3

*مکی شعور اور طاغوتی تعلیم*

  • نیوز کوڈ : 2991
  • 24 May 2026 - 18:13
*مکی شعور اور طاغوتی تعلیم*

*مکی شعور اور طاغوتی تعلیم*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

مومنین کی تاریخ میں جب بھی حق کے غلبے، اقامتِ دین، اور طاغوت شکن انقلاب کی تمہید کے لیے کسی سنجیدہ جدوجہد کا آغاز ہوا، اس نے سب سے پہلے انسان سازی، شعور سازی اور تعلیم و تربیت کے میدان کی طرف رخ کیا۔ یہی وہ مرحلہ ہے جسے سیرتِ نبویؐ میں “مکی مرحلہ” کہا جاتا ہے۔ مکہ کا دور دراصل صرف چند عقائد کی تبلیغ یا چند عبادات کی تعلیم کا نام نہیں تھا بلکہ ایک مکمل فکری، روحانی، تہذیبی اور شعوری انقلاب کی بنیاد تھا۔ اس مرحلے میں رسولِ اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسی جماعت تیار کی جو صرف مذہبی افراد کا مجموعہ نہ تھی بلکہ ایک نئی انسانی و تمدنی شعور کی حامل امت تھی۔ ان افراد کی فکر، ترجیحات، محبتیں، خوف، امیدیں، معاشرتی زاویۂ نگاہ، اقتصادی تصور، سیاسی شعور اور تہذیبی شناخت سب کچھ جاہلی نظام سے کٹ کر وحی کے تابع ہوچکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ میں اسلامی حکومت کا قیام اچانک رونما ہونے والا کوئی سیاسی حادثہ نہیں تھا بلکہ مکی مرحلے کی طویل فکری و تربیتی جدوجہد کا منطقی نتیجہ تھا۔

آج بھی جو مومنین اقامتِ حق اور حکومتِ الٰہیہ کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی خواہش رکھتے ہیں، وہ فطری طور پر تعلیم و تربیت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، کیونکہ بغیر انسان سازی کے نہ انقلاب آتا ہے اور نہ کوئی الٰہی نظام قائم ہوسکتا ہے۔ لیکن یہاں ایک نہایت اہم اور خطرناک مسئلہ جنم لیتا ہے، اور وہ یہ کہ بہت سے اہلِ ایمان تعلیم و تربیت کی ضرورت کو تو محسوس کرتے ہیں مگر خود تعلیم کے فلسفے، نظام، منابع، مناہج، نفسیات، تہذیبی مقاصد اور استعماری اثرات کے بارے میں گہری بصیرت نہیں رکھتے۔ نتیجتاً ان کی جدوجہد رفتہ رفتہ اسی طاغوتی اور استعماری تعلیمی نظام کے زیرِ اثر آجاتی ہے جس کے خلاف وہ ظاہراً کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔

استعماری طاقتوں نے ہمیشہ یہ حقیقت سمجھی ہے کہ اگر کسی قوم کی فکر، تاریخ، زبان، ترجیحات، علمی معیارات اور تہذیبی شعور پر قبضہ کرلیا جائے تو پھر اس قوم پر سیاسی و معاشی غلبہ قائم رکھنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ اسی لیے نوآبادیاتی اور بعد از نوآبادیاتی طاقتوں نے تعلیم کو اپنی سب سے بڑی نرم قوت (soft power) کے طور پر استعمال کیا۔ کس طرح عالمی طاقتیں نصاب، زبان، تعلیمی پالیسیوں، اساتذہ کی تربیت، بین الاقوامی امتحانی نظام، تحقیقی اداروں، اسکالرشپس، اور کارپوریٹ تعلیمی منصوبوں کے ذریعے مختلف ممالک کے تعلیمی ڈھانچوں کو اپنے مفادات کے مطابق تشکیل دیتی ہیں یعنی کہ نوآبادیاتی اور نیوکالونیل طاقتیں تعلیم کو صرف علمی عمل نہیں بلکہ ذہنی و تہذیبی غلبے کے آلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ نصاب، درسی کتب، تحقیقی ادارے، زبان، امتحانی نظام اور تعلیمی پالیسیوں کے ذریعے مخصوص سیاسی، معاشی اور تہذیبی بیانیے کو فروغ دیا جاتا ہے تاکہ مغربی طاقتوں کی فکری بالادستی قائم رہے۔ دستاویز میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام، لبرل جمہوریت، اور مغربی تصورِ ترقی کو واحد قابلِ قبول ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ مقامی، دینی اور متبادل تہذیبی تصورات کو کم تر یا غیر مؤثر ظاہر کیا جاتا ہے۔”

