تحریر : مولانا سید عمار حیدر زیدی قم
اولاد کی تربیت صرف نصیحتوں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس ماحول سے ہوتی ہے جس میں وہ پروان چڑھتی ہے۔ بچہ جن لوگوں کے درمیان بیٹھتا ہے، جن کی باتیں سنتا ہے، جن کے رویّے دیکھتا ہے، وہی آہستہ آہستہ اس کی شخصیت کا حصہ بننے لگتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے صحبت کو انسان کی تعمیر یا تباہی کا ایک اہم سبب قرار دیا ہے۔
قرآنِ کریم فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾
ترجمہ : اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔
(سورۂ توبہ: 119)
یہ آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ انسان کی زندگی میں “کس کے ساتھ رہنا ہے” یہ فیصلہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا “کیا کرنا ہے”۔
اسی طرح رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
المرءُ على دينِ خليله، فلينظرْ أحدُكم مَن يُخالِلُ
ترجمہ : انسان اپنے دوست کے دین اور طریقے پر ہوتا ہے، لہٰذا ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس کو اپنا دوست بناتا ہے۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ دوست صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ انسان کے عقائد، اخلاق اور کردار پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج بعض والدین ایک بڑی تربیتی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ جب بچہ بڑوں کو جواب دیتا ہے، ضد کرتا ہے، بدتمیزی کرتا ہے یا بے ادبی سے بات کرتا ہے تو بعض لوگ ہنس کر کہتے ہیں: “ماشاء اللہ! کتنا ذہین ہے، کسی سے نہیں ڈرتا۔” حالانکہ یہ ذہانت نہیں بلکہ بے ادبی کی ابتدا ہے۔ اگر اسی وقت اس کی اصلاح نہ کی جائے تو یہی عادت آگے چل کر والدین، اساتذہ، معاشرے بلکہ دین کے احترام کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
حضرت امیرالمؤمنین امام علیؑ فرماتے ہیں:
الأدبُ خيرُ ميراث
“ادب بہترین میراث ہے۔”
(نہج البلاغہ، حکمت)
یعنی اولاد کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ مال و دولت نہیں بلکہ اچھا ادب اور بہترین اخلاق ہیں۔
اسی طرح امیرالمؤمنینؑ کا ایک اور ارشاد ہے:
مَن ساءتْ مُجالستُه ساءتْ سيرتُه
ترجمہ : جس کی صحبت بری ہو جائے، اس کا کردار بھی بگڑ جاتا ہے۔
(غرر الحکم)
لہٰذا والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف یہ نہ دیکھیں کہ ان کا بچہ کس اسکول میں پڑھ رہا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ وہ کس کے ساتھ بیٹھتا ہے، کس کی ویڈیوز دیکھتا ہے، کن لوگوں کو اپنا آئیڈیل سمجھتا ہے، اور کس ماحول میں وقت گزارتا ہے۔ کیونکہ صحبت صرف جسمانی نہیں رہی، آج موبائل، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ بھی صحبت کا حصہ بن چکے ہیں۔
یاد رکھیے! اگر ہم نے بچوں کی صحبت، ان کے لہجے، ان کے ادب اور ان کے ماحول پر ابتدا ہی سے توجہ دی تو کل وہ معاشرے کے باادب، باکردار اور باایمان افراد بنیں گے۔ لیکن اگر ہم نے بدتمیزی کو ذہانت، ضد کو خود اعتمادی اور بے ادبی کو حاضر جوابی سمجھ کر نظر انداز کیا تو بعد میں یہی عادتیں ان کی شخصیت کا مستقل حصہ بن جائیں گی۔
تربیت کا سنہری اصول یہ ہے:
“اولاد کو اچھی صحبت دو، اچھا ماحول دو، اور ادب سکھاؤ؛ کیونکہ یہی تین چیزیں ان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہیں۔”
