3

*خاموش نفسیات کی آوازیں*

  • نیوز کوڈ : 3060
  • 08 June 2026 - 22:33
*خاموش نفسیات کی آوازیں*

*خاموش نفسیات کی آوازیں*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

یہ تحریر کسی باقاعدہ ماہرِ نفسیات کی تحقیقی رپورٹ کے طور پر نہیں لکھی گئی، بلکہ یہ میرے مشاہدات، فکری مطالعے اور محدود تجربات کا نتیجہ ہے۔ مختلف افراد کے ساتھ مکالمے، ذاتی مشاہدات اور عمومی نفسیاتی مباحث پر غور و فکر نے مل کر اس مضمون کی تشکیل میں کردار ادا کیا ہے۔ اس کا مقصد کسی حتمی علمی دعوے کو پیش کرنا نہیں بلکہ انسانی رویوں اور نفسیاتی رجحانات پر ایک فکری زاویۂ نظر کو سامنے لانا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسانی نفسیات کی دنیا میں سب سے پیچیدہ سوال یہ رہا ہے کہ انسان اپنی اصل ضروریات کو کس انداز میں سمجھتا اور برتتا ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ انسان اپنی ہر خواہش کو براہِ راست پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن گہرے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ انسان صرف جسمانی ضروریات کا مجموعہ نہیں بلکہ جذبات، یادوں، خوف، امیدوں اور معنی کی تلاش پر مشتمل ایک زندہ نظام ہے۔

جدید نفسیات نے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ انسان کی خواہشات اکثر اپنے ظاہری رخ سے مختلف باطنی محرکات کی پیداوار ہوتی ہیں۔ بعض اوقات انسان اپنی کسی اندرونی کمی کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے مختلف سرگرمیوں میں چھپا دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی رویوں کی حقیقی سمجھ شروع ہوتی ہے۔

اس تناظر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مصروفیت ہمیشہ ترقی یا کامیابی کی علامت نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات یہ ایک نفسیاتی پردہ بھی ہو سکتی ہے جو انسان کو اس کے اندرونی خلا سے دور رکھتا ہے۔ اسی نکتے کو سمجھنے کے لیے یہ تفصیلی مطالعہ پیش کیا جا رہا ہے۔

نفسیات میں ایک نہایت دلچسپ اور گہرا مشاہدہ یہ سامنے آیا ہے کہ انسان ہمیشہ اپنی نفسیاتی ضروریات کو براہِ راست پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ بعض اوقات وہ ان ضروریات کو اتنا تکلیف دہ، کمزور کرنے والا یا خطرناک سمجھنے لگتا ہے کہ ان کا سامنا کرنے کے بجائے خود کو دوسری سرگرمیوں میں غرق کردیتا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ بہت مصروف، کامیاب، علم دوست، محنتی یا مقصدی انسان ہے، لیکن بعض صورتوں میں یہ مصروفیت دراصل ایک نفسیاتی دفاع (Psychological Defense) بن جاتی ہے، جس کا مقصد کسی اندرونی خلا، درد، خوف یا محرومی کا سامنا کرنے سے بچنا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک شخص کو محبت، تعلق، اپنائیت اور جذباتی قربت کی شدید ضرورت ہوسکتی ہے، لیکن چونکہ وہ ماضی میں کسی دھوکے، ردّ کیے جانے یا جذباتی صدمے کا شکار رہا ہو، اس لیے وہ اپنے آپ کو مسلسل تعلیم، تحقیق اور مطالعے میں مصروف رکھتا ہے۔ بظاہر وہ علم کا متلاشی دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے اندر کہیں ایک خوف چھپا ہوتا ہے کہ اگر وہ رکا تو اسے اپنی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چنانچہ کتابیں اس کے لیے صرف علم کا ذریعہ نہیں رہتیں بلکہ ایک نفسیاتی پناہ گاہ بن جاتی ہیں۔

اسی طرح بعض لوگ مسلسل کام کرتے رہتے ہیں۔ وہ صبح سے رات تک مصروف رہتے ہیں، نئی ذمہ داریاں لیتے ہیں، نئے منصوبے بناتے ہیں اور خود کو آرام کا موقع نہیں دیتے۔ معاشرہ عموماً ایسے لوگوں کو بہت کامیاب سمجھتا ہے، لیکن نفسیاتی اعتبار سے بعض اوقات یہ “Workaholism” یعنی کام کی لت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ ایسے افراد جب تنہا بیٹھتے ہیں تو انہیں اپنے اندر کی بے چینی، اداسی، عدمِ تحفظ یا وجودی سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے وہ مسلسل مصروف رہ کر ان احساسات کو دبائے رکھتے ہیں۔

