تحریر : خانم طاہرین فاطمہ ملک
صراط ٹائمز / سیرتِ نبویؐ و سیرتِ اہل بیتؑ میں تربیتِ اولاد کے اصول
رسول اکرمؐ نے فرمایا:۔
أَكْرِمُوا أَوْلَادَكُمْ وَ أَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ يُغْفَرْ لَكُم؛
“اپنے بچوں کا احترام کرو اور انہیں بہترین ادب سکھاؤ، اللہ تمہاری مغفرت فرمائے گا۔”
تربیت کا مفہوم
“تربیت” عربی زبان کا لفظ ہے جو “ر-ب-ب” سے مشتق ہے، جس کے لغوی معنی رُشد و نشوونما اور بچے کی اصلاح کے لیے بہترین اقدام کرنے کے ہیں۔
اصطلاح میں، تربیت کا مطلب ایسا ماحول اور زمینہ فراہم کرنا ہے، جہاں بچے کی پوشیدہ صلاحیتیں ظاہر ہو سکیں اور اس میں پائی جانے والی استعداد عملی طور پر نکھر کر سامنے آئے۔
ولادت سے قبل کا مرحلہ
جدید تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اکثر والدین کی جسمانی و اخلاقی خصوصیات بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ مومن بنے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک نیک، متقی اور دیندار ماں کا انتخاب کریں، جو بچے کی دینی تربیت کر سکے۔
رسول اکرمؐ نے فرمایا:۔
“یہ ضرور دیکھو کہ اپنے بچے کا نطفہ کس کے رحم میں قرار دے رہے ہو! کیونکہ نسل کی جڑ اور بنیاد بہت زیادہ اثر رکھتی ہے۔”
حلال غذا کی اہمیت
حلال کمائی اور پاکیزہ غذا بچے کی سعادت و شقاوت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
رسول اللہؐ نے فرمایا:۔
إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الْجَنَّةَ أَنْ يَدْخُلَهَا جَسَدٌ غُذِّيَ بِحَرَام؛
“اللہ نے جنت کو اس جسم پر حرام کر دیا ہے جو حرام غذا سے تشکیل پایا ہو۔”
لہٰذا، ماں باپ پر لازم ہے کہ وہ اپنی آمدنی کو حلال ذرائع سے حاصل کریں تاکہ ان کی اولاد کی فطرت پاکیزہ رہے۔
حمل کے ایام اور تربیت
انسان کی ازدواجی زندگی میں سب سے اہم مرحلوں میں سے ایک خاتون کے حمل کے دن ہوتے ہیں۔
رسول اللہؐ فرماتے ہیں:۔
السَّعِيدُ مَنْ سَعِدَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَ الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّه؛
“سعادت مند وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں ہی سعادت مند ہو، اور بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں ہی بدبخت ہو۔”
حمل کے دوران ماں کی خوراک
بعض روایات میں کھجور کھانے کی تاکید کی گئی ہے۔ احادیث کے مطابق، کھجور کے اثرات صرف بچے کی جسمانی ساخت پر ہی نہیں بلکہ اس کے اخلاق اور کردار پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ یہ بچے میں شائستہ اور اعلیٰ صفات پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔
ماں کے کردار کی اہمیت
بچے اللہ کی عظیم نعمت ہیں، اور ان کی تربیت کے لیے والدین کو خود صبر اور حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔
ماں کا کردار اس میں سب سے زیادہ نمایاں ہے، کیونکہ ابتدائی سالوں میں بچہ اپنی ماں سے سب سے زیادہ سیکھتا ہے۔
تحریر جاری ہے…
