صراط ٹائمز / یہ حدیث شیخ کلینی رح اپنی کتاب الکافی کی جلد 2، صفحہ 105 میں نقل کرتے ہیں جس کا متن کچھ اس طرح ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
“مَنْ صَدَقَ لِسَانُهُ زَكَى عَمَلُهُ، وَمَنْ حَسُنَتْ نِيَّتُهُ زِيدَ فِي رِزْقِهِ، وَمَنْ حَسُنَ بِرُّهُ بِأَهْلِهِ زِيدَ فِي عُمُرِهِ”
(الكافي، ج 2، ص 105)
ترجمہ:۔
جس کی زبان سچ بولے، اس کا عمل پاکیزہ ہو جاتا ہے، جس کی نیت نیک ہو، اس کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے، اور جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، اس کی عمر میں برکت دی جاتی ہے۔
وضاحت:۔
یہ حدیث امام جعفر صادق (ع) کی طرف سے تین اہم اخلاقی اصولوں پر روشنی ڈالتی ہے، جو ایک مؤمن کی زندگی میں کامیابی اور برکت کا سبب بنتے ہیں:۔
سچائی اور اعمال کی پاکیزگی:۔
امام (ع) فرماتے ہیں کہ سچائی صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ اعمال کی پاکیزگی کا ذریعہ بھی ہے۔ جب انسان سچ بولتا ہے، تو اس کے دیگر اعمال بھی خلوص اور تقویٰ کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ جھوٹ نہ صرف گناہ ہے بلکہ یہ دوسرے گناہوں کا دروازہ بھی کھول دیتا ہے۔
نیک نیتی اور رزق میں برکت:۔
نیت کا اخلاص اللہ کے ہاں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اگر کسی کا ارادہ نیک ہو اور وہ اپنی نیت کو اللہ کے لیے خالص رکھے، تو اللہ اس کے رزق میں برکت عطا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف مالی دولت میں اضافہ ہوگا بلکہ عزت، سکون اور زندگی کی دیگر برکتیں بھی شامل ہیں۔
گھر والوں کے ساتھ حسن سلوک اور عمر میں برکت:۔
ایک شخص جتنا اپنے اہل و عیال کے ساتھ محبت، شفقت اور انصاف کے ساتھ پیش آتا ہے، اللہ اس کی عمر میں برکت عطا کرتا ہے۔ اس برکت کا مطلب صرف سالوں میں اضافہ نہیں بلکہ صحت مند، خوشحال اور پُرسکون زندگی بھی ہے۔
نتیجہ:۔
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اگر ہم سچائی کو اپنائیں، نیت کو پاک رکھیں، اور اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں، تو ہماری زندگی میں روحانی، مالی اور جسمانی برکات نازل ہوں گی۔ یہ تین اصول ایک کامیاب اور بابرکت زندگی کی بنیاد ہیں۔
