6

کائنات کا قانونِ زوجیت

  • نیوز کوڈ : 2976
  • 20 May 2026 - 2:54
کائنات کا قانونِ زوجیت

کائنات کا قانونِ زوجیت

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

قرآنِ مجید جب کائنات کو دیکھتا ہے تو وہ اسے منتشر، بے ربط اور اتفاقی وجودوں کا مجموعہ نہیں سمجھتا بلکہ ایک مربوط، متوازن اور باہمی تکمیل پر قائم نظام کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس نظام کی ایک بنیادی حقیقت “زوجیت” ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے ہر چیز کو جوڑوں میں پیدا کیا تاکہ انسان غور کرے، حقیقت کو پہچانے اور اس تخلیقی حکمت کے پیچھے کارفرما وحدتِ الٰہی کو سمجھے۔ یہ زوجیت صرف مرد و عورت تک محدود نہیں بلکہ پوری کائنات کے باطن میں جاری ایک ہمہ گیر اصول ہے۔ مادی دنیا ہو یا روحانی عالم، انسانی نفس ہو یا آفاق کی وسعتیں، ہر جگہ دو ایسی حقیقتیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں جو بظاہر متضاد محسوس ہوتی ہیں مگر دراصل ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔

قرآن کہتا ہے:

وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ”

یعنی ہم نے ہر چیز کو جوڑوں میں پیدا کیا۔ یہ آیت محض حیاتیاتی جنس کی طرف اشارہ نہیں بلکہ وجود کے ایک ہمہ گیر قانون کو بیان کرتی ہے۔ کائنات کی بقا، حرکت اور حسن اسی توازن پر قائم ہے جہاں دو مختلف قوتیں ایک دوسرے سے ٹکراتی بھی ہیں اور ایک دوسرے کو مکمل بھی کرتی ہیں۔

سب سے نمایاں مثال مرد اور عورت کی ہے۔ بظاہر دونوں مختلف ہیں؛ جسمانی ساخت، نفسیاتی رجحانات، جذباتی کیفیتیں اور معاشرتی کردار کئی پہلوؤں سے جدا ہیں، لیکن یہی اختلاف دراصل انسانی زندگی کی تکمیل کا ذریعہ بنتا ہے۔ اگر صرف مرد ہوتے تو زندگی میں سختی، یک رخی اور بے توازنی پیدا ہوجاتی، اور اگر صرف عورتیں ہوتیں تو نظامِ حیات اپنی دوسری جہتوں سے محروم رہتا۔ دونوں مل کر نسل، محبت، خاندان اور تمدن کو وجود دیتے ہیں۔ قرآن نے میاں بیوی کو “لباس” کہا، یعنی ایک دوسرے کی پردہ پوشی، حفاظت اور زینت۔ یہاں اختلاف دشمنی نہیں بنتا بلکہ تکمیل کا ذریعہ بنتا ہے۔

اسی طرح دن اور رات کو دیکھئے۔ دن روشنی، حرکت، محنت اور ظاہری زندگی کی علامت ہے جبکہ رات سکون، خاموشی، آرام اور باطنی رجوع کی علامت۔ اگر صرف دن ہوتا تو انسان تھکن سے ٹوٹ جاتا اور اگر صرف رات ہوتی تو زندگی جمود کا شکار ہوجاتی۔ روشنی اور تاریکی بظاہر ضد ہیں مگر انہی کی گردش سے زندگی کا توازن قائم رہتا ہے۔ قرآن نے رات کو لباس اور دن کو معاش کا وقت قرار دے کر بتایا کہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔

زندگی اور موت بھی اسی اصول کا حصہ ہیں۔ عام انسانی ذہن موت کو زندگی کی ضد سمجھتا ہے، لیکن قرآن کے نزدیک موت فنا نہیں بلکہ زندگی کے سفر کا ایک مرحلہ ہے۔ بیج زمین میں دفن ہوتا ہے تو بظاہر مرجاتا ہے مگر اسی “موت” سے نئی زندگی پھوٹتی ہے۔ انسان بچپن سے جوانی اور پھر بڑھاپے کی طرف بڑھتا ہے؛ ہر مرحلہ اپنے پچھلے مرحلے کی ایک طرح کی موت اور اگلے مرحلے کی پیدائش ہے۔ اگر موت نہ ہو تو حیات کا تسلسل بھی ممکن نہیں رہتا۔

