34

حدیث / کم بولنا دانائی اور وقار کی نشانی ہے۔

  • نیوز کوڈ : 1152
  • 10 March 2025 - 7:41
حدیث / کم بولنا دانائی اور وقار کی نشانی ہے۔

صراط ٹائمز / کے مطابق نھج البلاغہ حکمت 71 میں مولائے کائنات امام علی علیہ السلام سے ایک حدیث ہوئی جس کا متن اور وضاحت یہاں ذکر کر رہے ہیں۔ حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:۔“إِذَا تَمَّ الْعَقْلُ نَقَصَ الْكَلَامُ۔”ترجمہ : جب عقل کامل ہوتی ہے تو کلام کم ہو جاتا ہے۔(نہج البلاغہ، حکمت […]

صراط ٹائمز / کے مطابق نھج البلاغہ حکمت 71 میں مولائے کائنات امام علی علیہ السلام سے ایک حدیث ہوئی جس کا متن اور وضاحت یہاں ذکر کر رہے ہیں۔

حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
“إِذَا تَمَّ الْعَقْلُ نَقَصَ الْكَلَامُ۔”
ترجمہ : جب عقل کامل ہوتی ہے تو کلام کم ہو جاتا ہے۔
(نہج البلاغہ، حکمت 71)

وضاحت

یہ حدیث مختصر مگر گہری بصیرت رکھتی ہے۔ امام علی (علیہ السلام) ہمیں یہ سکھا رہے ہیں کہ انسان جتنا زیادہ عقل مند ہوتا ہے، اتنا ہی کم اور نپا تلا بولتا ہے۔ اس کی درج ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں:۔

زیادہ بولنے کے نقصانات:۔
جو شخص زیادہ بولتا ہے، وہ اکثر غیر ضروری یا غلط باتیں بھی کر بیٹھتا ہے، جو بعد میں پشیمانی کا باعث بنتی ہیں۔ عقلمند شخص سوچ سمجھ کر بولتا ہے، تاکہ اس کے الفاظ فائدہ مند اور باوقار ہوں۔

خاموشی میں حکمت:۔
سکون اور کم گوئی انسان کو غور و فکر کا موقع دیتی ہے۔ زیادہ بولنے والا شخص دوسروں کی بات کم سنتا ہے، جبکہ عقلمند شخص زیادہ سنتا ہے اور کم مگر بامقصد گفتگو کرتا ہے۔

کامیاب لوگوں کی عادت:۔
تاریخ میں جتنے بھی کامیاب اور عقل مند لوگ گزرے ہیں، ان کی گفتگو مختصر مگر جامع ہوتی تھی۔ وہ غیر ضروری باتوں میں وقت ضائع نہیں کرتے تھے بلکہ الفاظ کا صحیح استعمال کرتے تھے۔

    نتیجہ

    یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے اور بلاوجہ زیادہ گفتگو سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ کم بولنا دانائی اور وقار کی نشانی ہے۔

    مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=1152

    ٹیگز

    تبصرے