4

*فکری موقع پرستی اور شناختی اضطراب*

  • نیوز کوڈ : 3207
  • 18 July 2026 - 7:24
*فکری موقع پرستی اور شناختی اضطراب*

*فکری موقع پرستی اور شناختی اضطراب*

_(ڈولتے دانشوروں کا نفسیاتی و سماجی تجزیہ)_

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

حریر : سید جہانزیب عابدی

انسان کی اصل پہچان اس کے علم کی وسعت سے نہیں بلکہ اس کے اصولوں کی پختگی سے ہوتی ہے۔ ایک حقیقی دانشور وہ نہیں ہوتا جو ہر موضوع پر بات کر سکے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو ہر موضوع پر ایک ہی اخلاقی اور فکری معیار کو برقرار رکھ سکے۔ علم، تحقیق، تنقید اور اجتہاد کا مقصد انسان کو اصولوں کا پابند بنانا ہے، نہ کہ حالات کے مطابق اصول بدلنے کا ماہر۔ اسی لیے تاریخ میں وہی مفکرین دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں جن کی فکر میں تسلسل، دیانت اور داخلی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، جبکہ وہ افراد جو ہر دور، ہر ماحول اور ہر مفاد کے مطابق اپنا فکری چہرہ بدلتے رہتے ہیں، وقتی شہرت تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن مستقل فکری اعتبار پیدا نہیں کر پاتے۔

ہمارے معاشرے میں بھی ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو بظاہر ہر میدان کا ماہر دکھائی دیتا ہے، لیکن اگر اس کی تحریروں، تقاریر اور عملی رویوں کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اصل وابستگی کسی مستقل فکری اصول سے نہیں بلکہ حالات، ماحول، سامعین اور وقتی مفادات سے ہوتی ہے۔ ایسے افراد مذہبی حلقوں میں بیٹھیں تو انقلابی شیعہ فکر کے علمبردار بن جاتے ہیں، لیکن جیسے ہی انقلابی مذہبی سیاست کے بعض عملی تقاضے سامنے آتے ہیں تو وہ اچانک روایتی تاریخی شخصیات اور مصلحت پسند تعبیرات کو سامنے لا کر انقلابی فکر کو محدود کرنے لگتے ہیں۔ جب حکومت کی معاشی یا سیاسی پالیسیوں پر تنقید کرنی ہو تو ان کی زبان میں ترقی پسند سوشلزم، کمیونزم، طبقاتی جدوجہد اور سرمایہ داری کی مخالفت کے نعرے گونجنے لگتے ہیں، لیکن جب کمیونسٹ نظاموں کے ظلم، جبر اور تاریخی ناکامیوں پر گفتگو ہو تو وہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا موضوع بدل دیتے ہیں۔

اسی طرح جب مذہبی جمود، تقلید جامد یا سماجی دقیانوسیت پر تنقید مقصود ہو تو یہی افراد اچانک لبرل ازم، انسانی حقوق، فردی آزادی اور آزادی اظہار کے سب سے بڑے داعی بن جاتے ہیں۔ لیکن اگر انہی اصولوں کو مذہبی یا نظریاتی مخالفین کے حق میں استعمال کیا جائے تو وہی آزادی انہیں بے لگام اور نقصان دہ محسوس ہونے لگتی ہے۔ جب جدید سائنس کا موضوع آئے تو وہ مذہبی استدلال کو ناقص قرار دے کر سائنس کو حتمی اتھارٹی کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن جب سائنس ان کے پسندیدہ نظریات یا سیاسی موقف سے اختلاف کرے تو وہ سائنس کی محدودیت، مغربی تعصب اور فلسفیانہ خامیوں پر گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔

عالمی اقتصادی نظام، سامراج، مالیاتی اداروں یا نوآبادیاتی پالیسیوں پر گفتگو ہو تو وہ چین، روس، کیوبا یا دیگر متبادل طاقتوں کی مثالیں دے کر مغربی سرمایہ داری پر شدید تنقید کرتے ہیں، لیکن انہی ممالک کی داخلی سنسرشپ، سیاسی جبر، اقلیتوں کے مسائل یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ان کی زبان خاموش ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جب مغرب کی اخلاقی خرابیوں کا ذکر ہو تو وہ مشرقی تہذیب کے محافظ بن جاتے ہیں، اور جب مشرقی معاشروں کی خامیوں پر بات کرنی ہو تو مغربی اقدار کی مثالیں دینے لگتے ہیں۔