یہ اثر صرف سیاسی نہیں بلکہ تہذیبی اور فکری بھی ہوتا ہے۔ جب کسی قوم کو یہ باور کرادیا جائے کہ ترقی صرف مغربی تصورِ حیات میں ہے، خاندان کی مثالی شکل وہی ہے جو مغرب پیش کرتا ہے، معیشت کا واحد کامیاب نظام سرمایہ دارانہ ماڈل ہے، کامیابی صرف انفرادی مقابلے اور مادی ترقی میں ہے، اور تاریخ کا مرکز یورپ و امریکہ ہیں، تو پھر آہستہ آہستہ ایک پوری نسل اپنے دینی، تہذیبی اور فطری تشخص سے کٹنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعماری نظام تعلیم صرف معلومات منتقل نہیں کرتا بلکہ انسان کے شعور کی تشکیل کرتا ہے۔ کس طرح نصابی کتب میں تاریخ کو مخصوص زاویے سے بیان کیا جاتا ہے، مقامی مزاحمتی تحریکوں کو کمزور دکھایا جاتا ہے، اور استعماری طاقتوں کو “متمدن” اور “محسن” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے یعنی استعماری اور طاغوتی نظامِ تعلیم کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ انسان کو یہ احساس ہی نہیں ہونے دیتا کہ اس کی فکر، ترجیحات اور شعور کسی بیرونی تہذیبی طاقت کے زیرِ اثر تشکیل پارہے ہیں۔ یہ نظام محض چند مضامین یا معلومات منتقل نہیں کرتا بلکہ انسان کے ذہن میں ترقی، کامیابی، آزادی، سیاست، معیشت، تہذیب اور علم کے مخصوص تصورات راسخ کرتا ہے۔ اسی لیے تعلیم کے ذریعے ایک ایسا ذہنی و تہذیبی ماحول پیدا کیا جاتا ہے جس میں مغربی سرمایہ دارانہ ماڈل، لبرل سیاسی فکر، اور مادہ پرستانہ طرزِ حیات کو فطری اور عالمی حقیقت کے طور پر قبول کرلیا جاتا ہے، جبکہ دینی، روحانی، اجتماعی اور وحی پر مبنی تصورات رفتہ رفتہ غیر مؤثر یا فرسودہ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ نتیجتاً بہت سے اہلِ ایمان بظاہر دینی جدوجہد کرتے ہوئے بھی غیر محسوس طور پر اسی فکری و تہذیبی ڈھانچے کے اندر سوچنے لگتے ہیں جسے وہ بدلنا چاہتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مومنین کی جدوجہد اگر بصیرت سے خالی ہو تو وہ غیر محسوس طور پر اسی نظام کی توسیع بن جاتی ہے۔ بظاہر وہ دینی مدارس، اسلامی اسکول یا تربیتی مراکز قائم کررہے ہوتے ہیں، مگر ان کے فکر کے بنیادی سانچے، علمی ترجیحات، کامیابی کے معیارات، نفسیاتی تصورات، معاشی اہداف اور تہذیبی آئیڈیل اسی استعماری نظام سے اخذ شدہ ہوتے ہیں۔ اس صورت میں تعلیم دین کے نام پر بھی دی جائے تو اس کا حاصل اکثر ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو عبادات تو انجام دیتا ہے مگر اس کی فکر سرمایہ دارانہ، اس کی سیاست سیکولر، اس کا معاشرتی شعور مغربی، اس کی جمالیات استعماری، اور اس کی زندگی کا مقصد دنیاوی کامیابی بن چکا ہوتا ہے۔

