13

ازدواجی رشتہ، زوال کے بجائے الٰہی مقصد کے حصول تک

  • نیوز کوڈ : 2921
  • 06 May 2026 - 21:57
ازدواجی رشتہ، زوال کے بجائے الٰہی مقصد کے حصول تک

ازدواجی رشتہ، زوال کے بجائے الٰہی مقصد کے حصول تک

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

ازدواجی رشتہ بظاہر ایک معاہدہ ہے، مگر حقیقت میں یہ دو روحوں کے درمیان ایک مسلسل بننے اور سنورنے والا تعلق ہے جو محض محبت پر نہیں بلکہ توجہ، شعور، ذمہ داری اور باہمی احترام پر قائم رہتا ہے۔ یہ رشتہ کسی بڑے حادثے سے نہیں ٹوٹتا؛ یہ آہستہ آہستہ اپنی حرارت کھوتا ہے، جیسے چراغ میں تیل کم ہوتا جائے اور روشنی مدھم پڑتی جائے۔ میاں بیوی کے درمیان فاصلے اکثر کسی ایک بڑی غلطی کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ ان چھوٹی چھوٹی عادات کا حاصل ہوتے ہیں جو روزمرہ زندگی میں غیر محسوس انداز میں جگہ بناتی رہتی ہیں۔

جب شریکِ حیات اپنے ذہن میں ایک خاموش حساب رکھنا شروع کر دیتا ہے کہ کس نے زیادہ قربانی دی، کس نے زیادہ توجہ دی، کس نے اپنی خواہشات کو دبایا اور کس نے نہیں، تو بظاہر یہ انصاف کی ایک شکل لگتی ہے، مگر دراصل یہ تعلق کو ایک غیر اعلانیہ مقابلے میں بدل دیتی ہے۔ یہاں محبت ایک فطری بہاؤ کے بجائے ایک ادھار بن جاتی ہے جس کی واپسی کی توقع کی جاتی ہے۔ اس کیفیت میں انسان دینے کے بجائے لینے کے زاویے سے دیکھنے لگتا ہے، اور یہی زاویہ رفتہ رفتہ دلوں کے درمیان ایک نادیدہ دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔

اسی طرح ازدواجی زندگی میں ایک نہایت خطرناک مگر عام رویہ جذباتی غیر موجودگی ہے۔ دو افراد ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں، ایک ہی بستر پر سوتے ہیں، روزمرہ کے معاملات ساتھ نمٹاتے ہیں، مگر ان کے درمیان حقیقی رابطہ ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ گفتگو محض عملی ضرورت تک محدود ہو جاتی ہے، اور دل کی باتیں یا تو کہی نہیں جاتیں یا سنی نہیں جاتیں۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں انسان تنہائی کو بھیڑ میں محسوس کرتا ہے، اور اس تنہائی کا زخم کسی بھی ظاہری جھگڑے سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

ازدواجی تعلق میں طنز اور تضحیک کا باریک استعمال بھی ایک خاموش زہر ہے۔ جب شریکِ حیات ایک دوسرے پر ہلکے پھلکے جملوں کے نام پر ذاتی چوٹیں لگانے لگتے ہیں، تو ابتدا میں شاید وہ ماحول کو ہلکا کرنے کی کوشش محسوس ہو، مگر درحقیقت یہ ایک دوسرے کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کا عمل ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ جملے دل میں جمع ہونے لگتے ہیں، اور انسان اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے جذباتی فاصلے پیدا کر لیتا ہے۔ یہاں قربت کی جگہ احتیاط لے لیتی ہے، اور محبت کی جگہ ایک خاموش اجنبیت۔

غیر مستقل مزاجی بھی اس رشتے کو کمزور کرتی ہے۔ کبھی بے حد توجہ، کبھی مکمل لاپرواہی؛ کبھی قربت، کبھی سرد مہری۔ یہ اتار چڑھاؤ شریکِ حیات کے اندر ایک عدمِ تحفظ پیدا کرتا ہے۔ وہ یہ سمجھ نہیں پاتا کہ اس کی اصل حیثیت کیا ہے۔ یہ کیفیت انسان کو اندر سے تھکا دیتی ہے، کیونکہ وہ مسلسل ایک غیر واضح تعلق کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔

اسی طرح جب ازدواجی زندگی ایک مقابلے میں بدل جائے—کہ کس کا دکھ زیادہ بڑا ہے، کس کی ذمہ داری زیادہ ہے، کس کی قربانی زیادہ اہم ہے—تو وہاں شراکت ختم ہو جاتی ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ اصل میں ایک ٹیم کی طرح ہوتا ہے جہاں دونوں ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ حالات کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ مگر جب یہی رشتہ انا کے میدان میں تبدیل ہو جائے تو ہر بات جیت اور ہار کا مسئلہ بن جاتی ہے، اور محبت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔

