21

*حق بطور میزان، مصلحت بطور تابع*

  • نیوز کوڈ : 2912
  • 05 May 2026 - 16:28
*حق بطور میزان، مصلحت بطور تابع*

*حق بطور میزان، مصلحت بطور تابع*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

“حق بمقابلہ مفاد” کو اگر اسلامی اصطلاحات میں سمجھا جائے تو سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اسلام میں “حق” کوئی مجرد اخلاقی نعرہ نہیں بلکہ ایک الٰہی حقیقت ہے جس کی جڑیں وحی، عدل اور مقصدِ تخلیق سے جڑی ہوئی ہیں۔ قرآن مجید میں “حق” کا تصور اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کے احکام اور اس نظام سے وابستہ ہے جو انسان کو اس کے حقیقی کمال تک پہنچاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں “مفاد” اپنی اصل میں کوئی منفی چیز نہیں، بلکہ وہ انسانی ضروریات، خواہشات اور وقتی مصلحتوں کا نام ہے، لیکن جب یہ مفاد “حق” سے کٹ کر خود معیار بن جائے تو یہی چیز “ہویٰ” اور “باطل” کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

اسلامی اصطلاحات میں “حق” کو “امرِ الٰہی”، “عدل”، “قسط”، اور “صراطِ مستقیم” جیسے مفاہیم کے ذریعے سمجھا جاتا ہے۔ یعنی وہ راستہ جو اللہ نے مقرر کیا، جو کائنات کے تکوینی و تشریعی نظام سے ہم آہنگ ہو، اور جو انسان کو اس کے حقیقی مقصد یعنی قربِ الٰہی تک لے جائے۔ اس کے برعکس “مفاد” اگر اپنی صحیح جگہ پر ہو تو اسے “مصلحت” کہا جاتا ہے، اور فقہ میں “مصالح” اور “مفاسد” کی بحث اسی کے گرد گھومتی ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ “مصلحت” کبھی بھی “حق” پر حاکم نہیں ہو سکتی، بلکہ وہ ہمیشہ “حق” کے تابع ہوتی ہے۔

یہی فرق “حق بمقابلہ مفاد” کو اسلامی زبان میں “حق بمقابلہ ہویٰ” بنا دیتا ہے۔ قرآن بار بار اس بات کو واضح کرتا ہے کہ انسان کی گمراہی کی جڑ اس کی خواہشِ نفس ہے، جب وہ اپنے مفاد، خواہش یا وقتی فائدے کو حق پر ترجیح دیتا ہے۔ اس تناظر میں “مفاد پرستی” دراصل “اتباعِ ہویٰ” ہے، جبکہ “حق پرستی” “اتباعِ وحی” ہے۔

اسی کو ایک اور زاویے سے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ اسلام میں دو طرح کے معیار ہوتے ہیں: ایک “میزانِ الٰہی” اور دوسرا “میزانِ نفسی یا دنیوی”۔ میزانِ الٰہی وہ ہے جو وحی، عقلِ سلیم اور سیرتِ معصومینؑ سے اخذ ہوتا ہے، جبکہ میزانِ دنیوی وہ ہے جو انسان اپنے حالات، طاقت، خوف یا لالچ کی بنیاد پر خود بنا لیتا ہے۔ اسلامی فکر میں “حق” اور “مصلحت” کا تعلق محض ایک نظری بحث نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبے میں ایک زندہ اور فیصلہ کن اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب یہ دونوں مفاہیم اپنی صحیح نسبت کے ساتھ سمجھے جائیں تو فرد، معاشرہ اور ریاست ایک ایسے توازن کی طرف بڑھتے ہیں جس میں نہ تو اصول قربان ہوتے ہیں اور نہ ہی عملی زندگی جامد ہو جاتی ہے۔ لیکن جب ان دونوں کا رشتہ بگڑ جائے، یعنی مصلحت کو حق پر حاکم بنا دیا جائے یا حق کو مصلحت سے بے نیاز سمجھ لیا جائے، تو نتیجہ یا تو مفاد پرستی کی شکل میں نکلتا ہے یا غیر مؤثر idealism کی صورت میں۔

