9

*موجودہ دنیا کے درمیان مثالی عمل*

  • نیوز کوڈ : 3057
  • 08 June 2026 - 22:30
*موجودہ دنیا کے درمیان مثالی عمل*

*موجودہ دنیا کے درمیان مثالی عمل*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

انسانی فکر کے بڑے بحرانوں میں سے ایک بحران یہ ہے کہ وہ ایک طرف “کیا ہے” کی دنیا میں جیتا ہے اور دوسری طرف “کیا ہونا چاہیے” کی دنیا میں سوچتا ہے۔ حقیقت اس کے سامنے موجود ہوتی ہے، مگر اس کا دل مثالیت کی طرف کھنچتا ہے۔ وہ ظلم دیکھتا ہے مگر عدل چاہتا ہے، کمزوریاں دیکھتا ہے مگر کمال کا آرزو مند ہوتا ہے، مفادات کی سیاست کو دیکھتا ہے مگر حق کی حکمرانی کا خواہاں رہتا ہے۔ اکثر اوقات انسان ان دونوں جہانوں کے درمیان توازن پیدا کر لیتا ہے، لیکن بعض مواقع پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حقیقت اور مثالیت کے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ ان میں کوئی مصالحت ممکن نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان فکری، نفسیاتی اور عملی بحران کا شکار ہونے لگتا ہے۔

اس مرحلے پر سب سے پہلی غلطی یہ ہوتی ہے کہ انسان دونوں میں سے کسی ایک کو مکمل طور پر رد کر دیتا ہے۔ کچھ لوگ حقیقت کی شدت سے متاثر ہو کر مثالیت کو خیالی اور غیر عملی قرار دے دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا ایسی ہی ہے، لوگ ایسے ہی ہیں، سیاست ایسی ہی ہے، لہٰذا حق، عدل اور اخلاقیات کی باتیں محض کتابی تصورات ہیں۔ دوسری طرف کچھ لوگ مثالیت سے اس قدر وابستہ ہو جاتے ہیں کہ وہ حقیقت کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک جو کچھ موجود ہے وہ سراسر باطل ہے اور جب تک کامل مطلوب حاصل نہ ہو، ہر چیز ناکامی ہے۔ دونوں رویے انتہاپسندی کی صورتیں ہیں اور دونوں انسان کو حقیقت سے دور لے جاتے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان مثالیت کو منزل کے بجائے موجودہ حالت سمجھنے لگتا ہے۔ “کیا ہونا چاہیے” دراصل ایک سمت، ایک قطب نما اور ایک معیار ہے، نہ کہ ضروری طور پر موجودہ حقیقت۔ اگر کوئی شخص ستارے کو منزل سمجھ کر چلنے لگے تو وہ کبھی منزل تک نہیں پہنچے گا، لیکن اگر ستارے کو سمت متعین کرنے کا ذریعہ سمجھے تو وہ درست راستے پر آگے بڑھ سکتا ہے۔ مثالیت بھی اسی طرح ایک رہنما اصول ہے۔ اس کا کام ہمیں راستہ دکھانا ہے، نہ کہ یہ ثابت کرنا کہ ہم ابھی اسی مقام پر موجود ہیں۔

جب توازن ممکن نہ لگے تو انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ تاریخ میں تقریباً تمام عظیم تبدیلیاں اسی کشمکش سے پیدا ہوئی ہیں۔ اگر انبیاء علیہم السلام صرف “کیا ہے” کو قبول کر لیتے تو کبھی دعوتِ حق نہ دیتے۔ اور اگر وہ “کیا ہونا چاہیے” کے فوری حصول پر اصرار کرتے تو شاید دعوت کے ابتدائی مراحل ہی میں سب کچھ ختم ہو جاتا۔ انبیاء کی سیرت میں ایک عجیب امتزاج ملتا ہے۔ مقصد ہمیشہ مثالیت تھا، مگر طریقۂ کار ہمیشہ حقیقت پسندانہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ معاشرے ایک دن میں نہیں بدلتے، انسان ایک لمحے میں کامل نہیں بنتا، اور حق کا غلبہ تدریج کے مراحل سے گزرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات حقیقت اور مثالیت میں توازن پیدا کرنے کے بجائے ان دونوں کے درمیان “صبر” کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ صبر کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں بلکہ اس حقیقت کو قبول کرنا ہے کہ بعض فاصلوں کو ایک ہی چھلانگ میں طے نہیں کیا جا سکتا۔ بعض راستے ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان کو سالہا سال بلکہ نسلوں تک کام کرنا پڑتا ہے۔ درخت لگانے والا جانتا ہے کہ وہ کل سایہ نہیں دے گا، لیکن وہ پھر بھی درخت لگاتا ہے کیونکہ اس کی نظر صرف حال پر نہیں بلکہ مستقبل پر بھی ہوتی ہے۔