خوف اور امید بھی انسانی روح کے دو پہلو ہیں۔ اگر انسان صرف خوف میں جئے تو مایوسی، جمود اور نفسیاتی شکست کا شکار ہوجاتا ہے، اور اگر صرف امید میں جئے تو غفلت اور بے احتیاطی پیدا ہوجاتی ہے۔ قرآن بار بار “خوف و رجاء” کو ساتھ ذکر کرتا ہے۔ مومن نہ اتنا خوف زدہ ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجائے اور نہ اتنا بے خوف کہ اپنی اصلاح کی ضرورت ہی محسوس نہ کرے۔ یہی توازن روحانی ارتقا پیدا کرتا ہے۔

عدل اور رحمت بھی بظاہر دو مختلف جہتیں ہیں۔ عدل تقاضا کرتا ہے کہ ہر شخص کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ ملے جبکہ رحمت معافی، درگزر اور فضل کا دروازہ کھولتی ہے۔ اگر صرف عدل ہوتا تو انسان اپنی کمزوریوں کے بوجھ تلے دب جاتا، اور اگر صرف رحمت ہوتی تو اخلاقی ذمہ داری ختم ہوجاتی۔ خدا کی صفات میں “شدید العقاب” بھی ہے اور “ارحم الراحمین” بھی۔ یہی امتزاج انسان کو ذمہ داری اور امید دونوں عطا کرتا ہے۔

عقل اور عشق بھی انسانی وجود کی دو متوازی حقیقتیں ہیں۔ عقل نظم، تجزیہ، احتیاط اور استدلال دیتی ہے جبکہ عشق حرکت، قربانی، جرات اور زندگی کی حرارت پیدا کرتا ہے۔ صرف عقل انسان کو خشک حساب کتاب میں قید کرسکتی ہے اور صرف عشق انسان کو بے قابو جذبات میں بہا سکتا ہے۔ جب عقل عشق کی رہنمائی کرے اور عشق عقل کو حرارت دے تو انسان عظمت پیدا کرتا ہے۔ اسلامی تہذیب کی بڑی شخصیات میں یہی امتزاج نظر آتا ہے۔

جسم اور روح کا تعلق بھی اسی قانونِ زوجیت کی ایک مثال ہے۔ جسم انسان کو زمین سے جوڑتا ہے، اس کی مادی ضروریات اور عملی زندگی کا وسیلہ بنتا ہے، جبکہ روح اسے معنی، اخلاق، جمال اور خدا کی طرف بلند کرتی ہے۔ اگر انسان صرف جسم بن جائے تو حیوانیت غالب آجاتی ہے اور اگر صرف روحانیت کا دعویٰ کرے اور جسمانی تقاضوں کو نظرانداز کرے تو زندگی کا توازن ٹوٹ جاتا ہے۔ قرآن انسان کو نہ صرف مادی وجود سمجھتا ہے اور نہ خالص روحانی ہستی، بلکہ دونوں کا حسین امتزاج قرار دیتا ہے۔

کائنات کی طبیعی ساخت میں بھی یہی حقیقت کارفرما ہے۔ مثبت اور منفی برقی روئیں، کشش اور دفع، زمین و آسمان، سمندر اور خشکی، حرارت اور برودت، حتیٰ کہ ایٹم کے اندر موجود متضاد قوتیں، سب اسی توازن پر قائم ہیں۔ جدید سائنس جتنا آگے بڑھتی ہے اتنا ہی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ کائنات کا استحکام متقابل قوتوں کے درمیان ایک دقیق توازن کا نتیجہ ہے۔ قرآن نے صدیوں پہلے انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ تخلیق کا نظام تضاد اور تکمیل کے باہمی ربط سے قائم ہے۔

اخلاقی دنیا میں بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔ سختی اور نرمی، خاموشی اور گفتگو، تنہائی اور اجتماع، صبر اور اقدام، قناعت اور جدوجہد — یہ سب بظاہر مخالف صفات ہیں مگر اپنی صحیح جگہ پر ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ ایک اچھا انسان وہ نہیں جو صرف نرم ہو یا صرف سخت، بلکہ وہ ہے جو موقع کے مطابق دونوں صفات کا متوازن استعمال جانتا ہو۔

قرآن کی نگاہ میں اصل کمال یہ نہیں کہ انسان کسی ایک پہلو میں غرق ہوجائے بلکہ یہ ہے کہ وہ ان مختلف حقیقتوں کے درمیان توازن پیدا کرے۔ یہی توازن “صراطِ مستقیم” ہے۔ افراط و تفریط دراصل اسی توازن کے ٹوٹنے کا نام ہے۔ شیطان انسان کو یا تو مادیت میں غرق کرتا ہے یا رہبانیت میں، یا خوف میں ڈبوتا ہے یا بے فکری میں، جبکہ وحی انسان کو اعتدال اور جامعیت کی طرف بلاتی ہے۔