فقہی زبان میں اس کو “تقدیم الاہم علی المهم” اور “لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق” جیسے اصولوں کے ذریعے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ یعنی اگر کسی موقع پر فائدہ اور حق میں ٹکراؤ ہو جائے تو اہم (حق) کو غیر اہم (مفاد) پر مقدم کیا جائے گا، اور کسی بھی مخلوق یا دنیوی فائدے کی خاطر خالق کی نافرمانی جائز نہیں ہوگی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی مفاد بظاہر بہت بڑا کیوں نہ ہو، اگر وہ حق کے خلاف ہے تو اسلام اسے رد کر دیتا ہے۔

البتہ اسلام کی جامعیت یہ ہے کہ وہ مفاد کو مکمل طور پر نظرانداز بھی نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اسے “مصلحتِ شرعیہ” کے دائرے میں رکھتا ہے، جہاں مفاد کو اس وقت تک اہمیت دی جاتی ہے جب تک وہ حق کے ساتھ متصادم نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام میں حکمت، تدبیر اور حالات کی رعایت بھی موجود ہے، لیکن یہ سب کچھ “حق” کے تابع رہتا ہے، نہ کہ اس کا متبادل بنتا ہے۔ “المصلحۃُ معتبرۃٌ شرعاً ما لم تُعارِضِ الحقَّ، فإذا عارضتْه سقط اعتبارُها” یعنی مصلحت اس وقت تک شرعاً معتبر ہے جب تک وہ حق کے معارض نہ ہو، اور جب وہ حق کے مقابل آ جائے تو اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔

اس قاعدے کے اندر دراصل کئی معروف فقہی اصول سمٹ آتے ہیں۔ ایک طرف “تقدیم الاہم علی المهم” کی روح ہے کہ جب دو چیزوں میں ٹکراؤ ہو تو اہم یعنی حق کو مقدم کیا جائے، اور دوسری طرف “لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق” کا اطلاق ہے کہ کسی بھی مصلحت یا فائدے کی بنیاد پر حق کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ اسی کے ساتھ “المصالح المرسلہ” اور “درء المفاسد” جیسے اصول بھی اسی دائرے میں آتے ہیں، مگر ان سب کی حد وہی ہے جہاں تک وہ حق سے متصادم نہ ہوں۔

سیاسی زندگی میں اس اصول کی تطبیق سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے، کیونکہ سیاست دراصل اجتماعی فیصلوں کا نام ہے۔ اسلام کے نزدیک سیاست کا اصل معیار “حق” ہے، یعنی عدل، امانت، دیانت اور الٰہی احکام کی پاسداری۔ جب سیاست یا قیادت میزانِ الٰہی کے تابع ہوتی ہے تو وہ “حق پر مبنی سیاست” بن جاتی ہے، اور جب وہ میزانِ دنیوی کے تابع ہو جائے تو وہ “مفاد پر مبنی سیاست” بن جاتی ہے۔ اگر کوئی ریاست یا قیادت اپنے فیصلے صرف اس بنیاد پر کرے کہ اس سے اقتدار محفوظ رہے گا، عالمی طاقتیں خوش ہوں گی یا وقتی استحکام حاصل ہوگا، تو یہ مصلحت کو حق پر مقدم کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس کے برعکس اگر قیادت ہر معاملے میں حق کو معیار بنائے لیکن حالات، وسائل اور حکمتِ عملی کو نظرانداز کر دے تو وہ اپنی پالیسیوں کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کر سکے گی۔ یہاں مصلحت کا کردار سامنے آتا ہے، جو حق کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے اس کے نفاذ کا بہترین طریقہ تلاش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک اسلامی سیاسی نظام میں اصول اور حکمت ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں؛ اصول سمت دیتے ہیں اور حکمت راستہ ہموار کرتی ہے۔

