33

انسان کیلئے رول ماڈل کی اہمیت اور ائمہ اہلبیت ع کا کردار

  • نیوز کوڈ : 1475
  • 10 April 2025 - 17:48
انسان کیلئے رول ماڈل کی اہمیت اور ائمہ اہلبیت ع کا کردار

انسان کیلئے رول ماڈل کی اہمیت اور ائمہ اہلبیت ع کا کرداربسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ تحریر: سید جہانزیب عابدی تشیع میں آئمہ علیہم السلام کا معصوم اور دور از خطا ہونا محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ دین کی رہنمائی اور ہدایت کی ضمانت ہے۔ جب کوئی فرد یا جماعت انسانوں کی رہبری کے لیے منتخب […]

انسان کیلئے رول ماڈل کی اہمیت اور ائمہ اہلبیت ع کا کردار
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر: سید جہانزیب عابدی

تشیع میں آئمہ علیہم السلام کا معصوم اور دور از خطا ہونا محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ دین کی رہنمائی اور ہدایت کی ضمانت ہے۔ جب کوئی فرد یا جماعت انسانوں کی رہبری کے لیے منتخب کی جاتی ہے، تو اس کی سیرت، علم، نیت اور فیصلوں میں کامل صداقت، پاکیزگی اور حکمت کا ہونا ضروری ہوتا ہے، ورنہ وہ خود بھی غلطیوں کا شکار ہو سکتی ہے اور دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ تشیع کا یہ بنیادی اصول ہے کہ دین کی اصل تشریح اور عملی تطبیق وہی کر سکتا ہے جو الٰہی طور پر معصوم، یعنی گناہ اور خطا سے پاک ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام نہ صرف ظاہری طور پر عبادات، اخلاق اور معاملات میں کامل نمونہ ہیں بلکہ ان کی فکری گہرائی، قرآنی بصیرت اور سماجی رہنمائی بھی وحی کے فہم سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔ ان کی معصومیت انہیں ہر قسم کے ذاتی مفاد، وقتی مصلحت یا شیطانی اثر سے پاک رکھتی ہے، اور اس وجہ سے ان کی پیروی دراصل براہ راست الٰہی ہدایت کی پیروی ہے۔

ائمہ علیہم السلام کے کردار میں خلوص، ایثار اور حق پر استقامت وہ صفات ہیں جو ان کی معصومیت کی عملی جھلکیاں ہیں۔ ان کی زندگیاں نہایت سادہ، زہد و ورع سے معمور اور سراپا خدمتِ خلق تھیں۔ لیکن ان کی قربانیاں، مظلومیت اور شہادتیں تشیع میں ایک خاص روحانی و تربیتی حیثیت رکھتی ہیں۔ امام حسین علیہ السلام کی کربلا میں عظیم قربانی ہو یا امام علی علیہ السلام کا مسجد میں شہادت کے ساتھ رخصت ہونا، امام حسن علیہ السلام کا صلح کے ذریعے امت کو بچانا ہو یا امام سجاد علیہ السلام کا قید و بند میں صبر کا مظاہرہ، یہ سب واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ ائمہ نے دین کے لیے اپنی جانوں، عزتوں، اولادوں اور زندگیوں کی قربانی دی، لیکن باطل کے سامنے جھکنے کو قبول نہ کیا۔ ان کی شہادتیں یہ سکھاتی ہیں کہ دین کی حفاظت صرف درس و تقریر سے نہیں بلکہ خون، صبر، تقویٰ اور خلوص سے ہوتی ہے۔

ائمہ کی یہ قربانیاں صرف تاریخی واقعات نہیں بلکہ شیعہ مکتب کے ہر فرد کے دل میں عشق، وفاداری، بیداری اور قربانی کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ ان کی شہادتیں ہمیں یہ شعور دیتی ہیں کہ حق کا راستہ آسان نہیں لیکن عظیم ہے، اور اس پر چلنے والوں کے لیے ابدی کامیابی ہے۔ اس طرح ائمہ علیہم السلام نہ صرف علمی، اخلاقی اور روحانی رول ماڈل ہیں بلکہ جدوجہد، مظلومیت اور استقامت کے بھی اعلیٰ ترین نشان ہیں، جن کی پیروی سے انسان دنیا اور آخرت میں کامیابی پا سکتا ہے۔
ائمہ علیہم السلام کی طرف رغبت اور ان سے قلبی لگاؤ ایک شیعہ فرد کے دل میں محض عقلی دلیل یا فقہی وجوب کے تحت پیدا نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک گہرے روحانی، قلبی، فطری اور اخلاقی ربط کا نتیجہ ہوتا ہے، جو انسان کے دل کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ انسان فطری طور پر کمال، سچائی، عدل، خلوص، محبت، قربانی اور روحانیت کی جانب مائل ہوتا ہے، اور جب وہ ان صفات کو کسی شخصیت میں مکمل اور مجسم حالت میں دیکھتا ہے تو اس کی طبیعت خود بخود اس طرف مائل ہو جاتی ہے۔ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی زندگیاں انہی صفات کی مکمل تصویر ہیں، اس لیے جو بھی ان کی سیرت، گفتار، کردار اور قربانیوں سے واقف ہوتا ہے، اس کے دل میں ان کی محبت اور عقیدت خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔

