بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
انسانی معاشروں میں ہمیشہ ایک بڑا طبقہ ایسا موجود رہا ہے جو نہ تو فکری و مذہبی جنگوں میں دلچسپی رکھتا ہے، نہ تاریخی تنازعات میں الجھنا چاہتا ہے، اور نہ ہر وقت مسلکی یا عقیدتی مناظروں کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ ایسے لوگ عمومی طور پر امن، استحکام، عزتِ نفس، معاشی تحفظ، سماجی سکون، خاندان کی حفاظت اور روزمرہ زندگی کی بہتری چاہتے ہیں۔ وہ مذہب سے مکمل لاتعلق بھی نہیں ہوتے بلکہ اپنی عبادات، اخلاقیات، خدا پر ایمان، روحانیت اور دینی شناخت کے ساتھ جینا چاہتے ہیں، مگر ساتھ ہی وہ مسلسل مذہبی کشمکش، تکفیر، نفرت، فرقہ وارانہ فساد اور تاریخی دشمنیوں سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ جدید دور میں بعض لوگ ایسے طبقے کو “دینی سیکیولر” جیسے الفاظ سے تعبیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس اصطلاح کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے “سیکیولر” کے مفہوم کو واضح کرنا ضروری ہے۔
اگر “سیکیولر” سے مراد وہ مغربی فلسفہ لیا جائے جو مذہب کو اجتماعی، سیاسی اور تمدنی زندگی سے مکمل طور پر الگ کر دیتا ہے، اور دین کو صرف ذاتی عبادت یا نجی احساس تک محدود کر دیتا ہے، تو قرآن، اسلامی تاریخ اور معصومینؑ کی تعلیمات کی روشنی میں ایسے انسان کو “دینی سیکیولر” کہنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اسلام محض انفرادی عبادات کا دین نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی و اجتماعی نظام بھی ہے۔ اسلام عدل، قضا، معیشت، سیاست، معاشرت، تعلیم، جنگ و امن اور انسانی حقوق کے بارے میں بھی رہنمائی دیتا ہے۔ قرآن “اقیموا الدین” کہہ کر دین کے اجتماعی قیام کی بات کرتا ہے، نہ کہ صرف انفرادی مذہبیت کی۔
لیکن اگر “سیکیولر” سے مراد صرف یہ ہو کہ کوئی شخص شدت پسند مذہبی جھگڑوں، نفرت انگیز مناظروں، فرقہ وارانہ فساد، تاریخی انتقام اور ہر وقت کی کشمکش سے دور رہتے ہوئے ایک پرامن، اخلاقی، دیندار اور اجتماعی نظم کا حامی ہے، تو ایسے انسان کو اصل اسلامی اصطلاحات میں “معتدل”، “مسالم”، “صالح”، “اہلِ سلم”، یا “اہلِ فتنہ سے دور” کہنا زیادہ درست ہوگا، نہ کہ مغربی فلسفیانہ معنی میں “سیکیولر”۔ کیونکہ اسلام خود فساد، فتنہ، بے جا نزاع اور داخلی انتشار کو ناپسند کرتا ہے۔
قرآنِ مجید میں بار بار “اصلاح”، “عدل”، “سلم”، “عفو” اور “اخوت” کی تعلیم دی گئی ہے۔ قرآن نے یہ نہیں کہا کہ ہر مسلمان لازماً ہر تاریخی اختلاف یا ہر علمی مناظرے میں کود پڑے۔ بلکہ قرآن نے یہ ضرور کہا کہ حق و باطل کا شعور باقی رہنا چاہیے، ظلم کی حمایت نہیں ہونی چاہیے، اور امت کی اجتماعی خیر کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ اسی لیے قرآن “ولا تنازعوا فتفشلوا” کہہ کر مسلسل باہمی تنازع کے خطرے سے خبردار کرتا ہے۔ یعنی ایسا اختلاف جو امت کی طاقت، امن اور اجتماعی زندگی کو تباہ کردے، وہ مطلوب نہیں۔
معصومینؑ کی سیرت میں بھی ہمیں ایک نہایت متوازن روش ملتی ہے۔ امیر المؤمنین امام علیؑ نے اپنی خلافت کے دوران شدید اختلافات، بغاوتوں اور سیاسی بحرانوں کے باوجود عام مسلمانوں کے اجتماعی نظام کو مکمل طور پر تباہ ہونے نہیں دیا۔ حتیٰ کہ اپنے حقِ خلافت کے مسئلے میں بھی انہوں نے اس وقت تک مسلح تصادم نہیں کیا جب تک اسلام کی اصل بنیادوں کو بچانے اور امت کو خانہ جنگی سے محفوظ رکھنے کا پہلو غالب رہا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نقطۂ نظر میں ہر اختلاف کو فوری جنگ اور تصادم میں بدل دینا مطلوب نہیں۔
