بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
انسانی تاریخ کا سب سے بنیادی اور پیچیدہ سوال ہمیشہ علم، شعور اور ہدایت کے باہمی تعلق کا رہا ہے۔ انسان صرف ایک حیوانِ ناطق نہیں بلکہ ایک ایسا وجود ہے جو اپنے ہونے کے معنی تلاش کرتا ہے، کائنات کے اسرار پر غور کرتا ہے، اپنے باطن میں سوالات اٹھاتا ہے، اور پھر ان سوالات کے ذریعے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی جستجو انسانی تہذیب، فلسفہ، سائنس، مذہب اور تعلیم کی بنیاد بنتی ہے۔ اگر انسان کے پورے فکری سفر کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ علم صرف معلومات کے ذخیرے کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور مسلسل ارتقا پذیر عمل ہے جس میں عقل، تجربہ، وجدان، وحی، تحقیق اور ترسیل سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
انسانی ذہن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ موجود حقیقت پر اکتفا نہیں کرتا۔ وہ ہر معلوم کے پیچھے ایک اور سوال پیدا کرتا ہے۔ یہی سوال علم کی تخلیق کا نقطۂ آغاز بنتا ہے۔ جب انسان کسی شے کو صرف ظاہری صورت میں قبول کرنے کے بجائے اس کی علت، حکمت اور باطنی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے اندر ایک تخلیقی عمل شروع ہوتا ہے۔ یہ عمل آسان نہیں ہوتا، کیونکہ نئی حقیقت تک پہنچنے کے لیے ذہن کو پرانے تصورات سے ٹکرانا پڑتا ہے۔ انسان اپنے ہی خیالات پر شک کرتا ہے، انہیں توڑتا ہے، نئے مفروضے قائم کرتا ہے اور پھر تجربے، مشاہدے اور تدبر کے ذریعے انہیں پرکھتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں حقیقی فکر جنم لیتی ہے۔
علم کی تخلیق ہمیشہ ایک داخلی اور تنہائی سے بھرپور تجربہ رہی ہے۔ ہر بڑا مفکر، سائنسدان، فلسفی یا مجتہد پہلے اپنے اندر ایک شدید ذہنی کشمکش سے گزرتا ہے۔ اس کے سامنے کوئی مکمل راستہ پہلے سے موجود نہیں ہوتا بلکہ وہ خود راستہ بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تخلیقی ذہن اکثر غیر یقینی، ابہام اور فکری بے چینی کے ماحول میں کام کرتا ہے۔ وہ اپنے ہی شعور کے اندر مسلسل مکالمہ کرتا رہتا ہے۔ کبھی اسے محسوس ہوتا ہے کہ حقیقت اس کے قریب آ گئی ہے اور کبھی ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ بکھر گیا ہے۔ مگر یہی ٹوٹ پھوٹ دراصل نئے علم کی بنیاد بنتی ہے، کیونکہ پرانی ساختوں کے ٹوٹے بغیر نئی حقیقت ظاہر نہیں ہوتی۔
اس پورے عمل میں عقل بنیادی کردار ادا کرتی ہے، لیکن عقل اکیلی نہیں ہوتی۔ انسانی عقل مشاہدہ کرتی ہے، تجربہ کرتی ہے، تجزیہ کرتی ہے اور نتائج اخذ کرتی ہے، مگر اس کے باوجود وہ ہر حقیقت تک مکمل رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔ انسان کی حسی اور تجرباتی صلاحیتیں محدود ہیں۔ وہ صرف ان چیزوں کا مطالعہ کر سکتا ہے جو کسی نہ کسی درجے میں اس کے حواس یا تجربے کے دائرے میں آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس کائنات کے قوانین کو دریافت تو کرتی ہے مگر وجود کے آخری معنی تک نہیں پہنچ پاتی۔ سائنس “کیسے” کے سوالات کا جواب دیتی ہے، یعنی کسی چیز کے وقوع پذیر ہونے کا طریقہ کیا ہے، مگر “کیوں” کے سوالات اکثر اس کے دائرے سے باہر رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر سائنس یہ بتا سکتی ہے کہ انسانی دماغ کس طرح کام کرتا ہے، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ شعور کی اصل حقیقت کیا ہے یا انسان کے وجود کا آخری مقصد کیا ہے۔
