21

علمی سند، شعور اور تخلیقِ فکر

  • نیوز کوڈ : 2928
  • 11 May 2026 - 22:55
علمی سند، شعور اور تخلیقِ فکر

علمی سند، شعور اور تخلیقِ فکر

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

جب ایک تقلیدی ذہن رکھنے والا عالم ایک تخلیقی ذہن رکھنے والے طالب علم کے سامنے آتا ہے تو ان کے درمیان صرف معلومات کا فرق نہیں ہوتا بلکہ حقیقت کو دیکھنے، سوال کو سمجھنے، خوف اور اطمینان کے مراکز، اور علم کے مقصد کے بارے میں بنیادی نفسیاتی فرق موجود ہوتا ہے۔ اسی لیے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دونوں ایک ہی زبان بولتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی اصل کیفیت کو پوری طرح محسوس نہیں کر پاتے۔

تخلیقی ذہن رکھنے والا طالب علم صرف جواب نہیں چاہتا بلکہ وہ “معنی” چاہتا ہے۔ اس کا سوال محض معلوماتی نہیں ہوتا بلکہ وجودی ہوتا ہے۔ وہ جب کوئی سوال اٹھاتا ہے تو اکثر اس کے پیچھے ایک اندرونی کشمکش، فکری اضطراب اور حقیقت تک پہنچنے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔ وہ صرف یہ نہیں جاننا چاہتا کہ “کیا درست ہے”، بلکہ یہ بھی جاننا چاہتا ہے کہ “کیوں درست ہے”، “کیسے درست ہے”، “اس کے پیچھے حکمت کیا ہے” اور “اگر اس کے برعکس سوچا جائے تو کیا ہوگا”۔ اس کے لیے سوال ایک زندہ عمل ہوتا ہے، اور اسی عمل کے ذریعے وہ حقیقت سے تعلق قائم کرتا ہے۔

اس کے برعکس تقلیدی ذہن رکھنے والا عالم اکثر سوال کو “نظم کے تناظر” میں دیکھتا ہے۔ اس کی نفسیات میں استحکام، تسلسل اور محفوظ فکری حدود زیادہ اہم ہوتی ہیں۔ وہ سوال کے اندر موجود فکری اضطراب کو ہمیشہ محسوس نہیں کرتا بلکہ اکثر سوال کو اس زاویے سے دیکھتا ہے کہ آیا یہ سوال نظم کو مضبوط کرے گا یا کمزور۔ اسی لیے بعض اوقات تخلیقی ذہن رکھنے والے طالب علم کے سوالات اسے غیر ضروری پیچیدگی، ذہنی بے راہ روی یا غیر محتاط تجسس محسوس ہوتے ہیں۔ یہاں مسئلہ علم کی کمی نہیں بلکہ نفسیاتی زاویۂ نگاہ کا فرق ہوتا ہے۔

ایک تقلیدی ذہن رکھنے والا عالم تخلیقی ذہن کے سوالات کے مطمئن کنندہ جوابات اس وقت تک نہیں دے سکتا جب تک وہ خود کم از کم کسی درجے میں تخلیقی اضطراب سے نہ گزرا ہو۔ کیونکہ تخلیقی ذہن صرف منطقی جواب سے مطمئن نہیں ہوتا بلکہ وہ یہ محسوس کرنا چاہتا ہے کہ سامنے والا اس کے سوال کی “روح” کو سمجھ رہا ہے۔ اگر عالم صرف تیار شدہ جوابات دے، یا روایت کے اقتباسات دہرا دے، تو تخلیقی ذہن رکھنے والا طالب علم اکثر محسوس کرتا ہے کہ اس کے اصل سوال کو سنا ہی نہیں گیا۔