جب ہم قرآن کے بیان کردہ قانونِ زوجیت کو صرف حیاتیاتی یا طبیعی سطح تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے انسانی معاشرے، عقل، نفسیات اور تہذیب کے اندر دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کی تقریباً ہر بڑی حقیقت دو متقابل مگر تکمیلی پہلوؤں کے درمیان قائم ہے۔ انسان کی فکری، نفسیاتی اور سماجی صحت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب وہ ان دونوں جہتوں کے درمیان صحیح توازن پیدا کرے۔

سماجی زندگی میں فرد اور جماعت ایک ایسی ہی دو حقیقتیں ہیں۔ فرد اپنی آزادی، شخصیت، تخلیقی صلاحیت اور ذاتی احساسات رکھتا ہے جبکہ جماعت نظم، تحفظ، اجتماعی شعور اور مشترک مقصد فراہم کرتی ہے۔ اگر صرف فرد کو اہمیت دی جائے تو معاشرہ شدید انفرادیت، خود غرضی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے، جیسا کہ جدید سرمایہ دار تہذیب میں دیکھا جاسکتا ہے جہاں انسان اپنی “آزادی” کے باوجود تنہائی، اضطراب اور بے معنویت میں مبتلا ہے۔ اور اگر صرف جماعت کو مطلق بنا دیا جائے تو فرد کی شخصیت کچل جاتی ہے، جیسا کہ بعض آمرانہ اور جابرانہ نظاموں میں ہوا۔ قرآن انسان کو نہ مکمل طور پر ہجوم میں گم کرتا ہے اور نہ اسے مطلق خودمختار فرد بناتا ہے، بلکہ دونوں کے درمیان ایک متوازن رشتہ قائم کرتا ہے۔

اسی طرح اختلاف اور وحدت بھی انسانی معاشرے کی دو حقیقتیں ہیں۔ ہر انسان کا مزاج، سوچ، تجربہ، زبان اور فہم مختلف ہوتا ہے۔ یہ اختلاف فطری ہے۔ قرآن نے رنگوں، زبانوں اور قوموں کے فرق کو “آیاتِ الٰہی” کہا ہے۔ لیکن یہی اختلاف اگر نفرت، تکبر اور برتری کے احساس میں بدل جائے تو معاشرہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وحدت کے نام پر ہر فرق کو مٹانے کی کوشش کی جائے تو انسانی تنوع اور تخلیقی قوت ختم ہوجاتی ہے۔ اس لیے قرآن ایک ایسی وحدت چاہتا ہے جو تنوع کو ختم نہ کرے بلکہ اسے ایک بڑے مقصد کے اندر جوڑ دے۔ جیسے جسم کے مختلف اعضا ایک جیسے نہیں ہوتے مگر ایک ہی زندگی کے لیے کام کرتے ہیں۔

نفسیاتی سطح پر بھی انسان متضاد کیفیتوں کا مجموعہ ہے۔ اس کے اندر خواہش بھی ہے اور ضمیر بھی، جذبات بھی ہیں اور عقل بھی، خوف بھی ہے اور جرات بھی، محبت بھی ہے اور غصہ بھی۔ اگر انسان صرف خواہشات کے تابع ہوجائے تو حیوانیت پیدا ہوتی ہے اور اگر صرف خشک عقل کے تابع ہوجائے تو زندگی بے روح ہوجاتی ہے۔ اسی لیے ایک متوازن شخصیت وہ ہوتی ہے جس میں جذبات کو دبایا نہیں جاتا بلکہ عقل اور اخلاق کی روشنی میں منظم کیا جاتا ہے۔

مثلاً غصہ بظاہر ایک منفی جذبہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر غصہ نہ ہو تو انسان ظلم کے خلاف کھڑا بھی نہیں ہوسکے گا۔ دوسری طرف اگر صرف غصہ ہو اور حلم نہ ہو تو تباہی پیدا ہوگی۔ اسی طرح محبت انسان کو قربانی، ایثار اور تعلق عطا کرتی ہے، لیکن اگر محبت میں حکمت نہ ہو تو اندھی وابستگی پیدا ہوجاتی ہے۔ قرآن کی اخلاقیات دراصل ان متضاد قوتوں کو ایک صحیح نسبت میں رکھنے کا نام ہے۔

