عصرِ حاضر کے نوجوان اور فکرِ خمینیؒ
تحریر: مولانا سید عمار حیدر زیدی قم
نوجوان ہر قوم کا وہ سرمایہ ہوتے ہیں جن پر اس کی تعمیر و ترقی کا دار و مدار ہوتا ہے۔ جہاں قوموں کی تاریخ میں بڑے انقلابات رونما ہوئے ہیں، وہاں نوجوانوں کا کردار ہمیشہ مرکزی رہا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ ہو یا کربلا کا میدان، ہر جگہ نوجوانوں کی قربانیوں اور بیداری نے امت کو نئی راہیں دکھائیں۔ اسی تسلسل میں اگر ہم عصرِ حاضر کی بات کریں، تو امام خمینیؒ کی تحریکِ انقلاب اسلامی ایران ایک نمایاں مثال ہے جس میں نوجوان سب سے آگے تھے۔
آیت اللہ خمینیؒ نوجوانوں کو صرف ایک سادہ عمرانی طبقہ نہیں سمجھتے تھے، بلکہ وہ انہیں ایک تحریک، ایک امید، اور ایک انقلاب کی روح تصور کرتے تھے۔ وہ نوجوانوں سے محبت کرتے، ان پر بھروسا کرتے، اور ان کی تربیت کو سب سے اہم ذمہ داری قرار دیتے تھے۔
آیت اللہ خمینیؒ کی فکر کے بنیادی اصول
آیت اللہ خمینیؒ کی فکر چند مرکزی نکات پر استوار ہے جو نوجوانوں کے لیے آج بھی مشعلِ راہ ہیں:
- اعتماد بالنفس (خودی):
امام ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ نوجوان دوسروں کی طرف نہ دیکھیں، بلکہ خود اپنی فکری اور عملی صلاحیتوں پر بھروسا کریں۔ ان کا کہنا تھا:
“ہمیں دوسروں کی نقالی نہیں کرنی، ہمیں اپنا راستہ خود بنانا ہے۔” - استکبار سے بیزاری:
امام کی فکر کی بنیاد استکبار (خصوصاً امریکہ و اسرائیل) کے خلاف کھلی مزاحمت پر تھی۔ وہ نوجوانوں کو ہمیشہ باطل طاقتوں کے خلاف قیام کی ترغیب دیتے رہے۔
یوم القدس کا اعلان بھی اسی مزاحمتی فکر کا تسلسل تھا۔ - روحانیت و اخلاق:
آیت اللہ خمینیؒ کی انقلابی سیاست، ان کی عمیق روحانیت سے جڑی ہوئی تھی۔ ان کا یہ مشہور جملہ آج بھی نوجوانوں کے لیے قابلِ غور ہے:
“اگر تم اپنے نفس کا جہاد نہیں کرو گے تو دنیا کا کوئی انقلاب کامیاب نہیں ہوگا۔” - علم اور عمل کی وحدت:
وہ نوجوانوں کو صرف نظریاتی تعلیم تک محدود نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ علم کے ساتھ ساتھ عمل، قربانی، اور معاشرتی خدمت کو بھی ضروری سمجھتے تھے۔ - قیادت و بیداری:
امام نے نوجوانوں کو قیادت کے قابل بنایا، انہیں فکری اور عملی تربیت دی، اور میدان میں لا کھڑا کیا۔ نوجوان اور انقلاب اسلامی
انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی میں نوجوانوں نے ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ یونیورسٹیوں، مساجد، اسکولوں اور سڑکوں پر نوجوان ہی وہ چہرے تھے جو شاہی ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوئے۔ آیت اللہ خمینی نے ہمیشہ نوجوانوں کو انقلاب کا ستون قرار دیا۔ ان کا یہ جملہ ان کی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے:
“یہ جوان ہیں جنہوں نے انقلاب کو باقی رکھا۔”
عصرِ حاضر کے چیلنجز
آج کا نوجوان مغربی فکری یلغار، میڈیا کی سطحیت، شخصیت کے بحران اور مقصدیت کی کمی جیسے سنگین مسائل کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا نے اگرچہ رابطے آسان بنا دیے ہیں، مگر شعور اور گہرائی کا خلا بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں آیت اللہ خمینیؒ کی فکر ایک ایسی روحانی و نظریاتی بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر نوجوان اپنی شخصیت کی تعمیر کر سکتے ہیں۔
فکرِ خمینیؒ کی عصری معنویت
آیت اللہ خمینیؒ کی فکر صرف ایک خاص وقت یا مخصوص خطے تک محدود نہیں، بلکہ وہ ایک آفاقی پیغام رکھتی ہے:
نوجوانوں میں مقصدِ حیات کا شعور پیدا کرنا
حق گوئی اور استقامت کی تربیت دینا
روحانی تربیت کو زندگی کا لازمی حصہ بنانا
اجتماعی شعور اور قیادت کی صلاحیت پیدا کرنا۔
امام خمینیؒ کی فکر آج بھی دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جب دنیا ظاہری چمک دمک، مغربی فلسفے اور مادی مفادات میں گم ہے، تب امام کی فکر ہمیں باطن کی روشنی، فکر کی گہرائی، اور مقصد کی عظمت عطا کرتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو صرف تعلیم نہیں، بلکہ بصیرت، اخلاص، اور استقلال بھی دیں — اور یہی فکرِ خمینیؒ کا اصل پیغام ہے۔