یہی مقام ہے جہاں وحی، روحانی ادراک اور دینی ہدایت کی ضرورت سامنے آتی ہے۔ وحی انسان کو وہ حقیقت عطا کرتی ہے جو محض تجرباتی ذرائع سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ یہ انسان کو صرف کائنات کی ساخت نہیں بتاتی بلکہ اس کے مقصد، اخلاقی سمت اور وجودی معنی بھی واضح کرتی ہے۔ مگر وحی کا حقیقی فہم اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب انسان کی عقل زندہ ہو، اس کے اندر سوال اٹھانے کی صلاحیت موجود ہو، اور وہ تدبر و غور و فکر کا عادی ہو۔ اگر عقل کو مکمل طور پر معطل کر دیا جائے تو دین محض رسمی اعمال کا مجموعہ بن جاتا ہے، اور اگر عقل کو وحی سے آزاد کر دیا جائے تو انسان فکری خودمختاری کے ایسے مقام پر پہنچ سکتا ہے جہاں وہ اپنی محدود عقل کو حتمی معیار سمجھنے لگتا ہے۔
انسانی تاریخ میں دو انتہائیں ہمیشہ موجود رہی ہیں۔ ایک طرف وہ ذہن ہے جو ہر چیز کو بغیر سوال کے قبول کر لیتا ہے۔ یہ ذہن روایت، اتھارٹی اور تقلید پر مکمل انحصار کرتا ہے۔ اس کی قوت استحکام اور نظم میں ہوتی ہے، کیونکہ یہ اجتماعی وحدت کو برقرار رکھتا ہے اور عام انسان کو فکری انتشار سے بچاتا ہے۔ مگر جب یہی ذہن شعور سے خالی ہو جائے تو جمود پیدا ہوتا ہے۔ انسان ظاہری اتباع تو کرتا ہے مگر حقیقت کی گہرائی تک نہیں پہنچ پاتا۔ دوسری طرف وہ ذہن ہے جو ہر چیز کو صرف اپنی عقل کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتا ہے۔ یہ ذہن تخلیقی اور تحقیقی ہوتا ہے، نئی حقیقتوں کو دریافت کرتا ہے اور فکر کو حرکت دیتا ہے، مگر اگر اس کے پاس کوئی اعلیٰ اخلاقی و وحیاتی مرکز نہ ہو تو یہ خودپسندی اور فکری انتشار کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔
حقیقی توازن وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں عقل زندہ ہو مگر ہدایت سے جڑی رہے، جہاں سوال موجود ہو مگر سوال کا مقصد انکار نہیں بلکہ حقیقت تک رسائی ہو، اور جہاں انسان روایت سے جڑا بھی رہے مگر روایت کو جامد بت بنا کر نہ اپنائے۔ یہی متوازن شعور انسان کو داخلی بیداری بھی دیتا ہے اور اجتماعی ہم آہنگی بھی۔
اس پورے فکری و روحانی منظرنامے میں تقلیدی ذہن کی کیفیت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی اجتہادی ذہن کی، کیونکہ انسانی تہذیب صرف تخلیقی ذہنوں کے ذریعے قائم نہیں رہتی بلکہ ان ذہنوں کے ذریعے بھی برقرار رہتی ہے جو علم، روایت، نظم اور تسلسل کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر اجتہادی ذہن نئی راہیں دریافت کرتا ہے تو تقلیدی ذہن ان راہوں کو اجتماعی زندگی میں استحکام دیتا ہے۔ لیکن تقلیدی ذہن کی اپنی ایک نفسیاتی ساخت، داخلی کیفیت اور فکری منطق ہوتی ہے جسے سمجھے بغیر انسانی علم اور دینی شعور کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔
تقلیدی ذہن بنیادی طور پر “اعتماد” کے اصول پر قائم ہوتا ہے۔ یہ ہر حقیقت کو ابتدا سے خود دریافت کرنے کے بجائے ایک معتبر علمی و روحانی سلسلے سے وابستگی اختیار کرتا ہے۔ اس کے لیے علم صرف ذاتی دریافت کا نام نہیں بلکہ ایک امانت بھی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقلیدی ذہن روایت، اتھارٹی، تجربۂ اسلاف اور اجتماعی شعور کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ اس کے اندر ایک نفسیاتی احساس موجود ہوتا ہے کہ فرد کی عقل محدود ہے اور ہر انسان تمام علوم کا ازسرِ نو احاطہ نہیں کر سکتا، اس لیے اسے ایک بڑے علمی و روحانی نظام سے جڑ کر چلنا چاہیے۔