عقل اور وجدان بھی اسی اصول کی مثال ہیں۔ عقل انسان کو تجزیہ، دلیل اور ترتیب دیتی ہے جبکہ وجدان انسان کو معنی، ذوق اور باطنی بصیرت دیتا ہے۔ صرف عقل پر قائم تہذیبیں اکثر سرد، مشینی اور بے رحم ہوجاتی ہیں جبکہ صرف جذبات و وجدان پر قائم معاشرے خرافات اور بے سمتی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ انسانی کمال اس میں ہے کہ عقل وحی کی روشنی میں وجدان کو منظم کرے اور وجدان عقل کو انسانیت اور حرارت عطا کرے۔

تعلیم کی دنیا میں بھی یہی قانون کارفرما ہے۔ محض معلومات انسان نہیں بناتیں اور صرف اخلاقی نصیحتیں بھی کافی نہیں ہوتیں۔ علم اور تربیت، مہارت اور حکمت، تحقیق اور تزکیہ — یہ سب ایک دوسرے کے تکملہ ہیں۔ جدید نظامِ تعلیم کی ایک بڑی کمزوری یہی ہے کہ اس نے انسان کے ذہن کو تو تربیت دی مگر روح، اخلاق اور تعلقات کو نظرانداز کردیا، نتیجہ یہ نکلا کہ انسان زیادہ “قابل” تو ہوگیا مگر زیادہ “انسان” نہ بن سکا۔

خاندان کے اندر بھی یہی حقیقت نظر آتی ہے۔ والدین اور اولاد دو مختلف نسلیں ہیں؛ ایک کے پاس تجربہ ہے، دوسرے کے پاس تازگی اور توانائی۔ اگر پرانی نسل نئی نسل کو دبانے لگے تو جمود پیدا ہوتا ہے اور اگر نئی نسل ہر روایت کو رد کردے تو شناخت ٹوٹ جاتی ہے۔ صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں روایت اور تجدید ایک دوسرے کی دشمن نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کی اصلاح اور تکمیل کریں۔

یہاں ایک بہت اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کائنات کی بنیاد جوڑوں، توازن اور تکمیل پر قائم ہے تو پھر انسانی سماج میں ہمیں “جدائی” کو فروغ دینا چاہیے یا “جوڑنے” کو؟

قرآن کا جواب یہ ہے کہ اصل مقصد “جوڑنا” ہے، لیکن ہر جوڑ صحیح نہیں ہوتا اور ہر جدائی غلط نہیں ہوتی۔ قرآن جس وصل کی دعوت دیتا ہے وہ حق، عدل، رحمت اور تقویٰ پر قائم تعلق ہے، اور جس جدائی کی اجازت دیتا ہے وہ ظلم، فساد، باطل اور اخلاقی تباہی سے علیحدگی ہے۔

یعنی اصولی طور پر کائنات کا رخ اتصال، ربط اور تکمیل کی طرف ہے، نہ کہ انتشار اور نفرت کی طرف۔ اسی لیے قرآن صلہ رحمی، اخوت، اصلاحِ ذات البین، امت کی وحدت اور دلوں کے جوڑنے پر زور دیتا ہے۔ خدا نے انسان کو تنہا نہیں بنایا؛ انسان رشتوں میں جیتا ہے۔ اس کی روح بھی تعلق چاہتی ہے، اس کی عقل بھی مکالمہ چاہتی ہے اور اس کی سماجی بقا بھی باہمی تعاون پر قائم ہے۔

لیکن یہ وحدت اندھی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کوئی تعلق ظلم، استحصال، گناہ یا باطل پر قائم ہو تو وہاں جدائی خود ایک اخلاقی فریضہ بن جاتی ہے۔ قرآن نے ابراہیمؑ کی زبان سے بتایا کہ انہوں نے اپنی قوم کے شرکیہ نظام سے براءت اختیار کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام “ہر قیمت پر اتحاد” کا قائل نہیں بلکہ “حق پر مبنی وحدت” کا قائل ہے۔

لہٰذا انسانی سماج میں اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے، تنوع کو فساد نہ بننے دیا جائے، اور جدائی کو نفرت کی بنیاد نہ بنایا جائے۔ انسانوں، خاندانوں، مکاتبِ فکر اور قوموں کے درمیان ربط، مکالمہ اور تعاون پیدا کرنا کائناتی سنت کے زیادہ قریب ہے، کیونکہ پوری کائنات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی حقیقتوں کا نظام ہے۔

