4

*شیعہ اور سنی معیارِ قیادت کا قرآنی تجزیہ*

  • نیوز کوڈ : 3070
  • 10 June 2026 - 2:38
*شیعہ اور سنی معیارِ قیادت کا قرآنی تجزیہ*

*شیعہ اور سنی معیارِ قیادت کا قرآنی تجزیہ*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بعد قیادت کا مسئلہ اسلامی تاریخ کا سب سے بنیادی اور فیصلہ کن مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے گرد دو بڑے نظریات وجود میں آئے جنہیں بعد میں شیعہ اور سنی مکتب فکر کی صورت میں منظم تعبیر ملی۔ اگر ان دونوں نظریات کو ان کے تاریخی جذبات اور بعد کی فقہی تفصیلات سے الگ کرکے ان کے بنیادی اصولوں تک محدود کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل اختلاف شخصیات سے زیادہ “قیادت کے فلسفے” کا اختلاف ہے۔

شیعہ تصورِ قیادت کی بنیاد اس اصول پر قائم ہے کہ امت کی دینی اور سیاسی رہنمائی اس شخص کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جو علم، تقویٰ، عدالت، عصمت یا کم از کم خطا سے بلند ترین سطح کی حفاظت، روحانی بصیرت اور دینی فہم میں سب سے برتر ہو۔ اس تصور میں قیادت محض ایک سیاسی عہدہ نہیں بلکہ نبوت کے مشن کا تسلسل ہے۔ چونکہ نبوت اللہ کی طرف سے مقرر ہوتی ہے، اس لیے نبوت کے بعد کی اعلیٰ ترین دینی قیادت بھی خدا کی طرف سے متعین ہونی چاہیے۔ اس نظریے میں عوامی پسند یا اکثریتی رائے بنیادی معیار نہیں بلکہ اصل معیار الٰہی انتخاب اور شخصی اہلیت ہے۔

اس کے مقابلے میں سنی تصورِ قیادت یہ سمجھتا ہے کہ نبوت کے خاتمے کے بعد امت کو اجتماعی معاملات میں مشاورت اور اجتہاد کا حق حاصل ہے۔ اس نظریے کے مطابق خلیفہ کا منصب نبوت کا تسلسل نہیں بلکہ امت کے سیاسی نظم و نسق کا ادارہ ہے۔ لہٰذا اس کے تعین میں شوریٰ، اجتماعی اتفاق اور حالات کے مطابق انتخاب کو بنیادی حیثیت حاصل ہوسکتی ہے۔ اس تصور میں خلیفہ کے لیے کامل ترین عالم، سب سے زیادہ متقی یا سب سے زیادہ شجاع ہونا ضروری نہیں، بلکہ امت کے نظم کو قائم رکھنے کی صلاحیت زیادہ اہم ہو سکتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ قرآن ان دونوں تصورات میں سے کس کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے؟

جب قرآن کو بطور مجموعی دیکھا جاتا ہے تو ایک نمایاں حقیقت سامنے آتی ہے۔ قرآن جہاں بھی قیادت، امامت یا الٰہی نمائندگی کا ذکر کرتا ہے، وہاں انتخاب کا حق براہ راست اللہ کے پاس دکھائی دیتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کو امامت اللہ دیتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں قرآن کہتا ہے: “إني جاعلك للناس إماماً”(البقرہ 2:124)۔ یہاں امامت کو ایک الٰہی منصب کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس آیت میں یہ بات واضح ہے کہ امامت کسی انسانی انتخاب کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کے انتخاب کا نتیجہ ہے۔ مزید یہ کہ جب ابراہیمؑ اپنی اولاد کے لیے اس منصب کی درخواست کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے: “لا ينال عهدي الظالمين”۔ یعنی یہ منصب ہر شخص کو نہیں مل سکتا بلکہ اس کے لیے اخلاقی اور روحانی معیار لازم ہیں۔ حضرت موسیٰؑ کو نبوت اللہ دیتا ہے۔ حضرت ہارونؑ کو موسیٰؑ کے معاون کے طور پر اللہ منتخب کرتا ہے۔ حضرت طالوت کو بنی اسرائیل کا حکمران اللہ مقرر کرتا ہے۔ ان تمام مثالوں میں قوم کی اکثریت فیصلہ نہیں کرتی بلکہ اللہ فیصلہ کرتا ہے، اور پھر قوم کو اس فیصلے کو قبول کرنے کا امتحان دیا جاتا ہے۔

خاص طور پر طالوت کا واقعہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بنی اسرائیل نے اعتراض کیا کہ طالوت کے پاس دولت اور خاندانی وجاہت نہیں۔ جواب میں قرآن نے نہ ان کی مقبولیت کا ذکر کیا، نہ اکثریتی تائید کا، بلکہ فرمایا کہ اللہ نے انہیں منتخب کیا ہے اور انہیں علم اور جسمانی صلاحیت میں برتری دی ہے۔ گویا قرآن کے نزدیک قیادت کا معیار علم اور اہلیت ہے، نہ کہ اکثریت یا سماجی قبولیت۔ قرآن کہتا ہے: “إن الله اصطفاه عليكم وزاده بسطة في العلم والجسم”(البقرہ 2:247)۔ اس آیت میں قیادت کے دو بنیادی معیار بیان ہوئے ہیں: علم اور صلاحیت۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قرآن نے یہاں دولت، قبائلی حیثیت، عمر یا اکثریتی پسند کو معیار نہیں بنایا بلکہ علم اور اہلیت کو بنیاد قرار دیا۔

