17

لوگوں کی منظوری سے آزادی کا سفر

  • نیوز کوڈ : 2983
  • 20 May 2026 - 3:02
لوگوں کی منظوری سے آزادی کا سفر

لوگوں کی منظوری سے آزادی کا سفر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

انسانی شخصیت کی تشکیل میں ایک نہایت بنیادی مسئلہ دوسروں کی مسلسل منظوری (approval) کی تلاش ہے۔ یہ رویہ بظاہر معمولی سا لگتا ہے مگر درحقیقت یہ انسان کے اندر خود اعتمادی (self-confidence) اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو آہستہ آہستہ کمزور کر دیتا ہے۔ جب کوئی فرد ہر قدم پر یہ دیکھنے لگے کہ لوگ اس کے بارے میں کیا سوچیں گے، اس کا فیصلہ درست سمجھا جائے گا یا نہیں، تو وہ اپنی داخلی رہنمائی یعنی اپنی عقل، تجربے اور وجدان پر اعتماد کھو دیتا ہے۔ یوں اس کی شخصیت ایک ایسے آئینے کی طرح ہو جاتی ہے جو ہمیشہ دوسروں کے چہروں کو منعکس کرتا رہتا ہے مگر اپنی اصل صورت کو پہچان نہیں پاتا۔

یہ کیفیت اکثر بچپن سے ہی شروع ہو جاتی ہے جب بچے کو ہر اچھے کام پر صرف اسی وقت تعریف ملتی ہے جب وہ بڑوں کی توقعات کے مطابق ہو۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ اس کی قدر اس کے اپنے فیصلوں سے نہیں بلکہ دوسروں کی رائے سے متعین ہوتی ہے۔ یہی رویہ بڑے ہو کر بھی برقرار رہتا ہے، جہاں انسان ہر فیصلہ کرنے سے پہلے دوستوں، خاندان یا سوشل میڈیا کے ردعمل کے بارے میں سوچتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک نوجوان اگر کوئی کیریئر منتخب کرنا چاہے مگر اندر سے اسے آرٹ یا لکھنے کا شوق ہو، لیکن وہ صرف اس لیے انجینئرنگ یا میڈیکل کی طرف چلا جائے کہ معاشرہ اسی کو کامیاب سمجھتا ہے، تو یہ دراصل اپنی اندرونی آواز کو دباکر بیرونی منظوری کے پیچھے بھاگنے کی واضح مثال ہے۔

اسی طرح سوشل میڈیا کے دور میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ لوگ اپنی زندگی کے لمحات کو اس زاویے سے دیکھنے لگے ہیں کہ اس پر کتنے لائکس آئیں گے، کتنے کمنٹس ملیں گے، اور لوگ اسے کس نظر سے دیکھیں گے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل زندگی ثانوی اور دکھاوے کی زندگی بنیادی بن جاتی ہے۔ انسان اپنی خوشی کو بھی دوسروں کی تالیاں سن کر محسوس کرنے لگتا ہے، اور اگر وہ تالیاں نہ بجیں تو وہی خوشی بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے۔

دوسروں کی منظوری پر انحصار کرنے والا شخص اکثر فیصلہ سازی میں غیر مستقل مزاج ہو جاتا ہے۔ وہ ایک دن ایک رائے رکھتا ہے اور دوسرے دن کسی اور کی رائے سن کر اسے بدل دیتا ہے۔ اس کے اندر وہ استحکام پیدا نہیں ہو پاتا جو مضبوط شخصیت کی پہچان ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو انسان اپنی سوچ، تجربے اور اصولوں پر اعتماد کرتا ہے وہ اختلاف رائے کے باوجود اپنی راہ پر قائم رہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوسروں کی بات نہیں سنتا، بلکہ وہ سنتا ضرور ہے مگر فیصلہ اپنی بصیرت سے کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر فیصلہ کرنے کی ایک قدرتی صلاحیت موجود ہوتی ہے، لیکن جب وہ مسلسل بیرونی منظوری کا محتاج بن جائے تو یہ صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے۔ جیسے ایک عضلہ اگر استعمال نہ کیا جائے تو کمزور ہو جاتا ہے، ویسے ہی خود اعتمادی بھی مسلسل دوسروں پر انحصار سے مضمحل ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان نہ صرف اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتا ہے بلکہ بڑے مواقع پر بھی ہچکچاہٹ کا شکار رہتا ہے۔

اس کیفیت سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان آہستہ آہستہ اپنے چھوٹے چھوٹے فیصلوں کی ذمہ داری خود لینا شروع کرے اور ان کے نتائج کو قبول کرنا سیکھے۔ ابتدا میں ممکن ہے کہ غلطیاں ہوں، لیکن یہی غلطیاں دراصل سیکھنے اور مضبوط ہونے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب انسان یہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے، تو اس کے اندر ایک خاموش مگر مضبوط اعتماد پیدا ہوتا ہے جو اسے دوسروں کی غیر ضروری رائے سے آزاد کر دیتا ہے۔

اصل آزادی دراصل یہی ہے کہ انسان اپنی سوچ کا مالک ہو، نہ کہ دوسروں کی توقعات کا قیدی۔ جب انسان اس مقام تک پہنچ جاتا ہے تو پھر وہ نہ صرف بہتر فیصلے کرتا ہے بلکہ زیادہ پُرسکون اور متوازن زندگی بھی گزارتا ہے، کیونکہ اب اس کی خوشی کا معیار باہر کی دنیا نہیں بلکہ اس کا اپنا اندرونی اطمینان ہوتا ہے۔