معاشی زندگی میں بھی یہی توازن بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام میں معیشت کا اصل ہدف صرف دولت کا حصول نہیں بلکہ عدلِ معاشی، توازن اور انسانی کرامت کا تحفظ ہے۔ سود، استحصال، ذخیرہ اندوزی اور دھوکہ دہی کو اس لیے حرام قرار دیا گیا کیونکہ یہ سب حق کے خلاف ہیں، چاہے بظاہر کسی فرد یا گروہ کے لیے فائدہ مند کیوں نہ ہوں۔ یہاں اگر کوئی شخص یا ریاست یہ کہے کہ موجودہ عالمی نظام میں چلنے کے لیے ان چیزوں کو قبول کرنا ایک “مصلحت” ہے، تو یہ دراصل مصلحت کا غلط استعمال ہوگا، کیونکہ یہ حق کے مقابلے میں کھڑی ہو رہی ہے۔ صحیح اسلامی تصور یہ ہے کہ مصلحت ایسی حکمت عملی کا نام ہے جو حق کو برقرار رکھتے ہوئے معاشی نظام کو مؤثر بنائے۔ مثال کے طور پر تجارت، سرمایہ کاری، اور مارکیٹ کی ترقی سب جائز ہیں، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ عدل، شفافیت اور انسانی بھلائی کے اصولوں کے تابع ہوں۔ یوں مصلحت معیشت کو متحرک رکھتی ہے مگر حق اس کی حدود متعین کرتا ہے۔

سماجی زندگی میں حق اور مصلحت کا تعلق اور بھی زیادہ حساس ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں انسان کے تعلقات، اقدار اور شناخت کا سوال ہوتا ہے۔ اسلام نے سچائی، امانت، عدل، حیا اور احترامِ انسانیت کو “حق” کے طور پر متعین کیا ہے۔ اگر کوئی معاشرہ وقتی سکون، سماجی دباؤ یا اکثریتی رجحان کی بنیاد پر ان اصولوں سے انحراف کرے تو وہ دراصل مصلحت کے نام پر حق کو قربان کر رہا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانا صرف اس لیے کہ اس سے انتشار پیدا ہوگا، ایک ایسی مصلحت ہے جو درحقیقت حق کے خلاف ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر حق کو بیان کرنے اور نافذ کرنے کا ایک مناسب طریقہ اور وقت ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص یا گروہ بغیر حکمت کے، سختی یا اشتعال کے ساتھ حق کو پیش کرے اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں فساد بڑھ جائے تو یہ بھی ایک طرح کی غلطی ہے۔ یہاں مصلحت کا صحیح کردار یہ ہے کہ وہ حق کی ترسیل کو مؤثر، حکیمانہ اور قابلِ قبول بنائے، نہ کہ اسے بدل دے یا چھپا دے۔

یوں دیکھا جائے تو سیاسی، معاشی اور سماجی تینوں دائروں میں ایک ہی بنیادی اصول کارفرما ہے: حق معیار ہے اور مصلحت اس معیار کے اندر رہ کر عمل کی صورت گری کرتی ہے۔ اگر حق کو چھوڑ دیا جائے تو مصلحت مفاد پرستی میں بدل جاتی ہے، اور اگر مصلحت کو نظرانداز کر دیا جائے تو حق ایک غیر عملی تصور بن کر رہ جاتا ہے۔ اسلام ان دونوں کے درمیان ایک ایسا توازن قائم کرتا ہے جس میں اصولوں کی حفاظت بھی ہوتی ہے اور زندگی کی روانی بھی برقرار رہتی ہے۔

آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی نظامِ فکر میں کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ انسان اور معاشرہ “حق” کو اپنی بنیاد بنائے اور “مصلحت” کو اس بنیاد کے تابع رکھے۔ جب یہ ترتیب قائم رہتی ہے تو سیاست میں عدل، معیشت میں توازن اور معاشرے میں اخلاقی استحکام پیدا ہوتا ہے۔ لیکن جیسے ہی یہ ترتیب الٹ جاتی ہے، یعنی مصلحت حق پر غالب آ جاتی ہے، تو بظاہر ترقی اور استحکام کے باوجود اندر سے ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جو بالآخر بحران، بے اعتمادی اور زوال کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2912

ٹیگز

تبصرے