ایک اور پیچیدہ پہلو وہ ہے جب شریکِ حیات صرف اپنی ضرورت کے وقت دوسرے کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اگر توجہ، محبت یا گفتگو صرف اس وقت ہو جب کوئی مسئلہ ہو، کوئی مدد درکار ہو یا کوئی فائدہ حاصل کرنا ہو، تو یہ رشتہ آہستہ آہستہ ایک جذباتی استحصال میں بدل جاتا ہے۔ دوسرا فرد خود کو ایک انسان کے بجائے ایک وسیلہ محسوس کرنے لگتا ہے، اور یہ احساس تعلق کی بنیاد کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔

ازدواجی زندگی میں مشکل گفتگو سے گریز بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بہت سے جوڑے وقتی سکون کے لیے اہم مسائل کو دبائے رکھتے ہیں۔ وہ جھگڑے سے بچنے کے لیے خاموشی اختیار کرتے ہیں، مگر یہ خاموشی دراصل ایک عارضی پردہ ہوتی ہے جس کے پیچھے مسائل بڑھتے رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہی دبے ہوئے مسائل ایک شدید فاصلے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، کیونکہ انہیں کبھی سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا ہوتا۔

اعتماد کا بحران بھی اکثر چھوٹی باتوں سے شروع ہوتا ہے۔ جب ایک شریکِ حیات دوسرے کی ذاتی باتوں یا کمزوریوں کو غیر سنجیدگی سے لیتا ہے یا انہیں دوسروں کے سامنے بیان کر دیتا ہے، تو یہ صرف ایک بات کا انکشاف نہیں ہوتا بلکہ ایک پورے اعتماد کے نظام کا ٹوٹ جانا ہوتا ہے۔ اس کے بعد انسان اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے دل کے دروازے بند کر لیتا ہے، اور یہی بند دروازے تعلق کو اندر سے خالی کر دیتے ہیں۔

معافی میں تاخیر بھی ازدواجی تعلق میں زہر گھولتی ہے۔ جب انا انسان کو یہ باور کراتی ہے کہ “اتنی سی بات پر معافی کی کیا ضرورت ہے”، تو وہ دراصل ایک چھوٹے زخم کو بڑا بنا دیتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ زخم سخت ہو جاتا ہے، اور جب معافی دی جاتی ہے تو وہ اپنی تاثیر کھو چکی ہوتی ہے۔ ازدواجی زندگی میں معافی صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک بروقت عمل ہے جو تعلق کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔

ایک نہایت باریک مگر بنیادی حقیقت یہ ہے کہ صرف جسمانی موجودگی کافی نہیں، جذباتی شمولیت ضروری ہے۔ اگر انسان ساتھ ہو مگر دل سے دور ہو، تو اس کی موجودگی بھی عدم موجودگی کے برابر ہو جاتی ہے۔ ایسے میں شریکِ حیات خود کو نظرانداز اور غیر اہم محسوس کرتا ہے، اور یہی احساس تعلق کو بے جان کر دیتا ہے۔

لہذا، احترام کے چھوٹے اصولوں کا ٹوٹنا اس رشتے کی بنیاد کو ہلا دیتا ہے۔ لہجے کی سختی، معمولی باتوں میں بے اعتنائی، حدود کا خیال نہ رکھنا—یہ سب وہ دراڑیں ہیں جو بظاہر معمولی ہوتی ہیں مگر وقت کے ساتھ ایک بڑے شگاف میں بدل جاتی ہیں۔ احترام وہ ستون ہے جس پر ازدواجی عمارت کھڑی ہوتی ہے، اور جب یہ ستون کمزور ہو جائے تو پوری عمارت عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہے۔

ازدواجی تعلق کی بقا کسی ایک بڑے عمل پر منحصر نہیں بلکہ ان چھوٹے چھوٹے شعوری فیصلوں پر ہے جو روزمرہ زندگی میں کیے جاتے ہیں۔ جب انسان اپنے رویوں، اپنے الفاظ اور اپنی نیت کا جائزہ لیتا ہے، اور ان میں بہتری لانے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ نہ صرف تعلق کو بچا سکتا ہے بلکہ اسے ایک گہرے اور بامعنی رشتے میں بدل سکتا ہے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ ایک دن میں نہیں ٹوٹتا، یہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتا ہے—یہاں تک کہ ایک دن دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہو جاتے ہیں۔

ازدواجی رشتہ اگر صرف دو افراد کے درمیان ایک سماجی معاہدہ رہ جائے تو وہ وقت، حالات اور نفسیاتی اتار چڑھاؤ کے سامنے زیادہ دیر مضبوط نہیں رہتا۔ اس کے برعکس جب یہی رشتہ خدا کی طرف نسبت اختیار کر لیتا ہے تو اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ پھر یہ محض ایک ساتھ رہنے کا فیصلہ نہیں رہتا بلکہ ایک عبادت، ایک امانت اور ایک ذمہ داری بن جاتا ہے جس میں ہر عمل کا ایک الٰہی وزن پیدا ہو جاتا ہے۔ انسان جب یہ شعور اپنے اندر زندہ رکھتا ہے کہ اس کا شریکِ حیات صرف اس کی ذاتی پسند یا ضرورت کا حصہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ایک امانت ہے، تو اس کے رویوں میں خود بخود ایک احتیاط، ایک نرمی اور ایک جواب دہی پیدا ہوتی ہے۔ یہ احساس انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں وہ محض اپنے حق کے لیے نہیں بلکہ حق ادا کرنے کے لیے جیتا ہے۔

