بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
کسی بھی معاشرے میں اقلیت اور اکثریت کے درمیان تعلق محض عددی برتری اور کمی کا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی، سماجی اور سیاسی تعامل (interaction) ہوتا ہے جس میں شناخت، تحفظ، طاقت، اعتماد اور انصاف کے تصورات مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ برسرِپیکار رہتے ہیں۔ جب کوئی اقلیت اپنی جدوجہد کو صرف اپنے حقوق کے حصول تک محدود رکھنے کے بجائے وسیع تر انسانی فریم ورک میں لے جا کر نہ صرف اپنے بلکہ اکثریت اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کے لیے بھی اسی سطح کی سرگرمی دکھاتی ہے جس سطح کی وہ اپنے لیے دکھاتی ہے، تو یہ رویہ محض ایک اخلاقی اپروچ نہیں رہتا بلکہ ایک گہری اسٹریٹیجک اور نفسیاتی حکمتِ عملی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
نفسیاتی طور پر دیکھا جائے تو اس طرزِ عمل کی بنیاد “اجتماعی شناخت” (collective identity) کی توسیع پر ہوتی ہے۔ عام طور پر اقلیتیں تاریخی تجربات، عدم تحفظ، یا امتیازی سلوک کے باعث ایک محدود “ہم بمقابلہ وہ” (us versus them) کے تصور میں زندہ رہتی ہیں۔ اس میں “ہم” صرف اپنی بقا اور حقوق کے گرد سمٹ جاتا ہے جبکہ “وہ” اکثر اکثریت یا دیگر گروہوں کو غیر شعوری طور پر مقابل یا خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لیکن جب ایک اقلیت اس فریم سے باہر نکل کر دوسرے گروہوں کے حقوق کے لیے بھی اسی شدت اور خلوص سے کھڑی ہوتی ہے، تو یہ اس کے اندر موجود دفاعی نفسیات (defensive psychology) کو کمزور کر کے اعتماد پر مبنی شناخت (confidence-based identity) کو مضبوط کرتی ہے۔ اس سے اس گروہ کے اندر victimhood کا احساس کم ہوتا ہے اور agency یعنی مؤثر کردار ادا کرنے کا شعور بڑھتا ہے۔
سماجی نفسیات کی سطح پر یہ عمل “ریپروسیٹی اصول” (principle of reciprocity) کو فعال کرتا ہے۔ معاشرتی تعلقات میں جب ایک گروہ صرف اپنے لیے مطالبہ نہیں کرتا بلکہ دوسروں کے لیے بھی انصاف کی بات کرتا ہے تو اس کے تئیں عمومی سماجی اعتماد (social trust) میں اضافہ ہوتا ہے۔ اکثریت کے اندر یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہ اقلیت صرف اپنے مفاد کی سیاست نہیں کر رہی بلکہ ایک اخلاقی اور اجتماعی نظام کی تعمیر میں شریک ہے۔ نتیجتاً اس اقلیت کی مزاحمتی سیاست (contentious politics) نرم ہو کر زیادہ قابلِ قبول اور زیادہ مؤثر بن جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے اقلیتی گروہوں کے ساتھ اس کا اتحاد بھی ممکن ہوتا ہے، جس سے “cross-group solidarity” جنم لیتی ہے جو کسی بھی پیچیدہ معاشرے میں طاقت کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔
سیاسی نفسیات کے اعتبار سے یہ رویہ “زیرو سم گیم” (zero-sum thinking) کو چیلنج کرتا ہے، جس میں ایک گروہ کی کامیابی دوسرے کی ناکامی تصور کی جاتی ہے۔ جب کوئی اقلیت اس ذہنیت سے باہر نکل کر “پوزیٹو سم” یا باہمی فائدے (mutual gain) کے تصور کو اپناتی ہے تو وہ دراصل طاقت کے روایتی توازن کو اخلاقی بنیادوں پر دوبارہ تشکیل دینے کی کوشش کرتی ہے۔ اس سے اس کے مطالبات زیادہ universalize ہو جاتے ہیں، یعنی وہ صرف مخصوص گروہ کے بجائے پورے معاشرتی انصاف کے تناظر میں دیکھے جانے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے رویے رکھنے والے گروہ بعض اوقات عددی طور پر کم ہونے کے باوجود اخلاقی اور فکری طور پر زیادہ اثر انگیز (influential) بن جاتے ہیں۔