حضرت ابراہیمؑ کی امامت والی آیت میں بھی یہی اصول سامنے آتا ہے۔ وہاں امامت کو خدا کا عہد قرار دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ اس عہد کو ظلم سے پاک افراد تک محدود کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیادت ایک اخلاقی اور روحانی منصب ہے جس کے لیے کردار اور پاکیزگی بنیادی شرط ہیں۔

اس کے برعکس اگر ہم شوریٰ کی آیات کو دیکھیں “وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ”(الشوریٰ 42:38) اور”وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ”(آل عمران 3:159) تو وہاں بھی ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے۔ قرآن نے مشورے کا حکم ضرور دیا ہے، لیکن کسی جگہ یہ نہیں کہا کہ مشورہ خود حق و باطل کا معیار ہے یا مشورہ کسی شخص کو لازماً سب سے زیادہ اہل بنا دیتا ہے۔ مشورہ ایک طریقۂ کار ہے، جبکہ اہلیت ایک الگ چیز ہے۔ قرآن میں شوریٰ کے اصول کا ذکر اجتماعی امور کے بارے میں ہے، لیکن قیادت کے لیے جو مثالیں دی گئی ہیں وہ زیادہ تر الٰہی انتخاب، علم اور فضیلت پر مبنی ہیں۔

یہاں ایک اور قرآنی حقیقت قابلِ غور ہے۔ قرآن بار بار اکثریت کے بارے میں تنبیہ کرتا ہے۔ متعدد مقامات پر فرمایا گیا کہ زمین میں اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے، اکثر لوگ شکر گزار نہیں، اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے، اور اگر تم اکثر لوگوں کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے ہٹا دیں گے۔ اس قرآنی مزاج کو سامنے رکھا جائے تو یہ تصور کہ محض اکثریت کا فیصلہ حق کی ضمانت ہے، قرآن کے عمومی اسلوب سے پوری طرح ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔ قرآن میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جہاں اللہ نے یہ کہا ہو کہ: “لوگوں کی اکثریت جسے منتخب کر لے وہ لازماً سب سے بہتر قائد ہوگا۔” اس کے برعکس قرآن کئی مقامات پر اکثریت کے بارے میں تنبیہ بھی کرتا ہے:”وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ”(الانعام 6:116)۔

اسی لیے اگر سوال کو خالصتاً قرآنی معیارات کی سطح پر دیکھا جائے تو شیعہ معیارِ قیادت قرآن کے بیان کردہ اوصاف کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے۔ قرآن کا زور علم، عدل، تقویٰ، برتریِ کردار اور الٰہی انتخاب پر ہے۔ یہ تمام عناصر شیعہ نظریۂ امامت کے بنیادی اجزاء ہیں۔ اس کے مقابلے میں سنی نظریۂ خلافت میں شوریٰ اور اجتماعی اجتہاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، لیکن قرآن کی قیادت سے متعلق مثالوں میں یہ عنصر اتنی نمایاں حیثیت سے موجود نہیں جتنی علم، فضیلت اور الٰہی انتخاب کی حیثیت ہے۔

تاہم یہاں ایک نہایت اہم فلسفیانہ نکتہ سامنے آتا ہے۔ اگر قرآن واقعی علم، فضیلت اور الٰہی انتخاب کو معیار بناتا ہے تو پھر اس نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بعد کسی ایک شخص کا نام واضح طور پر کیوں نہیں لیا؟

اس سوال کا جواب قرآن کے پورے طریقۂ تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ قرآن کا اسلوب یہ نہیں کہ ہر مسئلے میں ناموں کی فہرست دے دے۔ قرآن انسان کو معیار دیتا ہے، پھر اس کی عقل، دیانت، انصاف اور بصیرت کو آزماتا ہے۔ اگر قرآن ہر اہم شخصیت کا نام لے دیتا تو انسان کا امتحان ختم ہو جاتا۔ امتحان اس بات کا نہیں کہ انسان ایک واضح نام کو پڑھ لے؛ امتحان اس بات کا ہے کہ وہ دیے گئے معیاروں کی روشنی میں صحیح شخصیت کو پہچان سکے۔

اسی لیے قرآن کلیات دیتا ہے، جزئیات نہیں۔ اصول دیتا ہے، فہرستیں نہیں۔ معیار دیتا ہے، نام نہیں۔ یہ طرزِ بیان انسانی عقل کو متحرک کرتا ہے۔ انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ علم، تقویٰ، عدل، بصیرت اور قربتِ نبوی جیسے معیاروں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت کا مسئلہ محض تاریخی مسئلہ نہیں بلکہ عقل و وجدان کا امتحان بھی بن جاتا ہے۔