بعض لوگ سماجی سرگرمیوں میں خود کو غرق کردیتے ہیں۔ وہ ہر محفل میں موجود ہوتے ہیں، ہر تقریب میں شریک ہوتے ہیں، ہر وقت دوستوں کے درمیان رہتے ہیں۔ باہر سے دیکھنے پر وہ انتہائی خوش مزاج اور سماجی معلوم ہوتے ہیں، لیکن بعض اوقات اس مسلسل میل جول کے پیچھے تنہائی کا شدید خوف موجود ہوتا ہے۔ وہ اکیلے رہنا نہیں چاہتے کیونکہ تنہائی انہیں اپنے باطن سے ملوادیتی ہے۔

کچھ افراد مسلسل عبادت یا مذہبی سرگرمیوں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ یہاں احتیاط ضروری ہے کیونکہ عبادت بذاتِ خود ایک مثبت اور بلند عمل ہے، لیکن نفسیات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بعض لوگ روحانی سرگرمیوں کو بھی اپنے نفسیاتی مسائل سے فرار کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے غصے، خوف، احساسِ جرم، تعلقات کے مسائل یا نفسیاتی زخموں کا سامنا کرنے کے بجائے خود کو ایسی مصروفیات میں ڈال دیتے ہیں جن کے ذریعے انہیں وقتی سکون ملتا ہے۔ اس صورت میں مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ صرف پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

آج کے دور میں سوشل میڈیا بھی اسی کردار کو ادا کرسکتا ہے۔ بعض لوگ مسلسل اسکرولنگ کرتے رہتے ہیں، ویڈیوز دیکھتے رہتے ہیں، خبریں پڑھتے رہتے ہیں یا مختلف موضوعات پر بحث کرتے رہتے ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ معلومات حاصل کررہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اپنے ذہن کو اتنا مصروف رکھنا چاہتے ہیں کہ اندر سے اٹھنے والی بے چینی کی آواز سنائی نہ دے۔

نفسیاتی مطالعات یہ بھی بتاتے ہیں کہ انسان جتنا زیادہ کسی داخلی ضرورت کو دبانے کی کوشش کرتا ہے، وہ ضرورت اتنی ہی پیچیدہ شکلوں میں واپس آسکتی ہے۔ محبت کی ضرورت کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو وہ بعض اوقات شدید تنہائی، حسد، غصے یا تعلقات کے غیر متوازن رویوں کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ آرام کی ضرورت کو مسلسل دبایا جائے تو تھکن، چڑچڑاپن اور ذہنی دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ جذبات کے اظہار کی ضرورت کو دبا دیا جائے تو اضطراب، افسردگی یا نفسیاتی تناؤ بڑھ سکتا ہے۔

اسی لیے جدید نفسیات ایک اہم فرق پر زور دیتی ہے: مصروفیت (Engagement) اور فرار (Escape) ایک جیسی چیزیں نہیں ہیں۔ دو افراد ایک ہی کام کررہے ہوسکتے ہیں؛ دونوں مطالعہ کررہے ہوں، دونوں کام کررہے ہوں یا دونوں عبادت کررہے ہوں، لیکن ایک شخص یہ کام اپنی شخصیت کی تعمیر، مقصدیت اور نشوونما کے لیے کررہا ہو، جبکہ دوسرا شخص اسی کام کو اپنے اندر کے درد سے فرار کے لیے استعمال کررہا ہو۔ ظاہری عمل ایک ہی ہے لیکن نفسیاتی حقیقت بالکل مختلف ہے۔

انسان کی نفسیاتی بلوغت اس میں نہیں کہ وہ اپنی ضروریات کو مکمل طور پر خاموش کردے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ انہیں پہچانے، سمجھے اور صحت مند طریقے سے پورا کرے۔ جو شخص اپنی تنہائی کو پہچان لیتا ہے، اپنے خوف کو تسلیم کر لیتا ہے، اپنی محبت کی ضرورت کو سمجھ لیتا ہے اور اپنے وجودی سوالات کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا کر لیتا ہے، وہ مصروفیت کو فرار کے بجائے تعمیر کا ذریعہ بناتا ہے۔ لیکن جو شخص صرف اپنے آپ کو مصروف رکھ کر اندر کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتا ہے، وہ بظاہر بہت فعال نظر آنے کے باوجود اپنے باطن کے اہم ترین مسائل کو حل نہیں کر پاتا۔ بعض اوقات سب سے مشکل کام کچھ کرنا نہیں بلکہ رک کر اپنے آپ کو سننا ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقی نفسیاتی آگہی کا آغاز ہوتا ہے۔