تاہم اس کے ساتھ ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ طرزِ عمل ہمیشہ آسان یا خودکار نہیں ہوتا۔ اقلیتوں کے لیے اپنی محدود سیاسی و سماجی توانائی کو صرف اپنے حقوق سے آگے بڑھا کر وسیع تر انسانی حقوق تک لے جانا ایک نفسیاتی بلوغت (psychological maturity) اور ادارہ جاتی اعتماد کا متقاضی ہوتا ہے۔ اگر معاشرہ شدید عدم مساوات یا مسلسل دباؤ کا شکار ہو تو بعض اوقات یہ وسعت برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے اور گروہ دوبارہ اپنے اندر سمٹنے لگتا ہے۔
اس بات کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی اقلیت صرف اپنے وجود، اپنے حقوق اور اپنی بقا کے دائرے سے نکل کر پورے معاشرے کے لیے انصاف کی آواز بنتی ہے، تو وہ دراصل ایک بہت بڑی نفسیاتی اور سیاسی قیمت ادا کر رہی ہوتی ہے۔ یہ عمل محض نعرہ یا اخلاقی خوبصورتی نہیں بلکہ ایک مسلسل داخلی کشمکش، خوف، عدم تحفظ اور بعض اوقات اپنے ہی حلقوں کی مخالفت کے باوجود ایک وسیع تر انسانی موقف پر قائم رہنے کا نام ہے۔
اقلیتیں عموماً تاریخی تجربات کے باعث اجتماعی خوف (collective fear) کے ساتھ زندہ رہتی ہیں۔ انہیں اکثر یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی توجہ اپنے بنیادی مسائل سے ہٹا دی تو شاید ان کی اپنی بقا خطرے میں پڑ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے گروہ اپنی ساری توانائی صرف اپنی شناخت، اپنے حقوق اور اپنے تحفظ پر مرکوز رکھتے ہیں۔ ایسے میں جب کسی اقلیت کے اندر سے یہ آواز اٹھتی ہے کہ “ہم صرف اپنے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے انصاف چاہتے ہیں”، تو اس کے ساتھ کئی منفی امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔
سب سے پہلی منفی صورت یہ ہوتی ہے کہ اس اقلیت کے اپنے افراد کے اندر یہ خوف پیدا ہو سکتا ہے کہ کہیں ان کی اصل جدوجہد کمزور نہ پڑ جائے۔ انہیں محسوس ہو سکتا ہے کہ ان کی قیادت یا ان کے فعال طبقات “اپنے لوگوں” کے مسائل سے توجہ ہٹا کر ایک وسیع نظریاتی یا انسانی ایجنڈے میں گم ہو رہے ہیں۔ اس سے داخلی بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ “ہم خود محفوظ نہیں اور یہ لوگ دوسروں کی جنگیں لڑنے نکل پڑے ہیں۔” یہی وہ مقام ہے جہاں اقلیت کے اندر internal fragmentation یعنی اندرونی تقسیم شروع ہو سکتی ہے۔
پھر ایک دوسرا نفسیاتی مسئلہ “استحصالِ اخلاق” (moral exploitation) کا ہوتا ہے۔ اکثر اکثریتی یا طاقتور طبقات ایک ایسی اقلیت کے اخلاقی رویے سے فائدہ اٹھانے لگتے ہیں۔ وہ اس کے انصاف پسند کردار کو سراہتے ضرور ہیں مگر عملی سطح پر اس کے اپنے مسائل کو سنجیدگی سے حل نہیں کرتے۔ یوں اقلیت مسلسل دوسروں کے لیے آواز بلند کرتی رہتی ہے لیکن بدلے میں اسے وہی عدم تحفظ، امتیاز یا سیاسی تنہائی ملتی رہتی ہے۔ اس کیفیت میں وقت کے ساتھ تھکن (collective exhaustion) پیدا ہوتی ہے۔ گروہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ مسلسل اخلاقی ذمہ داری نبھا رہا ہے مگر معاشرہ اس کے خلوص کو طاقت میں تبدیل نہیں ہونے دے رہا۔
اس کے علاوہ ایک اہم مسئلہ “شناخت کے تحلیل ہونے” (identity dilution) کا خوف بھی ہوتا ہے۔ جب ایک اقلیت universal values یعنی آفاقی انسانی اقدار کی زبان زیادہ استعمال کرتی ہے تو بعض اوقات اس کے اپنے افراد کو لگتا ہے کہ ان کی مخصوص تاریخی شناخت، ثقافت، یا اجتماعی درد پس منظر میں چلا رہا ہے۔ اس وجہ سے گروہ کے اندر دو رجحانات پیدا ہوتے ہیں: ایک وہ جو وسیع تر انسانی اتحاد چاہتا ہے، اور دوسرا وہ جو شناختی تحفظ (identity preservation) کو ترجیح دیتا ہے۔ اگر ان دونوں کے درمیان توازن قائم نہ رہے تو گروہ یا تو مکمل isolation کی طرف چلا جاتا ہے یا اپنی شناخت کھونے لگتا ہے۔