دل میں ائمہ کی محبت کا ایک اور گہرا سبب یہ ہے کہ وہ صرف مذہبی رہنما نہیں بلکہ دردِ انسانیت رکھنے والے ایسے رہبر ہیں جنہوں نے ہر دور کے مظلوم، محروم، اور مجبور انسان کے لیے ایک شفیق دل اور مددگار ہاتھ کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا کربلا میں نعرہ “اگر تمہیں دین نہیں تو کم از کم آزاد مرد بنو” ہو یا امام علی علیہ السلام کا فرمائش کرنا کہ “اگر میرا دشمن بھی بھوکا ہو تو اس کو کھانا دو”، یہ صرف دینی عقیدے نہیں بلکہ انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی باتیں ہیں۔ ایک شیعہ جب ان باتوں کو سمجھتا ہے تو وہ صرف ائمہ کو مانتا نہیں بلکہ ان سے محبت کرنے لگتا ہے، ان کی طرف کھنچنے لگتا ہے، اور انہیں اپنا فکری، روحانی اور جذباتی سہارا سمجھنے لگتا ہے۔

ائمہ علیہم السلام کی طرف رغبت اس لیے بھی بڑھتی ہے کہ وہ ہر سطح پر انسان کے دکھوں، سوالات، مشکلات اور محرومیوں کا جواب فراہم کرتے ہیں۔ ان کی دعائیں جیسے دعا کمیل، دعا ابوحمزہ ثمالی، دعا عرفہ اور صحیفہ سجادیہ کی دعائیں، ایک مومن کے دل کی گہرائیوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ان دعاؤں میں جو درد، تواضع، خدا سے رابطہ، اور اپنی کمزوری کا اعتراف ہوتا ہے، وہ ہر سچے انسان کے دل کی صدا بن جاتا ہے۔ ان دعاؤں کے ذریعے انسان ائمہ کو صرف معلم یا رہنما نہیں بلکہ اپنے دل کا رازدار، روح کا مرہم اور عشق کا مرکز سمجھنے لگتا ہے۔

قلبی لگاؤ کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ائمہ نے کبھی اپنے ماننے والوں سے دنیاوی مفاد، سیاست، مال یا شہرت کی طلب نہیں رکھی۔ ان کا تعلق صرف خدا کے لیے، حق کے لیے اور مخلوق کی ہدایت کے لیے تھا۔ یہ خلوص، یہ بے غرضی، یہ انکساری اور یہ قربانی، محبت کو صدقے میں بدل دیتی ہے۔ انسان ان ہستیوں کو اپنا سمجھنے لگتا ہے، اپنی دعاؤں میں انہیں وسیلہ بناتا ہے، ان کے روضوں پر جا کر اپنے دل کے درد بیان کرتا ہے، اور ان کی یاد میں آنسو بہاتا ہے۔ یہ آنسو، یہ جذبات، یہ سوزِ درون، فقط عقیدے کی نہیں بلکہ محبت کی دلیل ہے۔

اہل بیت علیہم السلام کی طرف یہ قلبی لگاؤ صرف فردی سطح پر نہیں بلکہ اجتماعی سطح پر بھی ایک عظیم روحانی طاقت بن جاتا ہے۔ یہی محبت ہے جو کربلا جیسے واقعات کو زندہ رکھتی ہے، جو عزا و ماتم کی شکل میں دلوں کو جوڑتی ہے، جو ایک امت کو دشمنوں کے مقابلے میں بیدار رکھتی ہے، اور جو انسان کو جبر، ظلم اور طاغوت کے خلاف استقامت عطا کرتی ہے۔ یہی محبت ہے جو کسی غریب کو بھی فخر کے ساتھ “میں شیعہ ہوں” کہنے پر آمادہ کرتی ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس سے اس کا تعلق ہے وہ دنیا و آخرت کی عزت کا سرچشمہ ہے۔

یوں ائمہ علیہم السلام کی طرف رغبت اور ان سے قلبی لگاؤ ایک شیعہ کے لیے صرف دینی یا فکری وابستگی نہیں بلکہ ایک زندہ، جیتی جاگتی روحانی حقیقت ہے جو اس کی شناخت، اس کے کردار، اس کے جذبات اور اس کی زندگی کے ہر پہلو میں جھلکتی ہے۔ یہ لگاؤ اسے خدا سے جوڑتا ہے، مظلوم سے ہمدردی سکھاتا ہے، باطل کے خلاف بغاوت پیدا کرتا ہے، اور اسے اپنے وقت کے امام کی نصرت کے لیے تیار کرتا ہے۔
جدید دور میں شیعہ تحریک کی کامیابی کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو اس کی فکری، روحانی اور عملی بنیادیں براہ راست ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت اور نظریہ مہدویت سے جڑی ہوئی ہیں، اور جب ہم اس تمام سلسلے کو نفسیاتی تناظر میں دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ کس طرح ان ہستیوں کی یاد، ان کا پیغام، اور امام مہدی عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا تصور ایک فردِ شیعہ کی باطنی تشکیل، جذباتی استقامت، اور سماجی تحرک کا ذریعہ بنتا ہے۔