اجتہادی ذہن کی طرح تقلیدی ذہن بھی خوف، امید، سوال اور جستجو سے خالی نہیں ہوتا، لیکن اس کی جستجو کا رخ مختلف ہوتا ہے۔ اجتہادی ذہن “نئی حقیقت” کی تلاش میں بے یقینی کو قبول کرتا ہے، جبکہ تقلیدی ذہن “صحیح راستے پر باقی رہنے” کو اپنی اولین ترجیح بناتا ہے۔ اس کے نزدیک سب سے بڑا خطرہ فکری انحراف، انتشار اور گمراہی ہے۔ اسی لیے وہ آزمودہ روایت اور تسلیم شدہ اتھارٹی کے اندر رہ کر چلنے میں اطمینان محسوس کرتا ہے۔ یہ اطمینان صرف ذہنی سہولت نہیں بلکہ ایک وجودی تحفظ بھی ہوتا ہے، کیونکہ تقلیدی ذہن اپنے آپ کو ایک بڑے معنوی سلسلے کا حصہ سمجھتا ہے۔
نفسیاتی طور پر تقلیدی ذہن میں “وابستگی” کا عنصر بہت مضبوط ہوتا ہے۔ وہ علم کو محض انفرادی ملکیت کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اسے ایک مقدس امانت سمجھتا ہے جسے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا ذہن روایت سے جذباتی اور روحانی تعلق قائم کر لیتا ہے۔ وہ اپنے اساتذہ، اکابر، فقہا، مفسرین اور دینی شخصیات کے ساتھ صرف فکری نہیں بلکہ قلبی وابستگی بھی محسوس کرتا ہے۔ اس تعلق میں احترام، اعتماد اور تسلیم کی کیفیت شامل ہوتی ہے۔ یہی کیفیت اسے نظم، استحکام اور اجتماعی ہم آہنگی عطا کرتی ہے۔
لیکن تقلیدی ذہن کا سب سے بڑا نفسیاتی مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اعتماد شعور سے جدا ہو جاتا ہے۔ جب انسان روایت سے تعلق تو رکھتا ہے مگر اس کی حکمت، مقصد اور روح کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا تو تقلید ایک زندہ شعوری عمل کے بجائے محض عادت بن جاتی ہے۔ اس مرحلے پر انسان کا ذہن سوال سے خوفزدہ ہونے لگتا ہے۔ وہ ہر نئے خیال کو خطرہ سمجھتا ہے، کیونکہ اس کے لیے استحکام حقیقت سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ یوں وہ روایت کی حفاظت کرتے کرتے بعض اوقات روایت کی روح ہی کو جامد کر دیتا ہے۔
تقلیدی ذہن کی ایک اور گہری کیفیت “فکری اطمینان” ہے۔ اجتہادی ذہن مسلسل اضطراب اور فکری بے چینی میں جیتا ہے، جبکہ تقلیدی ذہن زیادہ سکون اور استقرار محسوس کرتا ہے، کیونکہ اس کے پاس پہلے سے متعین فکری راستہ موجود ہوتا ہے۔ یہی سکون عام انسان کی نفسیاتی ضرورت بھی ہے، کیونکہ ہر فرد مستقل فکری کشمکش کو برداشت نہیں کر سکتا۔ معاشروں کی اکثریت اسی نفسیاتی ساخت پر قائم ہوتی ہے۔ اگر ہر انسان صرف اجتہادی ذہن کے ساتھ جینے لگے تو اجتماعی استحکام ٹوٹ سکتا ہے، کیونکہ ہر چیز مسلسل سوال اور تبدیلی کے عمل میں داخل ہو جائے گی۔
اسی لیے انسانی تہذیب میں تقلیدی ذہن ایک محافظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ علم کو محفوظ کرتا ہے، روایت کو زندہ رکھتا ہے، اقدار کو نسل در نسل منتقل کرتا ہے اور اجتماعی نظم کو برقرار رکھتا ہے۔ ایک لحاظ سے یہ تہذیب کا حافظہ ہوتا ہے۔ اگر اجتہادی ذہن تخلیق ہے تو تقلیدی ذہن بقا ہے۔ اگر اجتہادی ذہن حرکت ہے تو تقلیدی ذہن استقرار ہے۔ اگر اجتہادی ذہن نئی راہیں کھولتا ہے تو تقلیدی ذہن ان راہوں کو اجتماعی زندگی میں راسخ کرتا ہے۔
دینی تناظر میں تقلیدی ذہن کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ہر انسان براہِ راست قرآن و سنت سے احکام اخذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس لیے ایک ایسا نظام ضروری ہوتا ہے جہاں عام انسان کسی ایسے فرد یا روایت کی پیروی کرے جو علمی طور پر زیادہ گہری بصیرت رکھتی ہو۔ یہاں تقلید صرف فکری سہولت نہیں بلکہ عملی ضرورت بھی بن جاتی ہے۔ لیکن اس تقلید کی اصل روح یہ ہے کہ انسان اپنی عقل کو مکمل طور پر معطل نہ کرے بلکہ “باشعور اعتماد” کے ساتھ پیروی کرے۔ یعنی وہ یہ سمجھے کہ وہ کیوں کسی اتھارٹی پر اعتماد کر رہا ہے اور اس اعتماد کی حدود کیا ہیں۔