جب انسان اس اصول کو سمجھ لیتا ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ زندگی کا حسن یکسانیت میں نہیں بلکہ متوازن تنوع میں ہے۔ کمال اس میں نہیں کہ سب ایک جیسے ہوجائیں، بلکہ اس میں ہے کہ مختلف حقیقتیں ایک اعلیٰ مقصد کے اندر ہم آہنگ ہوجائیں۔ یہی توحید کا سماجی اور تہذیبی ظہور ہے کہ کثرت ایک مرکز کے گرد نظم پالے، نہ کہ ٹکراؤ اور بکھراؤ میں تبدیل ہوجائے۔

کسی چیز کا “جوڑا” بننا محض اس بات کا نام نہیں کہ دو اشیاء ایک ساتھ موجود ہوں، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان ایک ایسا تناسب، مناسبت، ہم آہنگی اور تکمیلی ربط ہو جو انہیں ایک وحدت میں بدل دے۔ دو چیزیں صرف قریب ہونے سے “جوڑا” نہیں بنتیں، بلکہ اس وقت جوڑا بنتی ہیں جب ان کی ساخت، مقصد، نوعیت اور باہمی نسبت ایک دوسرے کے ساتھ ایسی مطابقت پیدا کرے کہ وہ مل کر ایک مکمل معنی اور نظام تشکیل دیں۔

اسی لیے یہ جو مثال دی جاتی ہے کہ جوتا جوتے کے ساتھ جوڑا بناتا ہے مگر جوتا چپل کے ساتھ نہیں، اس کے اندر ایک گہرا فلسفیانہ اور سماجی اصول پوشیدہ ہے۔ جوتے کے جوڑے میں صرف ظاہری مشابہت نہیں ہوتی بلکہ ان دونوں کے درمیان مقصد، ساخت، ڈیزائن، پیمائش، استعمال اور سمت کا ایک ایسا ربط ہوتا ہے جو انہیں “ایک اکائی” بناتا ہے۔ اگر ایک ہی پاؤں کے دو جوتے ہوں یا ایک جوتا اور ایک چپل ہو تو دونوں الگ الگ موجود ہونے کے باوجود “جوڑا” نہیں بنتے، کیونکہ ان کے درمیان وہ تناسب اور تکمیلی ربط موجود نہیں جو وحدت پیدا کرے۔

یہی اصول انسانی زندگی، تعلقات، معاشرے، فکر اور تہذیب میں بھی کارفرما ہے۔ ہر تعلق اس وقت صحیح “جوڑا” بنتا ہے جب اس کے دونوں فریق ایک دوسرے کی نفی نہیں بلکہ تکمیل کریں۔ یعنی ان کے درمیان صرف قربت نہ ہو بلکہ ایک ہم آہنگ مقصد، مشترک بنیاد اور داخلی مناسبت بھی ہو۔

انسانی تعلقات میں یہ اہلیت صرف ظاہری مشابہت سے پیدا نہیں ہوتی۔ دو انسان ایک جیسے شوق رکھتے ہوں، ایک جیسی زبان بولتے ہوں یا ایک جیسے ماحول سے آئے ہوں، پھر بھی ممکن ہے کہ وہ ایک حقیقی جوڑا نہ بن سکیں۔ اس کے برعکس دو مختلف مزاج رکھنے والے لوگ ایک گہری وحدت پیدا کرسکتے ہیں اگر ان کے درمیان مقصد، اقدار اور روحانی سمت مشترک ہو۔

قرآن نے اسی لیے ازدواجی تعلق میں صرف جسمانی یا سماجی موافقت کو کافی نہیں سمجھا بلکہ “مودّت” اور “رحمت” کی بات کی۔ یعنی اصل جوڑا وہ ہے جہاں دو افراد ایک دوسرے کے لیے سکون، تکمیل اور ارتقا کا ذریعہ بنیں۔ اگر تعلق صرف خواہش، فائدے یا وقتی جذبات پر قائم ہو تو وہ دیرپا وحدت پیدا نہیں کرسکتا، کیونکہ اس میں وہ داخلی تناسب موجود نہیں ہوتا جو دو وجودوں کو حقیقی معنی میں “زوج” بناتا ہے۔