بعض اوقات انسان کو یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ حقیقت اس قدر خراب ہے کہ مثالیت کی طرف ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن لگتا ہے۔ ایسے مواقع پر ایک اور غلطی پیدا ہوتی ہے، جسے “کمال یا کچھ بھی نہیں” کی ذہنیت کہا جا سکتا ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ اگر مکمل عدل قائم نہیں ہو سکتا تو کوئی کوشش بے فائدہ ہے، اگر کامل نظام نہیں آ سکتا تو جزوی اصلاح کی کوئی اہمیت نہیں۔ حالانکہ زندگی اس طرح نہیں چلتی۔ حق اور باطل کے درمیان اکثر معرکے مکمل فتح اور مکمل شکست کے درمیان نہیں ہوتے بلکہ بہتر اور بدتر، زیادہ حق اور کم حق، زیادہ عدل اور کم عدل کے درمیان ہوتے ہیں۔ اگر انسان کامل منزل تک نہ پہنچ سکے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس کی طرف ایک قدم بھی نہ بڑھے۔

فکری پختگی کا ایک اہم نشان یہ ہے کہ انسان بیک وقت دو حقیقتوں کو قبول کر سکے۔ پہلی حقیقت یہ کہ موجودہ دنیا ناقص ہے، اور دوسری حقیقت یہ کہ اسی ناقص دنیا میں حق کے لیے جدوجہد ضروری ہے۔ صرف پہلی حقیقت کو قبول کرنے والا مایوسی میں مبتلا ہو جاتا ہے، اور صرف دوسری حقیقت کو دیکھنے والا خیالی دنیا میں رہنے لگتا ہے۔ حکمت ان دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کا نام ہے۔

شیعہ فکر میں بھی یہی توازن نظر آتا ہے۔ امام حسینؑ کی کربلا “کیا ہونا چاہیے” کا اعلان ہے، جبکہ امام سجادؑ کی خاموش تربیت اور امام جعفر صادقؑ کی علمی جدوجہد “کیا ہے” کے اندر رہ کر کام کرنے کی مثال ہے۔ ایک طرف حق کے معیار سے کبھی دستبرداری نہیں، اور دوسری طرف زمینی حقائق سے آنکھیں بند نہیں کی جاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی مکتب میں قیام بھی ہے اور صبر بھی، احتجاج بھی ہے اور حکمت بھی، مثالیت بھی ہے اور حقیقت پسندی بھی۔

جب انسان کو واقعی ایسا محسوس ہو کہ مثالیت اور حقیقت میں توازن ممکن نہیں رہا، تو اسے فیصلہ یہ نہیں کرنا چاہیے کہ ان میں سے کون سی چیز ترک کرنی ہے، بلکہ یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ فی الحال کس چیز کو مقصد اور کس چیز کو نقطۂ آغاز بنانا ہے۔ مقصد ہمیشہ “کیا ہونا چاہیے” رہے، لیکن آغاز “کیا ہے” سے ہو۔ جو شخص مقصد کو چھوڑ دیتا ہے وہ بھٹک جاتا ہے، اور جو نقطۂ آغاز کو نظر انداز کرتا ہے وہ خیالات کی دنیا میں گم ہو جاتا ہے۔

آخرکار انسان کو یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ زندگی کا کمال شاید اس بات میں نہیں کہ مثالیت اور حقیقت مکمل طور پر ایک ہو جائیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ انسان حقیقت کی دھول میں چلتے ہوئے مثالیت کے افق کو نگاہ سے اوجھل نہ ہونے دے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس میں مایوسی پیدا نہیں ہوتی، جذباتیت غالب نہیں آتی، اور انسان ایک طویل، صبر آزما مگر بامعنی سفر جاری رکھ سکتا ہے۔ شاید یہی حکمت ہے کہ کامل حق کا ظہور آخری منزل کے طور پر رکھا گیا، جبکہ اس کے انتظار میں انسانوں کو مسلسل اصلاح، جدوجہد اور تدریجی تعمیر کا مکلف بنایا گیا۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3057

ٹیگز

تبصرے