3

جب دشمن آپ سے ناراض نہ ہو، تو اپنے کردار کا محاسبہ کیجیے!

  • نیوز کوڈ : 3192
  • 17 July 2026 - 19:42
جب دشمن آپ سے ناراض نہ ہو، تو اپنے کردار کا محاسبہ کیجیے!

جب دشمن آپ سے ناراض نہ ہو، تو اپنے کردار کا محاسبہ کیجیے!

 تحریر: مولانا سید عمار حیدر زیدی قمی

ہر دور میں حق اور باطل آمنے سامنے رہے ہیں۔ قرآن نے کبھی یہ تصور پیش نہیں کیا کہ اہلِ ایمان صرف اپنی عبادت گاہوں تک محدود رہیں، جبکہ باطل معاشرے، سیاست، میڈیا، معیشت اور ثقافت پر غلبہ حاصل کر لے۔ ایمان صرف چند عبادات کا نام نہیں، بلکہ ایک زندہ شعور، ایک فعال کردار اور ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔

آج امتِ مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ اس نے “عملِ صالح” کو صرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ تک محدود کر دیا ہے، جبکہ قرآن عملِ صالح کا دائرہ اس سے کہیں وسیع بیان کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ (التوبہ: 120)

یعنی اللہ کی راہ میں اٹھایا جانے والا ہر وہ قدم جو دشمنانِ حق کو بے چین کرے، اللہ کی نگاہ میں عملِ صالح ہے۔

یہاں غور طلب نکتہ یہ ہے کہ قرآن نے صرف عبادت نہیں، بلکہ دشمنِ حق کو للکارنے، ظلم کے مقابل کھڑے ہونے اور باطل کے ایوانوں میں اضطراب پیدا کرنے کو بھی نیکی قرار دیا ہے۔

آج اگر ایک مسلمان کی زندگی ایسی ہے کہ نہ اس کی زبان سے باطل کو کوئی خطرہ ہے، نہ اس کی قلم سے، نہ اس کے کردار سے، نہ اس کی دعوت سے، اور نہ اس کی جرأت سے؛ اگر دشمنانِ دین اس سے مطمئن ہیں، تو اسے اپنے ایمان کی حرارت کا ضرور جائزہ لینا چاہیے۔

قرآن نے مؤمن کی ایک اور صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

 أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ (المائدہ: 54)

یعنی مؤمن، اہلِ ایمان کے لیے نرم دل اور باطل کے سامنے باوقار اور مضبوط ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے آج معاملہ الٹ ہو چکا ہے۔ مسلمان اپنے بھائی پر سخت اور دشمن کے سامنے نرم ہو گیا ہے۔ سچ بولنے سے ڈرتا ہے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے سے گھبراتا ہے، حق کے دفاع میں مصلحت تلاش کرتا ہے، اور باطل کی خوشنودی کو اپنی کامیابی سمجھنے لگا ہے۔

قرآن ایسے رویے کو مؤمن کی شان نہیں قرار دیتا۔

سورۂ عصر میں اللہ تعالیٰ نے واضح اعلان کیا:

 إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۝ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْر

نجات صرف ایمان سے نہیں، بلکہ عملِ صالح، حق کی دعوت اور صبر کے ساتھ استقامت سے وابستہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تاریخِ اسلام کے تمام عظیم کردار—انبیاءؑ، رسولِ اکرم ﷺ، امیرالمؤمنین علیؑ، سیدالشہداء امام حسینؑ—باطل کے لیے ہمیشہ باعثِ اضطراب رہے۔ اگر یزید، فرعون، نمرود اور ابو جہل اہلِ حق سے خوش ہوتے، تو یہ ان کی کامیابی نہیں بلکہ ان کی ناکامی کی علامت ہوتی۔

آج بھی باطل کی طاقتیں اس مسلمان سے خوفزدہ نہیں ہوتیں جو صرف نام کا مسلمان ہو، بلکہ اس مؤمن سے خوف کھاتی ہیں جو علم رکھتا ہو، بصیرت رکھتا ہو، حق بولتا ہو، ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہو اور اپنے دین کی عزت پر سمجھوتہ نہ کرتا ہو۔

لہٰذا ہر مسلمان کو خود سے ایک سوال کرنا چاہیے:

کیا میری زندگی حق کی نمائندہ ہے یا صرف خاموش تماشائی؟ کیا میرے کردار سے باطل کو کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے یا میں اس کے لیے ایک بے ضرر وجود بن چکا ہوں؟

قرآن ہمیں بزدلی نہیں، بصیرت دیتا ہے؛ خاموشی نہیں، حق گوئی سکھاتا ہے؛ غلامی نہیں، عزت اور آزادی کا درس دیتا ہے۔

جس دن امت نے قرآن کے اس پیغام کو سمجھ لیا، اسی دن امت کی عزت بھی واپس آئے گی اور باطل کے ایوانوں میں پھر اضطراب پیدا ہوگا۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3192

ٹیگز

تبصرے