3

*تعلیم یا تہذیبی غلامی؟*

  • نیوز کوڈ : 3000
  • 24 May 2026 - 18:36
*تعلیم یا تہذیبی غلامی؟*

*تعلیم یا تہذیبی غلامی؟*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

پاکستان میں موجود مختلف تعلیمی بورڈز، خصوصاً کیمبرج سسٹم، آغا خان بورڈ، وفاقی بورڈ، صوبائی ٹیکسٹ بک بورڈز، آئی بی، ایڈیکسَل، اور دیگر نجی و بین الاقوامی تعلیمی نظام اگر “مکی شعور” اور “طاغوتی تعلیم” کے تصور کی روشنی میں دیکھے جائیں تو مسئلہ صرف یہ نہیں رہتا کہ ان میں اسلامیات یا دینی مضامین شامل ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ ان کا پورا تعلیمی فلسفہ، انسانی تصور، کامیابی کی تعریف، تہذیبی ترجیحات، علم کی بنیاد، اور انسان سازی کا ماڈل کس بنیاد پر قائم ہے۔ یہی وہ زاویہ ہے جس کے مطابق کسی بھی نظام تعلیم کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ آیا وہ انسان کو خدا کی بندگی، امت کے شعور، تہذیبی آزادی، اور وحی پر مبنی فکر کی طرف لے جاتا ہے یا اسے ایک ایسے عالمی فکری ڈھانچے کا حصہ بناتا ہے جس میں سرمایہ دارانہ، سیکولر، اور مغربی تصورات غیر محسوس طریقے سے “معمول” اور “معیاری” بن جاتے ہیں۔

اس تحریر میں استعمال کی گئی اصطلاح “مکی شعور” سے مراد وہ فکری، روحانی اور تہذیبی بیداری ہے جو انسان کو توحید، حق شناسی، عدل، بندگیِ خدا، اور طاغوتی نظاموں کی پہچان عطا کرے۔ یہ شعور انسان کی ترجیحات، خوف، محبت، سیاست، معیشت اور معاشرت کو وحی اور الٰہی ہدایت کے تابع بنانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ صرف مذہبی رسوم کا پابند نہیں بلکہ حق و باطل میں فرق کرنے والا با بصیرت انسان بن سکے۔ مکی شعور کا مقصد ایسی نسل تیار کرنا ہے جو تہذیبی غلامی سے آزاد ہوکر خدا کی حاکمیت اور انسانی عدالت کے قیام کیلئے فکری و عملی جدوجہد کرسکے۔

اسی طرح ایک اور اصطلاح “طاغوتی جہالت” سے مراد وہ فکری، تہذیبی اور تعلیمی کیفیت ہے جس میں انسان غیر محسوس طور پر ایسے نظریات، نظاموں اور اقدار کے تابع ہوجائے جو خدا کی ہدایت سے کٹے ہوئے ہوں۔ اس میں مادہ پرستی، سرمایہ دارانہ ذہنیت، اندھی تقلید، استعماری فکر، اور دنیاوی کامیابی کو زندگی کا اصل مقصد بنا دیا جاتا ہے جبکہ دین، اخلاق اور وحی پر مبنی شعور کمزور پڑنے لگتا ہے۔ طاغوتی جہالت کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ انسان خود کو آزاد سمجھتے ہوئے بھی اپنی فکر، ترجیحات اور طرزِ زندگی میں ایک غیر الٰہی تہذیبی نظام کا تابع بن چکا ہوتا ہے۔

کیمبرج سسٹم پاکستان میں سب سے زیادہ بااثر بین الاقوامی تعلیمی نظام سمجھا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی طاقت اس کا عالمی معیار، تنقیدی سوچ، تحقیق، زبان پر عبور، اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں تک رسائی ہے۔ یہ نظام طلبہ کو اعتماد، اظہار، سائنسی مہارت، اور عالمی مسابقت کی صلاحیت دیتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کے مڈل اور اپر کلاس طبقے میں اسے کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن “مکی شعور” کے تناظر میں مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نظام کی epistemology یعنی علم کی بنیاد وحی، توحید، یا اسلامی انسان شناسی پر قائم نہیں بلکہ جدید لبرل ہیومنسٹ اور سیکولر مغربی فکر پر قائم ہے۔ اس میں انسان کو بنیادی طور پر autonomous individual کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کی کامیابی ذاتی achievement ، career growth، global competitiveness، اور material success سے جڑی ہوتی ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا طالب علم تیار ہوتا ہے جو تکنیکی طور پر بہت قابل ہوسکتا ہے مگر اس کی تہذیبی شناخت، امت کا شعور، استعماری تنقید، اور دینی worldview کمزور ہوتی جاتی ہے۔