یہاں ایک نہایت اہم نفسیاتی فرق سامنے آتا ہے۔ تخلیقی ذہن رکھنے والا فرد اکثر تقلیدی ذہن کو نسبتاً آسانی سے سمجھ لیتا ہے، کیونکہ تخلیقی ذہن میں وسعت، تجزیہ اور مختلف زاویوں کو دیکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ ایک تقلیدی ذہن کیوں استحکام چاہتا ہے، کیوں روایت پر اعتماد کرتا ہے، اور کیوں ہر سوال کو مکمل آزادی نہیں دیتا۔ چونکہ تخلیقی ذہن “ممکنات” میں سوچتا ہے، اس لیے وہ اپنے مخالف نفسیاتی زاویے کو بھی تصور کر سکتا ہے۔

لیکن تقلیدی ذہن کے لیے تخلیقی ذہن کو سمجھنا نسبتاً زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقلیدی ذہن بنیادی طور پر “متعین ساخت” کے اندر کام کرتا ہے۔ وہ غیر یقینی، ابہام اور فکری بے ترتیبی کو نفسیاتی خطرہ محسوس کرتا ہے، جبکہ تخلیقی ذہن انہی چیزوں کے اندر سانس لیتا ہے۔ چنانچہ جب تخلیقی ذہن سوال اٹھاتا ہے تو تقلیدی ذہن اکثر اس سوال کے پیچھے موجود “جستجو” کو نہیں بلکہ “خطرہ” کو پہلے محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات تخلیقی طالب علم کو فوراً گستاخ، شکی یا منحرف سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اس کا اصل مسئلہ انکار نہیں بلکہ زیادہ گہری تفہیم کی خواہش ہوتی ہے۔

تخلیقی ذہن کی نفسیات میں ایک بنیادی عنصر “نامکمل اطمینان” ہوتا ہے۔ وہ ہر جواب کے بعد ایک نئے سوال کی طرف بڑھتا ہے۔ اس کے لیے علم ایک بند دروازہ نہیں بلکہ مسلسل کھلنے والا افق ہے۔ اس کے برعکس تقلیدی ذہن “استقرار” کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ وہ ایک ایسے مقام تک پہنچنا چاہتا ہے جہاں ذہن کو سکون مل جائے اور فکری ساخت مستحکم ہو جائے۔ یہی فرق دونوں کے درمیان تعلق کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

جب ایک تخلیقی طالب علم کسی تقلیدی عالم سے سوال کرتا ہے تو وہ دراصل صرف جواب نہیں مانگ رہا ہوتا بلکہ وہ ایک نفسیاتی قبولیت بھی چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی جستجو کو جرم نہ سمجھا جائے۔ اگر عالم اس کے سوال کے پیچھے موجود اضطراب اور خلوص کو پہچان لے تو اکثر وہی طالب علم اس سے گہرا تعلق قائم کر لیتا ہے۔ لیکن اگر سوال کو محض بغاوت یا بے ادبی سمجھ لیا جائے تو طالب علم کے اندر تنہائی اور فکری اجنبیت پیدا ہونے لگتی ہے۔

حقیقت میں بہترین عالم وہ ہوتا ہے جس کے اندر دونوں جہانوں کا کچھ نہ کچھ امتزاج موجود ہو۔ یعنی اس کے اندر روایت کا احترام بھی ہو اور سوال کی گنجائش بھی، نظم کی حفاظت بھی ہو اور تخلیقی ذہن کی نفسیات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی۔ ایسا عالم صرف “جواب دینے والا” نہیں ہوتا بلکہ “ذہنوں کی تربیت کرنے والا” بن جاتا ہے۔ وہ سوال سے خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ سوال کے پیچھے موجود روح کو دیکھتا ہے۔ وہ طالب علم کو صرف خاموش نہیں کرتا بلکہ اس کی جستجو کو صحیح سمت دیتا ہے۔