اہلِ بیتؑ اور معصومینؑ کی نسبت اس رشتے میں ایک اور گہرائی پیدا کرتی ہے۔ جب میاں بیوی اپنی زندگی کو ان ہستیوں کے نمونۂ حیات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے درمیان تعلق صرف جذباتی یا مادی سطح تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی جہت اختیار کر لیتا ہے۔ معصومینؑ کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تعلق میں صبر کیا ہوتا ہے، ایثار کی حد کہاں تک جاتی ہے، اور احترام کی اصل بنیاد کیا ہے۔ جب انسان اپنے شریکِ حیات کے ساتھ معاملہ کرتے وقت اس زاویے سے سوچتا ہے کہ اگر یہ عمل اہلِ بیتؑ کی نگاہ میں پیش کیا جائے تو کیسا محسوس ہوگا، تو اس کے فیصلے بدلنے لگتے ہیں۔ وہاں انا کی شدت کم ہوتی ہے، معافی آسان ہوتی ہے، اور محبت ایک شعوری انتخاب بن جاتی ہے۔

لیکن اس تمام نظام میں سب سے زیادہ طاقتور عنصر وہ مشترکہ مقصد ہے جو میاں بیوی کو اپنی ذات سے بلند کر دے۔ امام زمانہؑ کے ظہور کے لیے جدوجہد کا احساس دراصل اسی بلند مقصد کی نمائندگی کرتا ہے۔ جب ایک گھرانہ اپنی زندگی کو اس نیت کے ساتھ ترتیب دیتا ہے کہ وہ ایک بڑے الٰہی منصوبے کا حصہ ہے، تو اس کے اندر کے اختلافات اپنی شدت کھو دیتے ہیں۔ وہاں “میں” اور “تم” کی کشمکش کم ہو کر “ہم” کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ احساس کہ ہماری ازدواجی زندگی صرف ہماری ذاتی خوشی یا سکون کے لیے نہیں بلکہ ایک عالمی عدل کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ہے، انسان کو اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر الجھنے کے بجائے یہ سوچنے لگتا ہے کہ کیا یہ طرزِ عمل اس بڑے مقصد کے ساتھ ہم آہنگ ہے یا نہیں۔

اسی کے ساتھ نئی نسل کی تربیت کا شعور اس رشتے کو ایک اور سطح پر لے جاتا ہے۔ اولاد محض ایک خاندانی تسلسل نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی امانت ہے۔ جب میاں بیوی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسے افراد کی پرورش کر رہے ہیں جو کل ایک الٰہی نظام کے ستون بن سکتے ہیں، تو ان کی اپنی زندگی کا معیار بلند ہو جاتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ بچے صرف الفاظ سے نہیں بلکہ ماحول سے سیکھتے ہیں، اس لیے وہ اپنے تعلق کو خود ایک زندہ نصاب بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے درمیان احترام، صبر، محبت اور دیانت داری دراصل بچوں کے لیے عملی تعلیم بن جاتی ہے۔ اس شعور کے ساتھ جھگڑے بھی محض وقتی ردعمل نہیں رہتے بلکہ ایک ایسی چیز بن جاتے ہیں جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک جا سکتے ہیں۔

یہ تمام نسبتیں—خدا کی طرف، معصومینؑ کی طرف، امام زمانہؑ کے مشن کی طرف، اور نسلِ نو کی تربیت کی طرف—ازدواجی رشتے کو ایک محدود دائرے سے نکال کر ایک وسیع اور بامقصد نظام کا حصہ بنا دیتی ہیں۔ جب انسان اپنے تعلق کو اس بڑے تناظر میں دیکھتا ہے تو اس کے اندر برداشت پیدا ہوتی ہے، قربانی آسان ہوتی ہے، اور اختلافات کو حل کرنے کی سنجیدگی بڑھ جاتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر سخت لمحہ ایک امتحان ہے، ہر صبر ایک سرمایہ ہے، اور ہر درگزر ایک روحانی ترقی کا ذریعہ ہے۔

یوں ازدواجی رشتہ صرف دو افراد کے درمیان تعلق نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا مرکز بن جاتا ہے جہاں سے ایک بہتر معاشرہ، ایک مضبوط امت اور ایک بامقصد نسل پروان چڑھتی ہے۔ اور جب رشتہ اس سطح تک پہنچ جائے تو اس کا ٹوٹنا صرف دو افراد کا نقصان نہیں رہتا بلکہ ایک بڑے الٰہی مقصد میں خلل بن جاتا ہے۔ یہی شعور اس رشتے کو بچانے کی سب سے بڑی قوت ہے، کیونکہ یہ انسان کو اس کی ذات سے اٹھا کر اس کے رب، اس کے امام اور اس کی آئندہ نسلوں کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2921

ٹیگز

تبصرے