہ داری اور صحیح تدبیر بھی لازمی ہیں۔ جو معاشرہ صرف ایک سنت کو پکڑ لے اور دوسری سنن کو نظر انداز کر دے، وہ اکثر اسی قسم کے تضادات اور مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے اور خدا کے وعدوں کو سمجھ نہیں پاتا۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3076

ٹیگز

تبصرے