بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
انسانی تعلقات کی دنیا میں “نیکی” ہمیشہ ایک مقدس قدر سمجھی گئی ہے، مگر یہی نیکی جب شعور، توازن اور حدود سے خالی ہو جائے تو وہی روشنی ایک خاموش اندھیرے میں بدلنے لگتی ہے۔ بظاہر انسان خود کو ایک اچھا، مددگار اور نرم دل فرد سمجھ رہا ہوتا ہے، لیکن اندر ہی اندر اس کی ذات سے مسلسل کچھ نکالا جا رہا ہوتا ہے—وقت، توانائی، توجہ، اور کبھی کبھی اس کی خودی تک۔ اس مرحلے پر نیکی اپنی اصل ماہیت کھو دیتی ہے اور ایک ایسے نظام کا حصہ بن جاتی ہے جس میں ایک فریق دیتا ہی چلا جاتا ہے اور دوسرا لیتا ہی چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ دینے والا اپنی قدر کھونے لگتا ہے۔
یہ مسئلہ محض انفرادی کمزوری کا نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور سماجی ڈھانچے کا عکاس ہے، جہاں بعض لوگ دوسروں کی نرمی، درگزر اور ہمدردی کو ایک “وسیلہ” بنا لیتے ہیں۔ ابتدا ہمیشہ معصوم ہوتی ہے؛ ایک چھوٹی سی مدد، ایک وقتی سہارا، ایک موقع پر ساتھ دینا۔ لیکن جیسے ہی یہ عمل دہرایا جاتا ہے، اس کا مفہوم بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ جو کل احسان تھا، آج فرض بن جاتا ہے، اور کل جب وہی عمل نہ دہرایا جائے تو الزام اسی شخص پر آتا ہے جو پہلے مددگار تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تعلقات کا توازن ٹوٹ جاتا ہے اور “کردار” ایک غیر محسوس انداز میں مسلط کر دیا جاتا ہے۔
مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تعلقات میں موجود افراد آپ کی ذات کو نہیں بلکہ آپ کی “افادیت” کو اہمیت دینے لگتے ہیں۔ وہ آپ کے آس پاس اس وقت ہوتے ہیں جب آپ کے پاس دینے کے لیے کچھ ہو—وقت، وسائل، جذباتی سہارا—لیکن جیسے ہی آپ خود کمزور یا محتاج ہوتے ہیں، وہی لوگ غائب ہو جاتے ہیں۔ یہاں ایک نہایت باریک مگر خطرناک تبدیلی رونما ہوتی ہے: آپ ایک انسان نہیں رہتے، بلکہ ایک ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اس مرحلے پر تعلق، تعلق نہیں رہتا بلکہ ایک غیر اعلانیہ لین دین بن جاتا ہے۔
اسی کے ساتھ ایک اور گہرا نفسیاتی پہلو سامنے آتا ہے، اور وہ ہے “بردباری کا استحصال”۔ جب ایک شخص مسلسل معاف کرتا ہے، برداشت کرتا ہے اور دوسروں کو موقع دیتا ہے، تو بعض لوگ اس رویے کو عظمت کے بجائے کمزوری سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں حدود کو بار بار آزمایا جاتا ہے، اور ہر بار وہ حد مزید پیچھے ہٹتی جاتی ہے۔ یہاں مسئلہ صرف دوسروں کا نہیں بلکہ اس اندرونی نظام کا بھی ہے جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر قیمت پر اچھا بنے رہنا ہی اصل نیکی ہے، چاہے اس کی قیمت اپنی عزتِ نفس ہی کیوں نہ ہو۔
احساسِ گناہ کے ذریعے نیکی کا استحصال ایک اور پیچیدہ پہلو ہے۔ یہاں کوئی آپ کو براہِ راست مجبور نہیں کرتا، بلکہ آپ کے اندر موجود اخلاقی حساسیت کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک ہلکی سی خاموشی، ایک ادھورا جملہ، ایک مظلومانہ انداز—اور آپ خود کو اس مقام پر پاتے ہیں جہاں “نہ” کہنا ایک جرم محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس طرح آپ کا اختیار آپ سے چھین نہیں لیا جاتا بلکہ آپ خود اسے ترک کر دیتے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ یہ ایک نفسیاتی جال ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہ استحصال صرف رویوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ آپ کی ذات کے اندر سرایت کرنے لگتا ہے۔ آپ اپنی ترجیحات بدل دیتے ہیں، اپنی ضروریات کو مؤخر کرتے ہیں، اور دوسروں کی توقعات کو اپنی ذمہ داری سمجھنے لگتے ہیں۔ یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا نیکی کا مطلب خود کو مٹا دینا ہے؟ یا نیکی ایک ایسی متوازن کیفیت ہے جس میں انسان اپنی قدر کو برقرار رکھتے ہوئے دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے؟