نفسیات کے میدان میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہونے والی تحقیقات نے انسانی ضروریات، خواہشات اور خوشی کے باہمی تعلق کے بارے میں ایک نہایت اہم حقیقت کو آشکار کیا ہے۔ ان مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان صرف ایک حیاتیاتی وجود نہیں بلکہ ایک نفسیاتی، سماجی اور معنوی ہستی بھی ہے۔ اس لیے اس کی بہت سی جسمانی ضروریات کا شدت کے ساتھ محسوس ہونا صرف جسمانی عوامل کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے انسان کی ذہنی، جذباتی اور وجودی کیفیت بھی کارفرما ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید نفسیات میں اب اس بات پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ انسانی رویوں کو محض حیاتیاتی جبلتوں کے ذریعے سمجھنا ناکافی ہے، کیونکہ انسان کی باطنی کیفیت اس کے ظاہری طرزِ زندگی اور خواہشات کی شدت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔

متعدد نفسیاتی تحقیقات میں یہ مشاہدہ سامنے آیا ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی کو بامعنی سمجھتے ہیں، اپنے تعلقات سے مطمئن ہوتے ہیں، اپنی شخصیت کے اظہار کے مواقع رکھتے ہیں اور مجموعی طور پر زندگی سے رضامندی محسوس کرتے ہیں، ان میں مختلف قسم کی جسمانی خواہشات اور فوری تسکین کی طلب نسبتاً متوازن ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جو افراد ذہنی تناؤ، تنہائی، احساسِ محرومی، بے مقصدیت یا وجودی خلا کا شکار ہوتے ہیں، وہ اکثر بیرونی لذتوں اور محرکات کے ذریعے اپنے اندرونی اضطراب کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس عمل کو بعض ماہرینِ نفسیات “Compensatory Behavior” یعنی تلافیاتی رویہ قرار دیتے ہیں، جس میں انسان اپنی کسی اندرونی کمی یا خلا کو کسی دوسرے ذریعے سے بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔

کھانے کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات اس حقیقت کی ایک واضح مثال پیش کرتی ہیں۔ نفسیاتی مطالعات نے ثابت کیا ہے کہ بہت سے لوگ صرف جسمانی بھوک کی وجہ سے نہیں کھاتے بلکہ جذباتی وجوہات کی بنا پر بھی کھاتے ہیں۔ غم، تنہائی، پریشانی، اضطراب، بوریت یا احساسِ ناکامی اکثر لوگوں کو ضرورت سے زیادہ کھانے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ اسی لیے جدید نفسیات میں “Emotional Eating” ایک معروف اصطلاح بن چکی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب انسان کی زندگی میں خوشی، اطمینان اور مثبت مصروفیات بڑھتی ہیں تو جذباتی کھانے کی شرح کم ہوجاتی ہے۔ ایسے افراد غذا کو زندگی کا ایک ضروری حصہ سمجھتے ہیں، لیکن اسے اپنے جذباتی مسائل کے علاج کے طور پر استعمال نہیں کرتے۔

اسی طرح پینے، تفریح اور مختلف لذت آمیز سرگرمیوں کے بارے میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا ہے۔ انسانی دماغ میں موجود انعامی نظام (Reward System) اس بات سے گہرا تعلق رکھتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کو کس حد تک بامقصد اور اطمینان بخش سمجھتا ہے۔ جب انسان اندرونی طور پر مطمئن نہ ہو تو وہ بار بار ایسے محرکات کی تلاش کرتا ہے جو عارضی خوشی فراہم کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد سوشل میڈیا، ویڈیوز، خریداری، کھیل، کھانے یا دیگر سرگرمیوں میں غیر معمولی انہماک اختیار کر لیتے ہیں۔ لیکن جب انسان کو اپنے وجود کی گہرائی میں معنی، تعلق، محبت اور مقصد میسر آجاتا ہے تو یہی سرگرمیاں اپنی فطری حد میں واپس آجاتی ہیں اور ان پر انحصار کم ہونے لگتا ہے۔

جنسی خواہش کے بارے میں بھی جدید نفسیات نے کئی اہم نتائج پیش کیے ہیں۔ اگرچہ جنسی میلان ایک فطری اور حیاتیاتی ضرورت ہے، لیکن اس کی شدت اور اس کے گرد گھومنے والی ذہنی مصروفیت صرف حیاتیاتی عوامل سے متعین نہیں ہوتی۔ متعدد تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جب افراد شدید تنہائی، عدمِ تحفظ، کم خود اعتمادی یا جذباتی محرومی کا شکار ہوتے ہیں تو ان میں جنسی خیالات اور جنسی توجہ کا تناسب بڑھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں کی زندگی میں گہرے انسانی تعلقات، مقصدیت، تخلیقی سرگرمیاں، سماجی وابستگیاں اور نفسیاتی استحکام موجود ہوتا ہے، ان میں جنسی خواہش ایک متوازن انسانی ضرورت کے طور پر موجود رہتی ہے لیکن ان کی پوری شخصیت پر غالب نہیں آتی۔

