8

*مقصد، منزل اور راستہ و طریقہ*

  • نیوز کوڈ : 3066
  • 10 June 2026 - 2:35
*مقصد، منزل اور راستہ و طریقہ*

*مقصد، منزل اور راستہ و طریقہ*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

کسی کے ہدف (goal) پر تنقید کرنا اور اس ہدف تک پہنچنے کے وسائل، راستوں اور طریقۂ کار پر تنقید کرنا بظاہر ایک جیسی چیزیں محسوس ہوتی ہیں، مگر حقیقت میں یہ دو بالکل مختلف سطحوں کی نقد ہیں۔ ان کا فرق سمجھ لینا انسان کی فکری پختگی، تعلقات، قیادت اور اپنی ذاتی نشوونما کے لیے بہت اہم ہے۔

ہدف پر تنقید دراصل اس سوال سے متعلق ہوتی ہے کہ “تم جس چیز کو حاصل کرنا چاہتے ہو، کیا وہ حاصل کرنے کے قابل بھی ہے؟ کیا وہ درست، باارزش، حقیقی یا ضروری ہے؟” جبکہ وسائل اور راستے پر تنقید اس سوال سے متعلق ہوتی ہے کہ “تم جس چیز کو حاصل کرنا چاہتے ہو، اس کے لیے جو طریقہ اختیار کر رہے ہو، کیا وہ مؤثر، اخلاقی، حقیقت پسندانہ یا مناسب ہے؟”

مثال کے طور پر کوئی شخص کہے کہ میرا ہدف تعلیم کے ذریعے معاشرے میں بہتری لانا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ “معاشرہ بدلنے کا خواب ہی فضول ہے” تو یہ ہدف پر تنقید ہے۔ لیکن اگر کوئی کہے کہ “صرف سوشل میڈیا پوسٹس سے تبدیلی نہیں آئے گی، تمہیں زمینی کام بھی کرنا ہوگا” تو یہ راستے پر تنقید ہے۔

ہدف پر تنقید انسان کی شناخت، معنی اور وجودی سمت کو چیلنج کرتی ہے۔ اسی لیے یہ زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ انسان اکثر اپنے مقصد کے ساتھ جذباتی وابستگی پیدا کر لیتا ہے؛ مقصد پر اعتراض اسے اپنی ذات پر حملہ محسوس ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر ہدف صرف اس لیے مقدس نہیں ہوجاتا کہ وہ ہمارا اپنا ہے۔ بعض اوقات انسان برسوں کسی ایسے ہدف کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے جو حقیقت میں ادھورا، غلط، غیر حقیقی یا صرف سماجی دباؤ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس لیے ہدف پر تنقید کو اصولی طور پر رد نہیں کرنا چاہیے۔

لیکن یہاں ایک فرق ہے: اگر تنقید ہدف کی اخلاقی بنیاد، حقیقت، اثرات یا مقصدیت پر ہو اور دلیل کے ساتھ ہو، تو اسے تحمل سے سننا چاہیے۔ کیونکہ بعض اوقات یہی سوال انسان کو پہلی بار یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ “میں جو چاہ رہا ہوں، کیوں چاہ رہا ہوں؟” بہت سے بڑے فکری، دینی اور سماجی انقلابات اسی سوال سے شروع ہوئے ہیں۔

البتہ اگر ہدف پر تنقید صرف تمسخر، احساسِ برتری، حسد یا دوسروں کو اپنے درجے پر کھینچنے کے لیے ہو — جیسے “تم سے نہیں ہوگا”، “یہ سب فضول خواب ہیں”، “سب ایسے ہی جیتے ہیں” — تو ایسی تنقید کا تحمل کرنا اس معنی میں ضروری نہیں کہ اسے اپنے شعور پر حاوی کر لیا جائے۔ اسے سنا جا سکتا ہے، مگر اس کے سامنے اپنی سمت قربان کرنا ضروری نہیں۔