کیمبرج نصاب میں تاریخ، سماجیات، سیاسیات، اکنامکس، اور گلوبل اسٹڈیز جیسے مضامین اکثر مغربی تاریخی بیانیے، سرمایہ دارانہ معاشی اصول، اور لبرل جمہوری تصورات کے گرد گھومتے ہیں۔ نوآبادیاتی تاریخ کو عمومی طور پر اسی انداز سے بیان کیا جاتا ہے جس میں مغربی طاقتوں کی “modernization” نمایاں رہتی ہے جبکہ تہذیبی استحصال، فکری غلامی، اور استعماری تباہ کاریوں کو محدود انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح English language dominance خود ایک تہذیبی طاقت بن جاتی ہے، کیونکہ زبان صرف communication کا ذریعہ نہیں بلکہ worldview کی حامل بھی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیمبرج نظام میں پڑھنے والا بڑا طبقہ رفتہ رفتہ اپنی فکری ترجیحات میں مغربی academic culture کے قریب ہوجاتا ہے۔

آغا خان بورڈ کا معاملہ کچھ مختلف مگر بنیادی سطح پر قریب تر ہے۔ یہ بورڈ پاکستان کے روایتی رٹہ سسٹم کے مقابلے میں understanding-based learning، creativity، conceptual clarity، اور skill development پر زور دیتا ہے۔ اس میں سماجی ہم آہنگی، pluralism، diversity، tolerance، اور civic ethics جیسے موضوعات نسبتاً زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ ظاہری طور پر یہ بہت مثبت اور مہذب تعلیمی ماحول فراہم کرتا ہے، اور کئی پہلوؤں سے پاکستانی سرکاری تعلیمی نظام سے زیادہ انسانی اور balanced دکھائی دیتا ہے۔ لیکن “مکی شعور” کے تناظر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ tolerance اور pluralism کی بنیاد کیا ہے؟ اگر یہ وحی اور حق و باطل کے قرآنی تصور کے بجائے postmodern relativism  پر قائم ہو تو پھر دینی حقانیت ایک subjective choice بن جاتی ہے، نہ کہ الٰہی حقیقت۔ اس صورت میں مذہب زندگی کے مرکز کے بجائے محض اخلاقی یا ثقافتی شناخت بن کر رہ جاتا ہے۔

آغا خان بورڈ اور اس جیسے elite-oriented systems میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ اکثر global citizen پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر “امت” کے تصور کو مرکزی حیثیت نہیں دیتے۔ طالب علم humanitarian تو بن سکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ استکبار، استعمار، تہذیبی غلبے، یا طاغوتی نظاموں کے خلاف قرآنی شعور بھی حاصل کرے۔ اس میں اسلامی اخلاقیات کے کچھ عناصر موجود ہوسکتے ہیں، مگر پورا civilizational framework اسلامی نہیں ہوتا۔ یوں انسان نرم مزاج، educated، tolerant، اور professionally successful تو بنتا ہے، مگر اس کی فکر عالمی لبرل نظام کے اندر ہی operate کرتی رہتی ہے۔

پاکستان کے سرکاری بورڈز جیسے وفاقی بورڈ، پنجاب بورڈ، سندھ بورڈ، خیبر پختونخوا بورڈ، بلوچستان بورڈ وغیرہ بظاہر زیادہ “اسلامی” محسوس ہوتے ہیں کیونکہ ان میں اسلامیات، مطالعہ پاکستان، اردو، اور مذہبی مواد نسبتاً زیادہ شامل ہوتا ہے۔ مگر “مکی شعور” کے زاویے سے مسئلہ صرف اسلامی مضامین کی موجودگی یا عدم موجودگی نہیں بلکہ پورے تعلیمی ڈھانچے کا ہے۔ یہ بورڈز اگرچہ مذہبی مواد شامل کرتے ہیں، لیکن ان کا overall educational philosophy  پھر بھی نوآبادیاتی bureaucratic model سے متاثر ہے۔ یہاں تعلیم کا مقصد زیادہ تر نوکری، امتحان، سرکاری ڈگری، اور معاشی survival بن جاتا ہے۔ علم کو نور، بصیرت، خلافت، یا امت سازی کے بجائے credential اور employment tool سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً طالب علم دینی معلومات رکھنے کے باوجود فکری طور پر سیکولر زندگی گزار سکتا ہے۔