اسی طرح امام حسنؑ کی صلح ایک عظیم مثال ہے۔ آپؑ نے صرف اس لیے صلح نہیں کی کہ حق و باطل برابر ہوگئے تھے، بلکہ اس لیے کہ اس وقت امت کی داخلی ٹوٹ پھوٹ، منافقت، جنگی تھکن اور مسلمانوں کے خون کے ضیاع نے ایسی صورت پیدا کردی تھی جہاں وقتی صلح اجتماعی بقا کے لیے ضروری ہوگئی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی فکر میں امن، اجتماعی استحکام اور فساد سے بچاؤ بھی ایک عظیم دینی قدر ہے۔
اسی طرح امام جعفر صادقؑ کی سیرت میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپؑ نے علمی تربیت، اخلاق، فکری استحکام اور شاگرد سازی پر زور دیا، نہ کہ ہر وقت سیاسی تصادم پر۔ آپؑ کے شاگرد مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی روایت میں علمی اختلاف کے باوجود سماجی coexistence ممکن ہے۔
قرآن غیر مسلم امن پسند انسانوں کے بارے میں بھی یہی اصول دیتا ہے کہ اگر وہ جنگ، ظلم اور فساد میں شریک نہیں تو ان کے ساتھ عدل، حسنِ سلوک اور تعاون جائز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ایک ایسے معاشرے کا تصور دیتا ہے جہاں مختلف مذہبی، فقہی یا سماجی طبقات مشترکہ انسانی مفادات کے تحت ایک نظم کے اندر رہ سکیں۔ لہٰذا اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ معاشرے میں امن ہو، خونریزی نہ ہو، فرقہ وارانہ نفرت نہ ہو، لوگ تعلیم، معیشت، صحت، انصاف اور اخلاقی زندگی پر توجہ دیں، تو یہ خواہش اسلامی اصولوں کے خلاف نہیں بلکہ کئی پہلوؤں سے اسلامی مقاصد کے قریب ہوسکتی ہے۔
البتہ یہاں ایک نہایت اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اسلام “امن” کو “حق سے لاتعلقی” کے معنی میں قبول نہیں کرتا۔ اگر کوئی شخص صرف اپنے سکون کی خاطر ظلم، فساد، استبداد، ناانصافی یا دین دشمنی کے سامنے مکمل خاموش ہوجائے، تو یہ قرآن کے مطلوبہ “عدل” کے خلاف ہوگا۔ قرآن بار بار “قسط” اور “عدل” کے قیام کی بات کرتا ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ صرف ذاتی سکون کی خاطر معاشرے میں ظلم یا باطل کے غلبے کو نظرانداز کردے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر شخص لازماً مسلسل سیاسی یا مسلکی محاذ آرائی میں مبتلا رہے۔
اصل اسلامی توازن یہ ہے کہ انسان امن بھی چاہے، مگر حق کے شعور کے ساتھ؛ اتحاد بھی چاہے، مگر عدل کی بنیاد پر؛ اختلاف سے بچے، مگر حق و باطل کے فرق کو مٹائے بغیر؛ اور اجتماعی نظام کی حمایت بھی کرے، بشرطیکہ وہ نظام بنیادی طور پر عدل، اخلاق، انسانی کرامت اور دینی آزادی کو محفوظ رکھتا ہو۔
اسی لیے اگر کسی اسلامی نظام میں امن، عدل، مذہبی آزادی، معاشرتی استحکام، اخلاقی حدود اور اجتماعی خیر موجود ہو تو ایسے لوگوں کا اس نظام کو سپورٹ کرنا نہ صرف جائز بلکہ بعض اوقات ضروری بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن فساد، خانہ جنگی، ظلم اور اجتماعی انتشار کو ناپسند کرتا ہے۔ لیکن اگر کوئی نظام صرف نام کا اسلامی ہو اور عملاً ظلم، استبداد، کرپشن، فرقہ واریت اور انسانی ذلت کا ذریعہ بن جائے تو پھر قرآن کے مطابق صرف “امن” کے نام پر اس کی اندھی حمایت بھی درست نہیں ہوگی۔