قرآن چونکہ کلیات دیتا ہے جزئیات نہیں دیتا اس لئے اشخاص کے بجائے اصول دیتا ہے، اور ناموں کے بجائے معیار دیتا ہے۔ قرآن نے نماز کا حکم دیا لیکن رکعتوں کی تعداد تفصیل سے بیان نہیں کی۔ قرآن نے زکوٰۃ کا حکم دیا لیکن ہر نصاب کی تفصیلات نہیں دیں۔ قرآن نے حج کا حکم دیا لیکن مناسک کی مکمل عملی ترتیب الگ سے سکھائی گئی۔ اسی طرح قرآن نے قیادت کے اصول بیان کیے، لیکن اس نے ہر تاریخی مرحلے کے لیے تفصیلی ناموں کی فہرست پیش نہیں کی۔

اس کی ایک گہری حکمت انسانی عقل کی آزمائش ہے۔ اگر قرآن ہر مسئلے میں صرف نام دے دیتا اور انسان کو معیاروں پر غور کرنے کی ضرورت نہ رہتی تو عقل، تدبر، بصیرت اور اخلاقی ذمہ داری کا بڑا حصہ ختم ہو جاتا۔ قرآن انسان کو محض تابع نہیں بنانا چاہتا بلکہ اسے غور و فکر کرنے والا، حقائق کا وزن کرنے والا اور معیاروں کی روشنی میں فیصلہ کرنے والا انسان بنانا چاہتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار “أفلا تعقلون”، “أفلا يتدبرون” اور “لقوم يعقلون” جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ گویا قرآن انسان سے صرف اطاعت نہیں چاہتا بلکہ شعوری اطاعت چاہتا ہے۔ ایسی اطاعت جو عقل، فہم اور بصیرت کے بعد وجود میں آئے۔

اگر کوئی شخص قرآن کو اس زاویے سے پڑھے تو اس کے سامنے اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ اکثریت نے کس کو منتخب کیا، بلکہ یہ سوال بن جاتا ہے کہ قرآن کے بیان کردہ معیاروں پر سب سے زیادہ پورا کون اترتا تھا۔ اگر کوئی شخص اس سوال کا جواب حضرت علیؑ میں دیکھتا ہے تو وہ شیعہ نتیجے کی طرف مائل ہوگا۔ اگر کوئی شخص شوریٰ اور صحابہ کے اجتماعی فیصلے کو زیادہ اہم سمجھتا ہے تو وہ سنی نتیجے کی طرف جائے گا۔

لیکن محض قرآنی معیاروں کے تجزیے کی سطح پر دیکھا جائے تو علم، فضیلت، عدل اور الٰہی انتخاب پر مبنی تصورِ قیادت قرآن کے مزاج کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے، جبکہ انتخابی و شورائی تصور بعد کے سیاسی نظم و نسق کی ایک تعبیر کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخِ اسلام کا یہ سوال آج بھی محض ایک تاریخی بحث نہیں بلکہ قرآن، عقل، قیادت اور انسانی ذمہ داری کے باہمی تعلق پر ایک زندہ فکری مکالمہ ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو قیادت کا مسئلہ بھی ایک آزمائش بن جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں رہتا کہ قرآن نے کس کا نام لیا، بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ قرآن نے جو معیار دیے ہیں ان پر کون سب سے زیادہ پورا اترتا ہے۔ اگر معیار علم ہے تو سب سے زیادہ عالم کون ہے؟ اگر معیار عدل ہے تو سب سے زیادہ عادل کون ہے؟ اگر معیار تقویٰ ہے تو سب سے زیادہ متقی کون ہے؟ اگر معیار دینی بصیرت ہے تو سب سے زیادہ بصیرت رکھنے والا کون ہے؟ اگر معیار قربتِ نبوی اور تعلیمِ نبوی سے استفادہ ہے تو اس معیار پر سب سے زیادہ بلند کون ہے؟

تاہم ایک بات واضح ہے کہ قرآن کا مزاج شخصیات پرستی نہیں بلکہ معیار پرستی ہے۔ قرآن انسانوں کو ناموں کے سحر میں گرفتار نہیں کرتا بلکہ انہیں اصولوں کے ترازو تھماتا ہے اور کہتا ہے کہ اب ان ترازوؤں میں اشخاص کو پرکھو۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی روشنی میں اصل سوال “کون؟” سے پہلے “کیسا؟” کا ہے۔ جب “کیسا” کا جواب مل جائے تو “کون” کا جواب بھی اسی کے اندر پوشیدہ ہوتا ہے۔

اس اعتبار سے قیادت کا قرآنی فلسفہ دراصل عقل، اخلاق اور بصیرت کی آزمائش ہے۔ قرآن انسان کو معیار دیتا ہے، پھر اسے آزاد چھوڑتا ہے کہ وہ ان معیاروں کی روشنی میں حق کو پہچانے۔ یہی آزادی امتحان ہے، یہی امتحان انسان کی ذمہ داری ہے، اور یہی ذمہ داری اس کے فکری اور روحانی مقام کا تعین کرتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3070

ٹیگز

تبصرے