یہاں ایک اور گہری حقیقت سامنے آتی ہے کہ بعض لوگ تعریف کو بھی ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ آپ کی تعریف کرتے ہیں، آپ کو “بہترین”، “مہربان”، “قابلِ اعتماد” کہتے ہیں، مگر یہ تعریف اکثر ایک نئے مطالبے کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ یوں تعریف ایک مثبت جذبہ نہیں رہتی بلکہ ایک نفسیاتی کنڈیشننگ بن جاتی ہے، جس کے ذریعے آپ کو ایک مخصوص کردار میں مقید رکھا جاتا ہے۔
ان تمام عوامل کا نتیجہ ایک ہی صورت میں ظاہر ہوتا ہے: اندرونی تھکن۔ جب ہر ملاقات کے بعد انسان خود کو بوجھل، خالی یا قدرے ناراض محسوس کرے، تو یہ ایک واضح اشارہ ہوتا ہے کہ اس کی نیکی اس کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اصل نیکی انسان کو سکون دیتی ہے، اس میں وسعت پیدا کرتی ہے، جبکہ استحصال شدہ نیکی انسان کو سکڑنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
اس ساری بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ نیکی بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ نیکی کا بےحد و حساب ہونا مسئلہ ہے۔ حدود دراصل خودی کی حفاظت کا نظام ہیں، اور ان کے بغیر نیکی ایک ایسا دروازہ بن جاتی ہے جس سے ہر کوئی داخل ہو سکتا ہے، مگر کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ انسان کو یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ “نہ” کہنا بد اخلاقی نہیں بلکہ ایک اخلاقی توازن کا اظہار ہے۔ اپنی توانائی، وقت اور جذبات کو محفوظ رکھنا خود غرضی نہیں بلکہ ایک ضروری شعور ہے۔
نیکی اپنی اصل میں ایک نورانی حقیقت ہے، مگر اس کی قدر و قیمت کا دار و مدار صرف ظاہری عمل پر نہیں بلکہ اس کے باطنی سرچشمے پر ہے۔ قرآن، اہل بیتؑ اور دینی معارف میں نیکی کو کبھی بھی محض “دینا” یا “برداشت کرنا” نہیں کہا گیا، بلکہ اسے ایک شعوری، باوقار اور الٰہی وابستگی کے ساتھ جڑا ہوا عمل قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نیکی اپنی اصل روح یعنی اخلاص، اختیار اور حکمت سے خالی ہو کر مجبوری، خوف یا کمزوری میں بدل جاتی ہے، تو وہ اپنی وہ معنوی حیثیت کھو دیتی ہے جو خدا کے نزدیک مطلوب ہے۔
قرآن مجید بار بار اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ عمل کی قدر اس کے باطن سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر ایک شخص اس لیے دیتا ہے کہ وہ مجبور ہے، یا اس لیے برداشت کرتا ہے کہ وہ ردّ عمل سے ڈرتا ہے، تو یہ کیفیت اس “احسان” اور “انفاق فی سبیل اللہ” سے مختلف ہے جس کا قرآن ذکر کرتا ہے۔ وہاں نیکی ایک آزاد ارادے کا اظہار ہے، ایک باوقار عطا ہے، جس میں دینے والا خود کو کمتر نہیں کرتا بلکہ اپنے عمل کے ذریعے اپنے مقام کو بلند کرتا ہے۔ لیکن جب یہی عمل ایک نفسیاتی جبر میں بدل جائے، جہاں انسان اپنی عزتِ نفس کو قربان کر کے دوسروں کی توقعات پوری کرتا رہے، تو یہ وہ نیکی نہیں رہتی جسے خدا پسند کرتا ہے، بلکہ یہ ایک طرح کی خود فراموشی بن جاتی ہے۔