سیاسی سطح پر بھی یہ راستہ خطرات سے خالی نہیں ہوتا۔ جب کوئی اقلیت صرف اپنے لیے بات کرتی ہے تو اس کا بیانیہ نسبتاً واضح اور محدود ہوتا ہے، لیکن جب وہ پورے معاشرے کے حقوق کی بات کرنے لگتی ہے تو وہ طاقت کے بڑے ڈھانچوں سے ٹکرا جاتی ہے۔ اب اس کی مخالفت صرف تعصب کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اسے ایک “سیاسی چیلنج” کے طور پر دیکھا جانے لگتا ہے۔ طاقتور حلقے اسے اپنے لیے خطرہ سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ایسی اقلیت مختلف طبقات کے درمیان اخلاقی اتحاد پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایسی تحریکوں کو “غدار”، “ایجنٹ”، “ضرورت سے زیادہ نظریاتی”، یا “اپنے دائرے سے باہر نکلنے والا” قرار دے کر بدنام کیا جاتا ہے۔
اسی لیے اس وسعت کو برقرار رکھنے کے لیے صرف جذبات کافی نہیں ہوتے بلکہ نفسیاتی بلوغت ضروری ہوتی ہے۔ نفسیاتی بلوغت کا مطلب یہ ہے کہ ایک گروہ اپنے خوف، غصے، تاریخی زخموں اور عدم تحفظ کے باوجود انصاف کے وسیع اصولوں سے وابستہ رہ سکے۔ وہ ہر ردِ عمل کو اپنی توہین یا ہر اختلاف کو اپنی بقا پر حملہ نہ سمجھے۔ اس کے اندر اتنا اعتماد ہو کہ وہ دوسروں کے حقوق کے لیے کھڑا ہو کر بھی اپنی شناخت محفوظ رکھ سکے۔
اس کے ساتھ ادارہ جاتی اعتماد بھی ضروری ہے۔ اگر کسی اقلیت کو یہ یقین ہی نہ ہو کہ ریاست، قانون، عدلیہ یا سماجی ادارے کم از کم کسی حد تک انصاف دے سکتے ہیں، تو وہ فطری طور پر اپنے اندر سمٹنے لگتی ہے۔ کیونکہ مسلسل غیر محفوظ ماحول میں انسان اور گروہ دونوں survival mode میں چلے جاتے ہیں۔ survival mode میں انسان universal ethics کے بجائے فوری تحفظ کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید جبر، نسل کشی، یا مسلسل امتیازی سلوک کے شکار معاشروں میں اکثر گروہ وسیع انسانی سیاست کے بجائے محض دفاعی شناختی سیاست تک محدود ہو جاتے ہیں۔
لہٰذا ایسی اقلیت اگر واقعی وسیع تر انصاف کی سیاست کرنا چاہتی ہے تو اسے دو سطحوں پر توازن پیدا کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف اسے اپنی کمیونٹی کے حقیقی خوف، محرومی اور شناختی تحفظ کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، اور دوسری طرف اسے اپنے بیانیے کو اتنا وسیع رکھنا چاہیے کہ وہ صرف “اپنے درد” کی سیاست نہ بن جائے بلکہ معاشرے کے مجموعی اخلاقی ضمیر کو اپیل کرے۔ یہی توازن دراصل سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے، اور یہی کسی اقلیت کی فکری پختگی اور سیاسی بصیرت کا اصل امتحان بھی بن جاتا ہے۔
البتہ مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب کوئی اقلیت اپنے حقوق کی جدوجہد کو ایک محدود مفاداتی فریم سے نکال کر ایک وسیع اخلاقی و انسانی فریم میں لے آتی ہے تو وہ نہ صرف اپنے لیے ایک زیادہ مستحکم اور قابلِ قبول سیاسی مقام پیدا کرتی ہے بلکہ پورے معاشرتی نظام میں انصاف، اعتماد اور ہم آہنگی کے امکانات کو بھی بڑھا دیتی ہے۔ یہ عمل دراصل سیاست کو محض طاقت کی کشمکش کے بجائے اخلاقی اور سماجی تعمیر کے ایک مشترکہ پروجیکٹ میں تبدیل کرنے کی ایک مؤثر کوشش بن جاتا ہے۔