یہ تمام رویے بظاہر علمی وسعت کا تاثر دیتے ہیں، لیکن نفسیاتی اعتبار سے ان کے پیچھے اکثر ایک گہرا شناختی بحران موجود ہوتا ہے۔ ایسے افراد کسی ایک مستحکم فکری مرکز کے مالک نہیں ہوتے۔ ان کے پاس معلومات بہت ہوتی ہیں، حوالہ جات بھی بے شمار ہوتے ہیں، مختلف فلسفوں، مکاتب فکر اور نظریات سے واقفیت بھی ہوتی ہے، لیکن ان تمام معلومات کو منظم کرنے والا کوئی مستقل اصول موجود نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت ایک مربوط فکری عمارت کے بجائے مختلف نظریاتی کمروں کا مجموعہ بن جاتی ہے، جہاں ہر کمرہ صرف مخصوص موقع پر کھولا جاتا ہے۔

نفسیات میں اس کیفیت کو شناختی اضطراب یا شناختی انتشار کہا جاتا ہے۔ انسان جب اپنی شخصیت کو کسی واضح اور مستقل اصول پر استوار نہیں کر پاتا تو وہ مختلف نظریات سے عارضی شناخت حاصل کرنے لگتا ہے۔ کبھی اسے محسوس ہوتا ہے کہ جدیدیت میں وقار ہے، کبھی روایت میں تحفظ ہے، کبھی انقلاب میں عظمت ہے، کبھی لبرل ازم میں آزادی ہے، کبھی قوم پرستی میں طاقت ہے، اور کبھی عالمی انسانیت کے تصور میں مقبولیت ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کی اصل شناخت ہمیشہ زیر تعمیر رہتی ہے اور کبھی مکمل نہیں ہو پاتی۔

ایسے افراد کی ایک نمایاں نفسیاتی خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ نظریات کو مقصد نہیں بلکہ وسائل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ان کے لیے فلسفہ، مذہب، تاریخ، سوشلزم، لبرل ازم، قوم پرستی، سائنس یا روایت، سب ایک بڑے ٹول باکس کے اوزار ہوتے ہیں۔ جس لمحے جو اوزار ان کے موقف کو مضبوط کرے، وہی استعمال کر لیا جاتا ہے۔ اگر کسی مذہبی عالم پر تنقید کرنی ہو تو کارل پوپر، برٹرینڈ رسل، ڈارون، نیٹشے یا جدید سائنس کا حوالہ پیش کیا جائے گا۔ اگر مغربی تہذیب پر حملہ کرنا ہو تو نوآم چومسکی، ایڈورڈ سعید، سرمایہ داری کے ناقدین یا نوآبادیاتی مطالعات کو سامنے لایا جائے گا۔ اگر سرمایہ داری پر اعتراض کرنا ہو تو مارکس اور اینگلز یاد آ جائیں گے، لیکن اگر کمیونزم پر اعتراض ہو تو ان کے دلائل اچانک ختم ہو جائیں گے۔

یہ رویہ دراصل علمی دیانت سے زیادہ نفسیاتی دفاعی نظام کی علامت ہوتا ہے۔ انسان پہلے اپنا مطلوبہ نتیجہ طے کر لیتا ہے اور پھر اس نتیجے کے مطابق دلائل تلاش کرتا ہے۔ اس عمل میں تحقیق کا مقصد حقیقت کی دریافت نہیں بلکہ پہلے سے اختیار کیے گئے موقف کا دفاع بن جاتا ہے۔ اسی لیے ایسے افراد بظاہر بہت زیادہ حوالہ جات پیش کرتے ہیں، مگر ان کے استدلال میں ایک مستقل اصول نظر نہیں آتا۔

اس نفسیاتی کیفیت کے پیچھے سماجی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان ایک معاشرتی مخلوق ہے اور فطری طور پر قبولیت، عزت اور اثرورسوخ چاہتا ہے۔ اگر کسی شخص کی شخصیت علمی اصولوں کے بجائے سماجی مقبولیت پر قائم ہو جائے تو وہ ہر ماحول کی پسندیدہ زبان بولنے لگتا ہے۔ مذہبی اجتماع میں مذہبی اصطلاحات، یونیورسٹی میں فلسفیانہ اصطلاحات، این جی اوز میں انسانی حقوق کی زبان، سیاسی جلسوں میں انقلابی نعرے، اور سفارتی حلقوں میں اعتدال، مکالمہ اور بین الاقوامی اصولوں کی گفتگو۔ اس کی اصل وفاداری کسی نظریے سے نہیں بلکہ سامعین کی نفسیات سے ہوتی ہے۔

