3

غالب و اقبال: تنقیدی شعور سے تخلیقی ہدایت تک

  • نیوز کوڈ : 2972
  • 20 May 2026 - 2:49
غالب و اقبال: تنقیدی شعور سے تخلیقی ہدایت تک

غالب و اقبال: تنقیدی شعور سے تخلیقی ہدایت تک

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

غالب اور اقبال کے ذہنی سانچے کو اگر محض ادبی ذوق یا تاریخی ارتقا کے زاویے سے نہیں بلکہ “تخلیقی و تنقیدی شعور” اور قرآن و ثقلین کے فکری معیار کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ دونوں شخصیات دو مختلف مگر باہم مربوط ذہنی جہات کی نمائندگی کرتی نظر آتی ہیں۔ ایک وہ شعور ہے جو حقیقت کو سوال کی صورت میں دریافت کرتا ہے، اور دوسرا وہ شعور ہے جو حقیقت کو ارادے، مقصد اور اخلاقی سمت میں ڈھالتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان فرق محض اسلوب یا شاعری کا نہیں بلکہ وجود، علم اور انسان کے مقصدِ حیات کی تعبیر کا فرق ہے۔

غالب کا ذہنی سانچہ بنیادی طور پر “تنقیدی شعور” کا نمائندہ ہے۔ اس کے ہاں انسان ایک ایسے وجود کے طور پر سامنے آتا ہے جو حقیقت کے سامنے حیران بھی ہے اور اس پر سوال اٹھانے پر مجبور بھی۔ غالب کا ذہن کائنات کو ایک “مسئلہ” کے طور پر دیکھتا ہے، جس کا کوئی آسان یا سطحی جواب ممکن نہیں۔ اس کی فکر میں ایک مسلسل داخلی مکالمہ ہے جہاں یقین اور شک ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یہ وہ ذہن ہے جو وجود کو کھول کر دیکھتا ہے، اس کی پرتیں توڑتا ہے، اور پھر یہ دریافت کرتا ہے کہ ہر جواب اپنے اندر ایک نیا سوال چھپا ہوا رکھتا ہے۔ اسی لیے غالب کے ہاں علم ایک “مستحکم حقیقت” نہیں بلکہ “کھلتا ہوا تجربہ” ہے۔

یہ تنقیدی شعور قرآن کے اس عمومی اصول سے مکمل طور پر متصادم نہیں بلکہ ایک خاص حد تک ہم آہنگ بھی ہے، کیونکہ قرآن بھی انسان کو غور، تدبر اور تفکر کی دعوت دیتا ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ قرآن کا سوال انسان کو محض حیرت یا شک میں نہیں چھوڑتا بلکہ اسے ایک اخلاقی اور وجودی سمت دیتا ہے۔ جبکہ غالب کا شعور زیادہ تر “وجودی حیرت” کی سطح پر رہتا ہے، جہاں سوال کی گہرائی تو بڑھتی ہے مگر جواب کی سمت واضح نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ غالب کا انسان زیادہ داخلی، زیادہ انفرادی اور زیادہ فکری تنہائی میں جیتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

اس کے برعکس اقبال کا ذہنی سانچہ “تخلیقی اور تعمیری شعور” کی نمائندگی کرتا ہے۔ اقبال کے ہاں سوال ختم نہیں ہوتا بلکہ سوال ایک مقصد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہ وجود کو محض سمجھنے کی چیز نہیں سمجھتے بلکہ اسے بدلنے اور سنوارنے کی ذمہ داری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے ہاں علم کا مقصد حیرت نہیں بلکہ حرکت ہے، اور شعور کا مقصد تجزیہ نہیں بلکہ تعمیر ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال کا ذہن قرآن کے زیادہ قریب محسوس ہوتا ہے، کیونکہ قرآن انسان کو صرف کائنات کا مشاہدہ کرنے والا نہیں بلکہ زمین میں خلافت ادا کرنے والا وجود قرار دیتا ہے۔