قرآنِ مجید اور حدیثِ ثقلین کی روشنی میں انسان کی شخصیت، اس کے فیصلے اور اس کی فکری آزادی کا بنیادی اصول یہ سامنے آتا ہے کہ انسان کی اصل وفاداری اور حتمی رہنمائی کا مرکز اللہ کی ہدایت اور اس کے مقرر کردہ ہادیان ہیں، نہ کہ لوگوں کی آراء، خواہشات اور وقتی اجتماعی دباؤ۔ قرآن بار بار اس نفسیاتی اور سماجی بیماری کی طرف توجہ دلاتا ہے جس میں انسان حق کو اس لیے چھوڑ دیتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے یا لوگ کیا سوچیں گے۔ یہ وہی کیفیت ہے جسے دوسرے الفاظ میں مستقل “approval seeking” کہا جا سکتا ہے، یعنی انسان کا اپنے اندرونی یقین کے بجائے بیرونی منظوری پر انحصار کرنا۔

قرآن کریم میں واضح طور پر یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ اگر تم زمین پر موجود اکثر لوگوں کی بات ماننے لگو تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔ یہ اصول دراصل ایک نفسیاتی حقیقت بھی بیان کرتا ہے کہ اکثریت ہمیشہ حق کی نمائندہ نہیں ہوتی، بلکہ اکثر اوقات اجتماعی رجحانات جذبات، مفادات اور تعصبات سے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے قرآن انسان کو یہ تربیت دیتا ہے کہ وہ معیارِ حق کو لوگوں کی رائے کے بجائے وحی اور ہدایت سے لے۔ ایک اور مقام پر قرآن اہلِ ایمان کی یہ صفت بیان کرتا ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کا تعلق حق کے ساتھ مضبوط ہو جائے تو پھر وہ اپنی داخلی بصیرت اور الٰہی ہدایت کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے، نہ کہ سماجی دباؤ کی بنیاد پر۔

اسی طرح قرآن ان لوگوں کی نفسیات کو بھی بے نقاب کرتا ہے جو ہر وقت لوگوں کی خوشنودی کے محتاج رہتے ہیں۔ یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو حق کو جاننے کے باوجود صرف اس خوف سے اسے چھوڑ دیتے ہیں کہ معاشرہ انہیں قبول نہیں کرے گا یا ان کی ساکھ متاثر ہو گی۔ قرآن اس رویے کو ایک طرح کی اندرونی کمزوری اور فکری غلامی کے طور پر پیش کرتا ہے، کیونکہ اس میں انسان اپنی اصل ذمہ داری یعنی حق کی پیروی کو دوسروں کی رائے کے تابع کر دیتا ہے۔

حدیثِ ثقلین اس پورے تصور کو ایک عملی اور رہنمائی کے نظام میں بدل دیتی ہے۔ اس حدیث کے مطابق نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ واضح فرمایا کہ میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: کتاب اللہ اور میری عترت۔ جب تک تم ان دونوں سے وابستہ رہو گے کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ اس کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ انسان کی فکری، اخلاقی اور عملی رہنمائی کا مستقل معیار قرآن اور اہلِ بیت علیہم السلام کی ہدایت ہے، نہ کہ زمانے کے بدلتے ہوئے رجحانات یا لوگوں کی خواہشات۔

اس تناظر میں جب انسان ہر فیصلے میں لوگوں کی منظوری تلاش کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے آپ کو اس مستقل ہدایت کے نظام سے ہٹا کر ایک غیر مستحکم اور بدلتے ہوئے اجتماعی دباؤ کے تابع کر دیتا ہے۔ جبکہ قرآن اور ثقلین کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی فکری اور عملی مرکزیت کو اللہ کی ہدایت سے جوڑے رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ ایمان کی ایک بڑی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ حق کو دلیل اور ہدایت کی بنیاد پر قبول کرتے ہیں، نہ کہ اس بنیاد پر کہ معاشرہ اسے پسند کرے گا یا نہیں۔

اگر اس تصور کو عملی زندگی پر منطبق کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب کسی درست بات کو سمجھ لے، کسی صحیح راستے کو پہچان لے یا کسی اخلاقی فیصلے تک پہنچ جائے تو اسے محض اس لیے ترک نہ کرے کہ لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔ کیونکہ قرآن کے مطابق اصل نقصان لوگوں کی ناراضی نہیں بلکہ حق سے دوری ہے، اور اصل کامیابی لوگوں کی خوشنودی نہیں بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ حدیثِ ثقلین بھی انسان کو اسی مرکز کی طرف واپس لاتی ہے کہ اپنی فکری اور عملی وابستگی کو ایسے معیار سے جوڑو جو ثابت، الٰہی اور غیر متغیر ہو، نہ کہ ایسے معیار سے جو وقت اور معاشرے کے ساتھ بدل جاتا ہے۔

یوں قرآن اور ثقلین کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دوسروں کی مستقل منظوری کی تلاش دراصل انسان کو ایک طرح کی فکری غلامی میں مبتلا کر دیتی ہے، جبکہ حقیقی آزادی یہ ہے کہ انسان اپنی بصیرت کو وحی اور الٰہی ہدایت کے تابع کر دے اور پھر استقامت کے ساتھ حق پر قائم رہے، چاہے وقتی طور پر لوگ اس کی تائید کریں یا مخالفت۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2983

ٹیگز

تبصرے