اس کے مقابلے میں وسائل اور راستے پر تنقید اکثر زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ انسان کی اصل منزل نہیں چھینتی بلکہ وہاں پہنچنے کے امکان کو بہتر بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پختہ انسان اپنے طریقوں پر سخت تنقید برداشت کر لیتے ہیں لیکن اپنے مقصد کو جلدی نہیں چھوڑتے۔

مثال کے طور پر اگر کسی کا ہدف دین کی خدمت، علم حاصل کرنا، کاروبار قائم کرنا، یا خاندان کی بہتری ہو تو یہ سب اچھے مقاصد ہو سکتے ہیں؛ مگر اگر ان تک پہنچنے کے لیے اختیار کردہ راستہ غیر مؤثر، غیر اخلاقی، جذباتی یا غیر حقیقت پسندانہ ہو تو اس پر تنقید دراصل مدد بھی ہو سکتی ہے۔

اسی لیے عام طور پر ایک اصول یہ سمجھا جا سکتا ہے: ہدف کے بارے میں کھلے ذہن کے ساتھ سوال قبول کرو، لیکن ہر اعتراض پر اپنا مقصد نہ بدل دو؛ اور راستے کے بارے میں عاجزی کے ساتھ تنقید قبول کرو، کیونکہ وہاں تبدیلی نسبتاً آسان اور مفید ہوتی ہے۔

ایک اور گہرا فرق یہ ہے کہ ہدف پر تنقید اکثر فلسفیانہ سوال اٹھاتی ہے: “کیا یہ چیز مطلوب ہونی چاہیے؟” جبکہ راستے پر تنقید عملی سوال اٹھاتی ہے: “کیا یہ طریقہ کام کرے گا؟”

بالغ فکری شخصیت وہ ہوتی ہے جو اپنے ہدف کو اتنا کمزور نہ بنائے کہ ہر تنقید پر بدل دے، اور نہ اتنا مقدس بنا دے کہ اس پر سوال ہی نہ اٹھنے دے۔ اسی طرح اپنے راستوں کو اتنا جامد نہ کرے کہ اصلاح ممکن نہ رہے۔

بعض اوقات انسان کو اپنے مقصد کے لیے ضد رکھنی پڑتی ہے، مگر اپنے طریقوں کے لیے لچک۔ یہی توازن انسان کو اندھی ضد اور بے سمت بہاؤ — دونوں سے بچاتا ہے۔

“مقصد کے لیے ضد اور طریقوں و راستوں کے لیے لچک” دراصل زندگی، فکر، تربیت اور قیادت کا ایک نہایت گہرا اصول ہے۔ اس کا مطلب ضدی ہونا نہیں بلکہ ترجیحات کو صحیح جگہ پر رکھنا ہے۔ یعنی یہ طے کرنا کہ زندگی میں کون سی چیزیں ایسی ہیں جنہیں آسانی سے نہیں چھوڑنا اور کون سی ایسی ہیں جنہیں حالات، عقل، تجربے اور حقیقت کے مطابق بدلتے رہنا چاہیے۔

انسان اکثر اس کے برعکس کرتا ہے۔ مقصد بدلتا رہتا ہے مگر طریقے نہیں بدلتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عمر گزر جاتی ہے مگر آدمی صرف اپنے پرانے انداز سے چمٹا رہتا ہے، چاہے وہ ناکام ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔

فرض کریں کسی انسان کا مقصد علم حاصل کرنا ہے۔ اگر وہ ضد اس بات پر کرے کہ “مجھے صرف اسی استاد سے، اسی شہر میں، اسی زبان میں، اسی ادارے میں علم لینا ہے”، تو اس نے مقصد نہیں بلکہ طریقے کو مقدس بنا لیا۔ ایسی ضد ترقی روک دیتی ہے۔ لیکن اگر وہ کہے کہ “علم حاصل کرنا نہیں چھوڑوں گا، مگر راستہ بدل سکتا ہوں، استاد بدل سکتا ہوں، رفتار بدل سکتا ہوں، وسائل بدل سکتا ہوں” تو یہ مقصد پر استقامت اور طریقے میں لچک ہے۔