سرکاری نصاب میں بھی modern nation-state narrative غالب رہتا ہے۔ تاریخ اکثر قومی ریاست کے سیاسی زاویے سے پڑھائی جاتی ہے، نہ کہ امت یا قرآنی تاریخ کے شعور سے۔ اکنامکس سرمایہ دارانہ اصولوں کے تحت پڑھائی جاتی ہے، psychology  مغربی انسانی نفسیات کے frameworks سے، sociology  مغربی سماجی theories  سے، اور success کا پیمانہ پھر بھی مادی ترقی ہی رہتا ہے۔ یوں ایک طرف مذہبی مضامین موجود ہوتے ہیں، دوسری طرف پورا علمی ڈھانچہ سیکولر modernity سے متاثر ہوتا ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جسے “طاغوتی تعلیم” کے تصور میں بیان کیا جاتا ہے کہ انسان نماز بھی پڑھتا ہے مگر اس کی معیشت، سیاست، سماجیات، اور تہذیبی imagination غیر اسلامی سانچوں میں تشکیل پاتی ہے۔

بین الاقوامی بکلوریٹ (IB) اور ایڈیکسَل جیسے نظام اس رجحان کو مزید واضح کرتے ہیں۔ ان میں inquiry-based learning، critical thinking، اور interdisciplinary understanding پر بہت زور دیا جاتا ہے، مگر ان کا انسان اور کائنات کا بنیادی تصور مغربی لبرل فلسفے سے جڑا ہوتا ہے۔ وہاں truth کو اکثر relative انداز میں دیکھا جاتا ہے، جبکہ اسلامی worldview میں حق ایک objective اور وحی پر مبنی حقیقت ہے۔ اسی طرح IB کا learner profile  بظاہر اخلاقی اقدار رکھتا ہے، مگر اس کی بنیاد universal secular ethics ہوتی ہے، نہ کہ توحیدی بندگی۔

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ان تمام بورڈز میں صرف برائی ہے یا یہ مکمل طور پر غیر مفید ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں بہت سی علمی، تنظیمی، تدریسی، اور تحقیقی خوبیاں موجود ہیں۔ کیمبرج تحقیق، زبان، اور analytical thinking دیتا ہے۔ آغا خان conceptual learning اور humane environment دیتا ہے۔ IB creativity اور interdisciplinary understanding  دیتا ہے۔ سرکاری بورڈ عوامی رسائی اور دینی مواد دیتے ہیں۔ مسئلہ ان skills یا subjects کا نہیں بلکہ اس تہذیبی و فکری بنیاد کا ہے جس پر پورا تعلیمی تصور قائم ہے۔ “مکی شعور” کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا تعلیم انسان کو خدا کی بندگی، امت کی ذمہ داری، ظلم و استعمار کی پہچان، اور وحی پر مبنی تہذیبی شعور دیتی ہے یا نہیں؟ اگر تعلیم انسان کو صرف global market کا  productive unit، capitalist economy  کا  worker، یا liberal order کا obedient citizen بناتی ہے تو پھر وہ جزوی خوبیوں کے باوجود “طاغوتی” اثرات سے خالی نہیں رہتی۔

اسی لیے اس نقطۂ نظر کے مطابق اصل ضرورت صرف “اسلامیات” شامل کرنے کی نہیں بلکہ پورے تعلیمی فلسفے کی ازسرِنو تشکیل کی ہے۔ ایسی تعلیم جس میں anthropology، psychology، sociology، economics، history، politics، اور civilization سب کو وحی اور اہل بیتؑ کی معرفت کی بنیاد پر دوبارہ دیکھا جائے؛ جہاں علم کا مقصد صرف career نہ ہو بلکہ بندگی، عدالت، حق شناسی، اور امت سازی ہو؛ اور جہاں طالب علم صرف professional نہ بنے بلکہ تہذیبی شعور رکھنے والا انسان بنے۔ یہی وہ فرق ہے جو “مکی شعور” اور موجودہ عالمی تعلیمی ڈھانچوں کے درمیان بنیادی کشمکش کے طور پر سامنے آتا ہے۔

