33

اسلامِ وراثتی شناخت یا عملی طرزِ زندگی؟

  • نیوز کوڈ : 1439
  • 29 March 2025 - 5:04
اسلامِ وراثتی شناخت یا عملی طرزِ زندگی؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🖊️ مولانا سید عمار حیدر زیدی قم اسلامِ وراثتی شناخت یا عملی طرزِ زندگی؟ اسلام محض ایک نام یا خاندانی وراثت نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے جو شعوری عمل اور فکری بیداری کا تقاضا کرتا ہے۔ آج کے دور میں ہمیں دو طرح کے مسلمان نظر آتے ہیں: ایک […]

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

🖊️ مولانا سید عمار حیدر زیدی قم

اسلامِ وراثتی شناخت یا عملی طرزِ زندگی؟

اسلام محض ایک نام یا خاندانی وراثت نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے جو شعوری عمل اور فکری بیداری کا تقاضا کرتا ہے۔ آج کے دور میں ہمیں دو طرح کے مسلمان نظر آتے ہیں: ایک وہ جو اسلام کو وراثت میں پاتے ہیں، اور دوسرے وہ جو شعوری طور پر اسلام کو اپناتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ اس مضمون میں، ہم ان دونوں رویوں کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ قرآن اور امام علیؑ کی تعلیمات ہمیں کیا درس دیتی ہیں۔

اسلامِ ارثی وراثت میں ملا دین

بہت سے لوگ اسلام میں محض اس لیے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ ان کے والدین مسلمان تھے۔ یہ لوگ اسلامی نام رکھتے ہیں، اسلامی تہذیب و ثقافت کا حصہ ہوتے ہیں، اور کبھی کبھار عبادات بھی انجام دیتے ہیں، لیکن ان کا دین سے تعلق زیادہ تر روایتی یا ثقافتی ہوتا ہے۔ یہ وہی رویہ ہے جس کی طرف قرآن کریم نے کئی مقامات پر توجہ دلائی ہے:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ بَلْ نَتَّبِعُ مَآ أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَا ۚ أَوَلَوْ كَانَ ءَابَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْـًٔا وَلَا يَهْتَدُونَ
(سورۃ البقرہ 170)

“اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس کی پیروی کرو، تو وہ کہتے ہیں: بلکہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، چاہے ان کے آباء نہ کچھ سمجھتے ہوں، نہ ہی ہدایت یافتہ ہوں!”

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ آنکھیں بند کرکے کسی کی تقلید کرنا، بغیر سوچے سمجھے کسی دین کو اپنانا یا کسی بھی نظریے کو صرف اس لیے ماننا کہ ہمارے بڑوں نے اسے مانا تھا، کوئی عقل مندی کی بات نہیں۔

اسلام عملی شعور اور حقیقت کی تلاش

اس کے برعکس، اسلام عملی وہ طرزِ زندگی ہے جس میں ایک شخص دین کو سمجھ کر، غور و فکر کے ساتھ اور شعوری فیصلے کے ذریعے اختیار کرتا ہے۔ قرآن ہمیں بار بار غور و فکر، تدبر، اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا
(سورۃ محمد 24)

“تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں؟”

امام علیؑ نے بھی اپنے اقوال میں اسی حقیقت کی نشاندہی فرمائی ہے:

“علم بغیر فہم کے بیکار ہے، اور فہم بغیر عمل کے بے سود۔”
(نہج البلاغہ، حکمت 113)

یہ قول واضح کرتا ہے کہ محض دین کا علم حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ اس پر عمل بھی ضروری ہے۔

موجودہ دور کا چیلنج: نام کا مسلمان یا حقیقی پیروکار؟

آج کے دور میں ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ بہت سے مسلمان صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ ان کی شناخت صرف اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئے ہیں، لیکن ان کی زندگی میں دین کی عملی جھلک کم نظر آتی ہے۔

مساجد بھری ہوتی ہیں، مگر بازاروں میں دھوکہ دہی عام ہے۔

قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے، مگر اس کی تعلیمات پر عمل نہیں ہوتا۔

اسلامی تہوار منائے جاتے ہیں، مگر اس کے روحانی اور اخلاقی پہلو نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔

امام علیؑ نے اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں فرمایا:

“لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جب اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کا صرف رسم الخط۔ ان کی مساجد تو آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ہوں گی۔”
(نہج البلاغہ، خطبہ 147)

یہ الفاظ آج کے معاشرے کی بالکل درست عکاسی کرتے ہیں۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

۔1۔ دین کو سمجھنے کی کوشش کریں: محض روایتی مسلمان بننے کے بجائے قرآن اور حدیث کا گہرائی سے مطالعہ کریں اور اسلام کی حقیقی روح کو سمجھیں۔

۔2۔ دین پر عمل کریں: عبادات، اخلاق، معاملات، ہر پہلو میں اسلامی اصولوں کو اپنانے کی کوشش کریں۔

۔3۔ نئی نسل کو شعوری مسلمان بنائیں: بچوں کو صرف اسلامی نام دینا کافی نہیں، انہیں دین کی سمجھ بھی دیں تاکہ وہ خود فیصلہ کریں کہ اسلام کیوں اور کیسے بہتر طرزِ زندگی ہے۔

۔4۔ دین کو ثقافت سے الگ کریں: بعض اوقات ہم غیر اسلامی ثقافتی روایات کو بھی دین سمجھ کر اپناتے ہیں، اس لیے دین اور ثقافت کے فرق کو پہچاننا ضروری ہے۔

وراثتی اسلام انسان کو صرف ایک شناخت دیتا ہے، جبکہ عملی اسلام اسے دنیا اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ قرآن اور امام علیؑ کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ حقیقی مسلمان وہی ہے جو دین کو سمجھ کر اس پر عمل کرے، نہ کہ وہ جو اسے صرف وراثت میں پائے اور تقلید میں گزار دے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو شعوری مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1439

ٹیگز

تبصرے