اسی طرح ایک شخص کا مقصد معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ہو۔ ابتدا میں وہ تقریروں سے کوشش کرتا ہے، پھر اسے احساس ہوتا ہے کہ تعلیم زیادہ مؤثر ہے، پھر محسوس کرتا ہے کہ ادارہ سازی کی ضرورت ہے، پھر پتا چلتا ہے کہ خاموش تربیت شور والی مہم سے زیادہ دیرپا ہے۔ اگر وہ ہر بار یہ سمجھے کہ راستہ بدلنا مقصد سے غداری ہے تو وہ رک جائے گا۔ لیکن اگر مقصد محفوظ رہے اور طریقہ بدلتا رہے تو سفر جاری رہتا ہے۔

یہ اصول دراصل درخت اور شاخوں جیسا ہے۔ جڑیں مضبوط ہونی چاہئیں، شاخیں لچکدار۔ اگر جڑیں کمزور ہوں تو درخت گر جاتا ہے، اور اگر شاخیں سخت ہوں تو آندھی میں ٹوٹ جاتی ہیں۔

یہاں ایک باریک خطرہ بھی ہے۔ بعض لوگ مقصد کے نام پر ضد کرتے کرتے ہٹ دھرمی میں چلے جاتے ہیں۔ وہ ہر تنقید کو دشمنی سمجھتے ہیں، ہر تبدیلی کو کمزوری اور ہر نیا راستہ اصول فروشی۔ ایسے لوگ بظاہر ثابت قدم دکھتے ہیں مگر حقیقت میں اپنے ہی طریقوں کے قیدی بن جاتے ہیں۔

دوسری طرف کچھ لوگ لچک کے نام پر ہر روز نیا مقصد اختیار کر لیتے ہیں۔ آج یہ خواب، کل دوسرا، پرسوں تیسرا۔ وہ حالات کے ساتھ بہتے رہتے ہیں، مگر کہیں پہنچتے نہیں۔ یہ لچک نہیں، بے سمتی ہے۔

اصل پختگی یہ ہے کہ انسان بار بار خود سے پوچھے: “کیا میں اپنے مقصد کی حفاظت کر رہا ہوں یا صرف اپنے طریقے کی؟”

اگر آپ کو کسی کام میں ناکامی ملے اور آپ کے اندر فوراً یہ سوال آئے کہ “شاید مقصد ہی غلط تھا”، تو پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں راستہ تو غلط نہیں تھا۔ اور اگر ہر بار راستہ بدلنے کے باوجود اندر سے آواز آئے کہ “یہ مقصد ہی میرا نہیں”، تو پھر مقصد پر بھی سوال جائز ہے۔

اس اصول کو ایک جملے میں یوں کہا جا سکتا ہے:

مضبوط انسان وہ نہیں جو کبھی نہ مڑے؛ مضبوط انسان وہ ہے جو منزل کی طرف بڑھتے ہوئے راستے بدل سکتا ہو، مگر منزل نہ کھوئے۔

اور بعض اوقات زندگی کی بڑی حکمت یہی ہوتی ہے کہ انسان دروازہ نہیں توڑتا، دروازہ بند ہو تو راستہ بدل لیتا ہے—لیکن جانا وہیں چاہتا ہے جہاں جانا ضروری سمجھتا ہے۔ البتہ ہدف اور راستہ دونوں کے انتخاب کو جائز اور حلال ہونا شرط ہے۔ رضایت خدا کے بغیر جو بھی ہدف و راستہ اختیار کیا جائے وہ ہر حال میں گمراہی و ناکامی سے دوچار کرتا ہے۔ لہذا مرضی مولا ضروری ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3066

ٹیگز

تبصرے