5

*اصل مکتب اور اس کے پیروکاروں کی تہہ در تہہ حقیقت*

  • نیوز کوڈ : 3054
  • 08 June 2026 - 22:27
*اصل مکتب اور اس کے پیروکاروں کی تہہ در تہہ حقیقت*

*اصل مکتب اور اس کے پیروکاروں کی تہہ در تہہ حقیقت*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سید جہانزیب عابدی

دنیا کے ہر علمی، فکری، دینی، سیاسی اور تہذیبی مکتب کو اگر ایک پیرامڈ یا تہہ در تہہ عمارت کی صورت میں دیکھا جائے تو اس کے مختلف طبقات سامنے آتے ہیں۔ سب سے اوپر وہ نقطہ ہوتا ہے جہاں اس مکتب کی اصل روح، بنیادی نظریات، حقیقی اصول، معتبر مصادر اور اس کے اعلیٰ ترین نمائندے موجود ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اس مکتب کی فکری خالصیت، علمی گہرائی اور نظریاتی ہم آہنگی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ اس سطح پر مکتب کو اس کے بانیوں، اصل متون، بنیادی نظریات اور ان عظیم شخصیات کے ذریعے سمجھا جاتا ہے جنہوں نے اس فکر کو اپنی زندگیوں میں مجسم کیا ہوتا ہے۔

اس کے بعد ایک دوسرا طبقہ آتا ہے جس میں مکتب کے بڑے علماء، محققین، مفکرین، شارحین اور نظریہ ساز افراد شامل ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اصل اصولوں کو سمجھتے بھی ہیں اور ان کی توضیح و تشریح بھی کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے مکتب کے نظریات زمانے کے سوالات اور چیلنجز کے مطابق بیان ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ طبقہ اصل سرچشمے سے قریب ہوتا ہے لیکن پھر بھی انسانی فہم، تاریخی حالات اور سماجی اثرات کی وجہ سے بعض اوقات اصل فکر کی مختلف تعبیرات سامنے آنے لگتی ہیں۔

اس کے بعد ایک اور وسیع طبقہ ہوتا ہے جو پڑھے لکھے وابستگان، سنجیدہ طلبہ، خطباء، کارکنان اور فکری ہمدردوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ لوگ مکتب سے محبت اور وابستگی رکھتے ہیں لیکن ان کی معرفت اور علمی گہرائی اوپر کے طبقات جتنی نہیں ہوتی۔ یہ زیادہ تر اپنے علماء اور دانشوروں کے ذریعے مکتب کو سمجھتے ہیں۔ یہاں تک پہنچتے پہنچتے اصل فکر کی باریکیاں کچھ حد تک کم ہو جاتی ہیں اور بعض اوقات سادہ فہم تعبیرات غالب آ جاتی ہیں۔

اس کے بعد عوامی سطح شروع ہوتی ہے جہاں اکثریت موجود ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مکتب سے تعلق تو رکھتے ہیں لیکن ان کی وابستگی زیادہ تر ثقافتی، خاندانی، روایتی یا جذباتی نوعیت کی ہوتی ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد نے شاید مکتب کے اصل مصادر کا براہ راست مطالعہ نہیں کیا ہوتا۔ ان کے تصورات سنی سنائی باتوں، مقامی روایات، عوامی خطابات، معاشرتی ماحول اور شخصی تجربات سے تشکیل پاتے ہیں۔ اسی سطح پر بہت سی مقامی رسمیں، تاریخی اثرات، معاشرتی عادات اور غیر متعلق عناصر بھی مکتب کے ساتھ خلط ملط ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

پیرامڈ کے سب سے نچلے حصے میں وہ طبقہ ہوتا ہے جو محض نام، نعرے، جذبات اور سطحی وابستگی کی بنیاد پر مکتب سے منسلک ہوتا ہے۔ یہاں علمی شعور کم سے کم اور جذباتی ردعمل زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس سطح پر اصل تعلیمات سے ناواقفیت، افواہوں پر یقین، تعصبات، گروہی نفسیات اور غیر علمی رویے عام پائے جاتے ہیں۔ اگر اوپر کی سطحوں پر چشمہ صاف اور شفاف تھا تو یہاں پہنچتے پہنچتے اس میں مختلف قسم کی آمیزشیں شامل ہو چکی ہوتی ہیں۔