اسی طرح بہترین طالب علم بھی وہ ہوتا ہے جو اپنی تخلیقی بے چینی کو تکبر میں تبدیل نہ ہونے دے۔ وہ روایت کو محض جمود نہ سمجھے بلکہ یہ پہچانے کہ اسی روایت نے اسے سوال کرنے کی بنیاد بھی فراہم کی ہے۔ جب تخلیقی ذہن ادب سے جڑتا ہے اور تقلیدی ذہن شعور سے، تب علم اپنی متوازن اور ہدایت یافتہ صورت اختیار کرتا ہے۔

اس بحث کی روشنی میں دیکھیں تو رسمی طور پر اجتہاد یا ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرنا اور حقیقی معنوں میں تخلیقی ذہن کا حامل ہونا، یہ دونوں ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ سند ایک ادارہ جاتی اعتراف (institutional recognition) ہے، جبکہ تخلیقی ذہن ایک داخلی نفسیاتی و فکری کیفیت ہے۔ بعض اوقات دونوں ایک ہی شخص میں جمع ہو جاتے ہیں، لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں بہت سے ایسے افراد ملتے ہیں جن کے پاس اعلیٰ ترین علمی اسناد تھیں مگر ان کی فکر بنیادی طور پر تقلیدی، تکراری اور غیر تخلیقی تھی، جبکہ دوسری طرف کچھ ایسے افراد بھی ملتے ہیں جن کے پاس رسمی اسناد محدود تھیں مگر ان کے اندر گہری فکری تخلیق اور اجتہادی بصیرت موجود تھی۔

حقیقی تخلیقی ذہن کی پہچان صرف معلومات کی کثرت یا پیچیدہ اصطلاحات کے استعمال سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ انسان حقیقت کے ساتھ کس نوعیت کا تعلق رکھتا ہے۔ کیا وہ صرف موجود علمی ڈھانچے کو یاد اور منظم کر رہا ہے، یا واقعی نئے زاویے سے دیکھنے، سوال اٹھانے، اصولوں کو زندہ انداز میں سمجھنے اور غیر حل شدہ مسائل سے ٹکرانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ یہی اصل فرق ہے۔

بہت سے لوگ اجتہاد یا ڈاکٹریٹ کے پورے سفر میں بنیادی طور پر “نظام کو کامیابی سے عبور” کرتے ہیں، نہ کہ حقیقت کو نئے انداز میں دریافت۔ یعنی وہ یہ سیکھ لیتے ہیں کہ ادارہ کس قسم کی تحقیق، زبان، استدلال اور حوالہ جات کو قبول کرتا ہے۔ وہ امتحانات، مقالے، مباحث اور رسمی تقاضے پورے کر لیتے ہیں، لیکن ان کے اندر وہ تخلیقی اضطراب پیدا نہیں ہوتا جو نئے علم کی بنیاد بنتا ہے۔ ان کی ذہنی ساخت زیادہ تر “علمی ترسیل” کے لیے موزوں ہوتی ہے، نہ کہ “علمی تخلیق” کے لیے۔

یہ بالکل ویسا ہی فرق ہے جیسے کوئی شخص موسیقی کے تمام قواعد، راگ اور تکنیکیں سیکھ لے مگر اس کے اندر تخلیقی آہنگ پیدا نہ ہو۔ وہ ایک ماہر استاد تو بن سکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ بڑا موسیقار بھی بن جائے۔ اسی طرح ہر مجتہد یا PhD holder لازماً تخلیقی مفکر نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ علمی روایت کے بہترین محافظ ہوتے ہیں، لیکن نئی فکری جہت پیدا کرنے کی صلاحیت نسبتاً کم رکھتے ہیں۔