یہاں ایک اور نفسیاتی پہلو بھی قابل توجہ ہے۔ بعض افراد مستقل طور پر مخالف رائے اختیار کرنے میں ذہنی لطف محسوس کرتے ہیں۔ انہیں ہر مقبول تصور کے خلاف کھڑا ہونا اپنی ذہنی برتری کی علامت محسوس ہوتا ہے۔ اگر اکثریت کسی شخصیت کی تعریف کرے تو وہ تنقید شروع کر دیتے ہیں، اگر سب تنقید کریں تو وہ تعریف شروع کر دیتے ہیں۔ اس مسلسل مخالفت سے انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ عام لوگوں سے زیادہ گہرائی رکھتے ہیں، حالانکہ اکثر یہ رویہ تحقیق سے زیادہ اپنی انفرادیت ثابت کرنے کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے۔

اسی طرح کچھ افراد ہر نئے رجحان کے ساتھ اپنی شناخت جوڑنے لگتے ہیں۔ جب دنیا میں پوسٹ ماڈرنزم کا چرچا ہو تو وہ پوسٹ ماڈرن بن جاتے ہیں، جب ڈی کالونیل اسٹڈیز مقبول ہوں تو نوآبادیاتی تنقید کے ماہر بن جاتے ہیں، جب مصنوعی ذہانت اور سائنس کا دور آئے تو سائنسی فکر کے نمائندے بن جاتے ہیں، اور جب مذہبی بیداری کی لہر آئے تو وہی افراد مذہبی احیاء کے داعی بن جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت ایک مسلسل بدلتے ہوئے آئینے کی مانند ہوتی ہے، جو سامنے والے ماحول کا عکس تو دکھا دیتی ہے لیکن اپنی مستقل شکل نہیں رکھتی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر فکری تبدیلی موقع پرستی نہیں ہوتی۔ انسان مطالعے، تجربے اور تحقیق کے نتیجے میں اپنے نظریات بدل سکتا ہے۔ ایک سنجیدہ محقق اگر کسی نئے نتیجے تک پہنچے تو وہ اپنے سابقہ موقف پر نظرثانی کرتا ہے، اس کی وجوہات بیان کرتا ہے اور نئے موقف کو مستقل طور پر اختیار کرتا ہے۔ ایسی تبدیلی علمی ارتقا کہلاتی ہے، نہ کہ موقع پرستی۔ لیکن اگر ایک ہی شخص مختلف مواقع پر مختلف بلکہ متضاد اصول استعمال کرے، اور ہر بار اپنے سابقہ معیار کو بھلا دے، تو یہ علمی ارتقا نہیں بلکہ فکری بے ثباتی ہے۔

ایسے افراد کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ ان کی شخصیت میں داخلی وحدت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ بظاہر ہر موضوع پر گفتگو کر سکتے ہیں، لیکن ان کی گفتگو کو جوڑنے والا کوئی مستقل اخلاقی یا فکری دھاگا موجود نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے قریبی سامعین بھی آہستہ آہستہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کا معیار اصول نہیں بلکہ موقع ہے۔ اس احساس کے بعد ان کی علمی ساکھ متاثر ہونے لگتی ہے، کیونکہ اعتماد صرف معلومات سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی سے پیدا ہوتا ہے۔

قرآنی تعلیمات انسان کو اس کے برعکس ایک مستقل معیار عطا کرتی ہیں۔ قرآن بار بار اس بات پر زور دیتا ہے کہ عدل، صدق، امانت اور تقویٰ کسی خاص گروہ، شخصیت یا مفاد کے تابع نہیں ہونے چاہئیں۔ مومن وہ ہے جو دوست اور دشمن، طاقتور اور کمزور، اپنے اور غیر، سب کے بارے میں ایک ہی معیار اختیار کرے۔ جب معیار بدلنے لگے تو انسان کی علمی اور اخلاقی شخصیت بھی بکھرنے لگتی ہے، اور جب معیار ثابت ہو تو اختلافات کے باوجود اس کی دیانت پر اعتماد قائم رہتا ہے۔

اسی لیے ایک حقیقی دانشور کی پہچان اس کے حوالوں کی کثرت یا معلومات کے انبار سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ کیا وہ ہر موضوع پر ایک ہی اصول کو نافذ کرتا ہے یا نہیں۔ اگر اصول مستقل ہوں تو اختلاف بھی علمی ہوتا ہے، لیکن اگر اصول حالات کے مطابق بدلتے رہیں تو علم آہستہ آہستہ حکمت سے نکل کر محض خطابت، سیاست اور موقع پرستی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان بظاہر ہر قافلے کے ساتھ چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں کسی بھی فکری قافلے کا مستقل مسافر نہیں ہوتا۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3207

ٹیگز

تبصرے