صراط ٹائمز / آیت اللہ العظمی جوادی آملی
“حسد ایک بیماری ہے، تکبر ایک بیماری ہے، بخل ایک بیماری ہے۔ اگر ہمارے دوست، پڑوسی یا ساتھی ترقی کریں اور ہمیں واقعی خوشی ہو، تو ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم بیمار نہیں ہیں۔ لیکن اگر ہمیں اس پر پریشانی ہو، تو یہ بیماری ہے اور اس کا علاج کرنا چاہیے۔
اب اگر کوئی شخص چشمے سے ایک پیالہ پانی لے تو ہم بھی جا کر لے سکتے ہیں۔ کیا اللہ نے اسے نہیں دیا؟ کیا اللہ نے ہمیں یہ نہیں کہا کہ مانگو، میں عطا کروں گا؟! کیا اس نے کسی اور جگہ سے لے لیا یا اپنے پاس سے لے آیا؟! قرآن میں فرمایا گیا ہے: ’اور تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہے‘ (النحل: 53)۔ سب کچھ اسی کی طرف سے ہے۔ اگر وہ گیا اور لے آیا، تو تم بھی جاؤ اور لے آؤ۔”
(درسِ اخلاق: 9/4/90)
