5

*مسلمان، مسلم غدار اور دین کے دشمن*

  • نیوز کوڈ : 3048
  • 08 June 2026 - 22:21
*مسلمان، مسلم غدار اور دین کے دشمن*

*مسلمان، مسلم غدار اور دین کے دشمن*

لاحول ولاقوۃ الاباللہ۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

مکہ کے مشرکین ہوں یا بنوامیہ و بنوعباس، ان سب کے پیچھے ہاتھ فسادی یہودی ٹولے کا ہے، جن کو رسول(ص) و اھلبیت (ع) سے صرف یہ خوف تھا کہ وہ بحکم خدا حکومتوں میں آنے کے بعد ان کے غیر فطری خصوصا معاشی اعمال پر پابندی لگادیں گے، جیسے کہ سود، ذخیرہ اندوزی، ناجائز اجارہ داری، مالی استحصال اور دولت کے غیر منصفانہ ارتکاز وغیرہ۔ اسی وجہ سے ان فسادی یہودیوں نے مشرکین اور دیگر قبیلوں کو رسول (ص) و اھلبیت (ع) کے خلاف پراکسی بنا کر رکھا اور ان مقدس ہستیوں کو شہید کروایا تاکہ ان کے اسلامی احکام کے خلاف یہ سب معاشی مفادات، سودی معاملات، تجارتی اجارہ داریوں، مالی استحصال اور بازاروں پر غیر معمولی کنٹرول برقرار رہے۔ لہذا اصل دشمن یہودیوں میں موجود وہ فسادی ٹولہ ہے جن کے حرام کے مفادات پر ان مقدس ہستیوں کے وجود سے ضرب لگتی ہے، جبکہ امت کے اندر پائی جانے والی غداریاں زیادہ تر دنیا پرستی، لالچ، جہالت اور اقتدار طلبی کا نتیجہ تھیں۔ آج بھی جدید دور میں ماضی کے فسادی یہودیوں نے صہیونیت کی شکل میں نائبین و پیروانِ اھلبیت (ع) سے دشمنی اور ان کے استحصال کی جو روش جاری رکھی ہوئی ہے وہ اسی تاریخی گمراہیوں کا تسلسل ہے جس کو قرآن نے واضح بیان کیا ہے۔ بنی اسرائیل میں موجود جہلا و باغی ٹولے نے دنیا کو فطرت سے ہٹانے اور خدا سے جنگ کے اعمال میں جھونک رکھا ہے اور ناجائز معاشی طاقت کے بنیادی ہدف کے تحت انسانی معاشرے کے تمام شعبہ جات کو برباد کررہا ہے جس میں سب سے واضح تعلیم و تربیت، ثقافت و تہذیب ہیں اور پھر سیاست اور دیگر شعبہ جات ہیں۔ لہذا دنیا کے تمام وہ افراد خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، جو عالمی یا مقامی ناانصافیوں اور جبر سے مغلوب کیے جارہے ہیں، کو اپنی کمزوریاں دور کرکے، متحد ہوکر، قدم سے قدم ملا کر ان فسادی بنی اسرائیلیوں اور ان کے مسلم و غیر مسلم پٹھووں کے خلاف کھڑے رہنے کی ضرورت ہے جو انسانوں کو کنٹرول کرنے اور ان پر مسلط ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں، ان فسادی ٹولوں میں شیطان حلول کرچکا ہے اور شیاطین سے مقابلہ کیلئے ویسی ہی روحانی و مادّی طاقت بھی چاہیے۔ جس کمزوریوں سےہمیں بچنا ہے وہ کمزوریاں یہی ہیں جن کو دین اسلام نے حرام، مکروہ قرار دیا ہے یا پھر مسلمان کی شان کے خلاف سجھا ہے۔ اور طاقت کے ذرائع اور اسباب وہی ہیں جن کو اسلام نے مسلمانوں کی شان، واجب و فرض و مستحب و سنت قرار دیا ہے۔ ان سب سے میں سب سے اولیت اخلاص ہے، دشمن شناسی ہے، تعلیم ہے، قانع کنندہ معیشت ہے، ثقافت و تہذیب ہے۔ منافقوں سے اور تقیہ کیے ہوئے غیر مسلموں سے باخبر رہنے کی بھی ضرورت ہے۔ منافق مسلمانوں کے بھیس میں یہودی دشمن کا ایجنٹ ہے جب کہ تقیہ کیا ہوا بظاہر غیر مسلم خدا کا پسندیدہ ہے۔ ان مجاہدین کی تو کیا ہی بات ہے جو جرات، ہمت و طاقت کے ساتھ میدان میں موجود ہیں اور دشمن کی سازشوں کےخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ یقینا ہر شخص و قبیلہ ایک جیسا نہیں ہوتا لہذا جس کا جیسے بھی ممکن ہے اپنی طاقت و ہمت کے ساتھ خلوص سے عمل کرنا ضروری ہے خواہ وہ چھوٹا سا بائیکاٹ ہو یا دو رکعت نماز استغاثہ ہو۔ یہ دنیا ایک امتحان و آزمائش کی جگہ ہے اور ہر انسان کو سمجھنے کی ضرورت ہے جہاں وضاحت موجود نہیں تو خود سے سمجھنے کی کوشش کرنا اسی فکری آزمائش و امتحان کا مرحلہ ہے۔ خدا کیلئے یا معصومین ؑ و اولیاء کیلئے ممکن ہے کہ وہ معجزے سے سب تبدیل کردیں اور دشمن کا نابود کردیں مگر خود ان ہستیوں کا وجود انسانوں کیلئے آزمائش ہے، وہ ایسا نہیں کرتے تاکہ جنت و جہنم کیلئے انسانوں کی فردی اور اجتماعی آزمائش و امتحان گاہ کو برقرار رکھا جائے۔ اللہ ھو الصمد کیلئے سب کچھ ممکن ہے مگر چونکہ وہ امتحان لیتا ہے تاکہ دوسری مخلوقات پر بھی حجت تمام ہوجائے اور خود انسانوں کی بھی چھپی صلاحیتیں ظاہر ہوں تو یہ آزمائش ضروری ہے۔ لہذا “لا الہ” سے “الا اللہ” تک کا یہ سفر ایک لذت بخش سفر ہے جس سے صرف مخلص ہی فرحت محسوس کرتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3048

ٹیگز

تبصرے