جدید دور میں بہت سے عام لوگ دراصل اسی داخلی کشمکش کا شکار ہیں۔ وہ دین سے مکمل لاتعلق نہیں ہونا چاہتے، مگر مذہبی نفرت اور دائمی تنازع سے بھی تھک چکے ہیں۔ وہ عبادت، اخلاق، روحانیت، خاندان اور امن چاہتے ہیں، مگر مسلسل فرقہ وارانہ جنگ نہیں چاہتے۔ اسلامی تعلیمات ان لوگوں کو مکمل طور پر رد نہیں کرتیں بلکہ ان کے لیے ایک متوازن راستہ پیش کرتی ہیں: ایسا راستہ جس میں انسان اپنی ایمانی شناخت محفوظ رکھتے ہوئے، حق و عدل کا شعور قائم رکھتے ہوئے، فساد و نفرت سے بچتے ہوئے، اور مشترکہ انسانی مفادات میں تعاون کرتے ہوئے زندگی گزار سکے۔
اسلامی تعلیمات جس “متوازن راستے” کی طرف رہنمائی کرتی ہیں انہیں تھوڑا تفصیل سے دیکھیں تو وہ دراصل انسانی فطرت، اجتماعی حقیقت، روحانی ضرورت اور اخلاقی ذمہ داری کے درمیان ایک گہرا توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔ یہ راستہ نہ تو انسان کو ایسا خشک مذہبی جنگجو بناتا ہے جو ہر وقت دوسروں کی تکفیر، نفرت اور تاریخی جھگڑوں میں الجھا رہے، اور نہ ایسا بے حس یا مکمل دنیا پرست انسان بناتا ہے جو حق، عقیدہ، اخلاق اور دینی شعور سے لاتعلق ہو جائے۔ بلکہ قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیمات ایک ایسے انسان کی تعمیر چاہتی ہیں جو دل سے مؤمن ہو، عقل سے متوازن ہو، اخلاق سے مہذب ہو، اور معاشرے میں فساد کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بنے۔
یہ متوازن راستہ سب سے پہلے انسان کے اندر “ایمانی شناخت” اور “اجتماعی امن” کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ انسان اپنی دینی شناخت کو صرف اس لیے چھوڑ دے کہ معاشرے میں اختلافات موجود ہیں۔ قرآن بار بار توحید، نماز، تقویٰ، عدل، حلال و حرام اور اخلاقی اصولوں پر قائم رہنے کی تاکید کرتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ قرآن یہ بھی نہیں چاہتا کہ ہر اختلاف انسان کو نفرت، دشمنی اور دائمی تصادم کی طرف لے جائے۔ یعنی اسلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ “حق پر قائم رہو، مگر نفرت کے غلام نہ بنو۔”
یہ متوازن راستہ اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ تمام انسانوں کی ذہنی سطح، دینی معرفت، نفسیاتی برداشت اور سماجی حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ لوگ علمی اور فکری میدان میں گہرائی تک جانا چاہتے ہیں، جبکہ بہت سے عام لوگ صرف ایک پُرامن، بااخلاق اور روحانی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اسلام ایسے لوگوں کو منافق یا بے دین قرار نہیں دیتا، جب تک وہ حق دشمنی، ظلم یا فساد کا حصہ نہ بنیں۔ ایک عام مزدور، تاجر، استاد، ڈاکٹر یا ملازم اگر اپنی نماز، روزہ، حلال رزق، اخلاق، خاندان اور انسانی ذمہ داریوں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے، اور ساتھ ہی معاشرے میں امن، عدل اور تعاون چاہتا ہے، تو اسلامی نقطۂ نظر میں وہ ایک مثبت سماجی کردار ادا کررہا ہوسکتا ہے، خواہ وہ ہر وقت مذہبی مناظروں میں شریک نہ ہو۔
قرآن کا یہ متوازن راستہ “فرق” اور “فساد” میں بھی فرق کرتا ہے۔ ہر فرق یا اختلاف فساد نہیں ہوتا۔ انسانوں کے درمیان علمی، فقہی، ثقافتی اور فکری اختلافات ہمیشہ موجود رہیں گے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ اختلاف نفرت، تکبر، تعصب اور ظلم میں بدلتا ہے یا نہیں۔ اسی لیے قرآن “وجادلہم بالتی ہی احسن” کہہ کر بہترین انداز میں مکالمے کی تعلیم دیتا ہے۔ یعنی اگر اختلاف ہو بھی تو اس کا انداز مہذب، علمی اور اخلاقی ہونا چاہیے، نہ کہ تذلیل، تحقیر اور نفرت پر مبنی۔
