4

تنقید سے پہلے مطالعہ، اور رائے سے پہلے تحقیق

  • نیوز کوڈ : 3073
  • 10 June 2026 - 2:46
تنقید سے پہلے مطالعہ، اور رائے سے پہلے تحقیق

تنقید سے پہلے مطالعہ، اور رائے سے پہلے تحقیق

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

انسانی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ لوگ اکثر کسی شخص، نظریے، کتاب، مذہب، تحریک یا علمی مکتبِ فکر کے بارے میں براہِ راست مطالعہ کیے بغیر رائے قائم کر لیتے ہیں۔ کبھی یہ رائے سنی سنائی باتوں پر مبنی ہوتی ہے، کبھی مخالفین کے بیانات پر، کبھی جذباتی پروپیگنڈے پر، اور آج کے دور میں اکثر سوشل میڈیا کی مختصر ویڈیوز، پوسٹس اور غیر مصدقہ معلومات پر۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان حقیقت تک پہنچنے کے بجائے تعصبات، غلط فہمیوں اور سطحی معلومات کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے ایک آفاقی اور دائمی اصول یہ ہے کہ تنقید سے پہلے مطالعہ اور رائے سے پہلے تحقیق ضروری ہے۔

قرآنِ مجید انسان کو بار بار یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ کسی خبر، دعوے یا الزام کو بغیر تحقیق کے قبول نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے۔”

(الحجرات: 6)

یہ آیت صرف دینی معاملات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے کے لیے ایک بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔ جب کسی شخص، نظریے یا واقعے کے بارے میں خبر ملے تو سب سے پہلے تحقیق کی جائے، اصل ماخذ تک پہنچا جائے اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔ بغیر تحقیق کے فیصلہ کرنا قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے۔

اسی طرح قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

“اور جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو، بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”

(بنی اسرائیل: 36)

اس آیت میں انسان کو علم کے بغیر گفتگو کرنے، رائے دینے اور فیصلے صادر کرنے سے روکا گیا ہے۔ یہ دراصل فکری دیانت داری کا سبق ہے۔ جو بات معلوم نہ ہو، جس کا مطالعہ نہ کیا ہو، جس کی تحقیق نہ کی ہو، اس کے بارے میں قطعی رائے قائم کرنا نہ صرف علمی بددیانتی ہے بلکہ دینی اعتبار سے بھی جواب دہی کا سبب بن سکتا ہے۔

موجودہ دور میں یہ مسئلہ پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہو چکا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی کو آسان ضرور بنا دیا ہے، لیکن ساتھ ہی غلط معلومات، ادھورے اقتباسات، سیاق و سباق سے ہٹائی گئی عبارتوں اور جذباتی پروپیگنڈے کی بھرمار بھی پیدا کر دی ہے۔ بہت سے لوگ چند منٹ کی ویڈیو دیکھ کر، ایک پوسٹ پڑھ کر یا چند اقتباسات سن کر خود کو کسی بڑے علمی مسئلے کا ماہر سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ علم کا راستہ صبر، مطالعہ، تحقیق، تنقیدی فہم اور علمی دیانت کا تقاضا کرتا ہے۔

قرآن مجید ایسے رویے کی مذمت کرتے ہوئے فرماتا ہے:

“بلکہ انہوں نے اس چیز کو جھٹلا دیا جس کے علم کا احاطہ وہ نہ کر سکے۔”

(یونس: 39)

یعنی بعض لوگ کسی بات کو اس لیے رد کر دیتے ہیں کہ انہوں نے اسے سمجھنے کی محنت ہی نہیں کی۔ یہ انسانی کمزوری آج بھی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ بہت سے لوگ کسی مفکر، عالم، فلسفی، سائنس دان یا مکتبِ فکر کے بارے میں اصل مصادر پڑھے بغیر صرف دوسروں کی آراء کی بنیاد پر فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔

اسلامی روایت میں علم کا مقام بہت بلند ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقرأ” یعنی “پڑھو” کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلام جذبات، افواہوں اور اندھی تقلید کے بجائے علم، فہم اور تحقیق کی بنیاد پر سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ مسلمان علماء نے صدیوں تک اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے مختلف نظریات کا براہِ راست مطالعہ کیا، مخالف آراء کو سمجھا، ان کا منصفانہ تجزیہ کیا اور پھر علمی تنقید پیش کی۔ یہی علمی دیانت کا راستہ ہے۔

کسی بھی شخص یا نظریے کے بارے میں انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے اس کے اصل الفاظ، اصل کتابوں، اصل دلائل اور اصل موقف کو سمجھا جائے۔ اگر اختلاف ہو تو دلیل کے ساتھ کیا جائے، اگر تنقید کی جائے تو انصاف کے ساتھ کی جائے، اور اگر رد کیا جائے تو علم کی بنیاد پر کیا جائے۔ قرآن کریم عدل و انصاف کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے:

“اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”

(المائدہ: 8)

یہ اصول صرف مذہبی اختلافات ہی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی، سائنسی اور فکری اختلافات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے پسندیدہ اور ناپسندیدہ دونوں افراد و نظریات کو ایک ہی معیار سے پرکھے۔

بغیر تحقیق کے رائے قائم کرنے کا نقصان صرف علمی گمراہی تک محدود نہیں رہتا بلکہ عملی زندگی میں بھی انسان کو ناکامی کی طرف لے جاتا ہے۔ غلط معلومات غلط فیصلوں کو جنم دیتی ہیں، غلط فیصلے غلط نتائج پیدا کرتے ہیں، اور پھر انسان اپنی دنیاوی زندگی میں بھی نقصان اٹھاتا ہے۔ کاروبار، تعلیم، سیاست، معاشرت اور مذہب، ہر شعبے میں کامیابی کا دارومدار صحیح معلومات اور درست فہم پر ہے۔ جو شخص تحقیق کے بجائے افواہوں اور سطحی معلومات پر اعتماد کرتا ہے، وہ اکثر حقیقت سے دور ہو جاتا ہے۔

آخرت کے اعتبار سے معاملہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اگر انسان بغیر علم کے کسی پر جھوٹا الزام لگائے، کسی حق بات کو رد کرے، کسی صالح شخص کی کردار کشی کرے یا کسی گمراہ کن بات کو سچ سمجھ کر آگے پھیلائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوگا۔ اسی لیے قرآن بار بار تدبر، تفکر، تعقل اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے۔

حقیقی علم انسان میں عاجزی پیدا کرتا ہے، جبکہ سطحی علم اکثر غرور پیدا کرتا ہے۔ جتنا بڑا عالم ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ اپنی محدودیت کا اعتراف کرتا ہے، اور جتنا کم علم ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ انسان خود کو سب کچھ جاننے والا سمجھنے لگتا ہے۔ اس لیے ایک سنجیدہ طالبِ علم کا راستہ یہ ہے کہ وہ جلد بازی میں فیصلے نہ کرے، ہر دعوے کو پرکھے، اصل ماخذ تک پہنچے، مختلف آراء کا مطالعہ کرے اور پھر انصاف کے ساتھ نتیجہ اخذ کرے۔

چنانچہ ہر دور، ہر موضوع، ہر کتاب اور ہر مفکر کے بارے میں یہی اصول ہونا چاہیے کہ سنی سنائی باتوں پر یقین نہ کیا جائے، بلکہ تحقیق، مطالعہ اور علمی دیانت کو اختیار کیا جائے۔ یہی قرآن کا راستہ ہے، یہی انصاف کا تقاضا ہے، یہی دنیاوی کامیابی کا ذریعہ ہے اور یہی آخرت میں نجات اور سرخروئی کا راستہ بھی ہے۔

حوالہ جات :

القرآن الکریم۔

ابن کثیر، ا. ب. ع. (1999). تفسیر القرآن العظیم. دار طیبہ۔

طبری، م. ب. ج. (2001). جامع البیان عن تأویل آی القرآن. مؤسسۃ الرسالہ۔

قرطبی، م. ب. ا. (2006). الجامع لأحکام القرآن. مؤسسۃ الرسالہ۔

غزالی، ا. ح. م. (2004). احیاء علوم الدین. دار المنہاج

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3073

ٹیگز

تبصرے