اس کی ایک نفسیاتی وجہ بھی ہے۔ تخلیقی ذہن صرف ذہانت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک خاص قسم کی داخلی بے چینی، غیر یقینی کو برداشت کرنے کی صلاحیت، اور فکری تنہائی جھیلنے کے حوصلے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ علمی نظام میں کامیاب اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ وہ موجود ڈھانچے کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں۔ وہ “صحیح جواب” دینا سیکھ لیتے ہیں۔ لیکن تخلیقی ذہن اکثر “غلط سوال” اٹھانے کا خطرہ مول لیتا ہے۔ وہ ان جگہوں میں داخل ہوتا ہے جہاں جواب پہلے سے واضح نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض تخلیقی ذہن رسمی نظاموں میں غیر آرام دہ محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ادارے عموماً استحکام، ترتیب اور قابلِ پیمائش کارکردگی چاہتے ہیں، جبکہ تخلیقی ذہن بعض اوقات انہی ساختوں کو چیلنج کرتا ہے۔

دینی مدارس اور جامعات دونوں میں یہ مسئلہ مختلف شکلوں میں موجود ہوتا ہے۔ بعض افراد اجتہاد کے درجے تک پہنچنے کے باوجود اصل میں “تقلیدی اجتہاد” کرتے ہیں۔ یعنی وہ اصولوں کو زندہ تخلیقی عمل کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے سابقہ آراء کے اندر محدود رہتے ہیں۔ ان کے استنباط میں جرأتِ فکر کم اور محفوظ علمی راستوں پر چلنے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض PhD holders تحقیق کے نام پر صرف existing literature کو نئے انداز میں مرتب کرتے ہیں، مگر ان کے اندر کوئی حقیقی نظریاتی یا تخلیقی breakthrough نہیں ہوتا۔

اس کے برعکس کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے اندر حقیقی تخلیقی قوت موجود ہوتی ہے۔ وہ روایت کو توڑنے کے لیے نہیں بلکہ اس کی روح تک پہنچنے کے لیے سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ علم کو جامد مواد کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں، کیونکہ تخلیقی ذہن نفسیاتی طور پر بہت مہنگا ہوتا ہے۔ اسے مسلسل بے یقینی، تنقید، تنہائی اور غلط فہمیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہاں یہ  اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: ہر تخلیقی ذہن لازماً درست نہیں ہوتا، اور ہر غیر تخلیقی ذہن لازماً بے فائدہ نہیں ہوتا۔ انسانی تہذیب کو صرف موجد نہیں بلکہ محافظ بھی چاہیے ہوتے ہیں۔ اگر سب لوگ صرف نئی راہیں نکالنے لگیں تو علم کا تسلسل اور استحکام ٹوٹ سکتا ہے۔ اس لیے علمی دنیا میں کچھ لوگ تخلیق کا کردار ادا کرتے ہیں اور کچھ ترسیل و حفاظت کا۔ مسئلہ صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی غیر تخلیقی ذہن خود کو تخلیقی مفکر سمجھنے لگے، یا جب رسمی سند کو حقیقی فکری گہرائی کا قطعی معیار بنا دیا جائے۔  تخلیقی ذہن  بعض اوقات تقلیدی ذہن کی اہمیت کو کم سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر معاشرہ صرف تخلیقی بے چینی پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اجتماعی نظم، دینی تسلسل، اور علمی روایت کی حفاظت کے لیے ایسے ذہن بھی ضروری ہوتے ہیں جو استحکام اور ترسیل کا کردار ادا کریں۔ اگر صرف تخلیقی ذہن باقی رہ جائیں تو تہذیب مسلسل سوال میں بکھر سکتی ہے۔

حقیقی اجتہاد یا حقیقی تحقیق صرف اسناد سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ انسان حقیقت کے ساتھ کس درجے کا زندہ تعلق رکھتا ہے۔ کیا وہ علم کو محفوظ جملوں میں قید کر چکا ہے، یا اب بھی اس کے اندر سوال کی آگ، حقیقت کی جستجو، اور اپنی ہی فکر پر تنقید کرنے کا حوصلہ موجود ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں رسمی سند ختم ہو جاتی ہے اور اصل علمی شخصیت شروع ہوتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2928

ٹیگز

تبصرے