بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر: سید جہانزب عابدی
میری زندگی میں ایک ایسا دور بھی تھا جب مذہبی وابستگی کا بڑا حصہ نوحوں، مجالس اور جذباتی مذہبی ماحول کے گرد گھومتا تھا۔ اس ماحول نے یقیناً اہلِ بیتؑ سے محبت، ظلم کے خلاف نفرت اور واقعۂ کربلا سے جذباتی وابستگی پیدا کی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ مجھے محسوس ہونے لگا کہ صرف جذبات انسان کو مکمل فکری رہنمائی فراہم نہیں کرتے۔ جذبات دل کو گرماتے ہیں، آنکھوں کو نم کرتے ہیں اور وقتی جوش پیدا کرتے ہیں، لیکن زندگی کے بڑے سوالات، تہذیبی چیلنجز، فکری حملوں اور عملی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے محض جذبات کافی نہیں ہوتے۔
تقریباً ستائیس اٹھائیس سال قبل میں نے نوحوں کو باقاعدگی سے سننا ترک کر دیا۔ یہ فیصلہ کسی ردِّ عمل یا بیزاری کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک فکری ضرورت کے تحت کیا گیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اگر دین کو حقیقتاً سمجھنا ہے تو اس کے اصل سرچشموں کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ چنانچہ میری توجہ براہِ راست قرآن، احادیث، تفاسیر، اسلامی علوم، فقہی مباحث، تاریخی مصادر اور مقاتل کے مطالعے کی طرف منتقل ہوگئی۔ یہ میری زندگی کا ایک ایسا موڑ ثابت ہوا جس نے میری پوری فکری دنیا بدل دی۔
اس مطالعے نے میرے سامنے دین کا ایک بالکل مختلف اور کہیں زیادہ وسیع منظرنامہ کھول دیا۔ میں نے دیکھا کہ دین صرف مصیبتوں پر گریہ کرنے کا نام نہیں بلکہ انسان سازی، معاشرہ سازی اور تہذیب سازی کا ایک مکمل منصوبہ ہے۔ میں نے جانا کہ انبیاءؑ اور اولیاءؑ کا مقصد صرف دکھ اور مصیبتوں کی داستان سنانا نہیں تھا بلکہ انسان کو جہالت، کمزوری، خوف، غلامی اور ذلت سے نکال کر علم، حکمت، عزت، شجاعت اور آزادی کی منزل تک پہنچانا تھا۔
اس مطالعے کے نتیجے میں میری شخصیت میں سب سے پہلی تبدیلی یہ آئی کہ میں نے مشکلات کو تقدیر کا ناقابلِ تغیر عذاب سمجھنے کے بجائے انہیں امتحان اور ترقی کا ذریعہ سمجھنا شروع کر دیا۔ پہلے جہاں مصائب کا تذکرہ مجھے غم کی کیفیت میں لے جاتا تھا، وہاں اب انبیاءؑ، ائمہؑ اور صالحین کی جدوجہد مجھے استقامت، صبر اور مزاحمت کا سبق دینے لگی۔ میں نے سیکھا کہ مشکلات سے فرار ممکن نہیں، لیکن ان پر غلبہ پانا ممکن ہے۔
دوسری بڑی تبدیلی علم کے بارے میں میرے تصور میں پیدا ہوئی۔ مجھے احساس ہوا کہ اسلام کا بنیادی پیغام جہالت سے علم کی طرف سفر ہے۔ چنانچہ میرے اندر مطالعے، تحقیق، تجزیے اور تنقیدی فکر کا شوق پیدا ہوا۔ میں نے سوال پوچھنا سیکھا، دلائل تلاش کرنا سیکھا اور چیزوں کو سطحی جذبات کے بجائے علمی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی۔ علم میرے لیے محض معلومات کا ذخیرہ نہیں رہا بلکہ زندگی کو سمجھنے کا ذریعہ بن گیا۔
اسی کے ساتھ کائنات اور زندگی کے بارے میں میرا نقطۂ نظر بھی بدل گیا۔ پہلے جہاں دنیا ایک مسلسل ظلم، محرومی اور مصیبت کا میدان محسوس ہوتی تھی، وہاں اب مجھے یہ اللہ کی حکمتوں، نعمتوں، مواقع اور امکانات سے بھری ہوئی ایک عظیم تخلیق دکھائی دینے لگی۔ میں نے سیکھا کہ اسلام انسان کو زندگی سے نفرت نہیں بلکہ زندگی کی تعمیر کا درس دیتا ہے۔ اس نے میرے اندر امید، رجائیت اور مثبت طرزِ فکر پیدا کیا۔