قرآن کے مطابق انسان کا علم اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ اسے عمل، اخلاق اور عدل کی صورت میں ظاہر نہ کرے۔ اقبال اسی قرآنی منطق کو فکری سطح پر شاعری میں منتقل کرتے ہیں۔ وہ انسان کو “فکر کرنے والے حیوان” کے بجائے “ذمہ دار اور خود شعور وجود” کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے ہاں تنقید کا مقصد محض توڑنا نہیں بلکہ تعمیرِ نو ہے۔ اسی لیے اقبال کے ذہن میں تنقیدی عنصر موجود ہونے کے باوجود وہ حتمی طور پر تخریبی نہیں بلکہ تعمیری رخ اختیار کرتا ہے۔

ثقلین یعنی قرآن اور اہلِ بیتؑ کی فکر کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک متوازن علمی شخصیت وہ ہے جس میں دونوں عناصر یعنی تنقیدی سوال اور تعمیری ہدایت یکجا ہوں۔ محض تنقیدی شعور انسان کو شک اور فکری انتشار کی طرف لے جا سکتا ہے اگر اس کے ساتھ کوئی اخلاقی اور وحیاتی سمت نہ ہو۔ اسی طرح محض تعمیری شعور اگر بغیر سوال اور تنقید کے ہو تو وہ جمود اور تقلید میں بدل سکتا ہے۔ قرآن کا مطلوب انسان وہ نہیں جو سوال کرنا چھوڑ دے، اور نہ وہ جو سوال میں گم ہو جائے، بلکہ وہ ہے جو سوال کو ہدایت کے ساتھ جوڑ دے۔

اس زاویے سے دیکھا جائے تو غالب اور اقبال دو الگ انتہاؤں کے نمائندہ نہیں بلکہ ایک ہی علمی تسلسل کے دو مختلف مراحل ہیں۔ غالب انسانی شعور کو اس کی گہرائیوں اور پیچیدگیوں تک لے جاتے ہیں، جہاں انسان اپنے وجود کو براہِ راست محسوس کرتا ہے۔ اقبال اسی شعور کو ایک اخلاقی، اجتماعی اور الٰہی مقصد کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ یوں غالب وہ مقام ہیں جہاں ذہن “جاننے” کے درد سے گزرتا ہے، اور اقبال وہ مقام ہیں جہاں ذہن “جینے” کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔

اگر قرآنی معیار کو مرکزی کسوٹی بنایا جائے تو تخلیقی شعور وہ ہے جو انسان کو خدا کی طرف لے جائے، نہ صرف سوال کے ذریعے بلکہ عمل کے ذریعے بھی۔ تنقیدی شعور اس وقت تک قیمتی ہے جب تک وہ انسان کو غرور یا لامتناہی شک میں قید نہ کر دے، اور تعمیری شعور اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ سوال کی گہرائی کو تسلیم نہ کرے۔ اس لیے کامل فکری انسان وہ ہے جس کے اندر غالب کی گہرائی بھی ہو اور اقبال کی سمت بھی، یعنی وہ حقیقت کو بھی سوال کی طرح دیکھے اور اسے ذمہ داری کی طرح جئے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ غالب انسانی شعور کی “کھوج” ہیں اور اقبال انسانی شعور کی “تکمیل کی کوشش”۔ ایک انسان کو اندر کی طرف گہرا کرتا ہے اور دوسرا اسی انسان کو باہر کی طرف متحرک کرتا ہے۔ قرآن ان دونوں کو رد نہیں کرتا بلکہ ان کو ایک ایسے متوازن شعور میں ڈھالنا چاہتا ہے جہاں فکر بھی ہو اور عمل بھی، سوال بھی ہو اور جواب کی سمت بھی، اور انسان محض سوچنے والا نہیں بلکہ ہدایت یافتہ کردار بن جائے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2972

ٹیگز

تبصرے