اسی طرح فکر اور علم میں بھی ہر چیز ہر چیز کے ساتھ نہیں جڑ سکتی۔ اگر کسی انسان کے ذہن میں ایک طرف خالص مادہ پرستانہ تصورِ انسان ہو اور دوسری طرف وہ الٰہی اخلاقیات کو بھی اسی شدت سے اپنانا چاہے، تو اس کے اندر ایک فکری تصادم پیدا ہوگا، کیونکہ دونوں بنیادیں ایک دوسرے سے مکمل مناسبت نہیں رکھتیں۔ اسی لیے ہر تہذیب اپنے اندر کچھ بنیادی اصول رکھتی ہے جن کے ساتھ دوسرے خیالات یا تو ہم آہنگ ہوجاتے ہیں یا تصادم پیدا کرتے ہیں۔

نفسیاتی دنیا میں بھی یہی اصول ہے۔ انسان کے اندر مختلف صفات اس وقت ایک صحت مند شخصیت بناتی ہیں جب ان کے درمیان تناسب ہو۔ مثال کے طور پر خود اعتمادی اگر عاجزی کے ساتھ متوازن ہو تو انسان مضبوط اور مہذب بنتا ہے، لیکن اگر خود اعتمادی تکبر سے جڑ جائے تو شخصیت بگڑ جاتی ہے۔ اسی طرح حساسیت اگر حکمت کے ساتھ جڑی ہو تو انسان رحیم بنتا ہے، لیکن اگر وہ کمزوری اور بے سمتی کے ساتھ جڑ جائے تو انسان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ “جوڑا بننے” کا اصل معیار صرف ظاہری قربت یا مشابہت نہیں بلکہ تین بنیادی حقیقتیں ہیں: پہلی حقیقت “مناسبت” ہے، یعنی دونوں چیزوں کی داخلی ساخت اور مزاج میں ایسا تعلق ہو جو ایک دوسرے سے مانوس ہوسکے۔ دوسری حقیقت “تکمیل” ہے، یعنی دونوں ایک دوسرے کی کمی پوری کریں نہ کہ ایک دوسرے کو توڑیں۔ تیسری حقیقت “مشترک مقصد” ہے، یعنی دونوں کا رخ کسی ایک بڑی حقیقت یا منزل کی طرف ہو۔

اگر ان تین میں سے کوئی بنیادی عنصر غائب ہوجائے تو تعلق باقی رہ سکتا ہے مگر حقیقی “جوڑا” وجود میں نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ بظاہر ایک ساتھ رہتے ہیں مگر اندر سے منتشر ہوتے ہیں، جبکہ بعض لوگ فکری، روحانی یا اخلاقی طور پر ایک ایسی وحدت پیدا کرلیتے ہیں جو انہیں حقیقی رفاقت عطا کرتی ہے۔

قرآن جب “ازواج” کی بات کرتا ہے تو وہ صرف دو الگ الگ وجودوں کی بات نہیں کرتا بلکہ ایک ایسے تخلیقی نظام کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں ہر چیز اپنی مناسب ضد یا تکمیلی حقیقت کے ساتھ جڑ کر توازن پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات میں بے ربط امتزاج فساد پیدا کرتا ہے جبکہ صحیح نسبت حسن، نظام اور بقا پیدا کرتی ہے۔

اسی اصول کو اگر سماجی زندگی میں سمجھ لیا جائے تو انسان جان لیتا ہے کہ ہر اتحاد مفید نہیں اور ہر اختلاف نقصان دہ نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ “دو چیزیں ساتھ ہیں یا نہیں”، بلکہ یہ ہے کہ آیا ان کے درمیان وہ داخلی مناسبت، اخلاقی ہم آہنگی اور مقصدی وحدت موجود ہے جو انہیں ایک حقیقی “جوڑا” بنا سکے۔

اس طرح کائنات کی زوجیت محض ایک طبیعی یا حیاتیاتی حقیقت نہیں بلکہ ایک گہرا فکری اور روحانی سبق بھی ہے۔ یہ انسان کو سکھاتی ہے کہ وجود کی حقیقت یک رخی نہیں بلکہ توازن، ربط اور باہمی تکمیل میں پوشیدہ ہے۔ بظاہر متضاد چیزیں دراصل ایک بڑے نظام کی دو جہتیں ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن انسان کو بار بار دعوت دیتا ہے کہ وہ آفاق اور انفس میں غور کرے، کیونکہ جو شخص اس حکمت کو سمجھ لیتا ہے وہ جان لیتا ہے کہ کائنات کا خالق ایک ایسا رب ہے جس نے ہر چیز کو میزان، تناسب اور حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2976

ٹیگز

تبصرے