مثبت نفسیات (Positive Psychology) کے ماہرین نے اس موضوع پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ خوشی کی دو مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ ایک وہ خوشی جو فوری لذتوں سے حاصل ہوتی ہے اور دوسری وہ خوشی جو معنی، مقصد، خدمت، محبت، تعلق اور ذاتی ارتقاء سے حاصل ہوتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دوسری قسم کی خوشی زیادہ پائیدار، گہری اور زندگی کو زیادہ مطمئن بنانے والی ہوتی ہے۔ جب انسان اس سطح کی خوشی حاصل کر لیتا ہے تو وہ فوری لذتوں کے پیچھے کم بھاگتا ہے کیونکہ اس کی نفسیاتی ضروریات پہلے ہی بڑی حد تک پوری ہوچکی ہوتی ہیں۔

بعض مطالعات نے نیند کے بارے میں بھی دلچسپ نتائج پیش کیے ہیں۔ اگرچہ نیند ایک حیاتیاتی ضرورت ہے اور اس کی کمی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے، لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ خوش، مطمئن اور مثبت جذبات رکھنے والے افراد بعض اوقات اپنی نیند کے معیار کے بارے میں زیادہ اطمینان رکھتے ہیں اور نسبتاً کم نیند کے باوجود خود کو بہتر محسوس کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خوشی نیند کی حیاتیاتی ضرورت کو ختم کردیتی ہے، بلکہ یہ کہ مثبت ذہنی کیفیت جسمانی توانائی اور ذہنی تازگی کے احساس کو متاثر کرسکتی ہے۔

ان تمام مطالعات کا مشترکہ نتیجہ یہ ہے کہ انسان کی بہت سی خواہشات کی شدت اس کے باطنی خلا کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ جب انسان کے اندر معنی، مقصد، محبت، تعلق، خود اعتمادی اور نفسیاتی سکون کی کمی ہوتی ہے تو وہ بیرونی لذتوں سے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جب اس کی باطنی دنیا نسبتاً سیراب ہوجاتی ہے تو وہی انسان محسوس کرتا ہے کہ کھانے، پینے، تفریح، جنسی تسکین اور دیگر فوری لذتوں کی طلب پہلے کے مقابلے میں زیادہ متوازن ہوگئی ہے۔

یوں نفسیاتی تحقیق ایک اہم اصول کی طرف اشارہ کرتی ہے: انسان کی حقیقی آسودگی صرف اس کی جسمانی ضروریات پوری ہونے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے وجود کے گہرے نفسیاتی اور معنوی پہلوؤں کی تسکین سے پیدا ہوتی ہے۔ جتنا انسان اپنے وجود کے ان اعلیٰ پہلوؤں سے جڑتا جاتا ہے، اتنا ہی وہ اپنی جسمانی خواہشات کا غلام بننے کے بجائے ان کا شعوری اور متوازن منتظم بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خواہشات ختم نہیں ہوتیں، بلکہ اپنی صحیح جگہ پر آجاتی ہیں۔

ان تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کی شخصیت کو صرف اس کی ظاہری سرگرمیوں سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اصل حقیقت اس کے اندرونی تجربات، غیر محسوس محرومیوں اور چھپے ہوئے خوف میں پوشیدہ ہوتی ہے جو اس کے رویوں کو خاموشی سے تشکیل دیتے رہتے ہیں۔

جب انسان اپنی نفسیاتی ضروریات سے فرار اختیار کرتا ہے تو وہ بظاہر مصروف، فعال اور کامیاب دکھائی دیتا ہے، لیکن اندرونی سطح پر ایک مسلسل کشمکش جاری رہتی ہے جو اس کی مکمل ذہنی آسودگی کو متاثر کرتی ہے۔ حقیقی توازن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی اندرونی دنیا کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے سمجھنے لگے جتنی وہ اپنی بیرونی کامیابیوں کو اہمیت دیتا ہے۔

انسان کی فلاح صرف اس میں نہیں کہ وہ اپنی خواہشات کو دبا دے یا ان سے بھاگ جائے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ انہیں شعور کے ساتھ سمجھے اور صحت مند راستے پر استوار کرے۔ یہی وہ شعوری رویہ ہے جو انسان کو فرار کی نفسیات سے نکال کر خود شناسی کی طرف لے جاتا ہے۔

آخرکار یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان کی اصل ترقی بیرونی مصروفیت میں نہیں بلکہ اندرونی ہم آہنگی میں ہے۔ جب باطن اور ظاہر ایک دوسرے کے ساتھ متوازن ہو جائیں تو انسان نہ صرف زیادہ پرسکون ہو جاتا ہے بلکہ اپنی زندگی کو زیادہ بامعنی اور مربوط انداز میں جینے کے قابل بھی ہو جاتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3060

ٹیگز

تبصرے