لہذا اگر “مکی شعور” کے تناظر میں واقعی ایک ایسا تعلیمی نظام قائم کرنا مقصود ہو جو صرف نام کے مسلمان افراد نہیں بلکہ فکری، تہذیبی، روحانی اور اجتماعی لحاظ سے ایک بیدار امت تیار کرے، تو اس کے لیے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مسئلہ صرف چند مضامین، چند کتابوں، یا چند دینی اصطلاحات کا نہیں بلکہ پورے انسان کی تشکیل کا ہے۔ موجودہ تعلیمی نظاموں کی بنیادی کمزوری یہی سمجھی جاتی ہے کہ وہ انسان کو fragmented شخصیت میں تبدیل کردیتے ہیں؛ اس کی عبادت الگ، سیاست الگ، معیشت الگ، تعلیم الگ، اور تہذیب الگ ہوجاتی ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا فرد پیدا ہوتا ہے جو مسجد میں مذہبی ہوتا ہے مگر یونیورسٹی، مارکیٹ، میڈیا، سیاست، اور معاشرت میں سیکولر و سرمایہ دارانہ تصورات کے تحت سوچتا ہے۔ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے محض “اسلامیات” کا ایک مضمون بڑھا دینا کافی نہیں بلکہ پورے علمی ڈھانچے کی نئی بنیاد رکھنی ہوگی۔

اس منصوبہ بندی کا پہلا مرحلہ “انسان کے تصور” کی اصلاح ہوگا۔ موجودہ عالمی تعلیمی نظام انسان کو بنیادی طور پر economic unit، consumer، worker، یا competitor کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ اسلامی شعور میں انسان خدا کا خلیفہ، امانت دار، اخلاقی ذمہ داری رکھنے والی ہستی، اور حق و باطل کے درمیان انتخاب کرنے والا شعوری وجود ہے۔ جب تک تعلیمی نظام کا بنیادی anthropological model تبدیل نہیں ہوگا، تب تک نصاب میں دینی مواد شامل کرنے کے باوجود نتیجہ وہی رہے گا کہ طالب علم کا ultimate goal دنیاوی کامیابی، status، career، اور material achievement  ہوگا۔ لہٰذا منصوبہ بندی کا آغاز اس فکری بنیاد سے ہوگا کہ تعلیم کا مقصد “successful employee”  نہیں بلکہ “عبدِ خدا” اور “صاحبِ بصیرت انسان” تیار کرنا ہے۔

اس کے بعد علم کی تعریف اور epistemology کی ازسرِنو تشکیل ضروری ہوگی۔ موجودہ تعلیمی نظام میں علم کو زیادہ تر تجرباتی  data، سائنسی مشاہدے، یا انسانی عقل تک محدود کردیا جاتا ہے، جبکہ اسلامی تصور میں وحی علم کا اعلیٰ ترین سرچشمہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سائنسی علوم یا تجرباتی تحقیق کو رد کردیا جائے، بلکہ یہ کہ انہیں ایک higher moral and metaphysical framework کے اندر رکھا جائے۔ مثال کے طور پر economics صرف profit maximization  نہ سکھائے بلکہ عدل، امانت، رزق کی برکت، اور استحصال سے اجتناب کا شعور بھی دے۔ Psychology  صرف خواہشات کی تسکین یا self-esteem تک محدود نہ ہو بلکہ نفس، تزکیہ، صبر، تقویٰ، اور روحانی امراض کو بھی انسانی شخصیت کا حصہ سمجھے۔ Sociology صرف مغربی social theories نہ پڑھائے بلکہ خاندان، امت، اخوت، اور اجتماعی ذمہ داری کو بنیادی اکائی کے طور پر سمجھے۔ History صرف قومی ریاستوں اور جنگوں کی تاریخ نہ بنے بلکہ انبیاء، تہذیبوں، ظلم و عدل، اور استعماری غلبے کے شعور کو بھی شامل کرے۔

اس منصوبے میں زبان کا مسئلہ بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ زبان صرف communication کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیبی شعور کی حامل ہوتی ہے۔ اگر ایک نسل اپنی علمی، فکری، اور تخلیقی زندگی مکمل طور پر غیرملکی زبان کے ذریعے تشکیل دے گی تو رفتہ رفتہ اس کی سوچ بھی اسی تہذیب کے سانچوں میں ڈھلنے لگے گی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انگریزی یا عالمی زبانوں کو ترک کردیا جائے، بلکہ یہ کہ مقامی اور اسلامی علمی زبانوں کو بھی تحقیق، فلسفہ، سائنس، اور اعلیٰ تعلیم کے قابل بنایا جائے تاکہ طالب علم اپنی تہذیب کے اندر رہتے ہوئے عالمی علم سے جڑ سکے، نہ کہ اپنی فکری جڑوں سے کٹ کر۔