ایک اور اہم تبدیلی مسلکی تعصبات کے حوالے سے آئی۔ مطالعے نے مجھے یہ سمجھایا کہ تاریخ کے بڑے معرکے صرف مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان نہیں تھے بلکہ حق اور باطل، عدل اور ظلم، صداقت اور نفاق کے درمیان تھے۔ میری توجہ افراد اور گروہوں کی اندھی حمایت سے ہٹ کر اصولوں کی طرف منتقل ہوئی۔ میں نے لوگوں کے ناموں کے بجائے ان کے کردار، موقف اور عمل کو اہمیت دینا شروع کی۔ اس سے میرے اندر وسعتِ نظر پیدا ہوئی اور میں نے امت، انسانیت اور تہذیب کے بڑے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی۔
رفتہ رفتہ میری زندگی میں نظم و ضبط پیدا ہوا۔ وقت کی قدر، ذمہ داری کا احساس، وعدے کی پابندی، دیانت داری، اخلاص، محنت، خود احتسابی اور مقصدیت میری شخصیت کا حصہ بنتے گئے۔ میں نے محسوس کیا کہ دین کا اصل اثر انسان کے کردار میں ظاہر ہونا چاہیے، صرف جذبات میں نہیں۔ اگر مذہب انسان کو بہتر، باکردار اور مفید انسان نہ بنا سکے تو اس کی سمجھ میں کہیں نہ کہیں کمی رہ جاتی ہے۔
اس سفر نے میرے اندر شجاعت بھی پیدا کی۔ میں نے جانا کہ حق کے راستے پر چلنے والے لوگوں کی زندگیوں کا سب سے نمایاں وصف خوف سے آزادی تھا۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ زندگی اور موت دونوں اللہ کے اختیار میں ہیں تو پھر ظالموں، طاقتوروں اور جابروں کا خوف آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔ میرے اندر بھی یہی کیفیت پیدا ہوئی۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے، حق بات کہنے اور مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ بڑھا۔ موت کا خوف، جو اکثر انسان کو حق سے دور رکھتا ہے، کمزور پڑنے لگا اور اس کی جگہ ذمہ داری اور مقصدیت کا احساس پیدا ہوا۔
اسی کے ساتھ میرے اندر خود اعتمادی، عزتِ نفس، استقلال، صبر، برداشت، فکری آزادی، وسیع النظری، خدمتِ خلق کا جذبہ، اجتماعی شعور، قیادت کی اہمیت کا احساس اور مستقبل کے بارے میں امید پیدا ہوئی۔ میں نے جانا کہ مومن کی زندگی محرومی کے احساس پر نہیں بلکہ امکانات کے شعور پر قائم ہوتی ہے۔
ماضی میں مذہبی ماحول کے بعض پہلو غیر شعوری طور پر انسان میں محرومی، مظلومیت، بے بسی، فقیری، کم ہمتی اور شکست خوردگی کا احساس پیدا کر دیتے تھے۔ انسان خود کو حالات کا مجبور شکار سمجھنے لگتا تھا۔ لیکن جب میں نے دین کو اس کے اصل مصادر سے سمجھنا شروع کیا تو یہ احساسات بتدریج ختم ہوتے گئے۔ ان کی جگہ خود داری، عزت، حوصلہ، تخلیقی سوچ، تعمیری رویہ، محنت، پیش قدمی اور کامیابی کے اصولوں کی سمجھ نے لے لی۔
آج جب میں اپنے اس طویل سفر پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اصل تبدیلی نوحوں کو چھوڑنے میں نہیں بلکہ دین کو براہِ راست سمجھنے کی کوشش میں تھی۔ اس سفر نے مجھے یہ سکھایا کہ اسلام صرف غم کی داستان نہیں بلکہ امید کا پیغام ہے؛ صرف مظلومیت کا بیان نہیں بلکہ ظلم کے خلاف قیام کا منشور ہے؛ صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کا پروگرام ہے۔ اسی معرفت نے میری زندگی میں وہ مثبت، تعمیری اور تخلیقی تبدیلیاں پیدا کیں جنہوں نے میرے فکر، کردار اور طرزِ زندگی کو ایک نئی سمت عطا کی۔