اہل بیتؑ کی تعلیمات میں بھی اس توازن کو نہایت گہرائی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ وہاں حلم اور عفو کی بہت تاکید ہے، مگر ساتھ ہی عزتِ نفس، کرامتِ انسانی اور حدود کی حفاظت کو بھی بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ ایک مؤمن وہ نہیں جو ہر ظلم کو برداشت کرے، بلکہ وہ ہے جو موقع کی مناسبت سے حلم بھی دکھائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں اپنے حق اور وقار کا دفاع بھی کرے۔ اگر نیکی انسان کو ذلیل کر دے، اس کی شخصیت کو مجروح کر دے، یا اسے دوسروں کے استحصال کا ذریعہ بنا دے، تو یہ وہ صبر نہیں جسے فضیلت کہا گیا ہے، بلکہ یہ ایک غیر متوازن کیفیت ہے جو دین کے مزاج کے خلاف ہے۔
قرآن میں “لا تَظلِمونَ وَلا تُظلَمون” کا اصول اسی توازن کو واضح کرتا ہے کہ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم ہونے دو۔ اس میں ایک گہرا پیغام پوشیدہ ہے کہ نیکی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ تم دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، بلکہ یہ بھی ہے کہ تم اپنی ذات کو ظلم کا نشانہ نہ بننے دو۔ اگر کوئی شخص اپنی نرمی، درگزر اور خدمت کے ذریعے اس مقام پر پہنچ جائے جہاں وہ مسلسل استحصال کا شکار ہو، تو وہ دراصل اس قرآنی توازن سے ہٹ رہا ہے۔
اسی طرح نیت کا مسئلہ بھی نہایت اہم ہے۔ اگر نیکی کا محرک اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کو خوش کرنا، ردّ عمل سے بچنا یا اپنے اندر کے کسی خوف کو دبانا ہو، تو یہ عمل اپنی روح کھو دیتا ہے۔ معصومینؑ کی تعلیمات میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان اپنے اعمال میں “اخلاص” پیدا کرے، اور اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ عمل کسی دباؤ یا دکھاوے کے تحت نہ ہو بلکہ ایک آزاد، باخبر اور خدا محور انتخاب ہو۔
یہاں ایک اور لطیف نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ دین انسان کو کمزور نہیں بلکہ قوی بنانا چاہتا ہے۔ نیکی اگر انسان کو اندر سے مضبوط کرے، اس میں وسعت پیدا کرے، اسے خدا کے قریب کرے، تو وہ حقیقی نیکی ہے۔ لیکن اگر وہی نیکی انسان کو اندر سے توڑنے لگے، اس میں احساسِ کمتری پیدا کرے، یا اسے دوسروں کے ہاتھوں ایک آلہ بنا دے، تو یہ اس نیکی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ ایسی حالت میں انسان کو اپنی نیت، اپنے رویے اور اپنی حدود کا ازسرِ نو جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ دین کا مقصد انسان کو “عبدِ ذلیل” نہیں بلکہ “عبدِ عزیز” بنانا ہے، جو خدا کے سامنے جھکتا ہے مگر مخلوق کے سامنے اپنی کرامت کو پامال نہیں ہونے دیتا۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ خدا، قرآن اور معصومینؑ کے نزدیک نیکی وہی معتبر ہے جو شعور، اختیار اور توازن کے ساتھ ہو۔ جو نیکی انسان کو آزاد کرے، نہ کہ غلام بنائے۔ جو اس کی عزت کو محفوظ رکھے، نہ کہ اسے ختم کر دے۔ اور جو خدا کی رضا کے لیے ہو، نہ کہ لوگوں کی توقعات کے بوجھ تلے دب کر کی جائے۔ یہی وہ باریک مگر بنیادی فرق ہے جو ایک حقیقی نیکی اور ایک استحصال شدہ نیکی کے درمیان حد فاصل قائم کرتا ہے۔
آخرکار سوال یہی رہ جاتا ہے کہ انسان اپنی نیکی کو کس بنیاد پر زندہ رکھتا ہے: شعور اور اختیار کے ساتھ یا خوف اور عادت کے تحت؟ اگر نیکی شعوری انتخاب ہے تو وہ طاقت ہے، لیکن اگر وہ مجبوری بن جائے تو وہی طاقت کمزوری میں بدل جاتی ہے۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جو ایک باوقار انسان اور ایک استعمال ہونے والے انسان کے درمیان فرق پیدا کرتی ہے۔