اس پورے عمل کو ایک پہاڑی چشمے اور دریا کی مثال سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی پر پھوٹنے والا چشمہ انتہائی صاف، شفاف اور خالص ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ مختلف وادیوں، میدانوں، آبادیوں اور راستوں سے گزرتا ہے تو اس میں مٹی، پتے، شاخیں اور دوسری چیزیں شامل ہو جاتی ہیں۔ اگر کوئی شخص دریا کے آخری حصے کا پانی دیکھ کر یہ دعویٰ کر دے کہ چشمہ بھی ایسا ہی تھا تو یہ علمی دیانت کے خلاف ہوگا۔ چشمے کو سمجھنے کے لیے چشمے تک جانا ضروری ہے، نہ کہ صرف دریا کے آخری کنارے پر کھڑے ہو کر فیصلہ صادر کر دینا۔

بدقسمتی سے مختلف مذاہب، مسالک، فلسفوں، سیاسی نظریات اور فکری مکاتب کے بارے میں ہونے والی اکثر تنقید اسی بنیادی غلطی کا شکار ہوتی ہے۔ ناقدین کی ایک بڑی تعداد اصل مکتب کا مطالعہ نہیں کرتی، اس کے بنیادی مصادر نہیں پڑھتی، اس کے حقیقی نمائندوں سے رابطہ نہیں کرتی، اس کے سنجیدہ علماء اور مفکرین کے افکار کو نہیں سمجھتی، بلکہ وہ سب سے نچلی سطح کے بعض افراد کے اقوال، رویوں، نعروں یا غلطیوں کو پورے مکتب کی نمائندگی سمجھ لیتی ہے۔ پھر انہی مشاہدات کی بنیاد پر پورے مکتب کے خلاف فیصلے صادر کر دیے جاتے ہیں۔

یہ رویہ صرف بین المذاہب تعلقات تک محدود نہیں بلکہ ایک ہی مذہب، ایک ہی مسلک اور ایک ہی فکری روایت کے اندر بھی پایا جاتا ہے۔ ایک گروہ دوسرے گروہ کے چند غیر سنجیدہ افراد کو دیکھ کر پورے مکتب پر حکم لگا دیتا ہے۔ بعض لوگ کسی عالم کے بجائے کسی جذباتی مقرر کو معیار بنا لیتے ہیں، کسی مستند کتاب کے بجائے سوشل میڈیا کی پوسٹ کو اصل نظریہ سمجھ لیتے ہیں، یا کسی عام فرد کے عمل کو پورے مکتب کی تعلیم قرار دے دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حقیقت پس منظر میں چلی جاتی ہے اور تعصبات، غلط فہمیاں اور باہمی نفرتیں فروغ پانے لگتی ہیں۔

علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی مکتب کو اس کے بہترین نمائندوں، معتبر مصادر، بنیادی متون اور اعلیٰ ترین علمی سطح کی روشنی میں سمجھا جائے۔ اگر کسی فلسفے کو جاننا ہو تو اس کے اصل فلسفیوں کو پڑھا جائے۔ اگر کسی مذہب کو سمجھنا ہو تو اس کے مستند نصوص اور بڑے علماء کا مطالعہ کیا جائے۔ اگر کسی مسلک کا جائزہ لینا ہو تو اس کے اصل نظریاتی ڈھانچے کو سمجھا جائے۔ اس کے بعد اگر کوئی علمی اشکال، منطقی کمزوری یا فکری اعتراض سامنے آتا ہے تو اس پر سنجیدہ بحث کی جا سکتی ہے۔

درحقیقت کسی مکتب کی حقیقی جانچ اس کے نچلے ترین نمائندوں سے نہیں بلکہ اس کے اعلیٰ ترین نظریاتی نمونوں سے ہونی چاہیے۔ جس طرح کسی قوم کی تہذیب کا معیار اس کے بہترین مفکرین اور تخلیقات سے سمجھا جاتا ہے، نہ کہ اس کے ہر فرد کے رویے سے، اسی طرح کسی مکتب کی حقیقت بھی اس کے اصل جوہر، بنیادی اصولوں اور اعلیٰ ترین نمائندوں سے سمجھی جانی چاہیے۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے، یہی علمی دیانت کا راستہ ہے اور یہی وہ طریقہ ہے جو انسان کو تعصب کے بجائے حقیقت تک پہنچا سکتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3054

ٹیگز

تبصرے