حقیقت میں کامل انسانی شعور نہ خالص اجتہادی ہوتا ہے اور نہ خالص تقلیدی۔ خالص اجتہادی ذہن اگر ہدایت اور اخلاقی مرکز سے جدا ہو جائے تو فکری انتشار اور خودپرستی کا شکار ہو سکتا ہے، جبکہ خالص تقلیدی ذہن اگر شعور سے خالی ہو جائے تو جمود اور فکری غلامی میں بدل سکتا ہے۔ حقیقی توازن وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان کے اندر سوال بھی زندہ رہے اور ادب بھی، تحقیق بھی موجود ہو اور اعتماد بھی، عقل بھی فعال ہو اور ہدایت سے وابستگی بھی قائم رہے۔
اسی توازن میں علم اپنی بلند ترین صورت اختیار کرتا ہے۔ یہاں اجتہاد انسان کو حقیقت کی گہرائی تک لے جاتا ہے اور تقلید اسے اجتماعی نظم اور روحانی تسلسل سے جوڑے رکھتی ہے۔ ایک ذہن کو حرکت دیتا ہے اور دوسرا اسے جڑوں سے وابستہ رکھتا ہے۔ جب یہ دونوں ہم آہنگ ہو جاتے ہیں تو انسان نہ اندھی پیروی کا شکار رہتا ہے اور نہ بے مہار فکری خودمختاری کا، بلکہ وہ ایک ایسے متوازن شعور تک پہنچتا ہے جو اسے حقیقت، ہدایت اور بندگی کے قریب لے جاتا ہے۔
علم کی تخلیق کے بعد ایک دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے، اور وہ ہے علم کی ترسیل۔ یہ مرحلہ تخلیق سے مختلف نفسیاتی کیفیت رکھتا ہے۔ جو شخص نئی حقیقت دریافت کرتا ہے وہ زیادہ تر اپنے اندرونی مکالمے میں جیتا ہے، مگر جب وہی شخص استاد، معلم یا مصلح بنتا ہے تو اس کا کردار بدل جاتا ہے۔ اب اس کا مقصد نئی حقیقت دریافت کرنا نہیں بلکہ پہلے سے حاصل شدہ حقیقت کو دوسروں تک پہنچانا ہوتا ہے۔ یہاں ذہن کی رفتار تبدیل ہو جاتی ہے۔ تخلیقی مرحلے میں فکر بے ترتیب، متحرک اور غیر یقینی ہوتی ہے، جبکہ ترسیلی مرحلے میں اسے ترتیب، وضاحت اور تسلسل کے قالب میں ڈھالنا پڑتا ہے۔
ایک محقق کی سب سے بڑی لذت دریافت کے لمحے میں ہوتی ہے، جب کوئی نئی حقیقت اس کے سامنے منکشف ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ایک استاد کی سب سے بڑی خوشی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ کسی دوسرے ذہن میں فہم پیدا ہو رہی ہے۔ یوں ایک علم کو پیدا کرتا ہے اور دوسرا اسے زندہ رکھتا ہے۔ اگر صرف تخلیق ہو اور ترسیل نہ ہو تو علم فرد تک محدود رہ جاتا ہے، اور اگر صرف ترسیل ہو مگر تخلیق نہ ہو تو علم جامد ہو جاتا ہے اور اس کی روح ختم ہونے لگتی ہے۔
اسی توازن پر انسانی تہذیب قائم ہے۔ تہذیب صرف کتابوں، اداروں یا ٹیکنالوجی کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ شعوری سلسلہ ہے جہاں ہر نسل پچھلی نسل سے علم حاصل کرتی ہے، اسے پرکھتی ہے، اس میں اضافہ کرتی ہے اور پھر اگلی نسل تک منتقل کر دیتی ہے۔ یہی عمل انسان کو محض حیاتیاتی وجود سے بلند کر کے ایک فکری و روحانی وجود بناتا ہے۔
انسان جب اپنی عقل کو مشاہدے سے جوڑتا ہے، مشاہدے کو تدبر سے، تدبر کو اخلاق سے، اخلاق کو وحی سے، اور پھر اس پورے شعور کو اجتماعی خیر کے لیے استعمال کرتا ہے تو علم اپنی بلند ترین صورت اختیار کرتا ہے۔ اس مقام پر علم صرف طاقت یا معلومات نہیں رہتا بلکہ ہدایت بن جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انسان حقیقت کو صرف جانتا نہیں بلکہ اس کے مطابق جینا بھی شروع کر دیتا ہے۔