ائمہ معصومینؑ کی تعلیمات اس کے بالکل برعکس ایک ایسی تربیت پیش کرتی ہیں جس میں انسان کی پوری شخصیت کو توحید کے محور پر استوار کیا جاتا ہے۔ اہلِ بیتؑ کے ہاں علم محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ نور، بصیرت، ذمہ داری اور بندگی ہے۔ امام جعفر صادقؑ کے اصحاب صرف فقہی مسائل کے حافظ نہیں تھے بلکہ وہ سیاسی شعور، تہذیبی شناخت، اقتصادی فہم، اجتماعی ذمہ داری اور حق و باطل کی پہچان رکھنے والے افراد تھے۔ اسی لیے ائمہؑ نے ہمیشہ ایسے نظاموں سے ہوشیار رہنے کی تاکید کی جو انسان کے قلب و شعور کو طاغوت کے تابع کردیں، خواہ ظاہری طور پر وہ علم، ترقی یا تہذیب کے نام سے ہی کیوں نہ آئیں۔

حکومتِ اسلامی کے قیام کے لیے مطلوب تعلیم و تربیت دراصل ایک ایسی جامع انسانی تشکیل ہے جس میں انسان اپنی پوری زندگی کو خدا کی حاکمیت کے تابع سمجھنے لگے۔ اس تعلیم میں سیاست عبادت سے جدا نہیں، معیشت اخلاق سے جدا نہیں، علم بندگی سے جدا نہیں، اور تہذیب وحی سے جدا نہیں ہوتی۔ یہ تعلیم انسان کو صرف نوکری کے قابل نہیں بناتی بلکہ اسے حق کے قیام کا سپاہی، ظلم کے خلاف مزاحم، امت کے درد سے آشنا، اور امامِ حق کے مشن کا مددگار بناتی ہے۔

اسی لیے اگر مومنین واقعی طاغوت شکن انقلاب کے متمنی ہیں تو انہیں صرف “اسلامی مضامین” شامل کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ پورے تعلیمی فلسفے، epistemology، anthropology، sociology، psychology، economics اور civilization کے میدان میں قرآن و اہلِ بیتؑ کی بنیادوں پر نئے سرے سے غور کرنا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ استعماری نظام صرف بندوق سے حکومت نہیں کرتا بلکہ نصاب، زبان، میڈیا، یونیورسٹی، تحقیق، ثقافت، امتحانی نظام، اور “ترقی” کے تصور کے ذریعے ذہنوں پر حکومت کرتا ہے۔ کس طرح زبان، امتحانی نظام، تحقیقی ترجیحات، اور بین الاقوامی تعلیمی ادارے ایک مخصوص تہذیبی بالادستی کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں یعنی جدید استعماری نظام صرف سیاسی قبضے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ علمی و تہذیبی ڈھانچوں کے ذریعے ذہنی انحصار پیدا کرتا ہے۔ زبان، تحقیق، ٹیکنالوجی، تعلیمی فنڈنگ، بین الاقوامی نصاب، اور intellectual property laws جیسے ذرائع استعمال کرکے ترقی پذیر ممالک کو اس احساس میں مبتلا کیا جاتا ہے کہ وہ مغربی علم، ٹیکنالوجی اور ماہرین کے بغیر ترقی نہیں کرسکتے۔ اسی طرح نصاب میں صنعتی ترقی، سرمایہ دارانہ معیشت اور مغربی سائنسی برتری کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ مقامی علم، دینی بصیرت، اور indigenous wisdom غیر اہم محسوس ہونے لگتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک فکری و تہذیبی غلامی جنم لیتی ہے۔”

لہٰذا مکی مرحلے کی حقیقی روح یہی ہے کہ پہلے انسان کے شعور کو آزاد کیا جائے۔ اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ صرف عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا ایک پرزہ نہیں بلکہ خدا کا خلیفہ ہے۔ اس کے اندر ایسی بصیرت پیدا کی جائے جو طاغوتی بیانیوں، استعماری تعبیرات، اور تہذیبی غلامی کو پہچان سکے۔ جب ایسی نسل تیار ہوگی تو پھر وہ محض سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک حقیقی تہذیبی و فکری انقلاب برپا کرے گی۔ یہی وہ انقلاب ہے جو طاغوت شکن ہوگا، کیونکہ اس کی بنیاد محض اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ شعور کی تبدیلی ہوگی۔ اور جب شعور بدل جاتا ہے تو پھر مثالیت واقعیت میں بدلنے لگتی ہے، خواب تاریخ بن جاتے ہیں، اور وہی منشور جو خدا اور معصومینؑ نے انسانیت کے لیے دیا تھا، زمین پر ایک زندہ حقیقت کی صورت میں ظاہر ہونے لگتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2991

ٹیگز

تبصرے