نفسیات کا بنیادی اصول ہے کہ انسان جب کسی اعلیٰ تر مقصد، کامل نمونے یا مطمئن کن امید سے جُڑا ہوتا ہے تو اس کی شخصیت میں شعوری مرکزیت، جذباتی توازن، اور معنوی جہت پیدا ہوتی ہے۔ ائمہ اہل بیت علیہم السلام، جنہوں نے ظلم، جبر، تحریف، گمراہی اور طاغوتی نظاموں کے خلاف اپنی جانیں، وقت، خاندان اور عزتیں قربان کیں، ان کی زندگی کا ہر پہلو ظلم کے خلاف حق کی جدوجہد کا عملی نمونہ ہے۔ ایک شیعہ فرد جب ان کی قربانیوں کو جانتا ہے، تو اسے اپنے دکھ، بے بسی، محرومی یا ناکامی ذاتی محسوس نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنی حالت کو عظیم تر جدوجہد کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔ اس سے اس کے اندر ایک نفسیاتی قوت پیدا ہوتی ہے جو اسے شکست خوردگی کے احساس سے بچاتی ہے اور باطل کے خلاف بیداری اور جدوجہد کا شعور عطا کرتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ائمہ کی محبت فرد کے اندر ایک جذباتی تحفظ اور روحانی وابستگی کا احساس پیدا کرتی ہے۔ یہ محبت فرد کو تنہائی، بیگانگی، اور معاشرتی عدم انصاف کے احساس میں ڈوبنے سے روکتی ہے، کیونکہ وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے خانوادے سے جُڑا ہوا ہے جس نے ہر زمانے میں انسانیت، عدل، اور حق کی خاطر قربانیاں دیں، اور جو آج بھی اس کے دکھوں سے باخبر ہے۔ یہ تعلق انسان کی شخصیت میں اعتماد، شجاعت، اور روحانی سکون پیدا کرتا ہے۔

نظریہ مہدویت اس نفسیاتی عمل میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ جب ایک شیعہ فرد یہ یقین رکھتا ہے کہ ایک منجی، ایک نجات دہندہ، جو معصوم اور مکمل ہادی ہے، پردہ غیبت میں زندہ ہے اور ایک دن ظہور کرے گا تاکہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے، تو اس کے اندر مایوسی کی جگہ امید، بے یقینی کی جگہ یقین، اور کمزوری کی جگہ عزم آ جاتا ہے۔ نفسیاتی طور پر امید ایک انسان کی بقاء اور کامیابی کے لیے ناگزیر ہے، اور مہدویت کا تصور شیعہ فکر میں ایک زندہ، فعال، اور مسلسل متحرک امید کا نظام مہیا کرتا ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو جمود کا شکار نہیں ہونے دیتا بلکہ وہ خود کو ایک جاری انقلابی تسلسل کا حصہ سمجھتا ہے۔

اس نظریے کی طاقت یہ ہے کہ یہ فرد کو صرف مستقبل کے انتظار پر نہیں چھوڑتا بلکہ حال میں عمل، تربیت، تزکیہ نفس، اور اجتماعی ذمہ داری کی طرف بلاتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اگر وہ واقعی امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا منتظر ہے، تو اس کی زندگی، اخلاق، تعلقات، علم، جدوجہد اور استقامت سب کچھ اس انتظار کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ یہی نفسیاتی بیداری، امید، اور روحانی تعلق اس کے طرز فکر، مزاج اور رویّے کو تبدیل کرتی ہے، اور یہی تبدیلی فرد سے معاشرے اور تحریک تک پھیلتی ہے۔

یوں ائمہ اہل بیت علیہم السلام کا رول ماڈل ہونا، ان کی محبت سے دل کا وابستہ ہونا، اور امام مہدی علیہ السلام کی عالمی عدل پر مبنی حکومت کا انتظار، شیعہ تحریک کو ایک زبردست روحانی، فکری اور نفسیاتی بنیاد عطا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا جامع نظام بن جاتا ہے جس میں فرد کبھی تنہا، مایوس یا بے مقصد محسوس نہیں کرتا بلکہ وہ ہر لمحہ خود کو ایک عظیم عادلانہ انقلاب کے لیے تیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو اس کی انفرادی کامیابی اور تحریک کی اجتماعی کامیابی، دونوں کا ضامن بنتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1475

ٹیگز

تبصرے