یہ متوازن راستہ انسان کو “دینی سنجیدگی” اور “نفسیاتی سکون” دونوں دیتا ہے۔ جدید دنیا کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے مذہبی ماحول انسان کو مسلسل خوف، غصے، نفرت اور تصادم میں مبتلا رکھتے ہیں۔ ہر وقت یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ دنیا صرف دشمنوں سے بھری ہوئی ہے اور ہر اختلاف رکھنے والا انسان لازماً دشمن ہے۔ اس ذہنیت سے انسان کے اندر روحانی سکون ختم ہوجاتا ہے۔ جبکہ قرآن بار بار “سکینت”، “رحمت”، “طمأنینہ” اور “سلام” کی بات کرتا ہے۔ اسلام کا مقصد انسان کو مسلسل ذہنی جنگ میں مبتلا کرنا نہیں بلکہ اس کے اندر ایسا اخلاقی و روحانی استحکام پیدا کرنا ہے جس سے وہ دنیا میں خیر، امن اور عدل کا ذریعہ بن سکے۔
اسی طرح یہ متوازن راستہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ معاشرے میں مشترکہ انسانی مفادات بھی اہم ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک شہر میں مسلمان مختلف مسالک سے تعلق رکھتے ہیں اور ساتھ ہی غیر مسلم شہری بھی موجود ہیں، تو سب کا مشترکہ مفاد یہ ہوسکتا ہے کہ شہر میں امن ہو، تعلیم بہتر ہو، انصاف قائم ہو، کرپشن کم ہو، اسپتال اچھے ہوں، خواتین اور بچوں کو تحفظ ملے، اور نوجوان منشیات سے بچیں۔ اسلام ان مشترکہ انسانی مقاصد کے لیے تعاون سے نہیں روکتا، بلکہ “تعاونوا علی البر والتقویٰ” کہہ کر نیکی اور بھلائی کے کاموں میں تعاون کی دعوت دیتا ہے۔
لیکن اسی کے ساتھ یہ راستہ “اندھی رواداری” یا “بے اصول امن” کو بھی قبول نہیں کرتا۔ اسلام یہ نہیں کہتا کہ امن کی خاطر حق و باطل کا فرق مٹا دیا جائے یا ظلم کو نظرانداز کردیا جائے۔ اگر کوئی نظام ظلم، استحصال، نسل پرستی، مذہبی جبر یا اخلاقی تباہی پھیلا رہا ہو تو صرف “امن” کے نام پر خاموش رہنا قرآن کے عدل کے تصور کے خلاف ہوگا۔ لہٰذا متوازن راستہ یہ ہے کہ انسان فساد سے بچے، مگر ظلم کے سامنے مکمل بے حس بھی نہ ہو؛ اختلاف کو جنگ نہ بنائے، مگر حق کا شعور بھی نہ کھوئے۔
اہل بیتؑ کی سیرت بھی اسی توازن کی تعلیم دیتی ہے۔ ان کی زندگی میں حق پر استقامت بھی تھی اور اخلاقی وسعت بھی۔ وہ ظلم کے خلاف تھے مگر عام انسانوں کے لیے رحمت بھی تھے۔ وہ اپنے عقیدے پر مضبوط تھے مگر ہر وقت نفرت انگیز تصادم نہیں کرتے تھے۔ ان کے ہاں علم بھی تھا، عبادت بھی، حلم بھی، صبر بھی، اور معاشرتی حکمت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سیرت میں انسان کو ایک ایسا نمونہ ملتا ہے جو نہ شدت پسندانہ مذہبیت ہے اور نہ بے روح دنیا پرستی۔
جدید دور میں اس متوازن راستے کی سب سے بڑی ضرورت اس لیے بھی ہے کیونکہ انسان دو انتہاؤں میں بٹتا جارہا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو مذہب کے نام پر ہر اختلاف کو جنگ بنا دیتے ہیں، اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو امن اور آزادی کے نام پر ہر دینی شناخت اور اخلاقی اصول کو ختم کردینا چاہتے ہیں۔ قرآن کا راستہ ان دونوں سے مختلف ہے۔ وہ انسان کو ایک ایسا باوقار مؤمن بنانا چاہتا ہے جو عبادت گزار بھی ہو، مہذب بھی؛ اصولی بھی ہو، پُرامن بھی؛ اپنی شناخت پر قائم بھی ہو، اور انسانیت کے ساتھ عدل و رحمت کا تعلق بھی رکھتا ہو۔
اصل میں یہی “امتِ وسط” کا تصور ہے جس کا قرآن ذکر کرتا ہے۔ یعنی ایسی امت جو انتہاؤں کے درمیان عدل، توازن، حکمت اور اخلاق کا راستہ اختیار کرے۔ نہ اندھی شدت پسندی، نہ بے اصول لادینیت؛ نہ نفرت پر مبنی مذہبیت، نہ شناخت سے خالی رواداری۔ بلکہ ایسا متوازن انسانی و دینی رویہ جس میں ایمان بھی زندہ رہے، عقل بھی متحرک رہے، معاشرہ بھی محفوظ رہے، اور انسانیت بھی سکون کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔
