نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک روایت کتاب کنز العمال میں نقل ہوئی ہے۔
رسولِ اکرم صلَّی اللہُ علیہ وآلہِ وسلَّم نے فرمایا:
«حُبُّ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ يَأْكُلُ الذُّنُوبَ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ.»
ترجمہ:
علی ابن ابی طالب کی محبت گناہوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔
📚 حوالہ:
📘 کنز العمال، جلد 11، صفحہ 621
وضاحت
محبتِ مولا علی علیہ السلام محض ایک جذباتی وابستگی نہیں بلکہ بلکہ اس تشبیہ جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ محبت ایک روحانی طاقت ہے جو انسان کے دل کو پاک کرتی، ایمان کو مضبوط بناتی اور گناہوں کے اثرات کو مٹا دیتی ہے ۔گناہ ایجاد نہیں کرتی ہے بلکہ گناہ ختم کر دیتی ہے جس طرح آگ لکڑی کو ختم کرتی ایجاد نہیں کرتی ہے پس انسان کے وجود سے اس گھرسے انسانی معاشرے سے گناہ ختم کرنے کے لیے امیر المؤمنین سے محبت کرنے کی تاکید ہوئی پس یہ غلط فہمی کو بعض میں ہوتی ہے علی سے محبت کابھی دعوا کرے اور گناہ بھی کرتے رہے یہ غلط تصور ہے ہاں محبت حقیقی اس وقت مؤثر ہوگی بشرطیکہ یہ محبت اطاعت، تقویٰ اور اتباعِ اہلِ بیت علیہم السلام کے ساتھ ہو۔
