تحریر: مولانا سید عمار حیدر زیدی، قم المقدسہ
کوفہ کو عموماً ایک تاریخی شہر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ کوفہ صرف ایک شہر کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی سوچ، ایک ایسے رویے اور ایک ایسی نفسیات کا نام ہے جو ہر دور میں زندہ رہتی ہے۔
کوفہ وہ جگہ تھی جہاں ہزاروں خطوط لکھے گئے، وفاداری کے دعوے کیے گئے، امامِ وقت کو مدد کی یقین دہانیاں کرائی گئیں، مگر جب امتحان کا وقت آیا تو بہت سے ہاتھ پیچھے ہٹ گئے، زبانیں خاموش ہوگئیں اور قدم حق کے ساتھ چلنے کے بجائے دنیا کی مصلحتوں کی طرف مڑ گئے۔
تاریخ ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ صرف کوفہ والوں پر افسوس کریں، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ کہیں ہماری زندگی میں بھی “کوفی سوچ” تو پیدا نہیں ہو رہی؟ جب حق کی حمایت صرف نعروں تک محدود ہو جائے، جب دین پر عمل حالات کا محتاج بن جائے، جب حق کی نصرت سے پہلے ذاتی مفاد کو ترجیح دی جائے، جب ظالم کے خلاف خاموشی کو حکمت کا نام دیا جائے، تو سمجھ لیجیے کہ کوفہ صرف تاریخ میں نہیں، ہمارے دلوں میں بھی بسنے لگا ہے۔
کربلا کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ امام حسینؑ کو صرف محبت کرنے والے نہیں چاہیے تھے، بلکہ ایسے وفادار چاہیے تھے جو ہر قیمت پر حق کے ساتھ کھڑے رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے ان بہتر نفوس کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا، کیونکہ انہوں نے دنیا پر آخرت، مصلحت پر حقیقت اور جان پر امام کی رضا کو ترجیح دی۔
آج ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ اگر حق و باطل کا معرکہ ہمارے سامنے برپا ہو جائے تو ہم کس صف میں کھڑے ہوں گے؟ کیا ہماری محبت صرف آنسوؤں تک محدود ہے یا ہمارے کردار میں بھی حسینؑ کی تعلیمات جھلکتی ہیں؟ کیا ہم ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں یا خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں؟
کوفہ کی گلیاں ختم ہوچکی ہیں، مگر کوفی سوچ آج بھی زندہ ہے۔ اسی طرح کربلا کا میدان بھی ختم ہو گیا، مگر حسینی کردار آج بھی زندہ ہے۔ ہر انسان روز اپنے فیصلوں سے یہ طے کرتا ہے کہ وہ کوفے کی سوچ کا نمائندہ ہے یا کربلا کے کردار کا۔
محرم ہمیں صرف ماتم کرنا نہیں سکھاتا، بلکہ خود احتسابی کا درس دیتا ہے۔ آئیں اس سال اپنے دلوں کا جائزہ لیں، اپنے وعدوں کو سچا کریں، اپنے ایمان کو عمل سے ثابت کریں اور اس عہد کی تجدید کریں کہ ہم ہر زمانے میں حق کا ساتھ دیں گے، خواہ اس کی قیمت کچھ بھی ادا کرنی پڑے۔
کیونکہ تاریخ میں سب سے بڑا المیہ صرف امام حسینؑ کا شہید ہونا نہیں تھا، بلکہ حق کو پہچان لینے کے باوجود اس کا ساتھ نہ دینا تھا۔ یہی “کوفی سوچ” ہے، اور یہی وہ سوچ ہے جس سے ہر مؤمن کو ہر دور میں بچنا ہوگا۔