تعلیمی منصوبہ بندی میں اساتذہ کی تربیت سب سے اہم مرحلہ ہوگا۔ اگر استاد خود مغربی سیکولر paradigms سے متاثر ہو، اور دین کو صرف ritual یا private morality سمجھے، تو وہ غیر محسوس طریقے سے وہی worldview طلبہ میں منتقل کرے گا، چاہے کتابوں میں دینی مواد کیوں نہ موجود ہو۔ اس لیے ایسے اساتذہ تیار کرنے کی ضرورت ہوگی جو صرف subject specialists نہ ہوں بلکہ تہذیبی بصیرت بھی رکھتے ہوں۔ انہیں یہ شعور دیا جائے کہ تعلیم صرف information transfer نہیں بلکہ انسان سازی، worldview formation، اور اخلاقی و تہذیبی تشکیل کا عمل ہے۔ استاد کو محض lecturer کے بجائے مربی، فکری راہنما، اور تہذیبی محافظ mentor کے طور پر دوبارہ متعارف کروانا ہوگا۔

اسی طرح امتحانی نظام کو بھی تبدیل کرنا ہوگا۔ موجودہ نظام زیادہ تر  memorization، grades، competition، اور credentialism  پر قائم ہے۔ اس سے ایک ایسا ذہن بنتا ہے جو علم کو حقیقت کی تلاش یا بندگی کے بجائے صرف career advancement  کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اسلامی شعور پر مبنی نظام میں assessment صرف معلومات کی جانچ نہ ہو بلکہ اخلاق، اجتماعی ذمہ داری، خدمت، leadership، تحقیق، اور کردار سازی کو بھی اہمیت دی جائے۔ طلبہ کو اس طرح تیار کیا جائے کہ وہ صرف نوکری کے امیدوار نہ ہوں بلکہ معاشرے کی فکری و اخلاقی تعمیر کے ذمہ دار افراد بنیں۔

اس پورے منصوبے میں میڈیا، ٹیکنالوجی، اور ثقافت کو بھی شامل کرنا ہوگا، کیونکہ جدید انسان صرف اسکول سے تعلیم نہیں لیتا بلکہ سوشل میڈیا، فلم، اشتہارات، gaming culture، اور ڈیجیٹل دنیا بھی اس کی شخصیت بناتے ہیں۔ اگر تعلیمی ادارہ ایک چیز سکھائے اور پوری میڈیا تہذیب اس کے برعکس شعور پیدا کرے تو تعلیمی عمل کمزور ہوجاتا ہے۔ اس لیے اسلامی شعور پر مبنی تعلیمی منصوبہ صرف نصاب کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک متبادل تہذیبی ecosystem کی تشکیل کا تقاضا کرتا ہے، جس میں ادب، میڈیا، آرٹ، ٹیکنالوجی، اور سماجی ماحول بھی اسی worldview کو reinforce  کریں۔

اس جدوجہد کا آخری اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ تعلیم کو محض ریاستی پالیسی یا institutional reform کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ ایک “مکی مرحلہ” سمجھا جائے، یعنی ایسی تدریجی شعور سازی جس کا مقصد اقتدار سے پہلے انسان کی داخلی تعمیر ہو۔ مکہ میں سب سے پہلے ایک ایسی نسل تیار کی گئی تھی جس کے خوف، محبتیں، ترجیحات، اور وفاداریاں بدل گئی تھیں۔ اسی طرح آج بھی اگر کوئی حقیقی اسلامی تہذیبی تبدیلی مطلوب ہے تو پہلے ایسی نسل تیار کرنی ہوگی جو سرمایہ دارانہ  consumer culture، استعماری ذہنیت، اور طاغوتی بیانیوں کو پہچان سکے۔ جب ایسی نسل پیدا ہوگی تو پھر تعلیمی ادارے، معیشت، سیاست، میڈیا، اور سماجی ڈھانچے بھی رفتہ رفتہ اسی شعور کے مطابق تبدیل ہونے لگیں گے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں تعلیم صرف ڈگری یا profession نہیں رہتی بلکہ ایک تہذیبی و روحانی انقلاب کی بنیاد بن جاتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3000

ٹیگز

تبصرے