تحریر: مولانا سید عمار حیدر زیدی قمی
اربعینِ امام حسینؑ محض ایک یادگار یا جذباتی اجتماع کا نام نہیں، بلکہ یہ عشقِ حسینؑ کو شعورِ حسینی میں ڈھالنے کا عظیم مکتب ہے۔ کربلا نے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ حق کی محبت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب وہ کردار، قربانی، بصیرت اور استقامت کی صورت اختیار کر لے۔
آج کروڑوں عاشقانِ حسینؑ پیدل چل کر کربلا پہنچتے ہیں۔ یہ سفر صرف قدموں کی تھکن کا نہیں، بلکہ دل کی بیداری، نفس کی تربیت اور خدا سے عہدِ وفا کی تجدید کا سفر ہے۔ اربعین ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ امام حسینؑ سے محبت کا تقاضا صرف آنسو بہانا نہیں، بلکہ ظلم سے نفرت، عدل کی حمایت، حق پر ثابت قدمی اور دینِ محمدی ﷺ و آلِ محمدؑ کے دفاع کا عزم بھی ہے۔
واقعۂ کربلا اگرچہ دسویں محرم کو پیش آیا، لیکن اس کا پیغام حضرت زینبؑ اور امام سجادؑ نے زندہ رکھا۔ اربعین اسی پیغام کی تکمیل کا عنوان ہے؛ ایک ایسا پیغام جو ہر دور کے انسان کو یاد دلاتا ہے کہ باطل وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے، مگر انجام ہمیشہ حق ہی کا ہوتا ہے۔
آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ شعورِ حسینی ہے؛ ایسا شعور جو حق و باطل میں تمیز پیدا کرے، فتنوں کے دور میں بصیرت عطا کرے، اور انسان کو مصلحت نہیں بلکہ حقیقت کے ساتھ کھڑا ہونے کا حوصلہ دے۔
آئیے، اس اربعین عہد کریں کہ ہمارا عشقِ حسینؑ صرف زبان یا جذبات تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ہمارے اخلاق، عبادت، معاملات، خدمتِ خلق، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور دفاعِ حق میں بھی نمایاں ہوگا۔ یہی عشق جب شعور میں تبدیل ہوتا ہے تو فرد بھی بدلتا ہے، معاشرہ بھی سنورتا ہے اور امت بھی بیدار ہوتی ہے۔
سلام ہو اس حسینؑ پر، جنہوں نے انسانیت کو عزت کے ساتھ جینا سکھایا، اور سلام ہو ہر اس قدم پر جو اربعین میں کربلا کی طرف اٹھتا ہے، کیونکہ وہ صرف ایک سفر نہیں، بلکہ حق کی طرف بڑھنے کا اعلان ہے۔
